مقامی زبانوں کے اثرات اور ویدک سنسکرت سے پراکرت تک آریائی زبانوں کا ارتقائی سفر
پچھلی اقساط میں ہم نے قدیم ہندوستان کے لسانی منظر نامے اور آریہ قوم کی بر صغیر آمد کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی تھی۔ اس قسط میں دیکھیں گے کہ آریہ اقوام کی آمد سے ہندوستانی لسانی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب ہوئے اور خود آریائی زبانوں نے قدیم ہندوستانی زبانوں سے کیا اثر قبول کیا؟
ماقبل ہند یورپی زبان: مختلف قدیم ہند یورپی زبانوں میں مماثلت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ ایک ہی زبان سے نکلی ہیں۔ اس مفروضاتی جدِّ امجد زبان کو ماقبل ہند یورپی (Proto Indo-European Language) کہا جاتا ہے۔ اس کے متکلمین مختلف علاقوں میں پھیلے جس سے کئی زبانیں وجود میں آئیں۔ اسی لسانی خاندان کی ہندوستانی و ایرانی زبانوں کی جدِّ امجد کو ماقبل ہند ایرانی (Proto Indo-Iranian) کہا جاتا ہے جو وسطی ایشیا کے علاقوں میں بولی جاتی تھی اور اسی سے دونوں شاخوں کی متعدد زبانیں وجود میں آئیں۔
جیسا کہ پچھلی اقساط میں ذکر ہوا، آریہ اقوام 1500 قبل مسیح کے بعد ہندوستان میں داخل ہوئیں اور ان کی آمد طویل عرصے تک مختلف گروہوں کی صورت میں جاری رہی۔ ہندوستان آمد کے وقت ان کی زبان کیا تھی، مختلف گروہوں کی زبانیں ایک تھیں یا الگ الگ؟ ان سوالات کا حتمی جواب اہلِ علم کے لیے بھی مشکل ہے۔ تاہم قدیم آریائی زبانوں میں ویدک و کلاسیکل سنسکرت اور پراکرت کے شواہد موجود ہیں۔ ماقبل ہند ایرانی سے سنسکرت و پراکرت اور پھر جدید ہند آریائی زبانوں تک بھاشا کا سوروپ شدھ رہا اور زبان بیرونی اثرات سے پاک رہی، یا اگر تبدیلیاں واقع ہوئیں تو ان کے اسباب اندرونی تھے یا بیرونی عوامل بھی ذمہ دار تھے؟ مندرجہ ذیل نکات کی روشنی میں آریائی زبانوں کے سفر میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے عوامل کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس قسط میں ابتدائی دور کی تبدیلیوں پر مختصر گفتگو ہوگی، تاہم قارئین کی مناسبت سے مثالیں جدید ہندوستانی زبانوں سے دی جائیں گی۔
٭ جیسا کہ کہا گیا کہ آریہ بنیادی طور پر گلہ بان گروہ تھے اور گلہ بانی، مویشی وغیرہ کے معاملے میں ان کی لغت زرخیز تھی۔ ان کا پرانا علاقہ وسطی ایشیائی تھا، چنانچہ وہاں کے جانوروں، پیڑ پودوں اور موسم سے متعلق الفاظ بھی ان کی زبان میں موجود تھے۔ البتہ زراعت ان کا بنیادی پیشہ نہیں تھا اور اس کے کئی بنیادی الفاظ بھی ان کی زبان میں موجود نہیں تھے۔
٭ آریہ آمد سے قبل ہندوستان کے وسیع خطے میں بڑی آبادی موجود تھی جو مختلف زبانیں بولتی تھی۔ یہاں بڑے پیمانے پر کھیتی ہوتی تھی اور مختلف علاقوں میں گیہوں، چاول، جوار، باجرہ وغیرہ کا پتہ چلتا ہے۔
٭ ہندوستان کا موسم وسطی ایشیا سے یکسر مختلف تھا؛ بارش اور شدید گرمی یہاں کے موسم کا لازمی حصہ تھے۔ گھنے جنگلات، مختلف پیڑ پودے، پرندے اور جانور بھی وہاں سے الگ اور نئے تھے۔ موسم کی مناسبت سے یہاں طرزِ زندگی اور معاش بھی مختلف تھا۔
آریہ اقوام کی ہندوستان آمد انہیں نئے حالات سے دوچار کرنے والی تھی۔ انہیں نئی اشیاء و حالات کے لیے نئے الفاظ درکار تھے۔ اس کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے۔
٭ مقامی زبانوں سے الفاظ کا اخذ: بعض الفاظ ہندوستان کی قدیم زبانوں سے لیے گئے، اگرچہ ان کی صورت یا تلفظ میں تبدیلی آئی۔ آریاؤں سے قبل یہاں آسٹرو ایشیائی، دراوڑی اور کئی معدوم زبانیں موجود تھیں جن کے متعدد الفاظ آریائی زبانوں میں داخل ہوئے تھے۔ لفظ پھل، جو تقریباً تمام ہند آریائی زبانوں میں مستعمل ہے، دراوڑی ماخذ رکھتا ہے۔ کیلا جس کا سنسکرت لفظ کدلی اور کپاس کا سنسکرت لفظ کَرپاس ہے، دونوں آسٹرو ایشیائی ماخذ کے ہیں۔ اسی طرح مور (سنسکرت میور) دراوڑی زبان سے آیا، جبکہ خوشبو دار لکڑی چندن بھی دراوڑی ماخذ رکھتی ہے۔ کئی الفاظ غالباً معدوم زبانوں سے بھی آئے جن میں ایکھ اور مہندی شامل ہیں۔ الفاظ کی فہرست طویل ہے جس پر آئندہ اقساط میں گفتگو ہوگی؛ یہاں صرف عوامل زیرِ بحث ہیں۔
٭ مقامی الفاظ کا ترجمہ: بعض اوقات ہندوستانی اشیاء یا کیفیات کے لیے پرانی زبانوں کے الفاظ کا آریائی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ مثلاً ہاتھی کے لیے تمل لفظ کایم ہے جس کا مفہوم ’’ہاتھ والا‘‘ ہے، جس کا تعلق ہاتھی کی سونڈ سے ہے؛ اسی مفہوم سے ہستِن یا ہاتھی جیسے الفاظ ملتے ہیں۔
٭ نیا صفاتی نام وضع کرنا: اسی طرح بعض ہندوستانی اشیاء کے لیے صفاتی نام وضع کیے گئے۔ سنسکرت  امل کا مفہوم کھٹا ہے، اسی سے آملہ، آم اور املی جیسے ہندوستانی پھلوں کے نام بنے۔ اسی طرح اجگر کا مطلب ’’بکریوں کو نگل جانے والا‘‘ ہے۔
٭ قدیم متون میں غیر آریائی الفاظ: ماہرین کے مطابق رگ وید، جو قدیم ترین ہند آریائی متن ہے، میں تین سو سے زائد غیر آریائی الفاظ موجود ہیں جن میں متعدد کے ماخذ آسٹرو ایشیائی اور دراوڑی زبانوں سے ہیں۔ بعد کی کلاسیکل سنسکرت میں مقامی ہندوستانی الفاظ کی تعداد مزید بڑھتی گئی۔
٭ مقامی متکلمین کا اثر: شاید سب سے اہم عامل خود مقامی لوگوں کی آریائی زبانوں کو اپنانے میں شرکت تھی۔ ہندوستانی مقامی آبادی نو وارد آریائی متکلمین سے کہیں زیادہ تھی۔ جب انہوں نے آریائی زبانوں کو رابطے کی زبان یا lingua Franca کے طور پر اپنایا تو اپنی سابقہ زبانوں کے الفاظ، تراکیب، تلفظ اور بعض قواعدی خصوصیات بھی ساتھ لے آئے۔ آج بھی کوئی شخص دوسری زبان بولتے وقت اپنی مادری زبان کے اثرات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتا۔ مثلاً ہندوستانی افراد انگریزی بولتے ہوئے (خاص کر غیر رسمی گفتگو یا میسیج) انگریزی الفاظ کے ساتھ ہندوستانی تلفظ اور بعض تراکیب بھی استعمال کرتے ہیں۔ قدیم ہندوستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ چنانچہ الفاظ کا بڑا حصہ ہند آریائی رہا مگر صوتیات، قواعد اور تراکیب میں مقامی اثرات شامل ہوتے گئے۔ کرشنا مورتی کے مطابق اگر ایک زبان L1 کے افراد زبان L2 کو رابطے کی زبان کے طور پر قبول کرتے ہیں تو تیسری زبان L3 وجود میں آتی ہے۔ یہی عمل بعد میں پراکرت اور مختلف علاقائی زبانوں کی تشکیل میں اہم ثابت ہوا۔
٭ Substrate کا اثر: لسانیات میں اس طرح کے اثر کو عموماً language substrate کہا جاتا ہے جس میں کوئی قوم بتدریج غالب زبان قبول کرتی ہے اور اپنی سابقہ زبان کی کئی خصوصیات بھی ساتھ لے جاتی ہے۔ یعنی سابقہ زبان کے وہ اثرات جو اس کے متکلمین کے دوسری زبان اختیار کرنے کے بعد بھی نئی زبان میں باقی رہتے ہیں۔ ہندوستان میں شمالی میدانی علاقوں کی مقامی زبانیں آریائی زبانوں میں ضم ہوئیں لیکن ان کے اثرات باقی رہے۔ غالب زبان سے مراد ہمیشہ سیاسی حکم راں زبان نہیں، کوئی زبان رابطے کی زبان، تجارت کی زبان، مذہب و ثقافت کی زبان یا عالمی زبان ہوکر بھی غالب ہو سکتی ہے۔ اس وجہ سے اس اصطلاح کو سیاسی غلبہ یا محکومی کے بجائے لسانی ہی سمجھنا چاہیے۔ ٭ Superstrate کا اثر: لسانیات میں اس طرح کے اثر کو عموماً language superstrate کہا جاتا ہے جس میں غالب زبان دوسری زبان پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے الفاظ یا بعض لسانی خصوصیات دوسری زبان میں شامل ہوتی ہیں۔ جنوبی ہندوستان کی دراوڑی زبانوں نے بھی سنسکرت اور دیگر آریائی زبانوں سے بڑی تعداد میں الفاظ قبول کیے، جن میں تیلگو سر فہرست ہے۔ دراوڑی زبانوں کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی زبانوں میں بھی آریائی زبانوں کے الفاظ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ الفاظ کے تبادلے و منتقلی کی دیگر صورتیں بھی ہیں جن پر ائندہ اقساط میں گفتگو ہوگی۔
٭ سنسکرت سے پراکرت تک: اس طرح آریائی زبان، جس کی قدیم ترین صورت رگ ویدک سنسکرت تھی اور جس میں کئی مقامی و غیر آریائی الفاظ بھی شامل تھے، کلاسیکل سنسکرت اور مختلف پراکرتوں تک پہنچی۔ ماہرین کے مطابق پنینی کا دور کلاسیکل سنسکرت کا آخری دور مانا جاتا ہے اور اس وقت تک سنسکرت عوامی زبان نہیں رہی تھی، بلکہ مذہبی رسوم و رواج اور علمی مجالس تک محدود ہو چکی تھی۔ اشرافیہ میں بھی روزمرہ گفتگو سنسکرت میں نہیں ہوتی تھی۔ بدھا اور مہاویر نے بھی اسی وجہ سے اپنی تعلیمات سنسکرت کے بجائے مقامی رائج زبانوں میں دیں۔ اس طرح ایک ہزار سال سے کم عرصے میں آریائی زبان اپنی قدیم شکل سے کافی دور جا چکی تھی، نہ صرف اس کی اصل صورت باقی نہیں رہی بلکہ وہ عوامی زندگی سے بھی غیر مستعمل ہو گئی۔ اس کے مقابلے میں جدید ہند آریائی زبانوں کو دیکھیں تو گزشتہ سات آٹھ سو برس میں ان میں نسبتاً کم تبدیلیاں آئی ہیں۔ امیر خسرو سے منسوب اردو کے اشعار اور پہیلیاں سات آٹھ سو سالوں بعد بھی زبان کے اعتبار سے نامانوس محسوس نہیں ہوتیں۔ یوں آریائی زبانیں اپنی قدیم ویدک شکل سے کافی بدل چکی تھیں اور مختلف پراکرتوں کی صورت میں عوامی سطح پر نئی لسانی شکلیں اختیار کر رہی تھیں۔ بعد میں انہی ارتقائی سلسلوں سے جدید ہند آریائی زبانیں وجود میں آئیں۔
اس قسط میں ہم نے دیکھا کہ آریائی زبان ہندوستان میں آکر کن تبدیلیوں سے گزریں اور ان کے عوامل کیا تھے۔ یہ بھی دیکھا کہ اس زبان نے نہ صرف مقامی اثرات قبول کیے بلکہ یہاں کی دیگر زبانوں کو بھی متاثر کیا۔ کیا آریائی زبانیں بر صغیر آمد کے بعدصوتیاتی و نحویاتی تبدیلیوں سے بھی گزریں؟ انہیں سب نکات پر اگلی قسط میں بحث کریں گے۔
 ماخذ و مطالعہ:
1-The Indo-Aryan Languages, Colin P. Masica, Cambridge University Press
2-The Dravidian Languages, B. Krishnamurti, Cambridge University Press
3-The Language Contact: An Introduction, Sarah G Thomson, Georgetown University Press
Proto Munda Words in Sanskrit, F.B.J. Kuiper, Noord-Hollandsche Uitgevers Maatschappij
5- Substrate Languages in Old Indo-Aryan, Michael Witzel, Electronic Journal of Vedic Studies
6-Prehistoric Implications of the Dravidian element in the NIA lexicon, F. C. Southworth, International journal of Dravidian linguistics.
7-Dravidian Origin of Some Verbal roots of Sanskrit, Ravi Sankar S Nair, journal Language in India.
8-A People's History of India, Irfan Habib, Tulika Books.
9-India's Ancient Past, R.S. Sharma, Oxford University Press