زبانیں کبھی خالص اور جامد نہیں رہیں؛ لفظوں کا لین دین لسانی ارتقا کا فطری عمل ہے
قدیم زبانوں کے باہمی اثرات قبول، مگر عربی، فارسی اور دوسری زبانوں کے الفاظ سے گریز کیوں؟
پچھلی قسط میں ہم نے الفاظ کی منتقلی کے اسباب، ہند آریائی زبانوں کے ارتقائی سفر اور سنسکرت و پراکرت کے مقامی ہندوستانی زبانوں سے تعامل پر گفتگو کی تھی۔ اس سلسلے کے پہلے حصے کی آخری قسط میں ہم مسلمانوں کی آمد سے قبل ہند آریائی زبانوں میں دوسری زبانوں سے مستعار لیے گئے الفاظ پر بحث کریں گے۔
ہند آریائی زبانوں میں ویدک دور ہی سے دوسری زبانوں کے الفاظ شامل ہوتے رہے ہیں۔ رگ وید میں بھی تین سو سے زائد غیر آریائی الفاظ موجود ہیں۔ سنسکرت و پراکرت کے زمانے  سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس مضمون میں ہم ان الفاظ پر مختصراً گفتگو کریں گے جو مسلمانوں کی آمد سے قبل ان زبانوں میں شامل ہوئے اور آج بھی ہندوستانی زبانوں میں مستعمل ہیں۔ ان الفاظ کی طویل فہرست کے پیش نظر تمام کا احاطہ ممکن نہیں ہے اور موضوع کی مناسبت سے سنسکرت و پراکرت کے بجائے اپنی گفتگو کو جدید زبانوں میں موجود الفاظ تک محدود رکھیں گے۔ ان میں سے کئی الفاظ کی اصل شکل اور تلفظ بدل چکے ہیں جبکہ بعض کے معنی میں بھی تبدیلی یا وسعت آ گئی ہے جو زبانوں کے ارتقا میں فطری ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک پیچیدہ علمی موضوع ہے جس میں اختلاف کی گنجائش موجود ہے ۔ بہرحال ہم ہند آریائی زبانوں میں الفاظ کی تشکیل اور آمد کے چار پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔
-1 اندرونی ارتقا: مستعار الفاظ پر گفتگو سے پہلے اندرونی ارتقا کا ذکر ضروری ہے۔ ہند آریائی زبانوں کے الفاظ کی کثیر تعداد انہیں زبانوں کے اپنے ذخیرہ الفاظ سے وجود میں آئی ہے۔ نئی اشیا، حالات اور کیفیات کے اظہار کے لیے پرانے الفاظ سے نئے الفاظ نکلے ہیں۔ قدیم قبائلی معاشروں میں اشیائے خورد و نوش جمع کرکے لوگوں میں تقسیم کرنے کا رواج تھا۔ سنسکرت کے لفظ بھج سے بھاگ بنا جو تقسیم یا حصے کے معنی میں مستعمل ہے اور بھکت کے معنی تقسیم شدہ کے ہیں۔کھانے کی تقسیم سے متعلق کئی الفاظ اسی سلسلے میں وجود میں آئے : تقسیم کرنے والا بھاجک، تقسیم کے لیے استعمال ہونے والا برتن بھاجن اور تقسیم شدہ کھانا بھکت کہلایا۔ بعد کے ادوار میں بودھ سنگھوں میں بھی یہ رواج جاری رہا۔ پراکرت میں بھکت کی شکل بھات ہو گئی جو آج ابلے ہوئے چاول کے لیے مستعمل ہے۔ اسی ملتے جلتے الفاظ بھاجی اور بھاجیا ہیں جو پکے ہوئے، نرم  گیلے چاول (گولہت) کے لیے مستعمل تھے۔ بعد میں بھاجی سبزی کے معنی میں رائج ہو گیا۔ اسی طرح بھاجینا سے بھینا پھر بینا بنا۔ اتر پردیش اور بہار وغیرہ میں بینا اس تقسیم شدہ تحفے کو کہتے ہیں جو کسی تقریب کے موقع یا کسی مہمان کی آمد پر موصول ہو اور عزیزو اقارب یا سماج میں بانٹا جائے۔ اسی لفظ بھج سے بھگت، بھگتی، بھجن اور بھاگیہ جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے۔ یوں ایک ہی لفظ کے اندرونی ارتقا سے متعدد الفاظ بنے۔اسی طرح سندیش کے اصل معنی پیغام کے ہیں جو آج بھی مستعمل ہیں۔ پہلے لوگ پیغام پہنچانے کے لیے سفر کرتے تو اپنے ساتھ کوئی تحفہ بھی لے جاتے تھے۔ بنگالی مٹھائی سندیش کا نام اسی روایت سے منسوب ہے۔ بہار کی زبانوں میتھلی، بھوجپوری وغیرہ میں بھی روایتی تقریبات پر تحفے کے طور پر دی جانے والی کھانے پینے کی اشیا کو سنیس کہتے ہیں، جن میں ٹھیکوا، کھیر وغیرہ  شامل ہیں۔
-2 معدوم زبانوں سے مستعار: ہند آریائی زبانوں میں بے شمار ایسے الفاظ ہیں جن کی جڑیں کسی معلوم لسانی خاندان میں نہیں ملتیں۔ یہ معدوم زبانوں کے الفاظ معلوم ہوتے ہیں جن کی باقیات آج طبق زیریں یا Substrate کے طور پر ہندوستانی زبانوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے چند معروف مثالیں قابلِ ذکر ہیں۔
٭ روٹی، چاول، کودرو، جوار، باجرا، کسم، بیر، انڈا، بھنڈی اور ٹنڈا: بہت سے لوگوں کو حیرت ہوگی کہ روزمرہ کی خوراک سے متعلق یہ عام ہندوستانی الفاظ کسی معلوم لسانی خاندان سے نہیں آتے، سنکرت و ہندآریائی، نہ ہی دراوڑی و منڈا زبانوں سے بلکہ غالب امکان ہے کہ یہ قدیم زبانوں سے آئے ہوں جو معدوم ہو کر آریائی زبانوں میں ضم ہو گئیں اور ان کے الفاظ ہند آریائی زبانوں نے اپنا لیا۔
٭ ایکھ (گنا) مہندی (حنا) سپاری، جھاڑی، پدم (کنول) مُول (جڑ) کتا، سنگھ (شیر) اور کیڑا: ان پودوں اور جانوروں کے ناموں کی اصل بھی کسی معلوم لسانی خاندان سے نہیں ہے۔ ممکن ہے یہ بھی ان قدیم زبانوں سے آئے ہوں جو وقت کے ساتھ معدوم ہو گئیں۔ ان کے علاوہ کھال، روئی، ہینگا) آلہ زراعت (کان، لڑنا، تال(تالاب) بالو (ریت) سرل (سیدھا) اور بھوتا (کند) جیسے معروف الفاظ بھی اس میں شامل ہیں۔ مراٹھی کے الفاظ پورگا، پورگی، ملگا اور ملگی جو لڑکے اور لڑکی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، نیز جیون (کھانا) بھی ایسے الفاظ ہیں جن کی اصل واضح نہیں۔
٭ یہ الفاظ بنیادی نوعیت کے ہیں، لوگ جن کا استعمال ہزاروں برسوں سے کر رہے ہیں۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ زبانوں کی تاریخ صرف ان زبانوں تک محدود نہیں جو آج زندہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق قدیم ہندوستان کی کئی زبانیں ناپید ہو چکی ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کے متکلمین نے دوسری زبانیں اپنا لیں مگر سابقہ زبانوں کے متعدد الفاظ بھی ان میں منتقل کر دیے۔ یوں وہ زبانیں تو معدوم ہو گئیں لیکن ان کے کئی الفاظ آج بھی ہماری روزمرہ گفتگو کا حصہ ہیں۔
 ٭ منڈا زبانوں سے مستعار: یہ آسٹروایشیائی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ مائیکل وٹزل کے مطابق آریائی زبانوں کی آمد سے پہلے منڈا زبانیں بنگال سے پنجاب تک وسیع علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں اور رگ وید میں بھی ان کے الفاظ موجود ہیں۔ کائپر کے مطابق، جدید ہند آریائی زبانوں کے تقریباً چالیس فیصد الفاظ کا تعلق منڈا زبانوں سے ہے، اگرچہ دیگر ماہرین نے اس تخمینے کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔ یہ الفاظ سنسکرت، پراکرت یا براہِ راست منڈا زبانوں سے داخل ہوئے ہیں۔آج منڈا زبانیں بنیادی طور پر جھارکھنڈ اور اڑیسہ میں آدیواسیوں کے درمیان بولی جاتی ہیں، جن میں منڈاری، سنتھالی اور ہو اہم ہیں۔ ان زبانوں سے منسوب بعض الفاظ کی مثالیں درج ذیل ہیں۔
٭ مرچ، کیلا، کپاس، کپڑا اور نیولا جیسے عام الفاظ منڈا زبانوں سے آئے  ہیں۔ اسی طرح لدنا جس کا مطلب کسی سہارے سے کھڑا ہونا ہے، جبکہ بعض شمالی ہندوستانی بولیوں میں منفی لفظ لیدھا ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو دوسروں کی مدد یا سہارے کا محتاج ہو۔
٭ کائپر کی تحقیق کے مطابق لفظ چپٹا منڈا زبانوں سے آیا جس کو کسی چیز کو دبانے یا چپٹا کرنے سے جوڑا جاتا ہے۔ گوبر کے اپلے کے لیے چپڑا، بیلن تختی کے رواج سے پہلے ہاتھ سے دباکر بنائی جانے والی روٹی کے لیے چپاتی اور چپٹے کیے ہوئے چاول یا دوسرے دانوں کے لیے چوڑا جیسے الفاظ ادھر سے ہیں۔
٭ الجھن اور تذبذب سے متعلق کئی الفاظ بھی منڈا اصل ہیں، مثلاً ہڑبڑی، گل مل، کھلبلی، گھبرانا، گڑبڑانا اور ڈانواں ڈول۔ اسی طرح صرفی تکرار والے الفاظ، مثلاً بارش کی بوندوں کے لیے جھپر جھپر، جھم جھم اور ٹپ ٹپ، نیز ٹپکنا اور پٹکنا بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
٭ روزمرہ کی دوسری مثالوں میں مکان کی کھڑکی/کھرکی، آنکھوں میں لگانے کا کاجل/کجرا، گندگی کے لیے مل، کچڑا اور کباڑی، نیز چھیلنا، چھلکا اور چاٹنا جیسے الفاظ شامل ہیں۔ درختوں اور پودوں کی شاخوں کے لیے ڈالی، ڈال، ڈار اور ڈاری جیسی صورتیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔
٭ جسمانی ساخت یا معذوری سے متعلق بعض الفاظ، مثلاً کبڑا، اپنگ، بھینگا اور بھنگر، بھی منڈا زبانوں سے آئے ہیں۔
٭ آخر میں پیشوں اور برادریوں سے متعلق الفاظ کا ذکر ضروری ہے۔ تنبول پان کے لیے مستعمل ہے اور پان فروخت کرنے والی برادری کو تنبولی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح جولاہا برادری کے ہم معنی لفظ کووند بھی منڈا اصل ہے۔
٭ دراوڑی زبانوں سے مستعار: ہندوستان کے لسانی منظر نامے میں دراوڑی زبانوں کی اہم حیثیت رہی ہے۔ آج بھی ہندوستان کی تقریباً بیس فیصد آبادی دراوڑی زبانیں بولتی ہے اور ان کی کئی لسانی و سیاسی تحریکیں موجود ہیں۔ کرشنا مورتی، انڈولوجسٹ نکیتا گورو کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ رگ وید میں تقریباً اسّی الفاظ دراوڑی اصل ہیں۔ جدید ہند آریائی زبانوں میں بھی دراوڑی اصل کے متعدد الفاظ موجود ہیں۔
٭ پھل، تاڑ، کنول، کمد، چندن، برگد، میور، اڑد دال اور الائچی جیسے الفاظ درختوں، پودوں، پھولوں اور دیگر قدرتی اشیا سے متعلق دراوڑی اصل ہیں۔ آریہ اقوام کی آمد سے پہلے یہ الفاظ رائج تھے جنہیں بعد میں ہند آریائی زبانوں نے اپنا لیا۔
٭ اناج کو کوٹنے یا بھوسے سے الگ کرنے کے لیے مستعمل کھل اور اوکھلی جیسے الفاظ بھی دراوڑی اصل ہیں۔ آج تکنیکی ترقی کی وجہ سے اوکھلی اتنی معروف نہیں ہے لیکن چند دہائیوں پہلے تک ان کا استعمال عام تھا۔ چھوٹی اوکھلی کو ہاون کہتے ہیں جو آج بھی باورچی خانوں میں مصالحہ کوٹنے میں استعمال ہوتا ہے۔
٭ ادرک کے لفظ کا تاریخی سفر خاصا دلچسپ ہے۔ اس کی دراوڑی اصل چنکی-ویر ہے جو پراکرت میں سنگی-ویر اور سنسکرت میں شرنگ-ویر کی شکل اختیار کر گئی۔ یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ لفظ کی اصل سنسکرت ہے، کیونکہ شرنگ کے معنی سینگ کے ہیں اور اس کی شکل سینگ جیسی ہی ہے۔ تاہم،  ماہرین کے مطابق اس لفظ کا سفر دراوڑی سے پراکرت اور پھر سنسکرت کی طرف ہوا۔ جدید دراوڑی زبانوں میں اس کی ایک مختصر صورت انچی بھی ملتی ہے۔ لفظ ادرک خود ایک صفاتی نام ہے جس کا تعلق لفظ آدر یانم سے ہے۔ یہ لفظ ہندوستان سے نکل کر دوسری زبانوں تک بھی پہنچا۔ یونانی میں اس کی صورت زنگیبیرس (zingiberis) اور لاطینی میں زنگبیر یا جنگبیر (gingiber) تھی، جس سے آگے چل کر انگریزی کا جنجر (ginger) بنا۔سونٹھ) خشک ادرک (کا لفظ عرب پہنچا اور وہاں زنجبیل کے نام سے معروف ہوا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں بھی اس کا ذکر موجود ہے:
 ​ ​ ​ وَيُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًا  (ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔(۷۶:۱۷)
 اس سے دراوڑی زبان کے عالمی اثرات کا  پتہ چلتا ہے۔ ادرک کے لفظ شرنگویر کی طرح شرنگار کے بارے میں بھی بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ منڈا اصل کا لفظ ہے جو پراکرت کی صورت سنگار سے سنسکرت میں شرنگار بنا۔
٭ چاول کے لفظ کا سفر بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس کا قدیم دراوڑی لفظ ور-انچی ہے جس سے سنسکرت کا وریہی اور فارسی کا ورنج/برنج نکلا۔ تمل زبان میں اس کی مختصر صورت اریچی (arici) ہے جس سے عربی کا ارز، یونانی کا اروزا (oruza) لاطینی کا اریزا (oryza) اور بالآخر انگریزی کا رائس (rice) بنا۔
٭ روی شنکر نائر کے مطابق کھنڈ دراوڑی اصل کا لفظ ہے جس کے معنی توڑنے یا ٹکڑے کرنے کے ہیں۔ گنے کے رس کو سکھا کر بنائے گئے ٹکڑوں کے لیے یہی لفظ کھانڈ کی صورت میں استعمال ہوا۔ اس سے عربی و فارسی کا قند اور یورپی زبانوں کا کینڈی (candy) بنا۔ چینی کے لیے مستعمل شکر، شوگر، سکر وغیرہ کی اصل بھی ہندوستانی ہی ہے۔
٭ اسی طرح جنگل کے لیے مستعمل کانن، رنگ کے لیے کالا/کار ایک آنکھ والے کے لیے کانا، گڑھے کے لیے کنڈ اور ڈنڈا اور پیٹ جیسے الفاظ بھی دراوڑی اصل ہیں۔
٭ مراٹھی زبان پر دراوڑی اثرات کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ ماہرین کے مطابق اہم ہند آریائی زبانوں میں مراٹھی پر دراوڑی زبانوں کا اثر سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ اس کی دراوڑی علاقوں سے قربت ہے۔ اس کے دکن میں کنڑ، دکشن پورب میں تیلگو اور پورب میں گوندی زبانوں کے علاقے واقع ہیں۔ ساؤتھورتھ کے مطابق مراٹھی کے تقریباً پانچ فیصد بنیادی الفاظ دراوڑی اصل ہیں۔ ان کے مطابق اس علاقے کی قدیم آبادی دراوڑی زبانیں بولتی تھی لیکن بعد میں مراٹھی اپنانے کے ساتھ اپنے پرانے الفاظ بھی اس میں لے آئی۔ یہ لسانی طبق زیریں (linguistic Substrate) کی مثال ہے جس میں مغلوب قوم غالب قوم کی زبان اپنا لیتی ہے۔اس کے برعکس سونل کلکرنی کا خیال ہے کہ مراٹھی اور دراوڑی زبانوں کے متکلمین ایک ہی علاقے میں آباد تھے جس سے ان کے درمیان  لسانی تبادلہ ہوا۔ اس تعلق کو غالب اور مغلوب کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ دونوں کا موازنہ کرنے سے ساؤتھورتھ کی ہی بات معقول اور مدلل لگتی ہے اور جینیاتی شواہد بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کا ذکر پچھلی اقساط میں گزر چکا ہے۔ لیکن دونوں دراوڑی زبانوں کے مراٹھی میں گہرے اثرات پر متفق ہیں۔ یادووں کے دور میں مسلمان حکم رانوں کے آنے سے کچھ عرصے پہلے تک وہاں کنڑ بھی بولی جاتی تھیں اور لیکن مراٹھی غالب ہو چکی تھی۔ مراٹھی میں ماں کے لیے آئی اور سمت یا مقام بتانے کے لیے اکڈے (ادھر، یہاں) تکڈے (ادھر، وہاں) کڈے (جانب، طرف) جیسے بنیادی الفاظ بھی دراوڑی اصل ہیں ۔
اب تک ہم نے ہند آریائی زبانوں پر قدیم ہندوستانی زبانوں کے اثرات کا جائزہ لیا۔لیکن آریوں کے بعد آنے والی اقوام، جنہوں نے شمالی اور شمال مغربی ہندوستان میں حکومتیں قائم کیں، کیا اپنی زبانوں کے اثرات چھوڑ گئیں؟ آئیے، مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔
٭ سکندر کے حملے کے نتیجے میں شمال مغربی ہندوستان تک یونانی آبادیاں اور حکومتیں قائم ہوئیں۔ ان سے روابط نے ہندوستانی علوم اور فنون کو بھی متاثر کیا۔ ہندوستانی زبانوں میں یونانیوں کے لیے یَوَن (यवन)کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ ہندوستانی ڈراموں میں پردے کے لیے یَوَنِکا (यवनिका) کا لفظ  ملتا ہے اور مورخین کے مطابق ڈراموں میں پردے کا تصور یونانی اثرات سے ہندوستان آیا اور اسی نسبت سے یہ اصطلاح رائج ہوئی۔ علم فلکیات میں بھی یونانی و رومی اثرات کے شواہد ملتے ہیں۔ رومک سدھانت (रोमक सिद्धांत) نامی کتاب کا عنوان انہیں روابط کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اسی طرح مجسمہ سازی کے اہم مراکز گندھارا اور متھرا یونانی اثرات کے حوالے سے معروف ہیں۔
٭ اسلامی دور سے پہلے بھی ہندوستان اور ایران کے درمیان گہرے سیاسی اور ثقافتی روابط تھے۔ فارسی نژاد حکم رانوں کی حکومتیں طویل عرصے تک پنجاب سے گجرات تک پھیلے علاقوں میں قائم رہیں، جن کے نتیجے میں فارسی الفاظ بھی ہندوستانی زبانوں میں داخل ہوئے۔ ان میں کشترپ (क्षत्रप) یعنی علاقائی حکم راں یا گورنر، قابلِ ذکر ہے۔ اس کی مغربی صورت satrap ہے۔ اسی طرح کشمیر سے کابل تک قائم بعض حکومتیں ترک شاہی اور ہندو شاہی کے ناموں سے معروف تھیں۔ لفظ شاہ اور شاہی بھی ہندوستانی زبانوں میں رائج ہوا۔
اس کے ساتھ مضامین کے پہلے حصے کی تمام اقساط مکمل ہوتی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ زبانیں وقت کے ساتھ ایک دوسرے کو متاثر کرتی ہیں۔ اس خطے میں آریائی زبانوں سے پہلے بھی کئی زبانیں موجود تھیں اور ان کے باہمی تعامل سے نئی زبانیں وجود میں آئیں جبکہ کئی زبانیں معدوم ہو گئیں۔ خود آریائی زبانیں بھی اپنی اصل شکل میں برقرار نہیں رہیں، نہ ہی دراوڑی اور منڈا زبانیں اپنے پرانے روپ میں محفوظ رہیں۔
ہم نے یہ بھی دیکھا کہ روٹی، چاول اور انڈا جیسے روزمرہ ناشتے-کھانے کے الفاظ کی اصل کسی معلوم لسانی خاندان سے نہیں ہے جبکہ چائے چینی اور کافی افریقی یا عربی زبان سے ہے۔ دراوڑی اور منڈا زبانوں سے بھی بے شمار الفاظ ہند آریائی زبانوں میں شامل ہوئے۔ یہ سب دیکھنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھاشا شدھی کی کوششیں کس حد تک معنی خیز ہیں؟ اگر بھاشا کی "شدھی" مقصود ہو تو ہمیں ہزاروں سالوں کی تاریخ کو درست کرنا پڑے گا، دراوڑی زبانوں میں موجود تمام آریائی الفاظ کو نکال کر پرانے اور متروک الفاظ کو زندہ کرنا ہوگا یا پھر نئے الفاظ وضع کرنے ہوں گے۔ ان سب کاوشوں کے بعد بھی کیا حاصل ہوگا؟
 اگر ہم قدیم دور کی لسانی تبدیلیوں کو فطری سمجھ کر قبول کرتے ہیں تو مسلمانوں کی آمد کے بعد عربی، فارسی و ترکی اور یورپی اقوام کی آمد کے بعد انگریزی، پرتگالی اور دوسری زبانوں کے اثرات کو بھی لسانی ارتقا کا فطری حصہ سمجھنا چاہیے۔ ان اثرات کو قبول کرنا ہی نہیں بلکہ اس لسانی وسعت کا استقبال بھی کرنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر یہ دوہرا معیار ہوگا کہ آریائی زبانوں کی آمد سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا تو خیر مقدم کیا جائے لیکن بعد کے ادوار کی تبدیلیوں کاشدھی کے نام پر بائیکاٹ کیا جائے۔
مسلمان حکم رانوں کی آمد کے بعد ہندوستان کے لسانی منظر نامے میں کیا تبدیلیاں آئیں اور ان کے اسباب کیا تھے؟ کیا یہ تبدیلیاں لسانی ارتقا کا فطری نتیجہ تھیں یا جبر و استبداد کے تحت رونما ہوئیں؟ کیا مسلمان حکم رانوں اور عوام نے مقامی زبانوں سے بیگانگی برتی یا انہیں اپنایا، تراشا اور نکھارا اور اس میں ان میں اعلیٰ درجے کا ادبی سرمایہ تخلیق کیا؟ ان سوالات اور ان سے متعلق بعض دوسرے موضوعات پر مضامین کے اس سلسلے کے اگلے حصے میں ہم چند مہینوں بعد گفتگو کریں گے۔
 ماخذ و مطالعہ:
1-The Indo-Aryan Languages, Colin P. Masica, Cambridge University Press
2-Proto Munda Words in Sanskrit, F.B.J. Kuiper, Noord-Hollandsche Uitgevers Maatschappij
3-Substrate Languages in Old Indo-Aryan, Michael Witzel, Electronic Journal of Vedic Studies
4-The Dravidian Languages, B. Krishnamurti, Cambridge University Press
5-Prehistoric Implications of the Dravidian element in the NIA lexicon, with special attention to Marathi, F. C. Southworth, International journal of Dravidian linguistics.
6-Substratum Effect and the Dravidian Element in Marathi: Towards an Alternative Model, Sonal Kulkarni Joshi, IJDL, International Journal of Dravidian Linguistics.
7-Linguistic history and language diversity in India: Views and counterviews, Sonal Kulkarni Joshi, Indian Academy of Science.
8-Dravidian Origin of Some Verbal roots of Sanskrit, Ravi Sankar S Nair, journal Language in India.
9-Material Culture and Social Formations in Ancient India, R.S. Sharma, Macmillan India Limited
10- India's Ancient Past, R.S. Sharma, Oxford University Press
11-The Early History of India, Vincent Arthur Smith, Oxford University Press
12-Pracheen Bharat, R.C. Majoomdar, Motilal Banarsidas Publisher