مطالعے کاسفر :کتاب سے فہم پیدا ہو، فہم سے فکر، فکر سے گفتگو، گفتگو سے عمل، عمل سے دعوت اور دعوت سے تبدیلی
کارکن کو کیا پڑھنا چاہیے؟ اس سوال کے جواب کو کسی ایک فہرست میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے توازن بنیادی اصول ہے۔ قرآن، حدیث، سیرت اور اسلامی فکر اس کی بنیادی فکری غذا ہیں، لیکن اس کے ساتھ اسے اپنے زمانے سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ معاشرہ کیسے بدل رہا ہے، تعلیم کے مسائل کیا ہیں، معیشت کس سمت جارہی ہے، انسانی نفسیات پر کون سے عوامل اثر انداز ہورہے ہیں، سماجی تبدیلی کی نوعیت کیا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی دنیا کو کس طرح بدل رہی ہے اور عصرِ حاضر کے انسان کے سوالات کیا ہیں؟ ان سب سے بنیادی واقفیت ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کارکن ہر علم کا ماہر بن جائے؛ مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے سے ناواقف نہ ہو۔ جو شخص کسی انسان کو اسلام کی دعوت دینا چاہتا ہے اسے اس انسان کے ذہن، اس کے مسائل، اس کی زبان اور اس کے ماحول کو بھی سمجھنا ہوگا۔
مطالعے کی کامیابی کے لیے طریقہ بھی اہم ہے۔ کتاب اٹھانے سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ میں یہ کتاب کیوں پڑھ رہا ہوں۔ پڑھتے ہوئے اہم باتوں کو نوٹ کرنا، سوالات لکھنا، مصنف کی دلیل کو سمجھنا، اختلاف کی صورت میں جلد بازی سے بچنا اور مختلف آراء کا تقابل کرنا مطالعے کو گہرائی اور گیرائی عطا کرتا ہے۔ کتاب مکمل ہونے کے بعد اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے صفحات ختم ہوگئے، بلکہ یہ ہے کہ میں نے کیا سیکھا، میری سابقہ رائے میں کیا تبدیلی آئی اور اس علم کو میں کہاں استعمال کرسکتا ہوں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مطالعہ محض ذہنی مشغولیت سے نکل کر شخصیت سازی کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس کے لیے بہت بڑا وقت درکار نہیں۔ مطالعے کے فقدان کا سبب ہمیشہ وقت کی کمی نہیں بلکہ اکثر اوقات نظام (مینجمنٹ) کی عدم موجودگی ہوتی ہے۔ روزانہ صرف کچھ وقت مستقل طور پر مطالعے کے لیے مخصوص کردیا جائے تو چند مہینوں میں نمایاں فرق پیدا ہوسکتا ہے۔ قرآن اور بنیادی دینی مطالعے کے ساتھ کسی ایک موضوع پر گہری توجہ، ہر ماہ کسی اہم کتاب یا منتخب علمی منصوبے کی تکمیل، ساتھی کارکنوں کے ساتھ مطالعے کا حلقہ اور پڑھی ہوئی چیز کے مختصر نوٹس انسان کے علمی سفر کو آسان اور مسلسل بنادیتے ہیں۔ اصل مقصد یہ نہیں کہ بہت زیادہ کتابیں ختم ہوجائیں، اصل مقصد یہ ہے کہ سیکھنے کی عادت زندگی کا حصہ بن جائے۔ کبھی کبھی تھوڑا مگر مسلسل پڑھنے والا شخص اس شخص سے بہت آگے نکل جاتا ہے جو کبھی کبھار بہت زیادہ پڑھتا ہے۔
لیکن مطالعے کا سفر کتاب کے آخری صفحے پر ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اصل سفر وہاں سے شروع ہونا چاہیے۔ کتاب سے فہم پیدا ہو، فہم سے فکر، فکر سے گفتگو، گفتگو سے عمل، عمل سے دعوت اور دعوت سے تبدیلی۔ یہی مطالعے کا مکمل سفر ہے۔ اگر کتاب پڑھنے کے بعد انسان صرف یہ بتا سکے کہ مصنف نے کیا کہا تو اس نے ابھی کتاب کا صرف ظاہری حصہ حاصل کیا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ کتاب نے اس کی سوچ میں کیا اضافہ کیا، اس کے فیصلوں میں کیا تبدیلی پیدا کی، اس کے کردار کو کس طرح بہتر کیا اور اس کی دعوت کو کس قدر مؤثر بنایا۔ اسی لیے ہر کتاب کے بعد ایک سوال ضرور ہونا چاہیے: اس کتاب کے بعد میں کیا مختلف کروں گا؟
موجودہ دور میں مطالعے کی ایک نئی ذمہ داری معلومات کے سیلاب میں بصیرت پیدا کرنا بھی ہے۔ واٹس ایپ، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور دوسرے ذرائع سے روزانہ بے شمار دعوے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہر مقبول بات ضروری نہیں کہ درست بھی ہو، ہر خوبصورت اقتباس معتبر نہیں ہوتا اور ہر زیادہ شیئر ہونے والی خبر حقیقت نہیں بن جاتی۔ اس لیے کارکن کو معلومات قبول کرنے سے پہلے تحقیق، تقابل، غور اور فہم کی عادت ڈالنی ہوگی۔ سوشل میڈیا کو محض دشمن سمجھ لینا بھی درست نہیں ہے، اسی طرح اسے بے ضرر سمجھنا بھی۔ مسئلہ ذریعہ نہیں، اس کا استعمال ہے۔ اگر کارکن اپنا زیادہ وقت صرف اسکرولنگ میں صرف کرتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ اپنے ذہن کو دوسروں کے تیار کردہ مواد کے حوالے کررہا ہے، لیکن اگر وہ اسی وسیلے کو معتبر مواد حاصل کرنے، تحقیق کرنے، دعوت پہنچانے اور مفید گفتگو کے لیے استعمال کرے تو یہی ذریعہ اس کی دعوتی قوت بن سکتا ہے۔
فکری زندگی کی ایک اہم علامت سوال کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ سوال کرنا ضد نہیں، سمجھنے کی پہلی منزل ہے۔ ایک کارکن کو یہ پوچھنے کی عادت ہونی چاہیے کہ یہ بات کیوں ہے، اس کی دلیل کیا ہے، اس کا پس منظر کیا ہے، اس کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں، اس کے متبادل کیا ہیں اور اسلام اس مسئلے کو کس اصول کی روشنی میں دیکھتا ہے؟
سوال انسان کو سطحی جذبات سے نکال کر گہری فکر کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی طرح علمی پختگی کا ایک اور امتحان اختلافِ رائے کے ساتھ ہمارا رویہ ہے۔ اگر ہم صرف وہی پڑھتے ہیں جس سے پہلے ہی متفق ہیں تو ہمارا مطالعہ ہمیں مضبوط کرنے کے بجائے محدود کررہا ہے۔ مختلف آراء پڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر رائے قبول کرلیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم مخالف نقطۂ نظر کو اس کی اصل شکل میں سمجھیں، اس کی دلیل کو دیکھیں، اس کے مفروضات کو جانیں اور جہاں درست بات ہو اسے قبول کرنے کا حوصلہ رکھیں۔ مضبوط ذہن اختلاف سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔
تاہم علم کی آخری قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ دل اور کردار کو بھی بدلتا ہے۔ اسلام میں علم کا مقصد محض ذہانت بڑھانا نہیں۔ علمِ نافع انسان میں اللہ کا شعور، عاجزی، اخلاص، حکمت اور حسنِ کردار پیدا کرتا ہے۔ ایک شخص بہت سی کتابیں پڑھ سکتا ہے، بہت سی باتیں جان سکتا ہے اور بہت کچھ بیان بھی کرسکتا ہے، لیکن اگر اس کی گفتگو میں شائستگی نہیں آئی، اس کے فیصلوں میں انصاف نہیں آیا، اس کے اندر عاجزی پیدا نہیں ہوئی، اللہ سے اس کا تعلق مضبوط نہیں ہوا اور وہ دوسروں کے لیے زیادہ مفید نہیں بنا تو ابھی اس علم کو اس کی زندگی میں اترنا باقی ہے۔ علم کی اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ انسان کو اندر سے کتنا بدلتا ہے۔
تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کے لیے علم کی آخری منزل بھی یہی ہے کہ وہ عمل اور دعوت میں ظاہر ہو۔ جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ ہماری زندگی میں نظر آنا چاہیے، جو ہماری زندگی میں نظر آتا ہے وہ ہماری دعوت میں اثر پیدا کرتا ہے اور جو دعوت میں اثر پیدا کرتا ہے وہ دوسروں کے دلوں اور زندگیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ لوگ صرف ہماری تقریر نہیں سنتے، ہماری زندگی بھی دیکھتے ہیں۔ اس لیے ایک کارکن کی شخصیت میں اس کا علم، اس کا عمل اور اس کی دعوت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونے چاہیے۔ جو شخص کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ، اس کی تاثیر محدود ہوجاتی ہے۔ لیکن جب علم، عمل اور دعوت ایک نقطے پر جمع ہوجائیں تو شخصیت میں وہ تاثیر پیدا ہوتی ہے جو محض الفاظ سے پیدا نہیں ہوتی۔
یہی وجہ ہے کہ تحریک کو صرف زیادہ کارکن نہیں، بلکہ زیادہ پڑھنے والے کارکن چاہیے۔ تعداد اپنی جگہ ضروری ہے، مگر تعداد کو سمت دینے کے لیے فکر چاہیے۔ تحریک کو ایسے افراد درکار ہیں جو مسائل کو سمجھ سکیں، سوالات کا جواب تلاش کرسکیں، نئے حالات کا تجزیہ کرسکیں، لوگوں کی نفسیات کو سمجھ سکیں اور مستقبل کے لیے درست فیصلوں میں حصہ لے سکیں۔ ایسے کارکن اتفاق سے پیدا نہیں ہوتے۔ وہ مطالعے، تربیت، تجربے، مشاورت اور مسلسل سیکھنے کے عمل سے تیار ہوتے ہیں۔ اس لیے مطالعہ کسی فرد کا ذاتی مشغلہ نہیں، یہ دراصل تحریک کی مستقبل سازی کا عمل ہے۔
اس کے برعکس اگر کارکن پڑھنا چھوڑ دے تو تبدیلی خاموشی سے شروع ہوتی ہے۔ اس کی گفتگو آہستہ آہستہ سطحی ہونے لگتی ہے، نئے سوالات سامنے آتے ہیں مگر اس کے پاس نئے جواب نہیں ہوتے، وہ دوسروں کے تیار کردہ جملوں پر زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے، جذباتی ردعمل بڑھتا ہے اور تجزیہ کم ہوتا جاتا ہے۔ بالآخر وہ اپنے ماحول کی رہنمائی کرنے کے بجائے خود ماحول سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ یہاں نقصان صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا، تحریک ایک ایسے فکری کارکن سے محروم ہوجاتی ہے جو آنے والے حالات کو سمجھ سکتا تھا، نئے سوالات کا سامنا کرسکتا تھا اور دوسروں کی رہنمائی کرسکتا تھا۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ اس سے کہیں زیادہ امید افزا ہے۔ جب کارکن پڑھتا ہے تو سمجھ بڑھتی ہے، سمجھ سے بصیرت پیدا ہوتی ہے، بصیرت سے حکمت جنم لیتی ہے، حکمت دعوت کو مؤثر بناتی ہے، مؤثر دعوت بہتر قیادت پیدا کرتی ہے اور بہتر قیادت تحریک کو مضبوط کرتی ہے۔ مطالعہ بظاہر ایک خاموش اور ذاتی سرگرمی ہے، لیکن اس کے نتائج اجتماعی ہوسکتے ہیں۔ ایک پڑھنے والا کارکن مستقبل میں بہت سے لوگوں کا رہنما بن سکتا ہے۔ کبھی ایک کتاب کسی انسان کے ذہن میں ایسا سوال پیدا کردیتی ہے جو اس کی پوری فکری سمت بدل دیتا ہے، کبھی وہ کسی پرانی غلط فہمی کو دور کردیتی ہے اور کبھی وہ انسان کو اپنی زندگی کے مقصد کو نئے انداز سے دیکھنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس لیے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کتنی کتابیں پڑھ چکے ہیں، سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہماری پڑھی ہوئی کتابوں نے ہمیں کتنا بدلا ہے۔
آخرکار یہ پوری گفتگو کسی بڑے دعوے یا جذباتی نعرے پر ختم ہونے کے بجائے ایک عملی رویے کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر ہم واقعی تحریک کی فکری قوت بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر مطالعے کی مستقل عادت پیدا کرنی ہوگی۔ روزانہ کچھ وقت، ہفتے میں کسی موضوع پر گہرا مطالعہ، مہینے میں کسی اہم کتاب یا علمی منصوبے کی تکمیل، ساتھیوں کے ساتھ مطالعے کی نشست اور پڑھی ہوئی باتوں کے نوٹس۔ یہ معمولی دکھائی دینے والی چیزیں چند سال میں ایک بڑی فکری تبدیلی پیدا کرسکتی ہیں۔ مطالعے کی مقدار سے زیادہ اس کا تسلسل اہم ہے۔ جو شخص ہر روز تھوڑا سیکھتا رہتا ہے، وہ وقت کے ساتھ اپنے اندر علم کا ایسا سرمایہ جمع کرلیتا ہے جو صرف اس کی ذات نہیں بلکہ اس کے گرد موجود لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ ہم معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں، امت کی حالت بدلنا چاہتے ہیں، نئی نسل کی فکر بدلنا چاہتے ہیں اور دعوت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ان تمام خواہشات کے درمیان ایک سوال خاموشی سے ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا ہم اپنی عادتیں بدلنے کے لیے بھی تیار ہیں؟ اگر ہم خود مطالعہ نہیں کرتے تو دوسروں میں مطالعے کا ذوق کیسے پیدا کریں گے؟ اگر ہم خود اپنے زمانے کو نہیں سمجھتے تو اپنے زمانے کی رہنمائی کیسے کریں گے؟ اگر ہم خود سیکھنا چھوڑ دیں تو دوسروں کو سیکھنے کی دعوت کیسے دیں گے؟ شاید ہر کارکن کو کبھی نہ کبھی تنہائی میں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے: کیا میں واقعی ایک طالبِ علم ہوں؟
اسلامی تاریخ کا سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وحی کا آغاز اقرأ سے ہوا، رسول اللہ ﷺ نے انسانوں کی تربیت کی، صحابہ کرام نے علم کو عمل میں بدلا اور مسلمانوں نے ایک دور میں علم و تحقیق کی ایسی روایت قائم کی جس کے اثرات دنیا کی علمی تاریخ پر مرتب ہوئے۔ پھر تاریخ نے یہ بھی دکھایا کہ کوئی قوم اپنی فکری قوت کو علم سے بے تعلق کرتے ہوئے زیادہ دیر قائم نہیں رکھ سکتی۔ آج ہم ایسے دور میں کھڑے ہیں جہاں علم کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہے اور معلومات کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع۔ اس لیے تحریکِ اسلامی کے کارکنوں کے لیے مطالعہ کوئی اضافی سرگرمی نہیں بلکہ اس کی فکری تربیت، دعوتی صلاحیت، قیادت اور مستقبل کی تیاری کا لازمی حصہ ہے۔
اس پوری گفتگو کو اگر چند الفاظ میں سمیٹنا ہو تو شاید اتنا کہنا کافی ہوگا: پڑھو، سمجھو، بدلو اور بدل دو۔ پڑھو، تاکہ معلومات حاصل ہوں، سمجھو تاکہ معلومات بصیرت میں تبدیل ہوں، اپنے آپ کو بدلو، تاکہ علم کردار بنے، اور پھر اس کردار، بصیرت اور دعوت کے ذریعے اپنے ماحول میں مثبت تبدیلی پیدا کرو۔ علم سے بصیرت پیدا ہو، بصیرت سے کردار بنے، کردار سے دعوت میں اثر آئے اور دعوت سے معاشرے میں تبدیلی پیدا ہو۔ یہی مطالعے کا وہ سفر ہے جو ایک کتاب کے صفحے سے شروع ہوکر انسان کی ذات، اس کے خاندان، اس کے معاشرے اور بالآخر تاریخ تک پہنچ سکتا ہے۔ تحریک کو صرف سرگرم کارکن نہیں چاہیے، اسے پڑھنے والے، سوچنے والے، سمجھنے والے اور عمل کرنے والے کارکن چاہیے۔ شاید ہماری اگلی بڑی تحریکی قوت کسی نئے نعرے میں نہیں بلکہ کسی کارکن کے ہاتھ میں کھلی ہوئی ایک کتاب میں پوشیدہ ہو۔
اور شاید اسی مقام پر اس پوری گفتگو کا سب سے خوبصورت مفہوم سامنے آتا ہے، ہم صرف تحریک کے کارکن نہ رہیں بلکہ علم کے طالب، فکر کے امین، کردار کے نمونے اور تبدیلی کے داعی بنیں۔ کیونکہ ایک تحریک اس وقت حقیقی معنوں میں زندہ رہتی ہے جب اس کے کارکن صرف اس کے پروگراموں میں شریک نہ ہوں بلکہ اس کی فکر کو سمجھتے ہوں، اپنے زمانے کو پڑھتے ہوں، اپنے علم کو مسلسل تازہ کرتے ہوں، اپنے سوالات سے گھبراتے نہ ہوں، اختلاف کو سمجھنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، اپنے علم کو عمل میں ڈھالتے ہوں اور اپنے کردار کے ذریعے دعوت کو زندہ کرتے ہوں۔ ایسی صورت میں مطالعہ محض کتاب کے صفحات پلٹنے کا نام نہیں رہتا، وہ انسان کی تعمیر کا عمل بن جاتا ہے، اور انسان کی تعمیر ہی دراصل ہر پائیدار تحریک کی اصل تعمیر ہے۔