محترم والدین!
آج کا دور فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے۔ ہماری بیٹیاں، جو گھروں کی رونق اور قوم کا سرمایہ ہیں، طرح طرح کے ذہنی، سماجی اور دینی خطرات سے دوچار ہیں۔ ان میں سب سے مہلک خطرہ مسلمان لڑکیوں کا غیر مسلم لڑکوں سے نکاح اور غیر اخلاقی تعلقات ہیں، جو آج معاشرے میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔
جب ہم معاشرے میں ایسی باتیں سنتے ہیں تو ہمارا دل دہل جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور خون کھول اٹھتا ہے، کیونکہ یہ محض ایک سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ ایمان، عزت اور نسل کی تباہی ہے۔
---
ایک اہم وضاحت ، الزام نہیں، فکر ہے
یہاں کسی کو الزام نہیں دیا جا رہا۔ نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ تمام بیٹیاں اس راستے پر ہیں۔
بلکہ آج کے معاشرے میں عریانی، فحاشی اور غیر اخلاقی مواد اتنا عام ہو چکا ہے کہ:
· ٹی وی، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اشتہارات، فلمیں — ہر جگہ بے پردگی اور فحاشی پھیلی ہوئی ہے۔
· خواہ آپ دیکھنا چاہیں یا نہ چاہیں — یہ چیزیں آپ کی آنکھوں کے سامنے آتی ہیں۔
· یہ ایک معاشرتی المیہ ہے، جس کے لیے پورا معاشرہ ذمہ دار ہے۔
ہمارا مقصد الزام تراشی نہیں، بلکہ شعور بیدار کرنا اور حفاظت کے اقدامات بتانا ہے۔
---
پہلے یہ مسئلہ کیوں نہیں تھا اور اب کیوں ہے؟
پہلے کبھی ایسی بد کاریاں سننے کو نہیں ملتی تھیں۔ آج یہ کیوں ہو رہا ہے؟
بنیادی وجوہات:
· موبائل اور انٹرنیٹ کی بے تحاشا رسائی
· غیر اسلامی کلچر اور فلموں، ڈراموں کا اثر
· سوشل میڈیا پر بے پردہ دوستیوں کا رواج
· والدین کی بے خبری اور مصروفیت
· دینی تعلیم کا فقدان اور مادیت پرستی
· اختلاط (مخلوط) تعلیم اور ماحول
---
شرعی حیثیت ، قرآن و حدیث کی روشنی میں
-۱ نکاح کا حکم:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَلا تُنکِحُوا الْمُشْرِکِینَ حَتَّیٰ یُؤْمِنُوا..."
(اور تم مشرک مردوں کو (مسلمان عورتوں کا شوہر) نہ بناؤ جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں...)
(سورۃ البقرہ: ۲۲۱)
-۲ پردہ اور لباس کا حکم:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"یٰاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ..."
(اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کریں...)
(سورۃ الاحزاب: ۵۹)
اور دوسری آیت میں فرمایا:
"وَیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ..."
(اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں...)
(سورۃ النور: ۳۱)
-۳ نظر کی حفاظت:
اللہ تعالیٰ مردوں کو حکم دیتا ہے:
"قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ..."
(اے نبی! مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں...)(سورۃ النور: ۳۰)
اور عورتوں کے لیے فرمایا:
"وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ..."
(اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں...)(سورۃ النور: ۳۱)
-۴ فقہی اتفاق رائے:
تمام مکاتبِ فکر (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، جعفری) اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح باطل اور حرام ہے۔ اگر کوئی ایسا کرتی ہے تو اس کا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوتا اور وہ زنا کی مرتکب ہوتی ہے۔
یہ صرف کسی ایک مسلک کا فتویٰ نہیں، بلکہ تمام مکاتبِ فکر کا متفقہ فیصلہ ہے۔
-۵ حدیث شریف:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الاسلامُ یعلو ولا یُعلیٰ"
(اسلام بلند ہے اور کوئی چیز اس پر بلند نہیں ہو سکتی)
اور فرمایا:
"یا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ..."
(اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے وہ شادی کر لے...)
---
لباس اور پردہ ، شرعی ذمہ داری
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیٹیوں کے لباس کو کنٹرول کریں۔ لباس اس طرح کا ہو:
· سارا جسم ڈھکا ہوا ہو سوائے چہرے اور ہتھیلیوں کے۔
· لباس تنگ اور بدن کی شکل ظاہر کرنے والا نہ ہو۔
· لباس پارہ اور شفاف نہ ہو جس سے جسم کی رنگت یا شکل نظر آئے۔
· لباس غیر مسلموں کے مخصوص لباس کی مشابہت نہ رکھتا ہو۔
· غیر محرم کے سامنے زیورات اور خوشبو سے پرہیز کریں۔
· پردہ (حجاب/نقاب) کو سختی سے نافذ کریں، خاص طور پر گھر سے باہر نکلتے وقت۔
---
موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ، سب سے بڑا فتنہ
100٪ موبائل فون اور انٹرنیٹ ان تمام نقصان دہ واقعات کا اصل ذریعہ اور مجرم ہے۔
آج کل انٹرنیٹ، گوگل، فیس بک، انسٹاگرام اور ریلیز پر اگر آپ نہ بھی دیکھنا چاہیں تو بھی ویڈیوز، تصاویر اور مواد آپ کے سامنے آ جاتے ہیں جو:
عریانی اور فحاشی پھیلاتے ہیں
· غیر اخلاقی دوستیوں کو فروغ دیتے ہیں
· جلد پیسہ کمانے کے جھوٹے طریقے سکھاتے ہیں
· خواتین کو جسم فروشی کی طرف راغب کرتے ہیں
اس طرح بیٹیاں آہستہ آہستہ اپنی حیا، عفت اور غیرت کھو بیٹھتی ہیں اور اپنی عزت تباہ کر لیتی ہیں۔
---
والدین کے لیے عملی اقدامات
-۱ دینی تربیت کو اولین ترجیح دیں:
بچپن سے بیٹیوں کو نماز، قرآن، سیرت اور عقائد کی تعلیم دیں۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:
"یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا..."
(اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو آگ سے بچاؤ...)(سورۃ التحريم: ۶)
-۲ محبت اور حکمت سے سمجھائیں:
بیٹیوں کو بتائیں کہ اللہ کی حدود ہماری دنیوی اور اخروی بھلائی کے لیے ہیں۔ نرمی اور شفقت سے انہیں شرعی احکام کا شعور دیں۔
-۳کمرے اور وقت کی نگرانی
(Random Check):
والدین اپنی بیٹیوں کے کمرے، مطالعے کے اوقات اور کالج کے بعد گھر میں گزارے جانے والے وقت پر شفقت کے ساتھ مگر پختگی سے نظر رکھیں۔
بغیر اطلاع کے کبھی کبھار ان کے کمرے کا معائنہ کریں ، یہ بد اعتمادی نہیں، بلکہ آج کے فتنہ خیز دور میں شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
-۴ موبائل پر مکمل پابندی:
· بیٹیوں کو غیر ضروری موبائل استعمال سے سختی سے روکیں۔
· سوشل میڈیا، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر ایپس پر مکمل پابندی لگائیں۔
· اگر موبائل دینا بھی ضروری ہو تو محدود وقت اور نگرانی کے ساتھ دیں۔
-۵ کالجوں کا انتخاب ، انتہائی اہم فیصلہ:
والدین اس بات کو یقینی بنائیں کہ:
· بیٹیوں کو لڑکیوں کے کالجوں (Girls Colleges) میں داخل کریں جہاں مخلوط ماحول نہ ہو۔
· اگر مخلوط کالج ناگزیر ہو تو نگرانی اور پردہ کا اہتمام کریں۔
· کالج کا ماحول دینی اور اخلاقی لحاظ سے محفوظ ہو۔
---
تعلیم سے زیادہ اہم عزت ہے ، یہ طے شدہ اصول ہے
یاد رکھیں!
تعلیم ضروری ہے، لیکن عزت سے زیادہ نہیں۔
بیٹی کی اعلیٰ تعلیم اس وقت بےکار ہے جب اس کی عزت محفوظ نہ ہو۔
اگر ایک بار عزت جاتی ہے تو پھر دنیا میں کچھ نہیں بچتا۔
وہ تعلیم جو حیا، عفت اور اللہ کا خوف نہ سکھائے، وہ حقیقت میں نقصان دہ ہے۔
پہلے دین، پھر دنیا ، یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
---
بیٹی بے قابو ہو رہی ہے تو کیا کریں؟
اگر بیٹی بے قابو ہو رہی ہے اور والدین کی بات نہیں مانتی تو:
· فوراً اسے سمجھائیں کہ یہ راستہ تباہی کا ہے۔
· موبائل اور انٹرنیٹ سے مکمل یا محدود دوری۔
· دینی تربیت اور قرآن و سنت کی تعلیم کا اہتمام کریں۔
· اس سے کہیں کہ وہ والدین کی رضامندی سے کسی نیک مسلمان لڑکے سے جلد شادی کر لے، تاکہ وہ حرام اور گناہ کے راستے سے بچ سکے۔
· شادی میں جلدی کرنا حرام سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
---
دردناک حقیقت ، دل خون کے آنسو رو رہا ہے
یہ دیکھ کر دل میں بہت درد ہوتا ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ ہماری بے وقوف بیٹیاں اپنے ہاتھوں اپنی عزت تباہ کر رہی ہیں۔ یہ منظر واقعی انتہائی تکلیف دہ ہے۔
---
ایک پُرجوش اپیل
ہندوستان بھر کے مسلمان والدین سے التماس ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں تربیت دیں، انہیں حیا، عفت، پردہ اور اللہ کا خوف سکھائیں۔
انہیں موبائل، سوشل میڈیا اور غیر محفوظ ماحول سے بچائے
بیٹیوں کی حفاظت ، والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری

(شرعی دلائل، پردہ، لباس، موبائل فتنے، تعلیم، عزت اور عملی اقدامات کے ساتھ)

