تلنگانہ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے آنے والی ایک تازہ رپورٹ محض 56 خانگی ڈگری کالجوں کی ناکامی کی داستان نہیں بلکہ ریاست کے پورے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے 27-2026 کے داخلہ اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے 56 خانگی ان ایڈیڈ ڈگری کالج ایسے ہیں، جہاں اس تعلیمی سال میں ایک بھی طالب علم نے داخلہ نہیں لیا۔ ان کالجوں کی مجموعی منظور شدہ گنجائش سولہ ہزار چار سو ساٹھ سیٹوں کی ہے لیکن ان میں سے ایک سیٹ بھی پُر نہیں ہوسکی۔
یہ صورت حال اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ یہ کالج زیادہ تر ریاست کے شہری علاقوں سے کچھ باہر واقع ہیں۔ منچریال میں چھ اور عادل آباد میں چھ کالجوں کے ساتھ یہ علاقے سرفہرست ہیں۔ کھمم میں پانچ، نرمل، رنگاریڈی اور کاماریڈی میں چار، جب کہ بھدرادری کتہ گوڑم، نظام آباد اور سدی پیٹ میں تین، تین کالج ایسے ہیں جہاں ایک بھی داخلہ نہیں ہوا۔ یعنی مسئلہ چند اداروں تک محدود نہیں ہے، یہ تلنگانہ کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کی بدلتی ہوئی ترجیحات، کالجوں کے معیار، روزگار سے تعلیم کے تعلق، سرکاری کالجوں کی توسیع اور سب سے بڑھ کر حکومت کی فیس ری ایمبرسمنٹ پالیسی کے بحران سے جڑا ہوا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ 56 کالجوں میں صفر داخلہ کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں ہے۔ 26-2025 میں بھی 54 کالج ایسے تھے جہاں ایک بھی طالب علم نے داخلہ نہیں لیا تھا۔ اس سے ایک مستقل رجحان سامنے آتا ہے کہ کچھ خانگی ڈگری کالج اب طلبا کے لیے قابلِ قبول تعلیمی انتخاب نہیں رہے۔ بلکہ 2025 کے دوست پورٹل کے اعداد و شمار نے پہلے ہی اس بحران کی سنگینی ظاہر کر دی تھی۔ اس وقت 957 ڈگری کالجوں میں دستیاب 4,36,927 سیٹوں میں صرف 1,43,037 سیٹیں پُر ہوسکی تھیں، جب کہ تقریباً 2.94 لاکھ سیٹیں خالی رہ گئی تھیں۔ 64 ڈگری کالجوں میں صفر داخلے ہوئے تھے، جن میں ایک سرکاری کالج بھی شامل تھا۔
اس کا مطلب ہے کہ آج 56 خانگی کالجوں کا بحران دراصل ایک بہت بڑے مسئلے کا ایک حصہ ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ ان 56 کالجوں کو طالب علم کیوں نہیں مل رہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ تلنگانہ کے نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے کہاں جا رہے ہیں اور کس نوعیت کے اداروں کا انتخاب کر رہے ہیں؟
صفر داخلے والے کالجوں کی فہرست پر نظر ڈالیں گے تو ایک حقیقت بہت واضح ہوتی ہے، وہ یہ کہ بحران کا سب سے زیادہ اثر شہری مراکز سے باہر واقع اداروں پر ہے۔ منچریال، عادل آباد، نرمل، کاماریڈی اور بھدرادری کتہ گوڑم جیسے اضلاع میں متعدد کالج طلبا کو راغب نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک طرف طلبا اور والدین بہتر انفراسٹرکچر، تجربہ کار اساتذہ، جدید کورسز اور روزگار کے بہتر امکانات والے اداروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری طرف دیہی علاقوں کے بہت سے خانگی کالج نہ تو مناسب فیکلٹی فراہم کرپا رہے ہیں اور نہ ہی ایسی تعلیمی سہولیات جو آج کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں۔ ٹی جی سی ایچ ای کے چیئرپرسن پروفیسر وی بالاکشٹا ریڈی نے بھی اس مسئلے پر کہا کہ دیہی علاقوں کے بعض ڈگری کالجوں میں فیکلٹی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی کالج مسلسل تین برس تک داخلے حاصل نہیں کرپاتا تو اس کو بند یا ایفیلیشن منسوخ کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی بظاہر منطقی ہے لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر دیہی علاقوں کے کالج بند کر دیے گئے تو وہاں کے طلبا اعلیٰ تعلیم کے لیے کہاں جائیں گے؟
کسی ایسے کالج کو بند کرنا جہاں تین سال تک ایک بھی طالب علم داخل نہ ہو، انتظامی اعتبار سے درست معلوم ہوسکتا ہے۔ آخرکار خالی عمارت، غیر استعمال شدہ انفراسٹرکچر اور بغیر طلبا کے ادارہ سرکاری ہو یا خانگی وسائل کا ضیاع ہی ہے۔ لیکن اعلیٰ تعلیم صرف ایک کاروباری سرگرمی نہیں ہے۔ دیہی علاقوں میں ایک ڈگری کالج نوجوانوں کے لیے صرف کلاس روم ہی نہیں ہوتا۔ وہ مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا ذریعہ، خواتین کی تعلیم کا مرکز، پہلی نسل کے طلبا کے لیے یونیورسٹی تک پہنچنے کا راستہ اور بعض اوقات پورے علاقے کی سماجی ترقی کا اہم ادارہ ہوتا ہے۔ اگر حکومت صرف "صفر داخلے" کی بنیاد پر کالج بند کر دیتی ہے تو اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ طلبا نے وہاں داخلہ کیوں نہیں لیا۔ کیا وہاں اساتذہ موجود تھے؟ کیا کلاسز باقاعدگی سے ہوتی تھیں؟ کیا لائبریری اور لیبارٹری مناسب تھیں؟ کیا کورسز روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ تھے؟ کیا طلبا کو اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ وقت پر ملتی تھی؟ اگر ان سوالات کا جواب نہیں میں ہے تو صرف کالج بند کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہوگا۔
خانگی کالجوں کی موجودہ مشکلات میں فیس ری ایمبرسمنٹ ایک مرکزی مسئلہ بن چکا ہے۔ تلنگانہ میں کم آمدنی والے اور مخصوص سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لیے حکومت کی فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔ جیسے طلبا کے لیے ٹیوشن فیس ری ایمبرسمنٹ اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپس کا ریاستی نظام یہاں موجود ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت کی طرف سے کالجوں کو ملنے والی رقم وقت پر ادا نہ ہو۔ اس صورت میں خانگی کالجوں کی مالی حالت متاثر ہوتی ہے۔ کالج فیس وصول نہیں کرپاتے، اساتذہ کی تنخواہیں، بجلی، عمارت، لیبارٹری، لائبریری اور دیگر اخراجات چلانا مشکل ہوجاتا ہے اور نتیجتاً تعلیمی معیار مزید گرتا ہے۔ جولائی 2026 میں تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے طور پر 250 کروڑ روپے ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ مسئلہ محض کسی ایک کالج یا ایک تعلیمی سال کا نہیں بلکہ ایک بڑے مالی انتظامی بحران سے جڑا ہوا ہے۔ خانگی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیم FATHI کے سکریٹری کے مطابق حکومت کے ڈگری کالجوں میں سیٹوں میں مسلسل اضافہ اور خانگی اداروں کے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات نے طلبا کے خانگی کالجوں سے دور ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ طلبا صرف اس لیے خانگی کالج چھوڑ رہے ہیں کہ سرکاری کالجوں میں سیٹیں بڑھ گئی ہیں۔ 2025 کے دوست پورٹل کے اعداد و شمار میں پورے ریاستی اعلیٰ تعلیمی نظام کی کم انرولمنٹ ایک زیادہ گہری تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے وابستہ کالجوں میں صرف تقریباً 34 فیصد نشستیں پُر ہوئیں جب کہ کاکتیہ یونیورسٹی سے وابستہ کالجوں میں یہ شرح تقریباً 31 فیصد رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ روایتی بی اے، بی کام یا اسی نوعیت کی عمومی ڈگریوں کو پہلے جیسی ترجیح نہیں دے رہا ہے۔ آج کا طالب علم صرف ڈگری نہیں چاہتا بلکہ وہ ڈگری کے بعد ملازمت بھی چاہتا ہے۔ اگر کسی ڈگری کالج کا گریجویٹ تین سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار کے لیے اضافی کوچنگ، ٹیکنیکل کورس یا پرائیویٹ ٹریننگ کا محتاج رہے تو والدین اور طلبا کے لیے اس ڈگری کی کشش کم ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں تلنگانہ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے سب سے بڑا سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ریاست کا ڈگری کالج کا نظام اکیسویں صدی کی معیشت کی ضروریات پوری کر رہا ہے؟
اے آئی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، سائبر سکیورٹی، ای کامرس، فن ٹیک، ہیلتھ کیئر اور دیگر نئے شعبوں میں روزگار کے مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے صورت میں اگر ڈگری کالج اب بھی وہی روایتی نصاب، کمزور لیبارٹریوں، غیر مستقل اساتذہ اور ایگزام سنٹرک تعلیم تک محدود رہیں گے تو طلبا کا ان سے دور ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، لہٰذا 56 کالجوں کے صفر داخلوں کو صرف "کالج بند کرنے" کے مسئلے کے طور پر دیکھنا صحیح نہیں ہوگا۔ یہ دراصل ڈگری کی گرتی ہوئی قدر کا بھی سوال ہے۔
2026-27 کے صفر داخلوں والے 56 خانگی کالجوں میں سب سے زیادہ 34 کالج کاکتیہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، تلنگانہ یونیورسٹی کے سات، عثمانیہ یونیورسٹی کے چھ، پالامورو یونیورسٹی کے چار، مہاتما گاندھی یونیورسٹی کے تین اور شاتاواہانہ یونیورسٹی کے دو کالج اس فہرست میں شامل ہیں۔
کاکتیہ یونیورسٹی کا حصہ خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ یہ محض کسی ایک کالج کے انتظامی مسئلے کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ ایک پورے جغرافیائی خطے میں اعلیٰ تعلیم کے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔ 2025 کے اعداد و شمار میں بھی کاکتیہ یونیورسٹی کے تحت 22 کالج صفر داخلوں والے تھے، جو اس بحران کے تسلسل کو ظاہر کر رہا ہے۔
اس صورت میں حکومت کے پاس تین راستے رہ جاتے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ صفر داخلوں والے تمام کالجوں کو بند کر دیا جائے، یہ آسان راستہ ہے لیکن ضروری نہیں کہ یہی واحد اور صحیح راستہ ہو۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ انہیں ہر قیمت پر جاری رکھا جائے، یہ بھی درست نہیں، کیونکہ مسلسل خالی رہنے والے ادارے عوامی اور خانگی وسائل کا ضیاع ہیں۔ تیسرا اور زیادہ دانش مندانہ راستہ اصلاح، انضمام اور از سرنو تشکیل کا ہے۔
سب سے پہلے ہر کالج کا تعلیمی اویڈیٹ ہونا چاہیے۔ صرف داخلوں کی تعداد نہیں بلکہ فیکلٹی، انفراسٹرکچر، نتائج، طلبا کی ایمپلائبیلیٹی، کورسز، فیس، اسکالرشپس اور مقامی طلبا کی ضرورت کا جائزہ لیا جائے۔ جہاں کالج واقعی غیر ضروری ثابت ہوں وہاں دو یا تین کم زور کالجوں کو ملا کر ایک مضبوط ادارہ بنایا جاسکتا ہے۔ جہاں طلبا موجود ہیں مگر کالج کم زور ہے وہاں انفراسٹرکچر اور فیکلٹی بہتر کی جائے۔ اور جہاں روایتی کورسز کی طلب کم ہوگئی ہے وہاں نئے اسکیل اورینٹیڈ پروگرامس شروع کیے جائیں۔
فیس ری ایمبرسمنٹ کو محض مالی امداد نہ سمجھا جائے بلکہ یہ اعلیٰ تعلیم کے پورے ایکو سسٹم کا حصہ ہے۔ اگر حکومت طلبا کو فیس ری ایمبرسمنٹ کا وعدہ کرتی ہے تو اس رقم کی ادائیگی باقاعدہ، شفاف اور وقت مقررہ پر ہونا چاہیے۔ خانگی کالجوں کو برسوں تک بقایا جات کا انتظار کروانا آخرکار طلبا ہی کے تعلیمی معیار کو متاثر کرتا ہے۔ ساتھ ہی حکومت یہ بھی دیکھے کہ ری ایمبرسمنٹ حاصل کرنے والے ادارے واقعی معیار برقرار رکھے ہوئے ہیں یا نہیں۔ ناقص فیکلٹی، فرضی حاضری اور غیر معیاری انفراسٹرکچر رکھنے والے اداروں کو صرف اس لیے زندہ نہیں رکھا جانا چاہیے کہ وہ ری ایمبرسمنٹ حاصل کرتے ہیں۔
اگر دیہی علاقوں میں کالج مسلسل بند ہوتے گئے تو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلے گا کہ طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ضلعی مراکز یا حیدرآباد جیسے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑے گا۔ یہ اضافی سفری اخراجات، رہائش، کھانے اور دیگر اخراجات پیدا کرے گا۔ خاص طور پر غریب خاندانوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بیٹا یا بیٹی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کے بجائے تعلیم ہی چھوڑ دے۔ اس لیے حکومت کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ "اس کالج میں طالب علم نہیں ہیں" بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس علاقے کے طلبا اعلیٰ تعلیم کہاں حاصل کر رہے ہیں اور ان کے لیے اس کی کیا قیمت ادا کر رہے ہیں۔
56 خانگی کالجوں میں 16,460 سیٹس کا مکمل طور پر خالی رہ جانا بظاہر ایک عدد معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی سوال چھپے ہوئے ہیں جو ریاستی تعلیمی پالیسی پر سوالیہ نشان ہیں۔ یہ سوال سرکاری اور خانگی اداروں کے درمیان توازن کا ہے۔ یہ سوال فیس ری ایمبرسمنٹ کے مالی نظم کا ہے۔ یہ سوال دیہی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا تلنگانہ کا ڈگری نظام آج کے نوجوان کو ایسی تعلیم دے رہا ہے جسے وہ اپنے مستقبل کے لیے قابلِ قدر سمجھتا ہے؟
2025 میں تقریباً تین لاکھ ڈگری سیٹوں کا خالی رہ جانا اور اب 56 خانگی کالجوں میں صفر داخلے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حکومت محض کالجوں کی تعداد گننے کے بجائے اعلیٰ تعلیم کے پورے ماڈل پر نظرثانی کرے۔ تلنگانہ کو مزید کالجوں کی نہیں بلکہ بہتر کالجوں کی ضرورت ہے، اسے محض زیادہ نشستوں کی نہیں، روزگار سے جڑی تعلیم کی ضرورت ہے، اسے صرف فیس ری ایمبرسمنٹ کے وعدوں کی نہیں، وقت پر ادائیگی اور شفاف نظام کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر اسے ایسی اعلیٰ تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے جو حیدرآباد کے چند بڑے اداروں کے بجائے منچریال، عادل آباد، نرمل، کاماریڈی، نلگنڈہ اور ریاست کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے نوجوان کو بھی برابر کا تعلیمی مستقبل فراہم کرے۔ اگر حکومت نے اس بحران کو صرف "گھوسٹ کالجوں" کی بند کرنے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے گی تو شاید اعداد و شمار بہتر دکھائی دینے لگیں لیکن اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اصل اصلاح اس وقت ہوگی جب خالی سیٹوں کے پیچھے چھپی ہوئی طلبا کی ترجیحات، تعلیم کے معیار، روزگار کے امکانات اور معاشی رکاوٹوں کو سمجھ کر اعلیٰ تعلیم کی نئی سمت متعین کی جائے۔ ورنہ آج 56 "گھوسٹ کالج" ہیں؛ کل یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔