نیویارک میں موہن بھاگوت نے اپنے ناقدین کے سامنے ایک ایسا اصول پیش کر دیا ہے جسے رد کرنے کے بجائے سنجیدگی سے قبول کرنا چاہیے۔ ’’یونیورسل ون نیس‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میں آر ایس ایس سربراہ نے وسودھیو کٹمبکم — پوری دنیا ایک خاندان ہے — کا حوالہ دیا، ہر انسان کے وقار کی بات کی اور کہا کہ مختلف مذاہب کے راستے بالآخر ایک ہی حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ اس سے بھی آگے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ہندو یہ چاہتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہ رہیں تو وہ ہندو نہیں رہتا۔ یہ خوش آئند الفاظ ہیں۔ آئیے انہیں پوری سنجیدگی سے قبول کریں، کیونکہ انہیں قبول کرتے ہی کچھ ایسے سوالات سامنے آتے ہیں جن سے بچنا آر ایس ایس کے لیے آسان نہیں۔
اگر بھاگوت کی اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ تمام مذہبی راستے ایک ہی حقیقت تک پہنچتے ہیں تو پھر کسی انسان کے ایک راستے سے دوسرے راستے پر جانے سے مسئلہ کیوں پیدا ہونا چاہیے؟ ایک ہندو اپنی مرضی سے عیسائیت اختیار کرے، کوئی عیسائی اسلام قبول کرے یا کوئی مسلمان کسی دوسرے مذہب کو اپنالے تو کیا صرف راستہ بدلنے سے منزل بدل جاتی ہے؟ جبر، دھوکے یا زبردستی سے مذہب تبدیل کرانا یقیناً جرم ہونا چاہیے اور قانون کو اسے روکنا چاہیے۔ لیکن ایک بالغ انسان اپنے ضمیر کی آواز پر مذہب تبدیل کرے اور اس فیصلے کے ساتھ سرکاری اعلان، جانچ پڑتال یا تفتیش جڑ جائے تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ انسان کے ضمیر کی حدود میں داخل ہونے لگتی ہے۔ ورنہ ’’تمام راستے قابل احترام ہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ تمام راستے قابل احترام تو ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ آپ اسی راستے پر چلتے رہیں جس پر آپ پیدا ہوئے تھے۔ یہ آزادی ضمیر نہیں بلکہ پیدائشی شناخت پر سیاسی پہرا ہے۔
اور یہی بات بھاگوت کے خطاب کے مقام کو غیر معمولی طور پر معنی خیز بناتی ہے۔ امریکہ کو آر ایس ایس سے یہ سبق لینے کی ضرورت نہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ وہاں کا آئینی نظام انسان کو مذہب ماننے، اس کی تبلیغ کرنے، مذہب تبدیل کرنے یا مذہب سے لاتعلق رہنے تک کی آزادی دیتا ہے۔ مسلمان، عیسائی، ہندو، یہودی، سکھ، ملحد یا اپنا مذہب تبدیل کرنے والے شہریوں کو ایک ساتھ رہنے کے لیے موہن بھاگوت کی اجازت درکار نہیں۔ ریاست یہ طے نہیں کرتی کہ ایک بالغ شہری خدا تک پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کرے — یا خدا تک پہنچنے کا کوئی راستہ اختیار بھی کرے یا نہیں۔ وسودھیو کٹمبکم یقیناً دنیا کے ہر گوشے میں سنایا جانا چاہیے، مگر اس فلسفے کا سب سے مشکل امتحان امریکہ میں نہیں، ہندوستان میں ہے۔
یہ سوال اس لیے اور گہرا ہو جاتا ہے کہ آر ایس ایس اسی ہندوستان کو ہندو راشٹر بھی قرار دیتی ہے۔ سنگھ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہندو راشٹر سے مراد کوئی مذہبی ریاست نہیں بلکہ ایک تہذیبی تصور ہے جس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے بھی پوری جگہ ہے۔ اس دعوے کو بھی تسلیم کرکے بھاگوت ہی کے پیمانے پر پرکھ لیجیے۔ اگر مسلمانوں کے بغیر ہندوستان کا تصور ہندو اقدار کے خلاف ہے تو پھر مسلمانوں کو ’’گھس پیٹھیا‘‘، آبادی کے لیے خطرہ یا ایسے شہری کے طور پر پیش کیا جائے جسے ہر وقت اپنی وفاداری ثابت کرنی پڑے، تو ہندو قوم پرست تحریک کی نظریاتی قیادت اس زبان کا زیادہ قوت کے ساتھ مقابلہ کیوں نہیں کرتی؟
یہ سوال اس بارے میں نہیں کہ کیا آر ایس ایس ہر اشتعال انگیز تقریر یا ہندو مذہب کے نام پر ہونے والے ہر تشدد کا حکم دیتی ہے۔ ایسا دعویٰ ثبوت چاہتا ہے۔ اصل اور زیادہ مشکل سوال ذمہ داری کا ہے۔ آر ایس ایس نے سو برس میں تنظیموں کا ایک غیر معمولی وسیع جال کھڑا کیا، ایک بڑی نظریاتی تحریک کی تشکیل کی اور آج کی بی جے پی اس تحریک کی سب سے کامیاب سیاسی صورت بن کر اقتدار میں ہے۔ سیاسی کامیابی کے وقت نظریاتی سرپرستی کا رشتہ فخر سے قبول کیا جائے اور جب اسی سیاسی ماحول کی زبان تلخ اور نفرت انگیز ہوجائے تو اس سے دوری اختیار کی جائے، یہ آسان راستہ ہے۔ اثر و رسوخ کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔
لیکن وسودھیو کٹمبکم کا امتحان مسلمانوں اور عیسائیوں تک پہنچنے سے پہلے خود ہندو سماج کے دروازے پر کھڑا ہے — ذات پات۔ کیا پوری دنیا واقعی ایک خاندان ہوسکتی ہے جبکہ اسی خاندان کے اندر انسانوں کو پاک اور ناپاک سمجھنے کے تصورات باقی رہیں؟ دستور ہند نے دہائیوں پہلے چھوت چھات کو غیر قانونی قرار دے دیا لیکن قانون کی ایک دفعہ صدیوں کے سماجی زخم کو ایک دن میں مٹا نہیں سکتی۔
حال کا ایک واقعہ اس سوال کو تکلیف دہ حد تک زندہ کر دیتا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، جو دلت ہیں، اتر اکھنڈ کے ضلع ہلدوانی میں ایک جلسے سے خطاب کرکے گئے تو ان کے جانے کے بعد میں وہاں شدھی کرن یعنی ’’تطہیر‘‘ کی رسم ادا کی گئی۔ منتظمین نے اس بات سے انکار کیا کہ اس رسم کا تعلق کھرگے کی ذات سے تھا، جبکہ کانگریس نے اسے چھوت چھات کی ذہنیت کا اظہار قرار دیا۔ اس سیاسی تنازعے سے آگے ایک سوال ایسا ہے جو دل کو چبھتا ہے: اگر پوری دنیا ایک خاندان ہے تو کسی دوسرے انسان کی موجودگی سے کوئی جگہ ’’ناپاک‘‘ کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ کیسا وسودھیو کٹمبکم ہے جس میں ایک ہندو کے گزر جانے کے بعد اسی جگہ کو ’’پاک‘‘ کرنے کا تصور بھی پیدا ہوسکتا ہے؟
بھاگوت خود ذات پات کے امتیاز اور چھوت چھات کے خلاف بول چکے ہیں لیکن محض زبان سے ایسا بول دینا اصولی مذمت کا نام نہیں۔ اسے ان تمام دلتوں تک پہنچنا ہوگا جنہیں آج بھی عزت کے لیے لڑنا پڑتا ہے، اس پسماندہ طبقے تک جس کی مساوی مواقع تک رسائی آج بھی ایک سوال ہے، اور ان طبقات تک جنہیں صدیوں تک علم، سماجی قوت اور فیصلہ سازی کے مراکز سے دور رکھا گیا۔ جو فلسفہ پوری دنیا کو اپنے بازوؤں میں سمیٹنے کا دعویٰ کرے، اسے پہلے اپنے گھر میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کوئی انسان پیدائش سے اونچا یا نیچا یا پاک یا ناپاک نہیں ہوتا۔
بھاگوت کے دورہ امریکہ کی عالمی میڈیا کوریج سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سوال ان کے ساتھ نیویارک کیوں پہنچا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے پروگرام کو احتجاج، پابندیوں کے مطالبات اور ہندو قوم پرستی پر جاری بحث کے پس منظر میں دیکھا اور اپنی رپورٹ میں اس سوال کو جگہ دی کہ آیا آر ایس ایس دنیا سے رابطہ بڑھانے کے ساتھ اپنی شبیہ بھی بدلنا چاہتی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے بین الاقوامی دورے کو ہندوستان سے باہر آر ایس ایس کی شناخت اور ساکھ بڑھانے کی کوشش کے تناظر میں دیکھا۔ الجزیرہ نے ان ناقدین کا موقف پیش کیا جنہوں نے اسے آر ایس ایس کی عالمی شبیہ بہتر بنانے کے لیے ہندو قوم پرستی کا ’’گڈ وِل ٹور‘‘ قرار دیا — ایک تعبیر جسے آر ایس ایس مسترد کرتی ہے۔ تین مختلف صحافتی ادارے، تین مختلف زاویے، لیکن ان کی رپورٹنگ ایک بڑے سوال پر آکر ملتی ہے: کیا آر ایس ایس دنیا کو صرف اپنا تعارف کرا رہی ہے، یا یہ بھی چاہتی ہے کہ دنیا اسے ایک نئے انداز سے دیکھے؟
اس سوال کو سمجھنے کا شاید سب سے منصفانہ طریقہ آر ایس ایس پر کوئی لیبل چسپاں کرنا نہیں بلکہ نیویارک اور ہندوستان کی دونوں تصویروں کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ دینا ہے۔ نیویارک میں تمام مذہبی راستے احترام کے مستحق ہیں؛ ہندوستان میں انہی راستوں کے درمیان تبدیلی قانون اور سیاست کا موضوع بنتی جارہی ہے۔ نیویارک میں مسلمان ہندوستان سے خارج نہیں کیے جا سکتے؛ ہندوستان میں ناقدین مسلسل مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر کی نشاندہی کرتے اور پوچھتے ہیں کہ ہندو قوم پرست تحریک کی نظریاتی قیادت ان کے خلاف زیادہ دوٹوک کیوں نہیں ہوتی۔ نیویارک میں تنوع کی حفاظت ضروری ہے؛ ہندوستان میں آر ایس ایس اسی قوم کو ہندو راشٹر قرار دیتی ہے۔ نیویارک میں وسودھیو کٹمبکم ہے؛ ہندوستان میں تبدیلیٔ مذہب کے قوانین، گاؤ رکشا کے نام پر تشدد، بلڈوزر کارروائیوں، ذات پات اور اقلیتوں کے حقوق پر مسلسل تنازعات ہیں۔ ان تضادات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں صرف جواب درکار ہے۔
یہی پیمانہ گاؤ رکشا کے نام پر تشدد، مذہبی اجتماعات پر حملوں اور اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز زبان پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ جرم کی تفتیش ہونی چاہیے، جبری تبدیلی مذہب پر کارروائی ہونی چاہیے اور غیر قانونی تعمیر قانون کے مطابق ہٹائی جاسکتی ہے۔ لیکن محض شک جرم نہیں بن سکتا، مذہبی شناخت ثبوت نہیں بن سکتی اور کسی انسان کی پیدائش اس کی قدر و قیمت متعین نہیں کر سکتی۔
اسی لیے بھاگوت کے نیویارک خطاب کو محض منافقت کہہ کر مسترد کردینا کافی نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آر ایس ایس کو خود اس کے سربراہ کے الفاظ کے سامنے کھڑا کرکے جواب مانگا جائے۔ اگر بھاگوت کہتے ہیں کہ مسلمان ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں تو آر ایس ایس بتائے کہ مسلمانوں کو اجنبی، مشتبہ اور ملک کے لیے خطرہ قرار دینے والی زبان کے خلاف اس کی آواز اتنی بلند کیوں نہیں ہوتی؟ اگر تنوع کی حفاظت اس کا اصول ہے تو عیسائیوں کی مذہبی آزادی کے دفاع میں وہی قوت کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ اگر ذات پات اور چھوت چھات نا قابل قبول ہیں تو کسی دلت کی موجودگی کے بعد ’’شدھی کرن‘‘ جیسے تصور کے لیے ہندوستانی سماج میں جگہ باقی کیوں ہے، اور اس ذہنیت کے خلاف سنگھ کی نظریاتی قوت کہاں چلی جاتی ہے؟ اور اگر ہندو راشٹر واقعی مسلمان، عیسائی، دلت اور ہر ہندوستانی کو مساوی طور پر اپنے اندر سمیٹنے والا تصور ہے تو اس کا ثبوت تقریروں اور تعریفوں سے نہیں بلکہ انسانوں کے رویے سے دیجیے۔ آر ایس ایس کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ جو اصول اس کے سربراہ نے نیویارک میں دنیا کے سامنے پیش کیے ہیں، کیا سنگھ ہندوستان میں خود انہی اصولوں کو اپنانے کے لیے تیار ہے؟
اور پھر ایک آخری ستم ظریفی یہ کہ مذہبی بقائے باہم کا یہ درس امریکہ میں کیوں؟ امریکی آئین مذہب کو ماننے، اس کی تبلیغ کرنے، اسے تبدیل کرنے یا نہ ماننے کی آزادی دیتا ہے۔ وہاں ہندو، مسلمان، عیسائی، یہودی، سکھ اور ملحد کو ایک دوسرے کی منظوری درکار نہیں۔ امریکہ کے تعصبات اور امتیازات کی تاریخ اپنی جگہ، مگر مذہبی آزادی کا آئینی اصول واضح ہے۔
وسودھیو کٹمبکم محض ایک دل کش سیاسی نعرہ نہیں، اس کی جڑیں قدیم ہندو فلسفے میں ہیں۔ مہا اُپنشد کا مفہوم ہے: ’’یہ اپنا ہے اور وہ پرایا—یہ تنگ دل لوگوں کی سوچ ہے؛ وسیع القلب انسان کے لیے پوری دنیا ایک خاندان ہے۔‘‘ اگر بھاگوت واقعی اس اصول کو آر ایس ایس کی فکر کا نمائندہ سمجھتے ہیں تو اس خطاب کا سب سے اہم مخاطب نیویارک کا امریکی سامع نہیں بلکہ خود سنگھ کا کیڈر ہونا چاہیے۔ اور شاید اس پیغام کے لیے میڈیسن اسکوائر گارڈن سے زیادہ معنی خیز مقام ناگپور میں آر ایس ایس کا صدر دفتر یا سنگھ کا سالانہ اجتماع ہوتا، جہاں بھاگوت اپنے کارکنوں سے کہتے کہ اگر پوری دنیا ایک خاندان ہے تو مسلمان ’’پرایا‘‘ نہیں، عیسائی ’’پرایا‘‘ نہیں، دلت کمتر یا ناپاک نہیں، اور کسی انسان کا اپنی مرضی سے مذہبی راستہ بدلنا اسے اس انسانی خاندان سے خارج نہیں کرتا۔ نیویارک میں وسودھیو کٹمبکم سنانا ایک پیغام ہے؛ ناگپور میں اسے اپنے کیڈر کے سامنے اصول اور عمل کا پیمانہ بنانا اس پیغام کا اصل امتحان ہوگا۔
آر ایس ایس اپنی صد سالہ تقریبات میں وسودھیو کٹمبکم کے پیغام کو ناگپور سے نیویارک لے گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا نیویارک میں سنایا گیا یہ پیغام ناگپور واپس آکر وہ اپنے کیڈر کو بھی سنائے گی؟ کیونکہ وسودھیو کٹمبکم کی سچائی گھر سے ہزاروں کلومیٹر دور جا کر سنانے سے نہیں بلکہ اپنے گھر میں اپنے لوگوں کو سنانے سے ثابت ہوگی۔