قرآن کا اصولِ خبر اور تحقیق، عدل و انسانی حرمت
بھارت میں میڈیا، سوشل میڈیا اور فرقہ وارانہ تعلقات کا مسئلہ محض صحافت کے معیار تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق انسانی جان، مذہبی آزادی، جمہوری حقوق، سماجی امن اور ملک کے مستقبل سے ہے۔ جب خبر کی جگہ افواہ، تحقیق کی جگہ تعصب اور مکالمے کی جگہ اشتعال انگیزی لے لیتی ہے تو اس کے نتائج معاشرے کے لیے نہایت تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
میڈیا رائے عامہ کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
میڈیا معاشرے کو باخبر رکھنے، حکومت کا احتساب کرنے اور عوام کو مختلف نقطۂ نظر سے واقف کرانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن جب کوئی خبر رساں ادارہ خبر کو تحقیق کے بجائے سیاسی مفاد، مذہبی تعصب یا سنسنی خیزی کا ذریعہ بنادے تو یہ رویہ عدل، انصاف اور سماجی ذمہ داری کے بجائے ظلم میں شمار کیا جائے گا۔اس مسئلے کے چند اہم پہلو ہیں: حکومت کی ناکامیوں، بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم اور صحت جیسے مسائل کے مقابلے میں مذہبی تنازعات کو ہوا دینا۔ اشتعال انگیز سرخیاں اور مخالف فریق کو دشمن کے طور پر پیش کرنا۔ کسی ایک شخص کے جرم کو پورے مذہبی یا نسلی گروہ سے منسوب کرنا۔ کسی شخص یا گروہ پر الزام لگتے ہی اسے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نشر کرنا۔ پرانی تصاویر، مسخ شدہ ویڈیوز اور سیاق و سباق سے کاٹے گئے بیانات کو نئی خبر بنا کر پھیلانا وغیرہ۔ اس طرزِ صحافت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ناظرین کسی مسئلے کی مکمل حقیقت جاننے کے بجائے پہلے سے قائم تعصبات کی تصدیق کرنے لگتے ہیں۔ پھر بار بار نشر ہونے والا الزام انہیں حقیقت معلوم ہونے لگتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے رائٹرز انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2025 کے مطابق بھارت میں کیے گئے سروے کے 53 فیصد شرکاء نے وہاٹس ایپ کو غلط یا گمراہ کن معلومات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس سے قبل ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2024 میں بھارتی شرکاء میں خبروں پر مجموعی اعتماد کی شرح 41 فیصد بتائی گئی تھی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غلط معلومات کی تشہیر اور خبروں پر عوامی اعتماد میں کمی ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
تحقیقی مقالے ’’سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور نفرت انگیز تقریر کا فرقہ وارانہ تشدد میں کردار: بھارتی تناظر‘‘ میں 2016 سے 2022 کے دوران پیش آنے والے فرقہ وارانہ تنازعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور نفرت انگیز پیغامات لوگوں کے جذبات اور طرزِ عمل کو متاثر کرتے ہیں اور یوں فرقہ وارانہ تنازعات کو مزید ہوا دیتے ہیں۔
2002 کے گجرات فسادات:
27 فروری 2002 کو گودھرا کے مقام پر سابرمتی ایکسپریس کے ایک ڈبے میں آگ لگنے سے 59 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد گجرات میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا، جس میں بڑی تعداد میں مسلمان مارے گئے، ان کے مکانات اور کاروبار تباہ ہوئے اور خواتین کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔
ہیومن رائٹس واچ (Human Rights Watch) نے اپریل 2002 کی اپنی رپورٹ میں گجرات کے تشدد، مقامی میڈیا کی اشتعال انگیز رپورٹنگ اور پولیس و ریاستی حکام کے کردار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ رپورٹ میں بعض مقامی اخبارات کی ایسی سرخیوں کا بھی ذکر کیا گیا جو انتقامی جذبات کو بھڑکانے کا سبب بن سکتی تھیں۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی جرم کی تحقیقات کرنا اور مجرموں کو سزا دینا قانون کا کام ہے؛ پورے مذہبی گروہ کو مجرم قرار دینا اور بے گناہوں سے انتقام لینا صریح ظلم اور نا انصافی ہے۔
نسل کشی کے خطرات کا مطالعہ کرنے والی تنظیم جینوسائیڈ واچ (Genocide Watch) کے بانی ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن (Dr. Gregory H. Stanton) نے نسل کشی کے عمل کو سمجھنے اور اس کی ابتدائی علامات کی شناخت کے لیے دس مراحل پر مشتمل ایک تجزیاتی خاکہ پیش کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کس طرح بتدریج سنگین صورت اختیار کرسکتے ہیں۔
-1 گروہوں میں تقسیم: معاشرے کو مذہب، نسل یا قومیت کی بنیاد پر ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کے خانوں میں بانٹ دینا۔
-2 شناخت کا تعین: مخصوص ناموں، نشانات یا علامتوں کے ذریعے گروہوں کی شناخت کرنا۔ یہ عمل بذاتِ خود نقصان دہ نہیں ہے لیکن جب کسی گروہ کو ذلیل کرنے یا نشانہ بنانے کے لیے اس کی علامتیں استعمال کی جائیں تو خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
-3 امتیازی سلوک: کسی گروہ کو مذہب، نسل یا شناخت کی بنیاد پر مساوی حقوق، شہری آزادیوں، تعلیم، ملازمت یا سیاسی شرکت سے محروم کرنا، مثلاً مستحق شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کرنا۔
-4 غیر انسانی تصور: کسی گروہ کو انسانیت سے گرا ہوا ظاہر کرنا یا اسے معاشرے کے لیے ناسور قرار دینا۔ ایسی زبان انسانی ہمدردی کو کمزور اور تشدد کو قابلِ قبول بنانے میں مدد دیتی ہے۔
-5تنظیم سازی: نفرت پھیلانے والے گروہوں، مسلح جتھوں یا منظم نیٹ ورکس کا قیام، جن کے ذریعے کسی مخصوص گروہ کے خلاف دھمکیوں، حملوں اور دوسرے منظم اقدامات کو ممکن بنایا جاتا ہے۔
-6تقسیم میں شدت: انتہا پسند عناصر معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیان خلیج بڑھاتے، معتدل آوازوں کو دباتے اور مکالمے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر مخالف گروہ کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا تیز ہوجاتا ہے۔
-7 تیاری: کسی گروہ کے خلاف بڑے پیمانے پر ظلم یا قتل کی منصوبہ بندی، افراد کی تربیت اور ہتھیاروں کا انتظام کرنا۔
-8 ظلم و ستم: کسی گروہ کے افراد کی شناخت کرکے انہیں منظم طور پر گرفتار کرنا، قید کرنا، ان کے مکانات مسمار کرنا یا فساد اور ہجومی تشدد کے ذریعے ان کی جان و مال کو نقصان پہنچانا۔ یہ مرحلہ اجتماعی قتل سے پہلے آسکتا ہے۔
-9 نسل کشی: کسی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے اس کے افراد کا قتل کرنا۔ یہ نسل کشی کا عملی مرحلہ ہے۔
-10 انکار: جرم کے بعد نسل کشی سے انکار کرنا، شواہد مٹانا، ذمہ داروں کو بچانا، متاثرین ہی کو قصوروار ٹھیرانا یا تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا۔ اس طرح متاثرین انصاف سے محروم رہتے ہیں اور معاشرے کے سامنے حقیقت کو مسخ کیا جاتا ہے۔
اس خاکے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ نسل کشی کا خطرہ صرف اس وقت پیدا نہیں ہوتا جب قتل عام شروع ہوجائے۔ نفرت انگیز پروپیگنڈا، غیر انسانی زبان، امتیازی سلوک اور تشدد کی دھمکیاں بھی ابتدائی انتباہی علامات ہوسکتی ہیں۔ ان خطرات کا بروقت تدارک ضروری ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، امتیازی رویوں اور تشدد کے واقعات کے تناظر میں ان علامات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم، کسی ملک کو نسل کشی کے مخصوص مرحلے میں قرار دینے کے لیے ٹھوس شواہد اور محتاط تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے آٹھ مراحل تک پہنچ جانے یا نسل کشی کی جانب پیش قدمی جیسے دعوؤں کو ثابت شدہ حقیقت کے بجائے ایک سنگین انتباہ کے طور پر پیش کرنا زیادہ مناسب ہے۔
اس صورتِ حال میں گودی میڈیا کا کردار خاص طور پر قابلِ تشویش ہے۔ اگر ذرائع ابلاغ مسلسل ایسا بیانیہ تشکیل دیں جس میں مسلم اقلیت کو خطرہ یا دشمن بناکر پیش کیا جائے، اس کے افراد کو اجتماعی طور پر مجرم، غدار یا ملک دشمن قرار دیا جائے اور ان کے خلاف امتیازی سلوک یا تشدد کو جائز ٹھیرایا جائے تو معاشرے کی اخلاقی حساسیت متاثر ہوتی ہے۔ لوگ ظلم کو ظلم سمجھنے کے بجائے اسے جائز دفاع یا انتقام کا نام دینے لگتے ہیں۔ نفرت کی مسلسل تشہیر کسی مخصوص گروہ کے خلاف منظم کارروائیوں کو بھی معمول کا واقعہ بناکر پیش کرسکتی ہے۔
ان خطرات کا جواب تحقیق، جھوٹ کی تردید، بھائی چارے کے فروغ، انسانی حقوق کے تحفظ اور تشدد کی روک تھام کے ٹھوس اقدامات سے دیا جانا چاہیے۔ نفرت کے اس بیانیے کو بے نقاب کرنا اور اس کے اثرات کے خلاف آواز اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسی وسیع تر تناظر میں مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا خدشہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اکتوبر 2026 میں بھارت میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرِ ثانی (Special Intensive Revision — SIR) کے حوالے سے تنازعات اور احتجاج سامنے آئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کی رپورٹوں کے مطابق، اس عمل میں بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انتخابی حکام نے فہرستوں کی تطہیر اور دہری اندراجات کی روک تھام کو اس عمل کی وجوہات میں شمار کیا ہے، جبکہ ناقدین نے اس کی شفافیت پر تشویش ظاہر کی ہے۔
میڈیا کی نفرت انگیزی کا اسلامی حل
اسلام محض جھوٹی خبر پھیلانے سے منع نہیں کرتا بلکہ خبر کی تحقیق، عدل، انسانی جان کی حرمت، عزت و آبرو کے تحفظ اور معاشرتی فساد کی روک تھام کے جامع اصول بھی پیش کرتا ہے۔
-1 خبر کی تحقیق: قرآن کا بنیادی اصول
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (سورۃ الحجرات: 6)
’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔‘‘
اس آیت میں خبر کی تحقیق کے ساتھ اس کا مقصد بھی واضح کیا گیا ہے: کسی قوم کو لاعلمی کی بنیاد پر نقصان سے بچانا۔ آج یہ اصول ٹی وی چینلوں، اخبارات، یوٹیوب، وہاٹس ایپ، فیس بک اور ابلاغ کے تمام ذرائع پر لاگو ہوتا ہے۔ بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ گواہ ہے کہ سنسنی خیز افواہیں کس طرح تباہ کن تشدد کو ہوا دے سکتی ہیں۔
-2 خبر پھیلانے سے پہلے جواب دہی کا احساس
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ
(سورۃ النور:15)
’’جب تم اسے اپنی زبانوں سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں علم نہ تھا اور تم اسے معمولی سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔‘‘
یہ آیت افواہوں کے بارے میں اہم اخلاقی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ کوئی خبر دلچسپ یا حیرت انگیز معلوم ہونے پر اسے آگے بڑھا دینا معمولی بات محسوس ہوسکتی ہے، لیکن اس سے کسی بے گناہ کی عزت، سلامتی یا جان خطرے میں پڑسکتی ہے۔ اس لیے ہر شخص کو خبر پھیلانے سے پہلے پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ درست ہے، یا اس کی تصدیق کے لیے قابلِ اعتماد ثبوت موجود ہیں یا اس سے کسی بے گناہ کو نقصان تو نہیں پہنچ سکتا ہے؟
-3 دشمن کے ساتھ بھی انصاف
قرآن مجید عدل کا ایسا معیار پیش کرتا ہے جو دشمنی میں بھی تبدیل نہیں ہوتا:
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (سورۃ المائدہ 8)
’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم بے انصافی کرنے لگو! انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔‘‘
اس اصول کا تقاضا ہے کہ مخالفین کے بارے میں بھی سچ بولا جائے، جھوٹے الزامات نہ لگائے جائیں اور کسی بے گناہ کو مجرم نہ ٹھیرایا جائے۔ کسی قوم کے ایک فرد نے جرم کیا ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، نہ کہ اس مذہب کے تمام ماننے والوں کو مجرم قرار دیا جائے۔
اس کے برعکس قوم پرستی کی بعض صورتیں قومی مفاد کے نام پر دوسروں کے ساتھ ناانصافی کو جائز ٹھیراتی ہیں۔ جب قومی یا مذہبی شناخت انصاف پر غالب آجاتی ہے تو یہی ذہنیت معاشروں اور قوموں کے درمیان تصادم کو ہوا دیتی ہے۔
-4 انسانی جان کی حرمت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا (سورۃ المائدہ:32)
’’جس نے کسی جان کو کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا۔‘‘
اس آیت میں انسانی جان کی حرمت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ کسی بے گناہ کو مذہب، نسل یا شناخت کی بنیاد پر قتل کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ نفرت انگیز میڈیا کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ کسی پوری مسلم اقلیت کو قابلِ نفرت یا سزا کا مستحق بناکر پیش کرسکتا ہے۔ ایسی اجتماعی الزام تراشی بے گناہوں کے خلاف تشدد کو جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
-5 زبان اور کردار کی حفاظت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘
ڈیجیٹل دور میں اس تعلیم کا تقاضا ہے کہ غیر مصدقہ خبر آگے نہ پھیلائی جائے اور ایسا تبصرہ شائع کرنے سے پہلے اس کے اخلاقی نتائج پر غور کیا جائے جو کسی بے گناہ کی توہین، اشتعال یا نقصان کا سبب بن سکتا ہو۔ یہ اصول صحافیوں، سیاسی کارکنوں، مذہبی رہنماؤں اور سوشل میڈیا کے تمام صارفین کے لیے اہم ہے۔
-6 ظلم کے خلاف گواہی
اسلام صرف انفرادی زندگی میں عدل کی پابندی کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ معاشرے میں اس کے قیام کی ذمہ داری بھی سونپتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ۔(سورۃ النساء: 135)
’’انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ گواہی خود تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
اس ہدایت کا تقاضا ہے کہ مسلمان ہر مظلوم کا ساتھ دیں، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ کسی مسلمان کی جانب سے دوسرے طبقے کے خلاف جھوٹ، تشدد یا نا انصافی ہو تو اسے بھی غلط قرار دیا جائے اور کسی مسلمان پر جھوٹا الزام لگایا جائے تو اس کی تردید کی جائے۔ اسلامی دعوت کا اخلاقی اعتبار اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب عدل کو جماعتی وابستگی پر ترجیح دی جائے۔
نفرت انگیز میڈیا کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات
قرآنی تعلیمات کو معاشرتی سطح پر مؤثر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں۔
خبر کی تصدیق کا نظام: حساس خبروں کی اشاعت سے پہلے کم از کم دو قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق کی جائے۔ تصاویر اور ویڈیوز کی تاریخ، مقام اور اصل ماخذ کی جانچ ہو اور سرکاری بیانات کو بھی تحقیق سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
میڈیا کی جواب دہی: خبر رساں اداروں میں مؤثر شکایتی نظام، واضح تصحیح کی پالیسی اور آزادانہ نگرانی ہونی چاہیے۔ دانستہ جھوٹی خبروں اور تشدد پر اکسانے کے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی ہو، جبکہ جائز تنقید اور آزادیٔ صحافت کا تحفظ بھی برقرار رہے۔
میڈیا خواندگی: اسکولوں، کالجوں، مساجد اور سماجی تنظیموں میں لوگوں کو خبر اور رائے کا فرق، پرانی ویڈیوز کی شناخت اور معلومات کی تصدیق کے طریقے سکھائے جائیں۔
بین المذاہب اعتماد: مقامی سطح پر ہندوؤں، مسلمانوں اور دوسرے مذہبی طبقات کے ذمہ دار افراد پر مشتمل مشترکہ امن گروپ بنائے جائیں۔ افواہ پھیلنے پر وہ پولیس، انتظامیہ اور قابلِ اعتماد مقامی ذرائع سے حقیقت معلوم کرکے مصدقہ معلومات عام کریں۔
خطرات کی بروقت شناخت: کسی طبقے کے خلاف مسلسل دھمکیوں، تشدد پر اکسانے، ہتھیار جمع کرنے یا منظم حملوں کی تیاری کے قابلِ تصدیق اشاروں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ انتظامیہ اور پولیس بروقت اور غیر جانب دارانہ اقدامات کریں۔
متاثرین کی قانونی و انسانی مدد: نفرت انگیز مہم، دھمکیوں، تشدد یا امتیازی سلوک کا سامنا کرنے والوں کو قانونی مشورہ، دستاویزی مدد اور ضروری تحفظ فراہم کیا جائے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔
مسلمانوں کا اپنا میڈیا کیسا ہونا چاہیے؟
مسئلے کا حل صرف دوسرے میڈیا پر تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ ایک بہتر متبادل پیش کرنا بھی ہے۔ مسلمانوں کو ایسے اخبارات، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں، یوٹیوب چینلز اور تحقیقی اداروں کی ضرورت ہے جو:
• ہر خبر کو مستند شواہد کے ساتھ پیش کریں اور غلطی پر کھلے عام تصحیح کریں۔
• حکومتی پالیسیوں پر تنقید میں اعداد و شمار اور دستاویزات کا سہارا لیں۔
• مسلمانوں کے مسائل بیان کرتے ہوئے دوسرے مذہبی طبقات کے خلاف نفرت نہ پھیلائیں۔
• فرقہ وارانہ واقعات میں تمام متاثرین کو اہمیت دیں۔
• بے روزگاری، تعلیم، صحت، غربت، خواتین کے حقوق اور معاشی ناانصافی جیسے مسائل کو بھی جگہ دیں۔
• قارئین کو جذباتی نعروں کے بجائے تحقیق، دلیل اور اخلاقی ذمہ داری کی طرف متوجہ کریں۔
اگر مسلمان اپنے میڈیا کے ذریعے دیانت داری، انصاف اور خدمتِ انسانیت کی مثال قائم کریں تو یہ میڈیا مسلمانوں کی آواز بننے کے ساتھ وسیع تر ہندوستانی معاشرے میں اعتماد بھی پیدا کرسکتا ہے۔
حکومت اور شہری معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری
میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلانے کی روک تھام کسی ایک مذہبی جماعت یا طبقے کی ذمہ داری نہیں۔ حکومت، صحافتی اداروں، عدلیہ، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور شہریوں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
حکومت شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرے اور قانون کا نفاذ مذہب سے قطع نظر یکساں طور پر یقینی بنائے۔ صحافتی ادارے غیر مصدقہ الزامات کو خبر کی شکل نہ دیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم تشدد پر اکسانے والے مواد کے خلاف شفاف طریقۂ کار اپنائیں اور شہری افواہیں پھیلانے کے بجائے ان کی تصدیق کریں۔
نفرت کا جواب نفرت نہیں، عدل اور سچائی ہے۔
میڈیا کی طاقت اس بات میں ہے کہ وہ لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرے، حکم رانوں سے جواب طلب کرے اور معاشرے کے کمزور افراد کی آواز بنے۔ لیکن جب یہی طاقت جھوٹ، تعصب اور اشتعال انگیزی کے لیے استعمال ہوتی ہے تو اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔
گجرات 2002 کے واقعات اس بات کی تاریخی تنبیہ ہیں کہ فرقہ وارانہ کشیدگی میں غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ، اجتماعی الزام تراشی اور انتقامی زبان سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ نسل کشی کے خطرات سے متعلق تحقیقی ماڈل بھی خبردار کرتے ہیں کہ نفرت اور امتیازی سلوک کی ابتدائی علامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے خبر کی تحقیق، عدل، انسانی جان کی حرمت اور بے بنیاد الزام تراشی سے اجتناب کے جو اصول پیش کیے، وہ آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی پوری معنویت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو ان تعلیمات کو اپنی ذاتی زندگی، صحافت، سوشل میڈیا اور سماجی سرگرمیوں میں نافذ کرنے کے ساتھ ہر انسان کے بنیادی حقوق، نفرت انگیزی کی روک تھام اور قانون کی یکساں عمل داری کے لیے پُرامن اور قانونی جدوجہد کرنی چاہیے۔
بڑے پیمانے پر تشدد کو روکنے کا ایک اہم راستہ یہ ہے کہ جھوٹ کو حقیقت، تعصب کو اجتماعی نفرت اور نفرت کو تشدد کا جواز بننے سے پہلے روک دیا جائے۔ یہی اسلام کے پیغامِ عدل، رحمت اور اصلاحِ معاشرہ کا تقاضا ہے۔
بھارت میں میڈیا کا منفی کردار، جھوٹی خبریں اور فرقہ وارانہ نفرت

مسئلے کی سنگینی، تاریخی اسباق اور اسلام کا جامع حل

