ٹرمپ کے معاشی اور تجارتی تحفظاتی اقدامات سے بھارت کے لیے معاشی و کاروباری تشویش بڑھ گئی ہے، کیونکہ امریکی پارلیمنٹ سے پاس کیے گئے لینڈسے او گراہم رشیا اینڈ ایران بل 2026 پر صدر ٹرمپ نے دستخط کر دیے ہیں۔ یہ ٹرمپ کو ایران اور روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر سو فیصد تک ٹیرف لگانے کا حق فراہم کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کا سب سے زیادہ اثر بھارت پر ہوگا کیونکہ چین کے ساتھ بھارت روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ چین اپنی ٹیکنالوجیکل برتری کے باعث امریکہ کے ٹیرف کا جواب دے گا جیسا کہ اس نایاب ارتھ ایلیمنٹ پر ماضی میں چین نے امریکہ کو جھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بھارت و چین دونوں ممالک روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔
اس مجوزہ قانون کے تحت بھارتی پیداوار پر سو فیصد ٹیرف لگایا جاتا ہے یا نہیں، یہ ٹرمپ پر منحصر ہوگا، کیونکہ اس میں انہیں رعایت دینے اور وقت کی حد کو بھی کم کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس قانون کا واحد مقصد ایران و روس کے توانائی کے ذرائع سے ہونے والی آمدنی پر قدغن لگانا ہے، مگر اس سے بین الاقوامی توانائی بازار پر بھی غیر یقینی پھیل رہی ہے۔ بلاشبہ ہمارے ملک کے لیے یہ معاشی اور اسٹریٹیجک طور پر بے حد چیلنجنگ ہے۔ یاد رہے کہ ہمارا ملک روسی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، وہیں امریکہ بھارت کا سب سے بڑا برآمداتی بازار ہے۔ اگر ٹرمپ بھارت پر سو فیصد ٹیرف لگاتے ہیں تو اس سے برآمداتی تجارت کو شدید جھٹکا لگے گا۔
یہ صورتِ حال خصوصاً امریکی تجارت، زراعت اور لیبر مارکیٹ سے منسلک ضابطوں میں تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ واضح ہو کہ ٹرمپ نے ایچ-1 بی ویزا اور دیگر غیر ویزا ہولڈروں کی ملازمت ختم ہونے کے بعد ملنے والی ساٹھ دنوں کی مہلت کو بھی ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ موجودہ قانون کے حساب سے نوکری ختم ہونے پر غیر ملکی ملازمین کو امریکہ میں رہتے ہوئے دوسری نوکری تلاش کرنے، ویزا کی حالت بدلنے یا ملک کو خیرباد کہنے کے لیے ساٹھ دنوں کا وقت ملتا ہے۔ اگر نئی تجویز نافذ ہوتی ہے تو نوکری ختم ہوتے ہی ملازم کا قانونی درجہ بھی فوری ختم ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں نئی ملازمت ملنے پر بھی ملازم کو امریکہ سے باہر جا کر سفارت خانے کے ذریعے پھر سے درخواست دینی پڑے گی۔
اس کا خمیازہ امریکہ میں کام کرنے والے بھارتی آئی ٹی پیشہ وروں کو بھگتنا پڑے گا جو بڑی تعداد میں ایچ-1 بی ویزا پر منحصر ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پیچیدہ فطرت کی وجہ سے ساری دنیا کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کی ایک رپورٹ میں بھارت سمیت چالیس ممالک پر امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے چین کے غیر قانونی ری روٹنگ نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، جبکہ بھارت نے امریکی رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کو یکسر خارج کر دیا ہے۔
امریکی پارلیمنٹ میں H-1B ویزا پر تین سال تک پابندی لگانے کے متعلق ایک نیا اور حد درجہ سخت بل بھی پیش کیا گیا ہے جس کے نفاذ سے ٹیکنالوجی کے شعبے کے بھارتی پیشہ وروں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ نئے مسودوں میں ایک لاکھ ڈالر تک کی بھاری فیس اور کم ترین تنخواہ اسٹینڈرڈ شامل ہیں۔ اس کے تحت روایتی لاٹری سسٹم ختم کرکے صرف زیادہ تنخواہ والے بڑے آفیسروں کو اولیت دینے پر زور ہے۔ ویزا والوں کے ماتحتوں اور رشتہ داروں پر بھی امریکی انتظامیہ نے آہستہ آہستہ یکم اگست سے نئی فیس کا ضابطہ نافذ کر دیا ہے جس کے تحت 31 جولائی 2028 تک ابتدائی دو سالوں کے لیے درآمداتی دواؤں کو ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ امریکی بازار میں دوا کی سپلائی میں رکاوٹ نہ آئے۔ اس کے بعد دواؤں کی قیمت پر سو فیصد ٹیرف لگایا جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یکم اگست 2029 کے بعد اس فیس کو بڑھا کر دو سو فیصد کی سب سے اونچی سطح پر پہنچا دیا جائے گا۔
اس طرح امریکہ کی طرف سے بھارت کے لیے بڑھتے ہوئے معاشی اور تجارتی چیلنجوں کے درمیان بھارت کو امریکہ کے ساتھ آگے ہونے والے دو طرفہ تجارتی سمجھوتے کے تحت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے تعلق سے محتاط رہنا ہوگا۔ ویسے وزیر اعظم مودی نے بارہا قومی مفاد کے تحفظ کا اپنا موقف دہرایا ہے۔ ایک متوازن اور آفیشیل تجارتی سمجھوتہ ملک کی اہم برآمداتی مصنوعات، مثلاً ادویات، ہیرے، جواہرات، گہنے، زیورات، لباس، مصافحے اور دستکاری پر امریکی ٹیرف کو کم اور نچلی ترین سطح پر لا سکتا ہے مگر اس وقت موجودہ امریکی تحفظاتی پالیسی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھارت کو لاجسٹک طور پر آگے بڑھنا ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کے میدان میں خاصے مضبوط ہوئے ہیں، مگر ٹرمپ کی موجودہ پالیسیوں نے اس شراکت داری کے سامنے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ اب امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات بھارت کے معاشی اور توانائی کے مفاد کے خاطر دباؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔
30 ستمبر 2026 کو وزیراعظم مودی اور ٹرمپ نے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں تجارت، دفاع، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی سمیت دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا۔ اسی دوران وزیرِ تجارت پیوش گوئل امریکہ میں عبوری تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ بھارت کے لیے اصل کامیابی اس میں ہوگی کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی توانائی اور تجارت کے لیے متعدد راستے کھلے رکھے۔
اگر بھارت اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بناتا، مقامی صنعت کو مضبوط کرتا اور توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری بڑھاتا ہے تو بیرونی تجارتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی اس کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔ اب بھارت کے سامنے تین بڑے سوال ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ اول: کیا بھارت روسی تیل کی خریداری کو اس رفتار سے کم کر سکتا ہے کہ امریکی دباؤ بھی کم ہو اور ہماری توانائی سلامتی بھی متاثر نہ ہو؟ دوم: کیا بھارت امریکہ کے ساتھ ایسا تجارتی معاہدہ کر سکتا ہے جس میں برآمدات کے مواقع بڑھیں، لیکن کسانوں اور چھوٹی صنعتوں کے مفادات بھی محروم نہ ہوں؟ سوم: اب بھارت کو اپنی برآمدی منڈیوں اور توانائی کے ذرائع کو مزید متنوع بنانا ہوگا تاکہ کسی ایک ملک کے فیصلے سے بھارتی معیشت زیادہ متاثر نہ ہو۔
بھارت کو امریکہ پر بہت زیادہ انحصاریت گھٹانے کے لیے امریکہ کے بجائے مغربی ایشیا، افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا کے غیر روایتی بازاروں میں برآمدات کو وسعت دینی ہوگی۔ ساتھ ہی یورپی یونین اور دیگر اہم معیشتوں کے ساتھ آزاد تجارتی سمجھوتوں کو فوری نافذ کرتے ہوئے تجارتی تنوع کو بڑھانا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی معاشی چیلنجز کے درمیان بھی بھارت کی معیشت قدرے بہتری کی طرف گامزن ہے۔ لہٰذا بھارت کو کسی بھی خارجی دباؤ میں آئے بغیر بازار کے حالات کے موافق اپنے معاشی اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام اٹھانے چاہئیں۔
ہمارے سامنے تصویر کا دوسرا رخ بھی رہنا چاہیے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون، سیمی کنڈکٹرز، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ امریکی کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری بڑھا سکتی ہیں جبکہ بھارت عالمی سپلائی چین میں اپنی جگہ بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر تجارتی اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہو جاتے ہیں تو یہی بحران دونوں ممالک کے درمیان نئے معاشی معاہدے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔