دھرمیندر پردھان کے استعفے کو اگر صرف ایک وزیر کی سیاسی ذمہ داری تک محدود کر دیا جائے تو ہم اس پورے بحران کی اصل جڑ تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ نیٹ کا بحران نہ تو صرف ایک پرچہ افشا ہونے کی کہانی ہے اور نہ ہی اس کا حل کسی ایک وزیر کے استعفیٰ میں پوشیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بحران اس تعلیمی نظام کی ناکامی کا اظہار ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل مرکزیت (Centralization) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس دوران ریاستوں کے اختیارات بتدریج محدود کیے گئے ہیں، وفاقی ڈھانچہ کم زور ہوا اور لاکھوں طلبا کا مستقبل ایک ہی ادارے اور ایک ہی امتحان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔
سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ پرچہ کس نے افشا کیا بلکہ یہ ہے کہ ایسا نظام کیوں تشکیل دیا گیا جس میں ایک ہی امتحان کی معمولی سی خرابی پورے ملک کے لاکھوں طلبا کی قسمت پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟ جب تقریباً بیس لاکھ امیدواروں کا مستقبل ایک ہی امتحان اور ایک ہی مرکزی ایجنسی سے وابستہ ہو تو کسی بھی انتظامی ناکامی کا اثر مقامی نہیں بلکہ قومی سطح پر ظاہر ہوتا ہے۔ نیٹ بحران نے اسی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔
تعلیم سماجی مساوات کا سب سے مؤثر ذریعہ
جدید ہندوستان کی تعمیر میں تعلیم کو ہمیشہ سماجی انصاف اور ترقی کا بنیادی ستون تصور کیا گیا ہے۔ گاندھی جی کے نزدیک تعلیم صرف پڑھنے لکھنے یا امتحان پاس کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے با شعور، با اخلاق اور ذمہ دار شہریوں کی تشکیل تھی جو جمہوری معاشرے میں تعمیری کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح ڈاکٹر امبیڈکر نے تعلیم کو انقلابی قوت قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک صدیوں سے محروم و کچلے ہوئے طبقات کے لیے تعلیم آزادی، عزت اور برابری تک پہنچنے کا واحد راستہ تھی۔ ان کا مشہور نعرہ "تعلیم حاصل کرو، منظم ہو، جدوجہد کرو" محض ایک سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک سماجی فلسفہ تھا جس کا مقصد علم کے ذریعے غیر مساوی معاشرتی ڈھانچے کو چیلنج کرنا تھا۔
اسی لیے نیٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران طلبا نے امبیڈکر کی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں۔ یہ صرف علامتی احتجاج نہیں تھا بلکہ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ جب تعلیمی اداروں کی ساکھ مجروح ہوتی ہے تو صرف ایک امتحان نہیں بلکہ سماجی انصاف اور ترقی کا پورا تصور خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں مسابقتی امتحانات صرف میرٹ کا پیمانہ نہیں بلکہ لاکھوں غریب، دیہی اور کم زور طبقات کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے غربت سے نکلنے کی واحد امید ہوتے ہیں۔ جب یہی امتحانات مشکوک ہو جائیں تو محنت، قابلیت اور انصاف پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو جاتا ہے۔
"ایک قوم، ایک امتحان" ایک خوبصورت نعرہ یا خطرناک تصور؟
جب نیٹ نافذ کیا گیا تو اس کے حق میں کئی مضبوط دلائل پیش کیے گئے۔ کہا گیا کہ قومی سطح کا امتحان متعدد داخلہ امتحانات کی ضرورت ختم کرے گا، بد عنوانی میں کمی آئے گی اور پورے ملک میں یکساں معیار قائم ہوگا۔ بظاہر یہ تصور نہایت پرکشش معلوم ہوتا ہے لیکن ہندوستان کی زمینی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ہندوستان کوئی یکساں تعلیمی نظام رکھنے والا ملک نہیں ہے بلکہ ایک وفاقی جمہوریہ ہے، جہاں مختلف ریاستی بورڈز، الگ نصاب، متعدد زبانیں، مختلف معاشی حالات اور تعلیمی سہولیات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ دہلی، کوٹا، حیدرآباد یا ممبئی کے مہنگے کوچنگ مراکز میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم اور بہار، آسام، جھار کھنڈ یا تمل ناڈو کے کسی سرکاری اسکول کے طالب علم کو یکساں مواقع حاصل نہیں ہیں۔ ایسے غیر مساوی حالات میں ایک ہی امتحان کو مساوات کی علامت قرار دینا حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ یکسانیت (Uniformity) ہمیشہ مساوات پیدا نہیں کرتی بلکہ بہت سے مواقع پر پہلے سے موجود عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ نیٹ نے ایک ایسے متوازی تعلیمی نظام کو جنم دیا ہے جس میں اسکول ثانوی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں جبکہ کوچنگ سنٹرز فیصلہ کن ادارے بن گئے ہیں۔
آج لاکھوں والدین اپنے بچوں کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی زمین و جائیداد بیچ کر لاکھوں روپے صرف اسی مقصد سے خرچ کرتے ہیں کہ وہ امتحان دینے کی تکنیک سیکھ سکیں۔ تعلیم کا مقصد علم حاصل کرنا نہیں بلکہ مخصوص طرز کے سوالات حل کرنے کی مہارت حاصل کرنا کر رہ گیا ہے۔ راہل گاندھی نے بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ بہت سے خاندان صرف نیٹ کی تیاری پر اتنی بڑی رقم خرچ کرتے ہیں کہ تعلیم رفتہ رفتہ ایک بنیادی حق کے بجائے ایک مہنگی مسابقتی منڈی (Competitive market place) میں تبدیل ہو گئی ہے۔ یوں جس امتحان کو تعلیم میں مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، اس نے عملاً ایک ایسے نجی کوچنگ نظام کو مضبوط کیا ہے جو وسائل سے محروم طلبا کو مزید پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ نیٹ کا بحران صرف امتحانی بد عنوانی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ حد سے زیادہ مرکزیت کے نقصانات کی عملی مثال ہے۔
انجینئرنگ کی زبان میں ایسے نظام کو غیر محفوظ تصور کیا جاتا ہے جس میں پورا ڈھانچہ ایک ہی نکتے پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر وہ ایک نقطہ ناکام ہو جائے تو پورا نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔ ہندوستان نے تعلیمی میدان میں تقریباً یہی ماڈل یعنی ایک امتحان، ایک ادارہ، ایک سوالیہ پرچہ اور ایک نتیجہ اختیار کیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر پرچہ افشا ہو جائے تو صرف ایک شہر یا ایک ریاست متاثر نہیں ہوتی بلکہ پورے ملک کے لاکھوں طلبا کا تعلیمی کیرئر متاثر ہو جاتا ہے۔
اب تو حالات یہ ہو گئے ہیں کہ سوالیہ پرچوں کی حفاظت کے لیے فضائیہ کے طیاروں کو بھی استعمال کیا جانے لگا ہے۔ حکومت نے اسے اپنی سنجیدگی کی علامت قرار دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک سول امتحانی نظام کو چلانے کے لیے فوجی نوعیت کے حفاظتی انتظامات درکار ہوں تو کیا یہ نظام کی کامیابی ہے یا اس کی اسٹرکچرل کم زوری کا اعتراف؟ اصل مسئلہ مزید نگرانی، مزید سیکیورٹی یا مزید خفیہ اقدامات کا نہیں بلکہ اس پورے ڈھانچے کا ہے جس نے ایک ہی امتحان کو پورے ملک کے تعلیمی مستقبل کا واحد دروازہ بنا دیا ہے۔
نیٹ کا تنازع ہندوستانی وفاقیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ 1976 میں 42ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تعلیم کو ریاستی فہرست سے نکال کر مشترکہ فہرست یعنی کنکرنٹ لسٹ میں شامل کیا گیا تاکہ مرکز اور ریاستیں دونوں قانون سازی کر سکیں۔ لیکن آئین کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ ریاستیں محض مرکزی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے والی یونٹیں بن کر رہ جائیں۔ گزشتہ چند برسوں میں تعلیمی اختیارات مسلسل مرکزیت اختیار کرتے چلے گئے ہیں۔ ریاستیں آج بھی اسکول چلاتی ہیں، اساتذہ بھرتی کرتی ہیں، سرکاری تعلیمی نظام سنبھالتی ہیں اور مقامی تعلیمی مسائل سے نمٹتی ہیں لیکن داخلہ امتحانات، جانچ کے نظام اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق اہم فیصلوں میں ان کا کردار محدود کردیا گیا ہے۔ جنوب کی ریاستیں اور خاص کر تمل ناڈو مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ نیٹ ریاستی بورڈ کے طلبا کے ساتھ نا انصافی کرتا ہے اور سماجی انصاف کی اس پالیسی کو کم زور کرتا ہے جو کئی دہائیوں میں قائم ہوئی۔ کیرالا ار تلنگانہ نے بھی مرکزی اداروں کے بڑھتے ہوئے اختیارات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ان تمام اعتراضات سے مکمل اتفاق کیا جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہندوستان کا تنوع کوئی انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ آئینی حقیقت ہے۔ ایسے ملک میں ہر مسئلے کا یکساں حل ہمیشہ منصفانہ نہیں ہوتا۔
سرکاری اداروں پر اعتماد کم ہونے لگے تو اس خلا کو غیر رسمی ادارے بھرنے لگتے ہیں۔ اسی لیے ہر امتحانی اسکینڈل کے بعد کوچنگ مراکز مزید مضبوط ہوتے ہیں، پرچہ افشا کرانے والے نیٹ ورک سرگرم ہوتے ہیں اور غیر قانونی ذرائع سے کامیابی دلانے والے گروہ وجود میں آتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسکول صرف حاضری کی جگہ بن جاتے ہیں جبکہ مستقبل کا فیصلہ کوچنگ مراکز کرنے لگتے ہیں۔ یہی صورتحال دیگر شعبوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ جب پولیس کم زور ہوتی ہے تو غیر قانونی طاقتیں ابھرتی ہیں، جب سرکاری صحت کا نظام کم زور ہوتا ہے تو غیر منظم طبی مراکز بڑھتے ہیں اور جب تعلیمی اداروں پر اعتماد کم ہوتا ہے تو "شیڈو ایجوکیشن" پورے نظام پر غالب آ جاتی ہے۔
مرکزی حکومت کا کردار ایک آئینی رابطہ کار (Constitutional coordinator) کا ہونا چاہیے، نہ کہ مکمل انتظامی اجارہ داری کا! وہ معیار، وسائل، نگرانی اور ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنائے، جب کہ ریاستوں کو اپنے سماجی، لسانی اور تعلیمی حالات کے مطابق داخلہ پالیسیوں اور امتحانی طریقوں میں مناسب اختیار حاصل ہو۔ اسی کے ساتھ اسکولی تعلیم کو پھر سے ایک بار مرکزی نقطہ (Central point) بنانا ناگزیر ہے۔ جب تک کامیابی کا انحصار کلاس روم سے زیادہ کوچنگ مراکز پر رہے گا، تعلیمی عدم مساوات ختم نہیں ہو سکتی۔
دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ سیاسی احتساب کی ایک مثال ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اگر ادارہ جاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو صرف چہرے بدلیں گے، نظام نہیں۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے آئینی اخلاقیات کی بنیاد اختیارات کی منصفانہ تقسیم، اداروں کے احترام اور گوناگونی (Diversity) کو قرار دیا تھا۔ نیٹ کا بحران ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہی اصول تعلیم کے میدان میں بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ہندوستان واقعی تعلیم کو سماجی مساوات کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے تو اسے "ایک قوم، ایک امتحان" کے نعرے سے آگے بڑھ کر "ایک معیار، متعدد راستے" کے وفاقی ماڈل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
ایک قوم، ایک امتحان کی قیمت

کیا نیٹ بحران محض پیپر لیک ہونے کا معاملہ ہے یا بھارت کے مرکزی تعلیمی ماڈل کی ناکامی؟

