مسجد کی فضاء، نماز اور قرآن کے پیغام سے واقفیت کا نادر تجربہ
سید حامد محسن
مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ علم، مکالمے اور انسانیت کو راہ ہدایت سے روشناس کروانے کا مرکز بھی بن سکتی ہے۔ اس حقیقت کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکہ میں زیرِ تعلیم جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے مسیحی طلبہ و طالبات کے ایک وفد نے بنگلورو کی تاریخی مسجد قادریہ کا دورہ کیا۔ اس منفرد "مسجد ٹور" کے دوران مہمان طلبہ کو وضو سے لے کر نماز تک اسلامی عبادات کا عملی مشاہدہ کرایا گیا، اذان کے معانی سمجھائے گئے، قرآن مجید کی خطاطی اور اس کے پیغام سے متعارف کروایا گیا، جبکہ اسلام کی تعلیماتِ امن، رواداری اور اخوتِ انسانی پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس پروگرام کا اہتمام ڈاکٹر محمد سعید کی نگرانی میں کیا گیا جسے طلبہ نے نہایت دلچسپی اور انہماک کے ساتھ دیکھا اور سراہا۔
دورے کا آغاز مسجد کے نائب امام حافظ محمد مبارک کی جانب سے وضو کے عملی تعارف سے ہوا۔ انہوں نے مہمان طلبہ کو نہ صرف وضو کا طریقہ بتایا بلکہ سلام سنٹر کے داعی افروز احمد نے انگریزی زبان میں وضو کی دعا اور اس کے معانی بھی سمجھائے۔ اس موقع پر کئی غیر مسلم طلبہ و طالبات نے خود وضو کرکے اس کا عملی تجربہ حاصل کیا، جس نے اس تعارفی نشست کو مزید مؤثر اور یادگار بنا دیا۔
مسجد میں داخلے سے قبل اسلامی آداب کے مطابق طالبات کو سروں پر اوڑھنے کے لیے اسکارف فراہم کیے گئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمد سعید کی نواسی ازاریم اور شبانہ محسن نے سنتِ نبوی کی پیروی کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا "السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" کہہ کر استقبال کیا اور انہیں اس اسلامی سلام کے معنی، اس کی روح اور معاشرتی اہمیت سے بھی روشناس کرایا۔
اس کے بعد سلام سنٹر کے داعی ہادی حسن نے مسجد میں داخل ہونے کی مسنون دعا انگریزی ترجمے کے ساتھ سنائی، جبکہ مسجد کے مختلف حصوں کا دورہ کراتے ہوئے دیواروں پر نقش خوبصورت قرآنی آیات کی خطاطی کی طرف توجہ دلائی گئی۔ مہمانوں کو ان آیات کا مفہوم، ان کا پیغام اور اسلامی فنِ خطاطی کی جمالیاتی روایت بھی سمجھائی گئی۔
اسی دوران مسجد کی فضا اذان کی روح پرور آواز سے گونج اٹھی تو اس موقع کو تعلیمی انداز میں استعمال کرتے ہوئے مہمانوں کو بتایا گیا کہ اذان بذاتِ خود عبادت نہیں بلکہ نماز کے لیے دی جانے والی دعوت ہے۔ اذان کے ہر کلمے کا انگریزی ترجمہ، اس کے پس منظر اور اس کے روحانی و فکری پیغام کی وضاحت کی گئی جسے طلبہ نے نہایت انہماک سے سنا اور متعدد سوالات بھی کیے۔
بعد ازاں ڈاکٹر محمد سعید نے اسلام کے بنیادی عقائد، توحید، رسالت، عبادات، حسنِ اخلاق، امن، رواداری، عدل اور اخوتِ انسانی کے تصورات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام انسانیت کی فلاح، باہمی احترام اور خیر خواہی کا دین ہے، جو رنگ، نسل اور مذہب سے بالا تر ہو کر تمام انسانوں کو عزت و احترام کا درس دیتا ہے۔
اس موقع پر سید حامد محسن نے سیرتِ نبوی کے ایک اہم تاریخی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یمن کے علاقے نجران سے تعلق رکھنے والا مسیحیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا تھا، جس کا رسول اکرم ﷺ نے مسجد نبوی میں نہایت عزت، محبت اور احترام کے ساتھ استقبال کیا، انہیں اسلام کا تعارف کرایا اور دعوتِ حق پیش کی، مگر ساتھ ہی یہ ابدی اصول بھی واضح فرمایا کہ "دین میں کوئی جبر نہیں"۔ انہوں نے کہا کہ مسجد قادریہ میں منعقد ہونے والا یہ مسجد ٹور بھی اسی نبوی اسوہ کی ایک عملی جھلک ہے، جس کا مقصد مکالمے، احترام اور باہمی تفہیم کو فروغ دینا ہے۔
پروگرام کے اختتام پر وفد کے تمام ارکان کو انگریزی ترجمۂ قرآن، سیرتِ رسول ﷺ پر مبنی کتاب "Follow Me" اور اسلام کے تعارف پر مشتمل دیگر کتابیں بطورِ تحفہ پیش کی گئیں۔ یہ منظر خاص طور پر قابلِ توجہ تھا کہ چند طلبہ نے وہیں بیٹھ کر ان کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا، جسے منتظمین نے اسلام کو براہِ راست اس کے مستند مصادر سے سمجھنے کی مثبت علامت قرار دیا۔
اسی دوران عصر کی نماز کا وقت ہوگیا، جس سے مہمانوں کو اسلامی عبادت کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کا نادر موقع ملا۔ انہیں جماعت، امام اور مقتدی کے تعلق، نماز کی نیت، قیام، رکوع، سجدہ، تشہد اور سلام سمیت نماز کے ہر مرحلے کی معنویت اور اس میں پڑھی جانے والی دعاؤں کی تشریح کی گئی تاکہ وہ نہ صرف نماز کی ظاہری ہیئت بلکہ اس کے روحانی مقصد کو بھی بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ اس طرح مسجد کا یہ دورہ محض ایک رسمی وزٹ نہیں بلکہ اسلام کی تعلیمات، عبادات اور تہذیبی اقدار سے ایک عملی اور بامعنی تعارف بن کر سامنے آیا۔
اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے شبانہ محسن نے کہا کہ ان کے لیے یہ لمحہ غیر معمولی سعادت کا حامل ہے کہ انہیں مسجد کے محراب کے سامنے کھڑے ہوکر قرآنِ مجید اور سیرتِ رسول اکرم ﷺ کا پیغام ان مہمان طلبہ تک پہنچانے کا موقع ملا۔ انہوں نے طلبہ سے درخواست کی کہ وہ تحفے میں دی گئی کتابوں کا روزانہ کچھ نہ کچھ مطالعہ ضرور کریں تاکہ اسلام کو براہِ راست اس کے مستند اور اصل مصادر سے سمجھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآنِ مجید صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی کی کتاب ہے۔
بعد ازاں اردو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبانہ محسن نے علماء، ائمۂ مساجد اور مسلم دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کی مساجد کو دعوت، مکالمے اور تعارفِ اسلام کا مرکز بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم برادرانِ وطن کو اللہ کے گھروں میں مدعو کیا جائے، ان کی محبت، احترام اور خوش اخلاقی کے ساتھ میزبانی کی جائے، انہیں قرآنِ مجید کے تراجم، سیرتِ رسول ﷺ اور اسلام پر مستند کتابیں بطورِ تحفہ پیش کی جائیں، بلکہ اگر ممکن ہو تو مقامی روایتی کھانوں خصوصاً بریانی سے بھی ان کی تواضع کی جائے تاکہ وہ اسلام کو صرف کتابوں ہی سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے کردار، حسنِ سلوک اور مہمان نوازی کے ذریعے بھی قریب سے دیکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ آج اسلام، قرآنِ مجید، رسولِ اکرم ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی بہت سی غلط فہمیاں براہِ راست ملاقات، مکالمے اور حسنِ اخلاق کے ذریعے دور کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نےکہا "ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام حکمت، محبت اور بہترین اخلاق کے ساتھ لوگوں تک پہنچائیں، جبکہ دلوں کو ہدایت دینا اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔"
اس موقع پر سلام سنٹر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ غیر مسلم دوستوں میں تقسیم کے لیے قرآنِ مجید کے تراجم، سیرتِ رسول ﷺ اور اسلام کے تعارف پر مشتمل مستند کتابیں بلا معاوضہ فراہم کی جائیں گی تاکہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق دعوتِ دین کے اس کارِ خیر میں حصہ لے سکے۔ منتظمین نے اس یقین کا اظہار کیا کہ "مسجد ٹور" جیسے پروگرام اسلام کی حقیقی اور پُرامن تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے، مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اعتماد اور باہمی احترام کو فروغ دینے، اور تعمیری بین المذاہب مکالمے کی فضا ہموار کرنے کا ایک مؤثر اور آزمودہ ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
بنگلورو میں منفرد ‘مسجد ٹور‘پروگرام

امریکی مسیحی طلبہ نے کیا اسلام کی عملی جھلک کا مشاہدہ

