ملکی سیاست میں نظریاتی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلق پر بحث کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن جب کسی تنظیم کے سابق اندرونی فرد کی جانب سے انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات کے ساتھ ایک تفصیلی مکتوب سامنے آتا ہے تو معاملہ محض سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہتا۔ چنانچہ ایسا ہی ایک 17 صفحات پر مشتمل مکتوب سابق آر ایس ایس پرچارک یشونت سداشیو شندے کی جانب سے کرناٹک حکومت کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام تحریر کیا گیا ہے، جس میں آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور بعض اہم شخصیات کے خلاف انتہائی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ مکتوب میں شامل الزامات کو خود مکتوب نگار کے دعوؤں اور مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ یہ الزامات بذاتِ خود کسی عدالتی فیصلے یا سرکاری طور پر ثابت شدہ حقیقت کی حیثیت نہیں رکھتے۔ تاہم، ایک سابق تنظیمی کارکن کی جانب سے اس نوعیت کے دعوؤں کا سامنے آنا سیاسی، قانونی اور سماجی سطح پر کئی اہم سوالات ضرور پیدا کرتا ہے۔
مکتوب کا مرکزی مطالبہ کیا ہے؟
یشونت شندے نے اپنے مکتوب میں آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مکتوب میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، اندریش کمار، ملند پراندے، پرگیا سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہت اور دیگر افراد کے نام بھی سنگین الزامات کے تناظر میں لیے گئے ہیں۔ مکتوب نگار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تنظیمی زندگی اور بطور پرچارک حاصل کردہ تجربات کی بنیاد پر یہ معلومات پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق، انہوں نے تنظیم کی داخلی سرگرمیوں، سیاسی حکمت عملی اور بعض مبینہ منصوبوں کو قریب سے دیکھا ہے۔
تنظیم سے سیاست تک: مکتوب میں پیش کیا گیا تاریخی بیانیہ
مکتوب کا ایک بڑا حصہ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ سیاسی تنظیموں کے تاریخی سفر پر مبنی ہے۔ شندے نے دعویٰ کیا ہے کہ آر ایس ایس کے قیام کا بنیادی مقصد ایک مخصوص نظریاتی اور سماجی تصور کے تحت افراد کی تعمیر تھا لیکن بعد میں اس تنظیم کا سیاسی کردار بڑھتا چلا گیا۔ مکتوب میں بھارتیہ جن سنگھ کے قیام بعد بی جے پی کے ابھرنے اور آر ایس ایس کے ساتھ اس کے نظریاتی و تنظیمی تعلق کا ذکر کیا گیا ہے۔ مکتوب نگار کے مطابق 1984 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو صرف دو نشستیں ملنے کے بعد رام جنم بھومی تحریک اور ہندوتوا کی سیاست نے پارٹی کی سیاسی سمت کو تبدیل کیا اور اس کے بعد بی جے پی کی انتخابی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا۔یہ حصہ بنیادی طور پر ایک بڑے سیاسی سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے: کیا مذہبی شناخت کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کا عمل ہندوستانی سیاست میں ایک طویل المدتی حکمت عملی رہا ہے؟ مکتوب نگار کا جواب واضح طور پر ہاں میں ہے، اگرچہ یہ ان کا ذاتی اور سیاسی طور پر متنازع مؤقف ہے۔
فرقہ وارانہ سیاست اور سیاسی فائدے کا الزام
مکتوب میں رام جنم بھومی تحریک، گجرات کے واقعات، کارگل جنگ، ایٹمی تجربات اور دیگر قومی واقعات کو بھی ایک خاص سیاسی زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ شندے نے بعض واقعات کے بارے میں یہ انتہائی سنگین دعویٰ کیا ہے کہ ان کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
مکتوب میں 2003 کے دوران مبینہ بم سازی کی تربیت اور ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے درمیان تعلق کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ پونے کے قریب مبینہ تربیتی سرگرمیوں، ناندیڑ، پربھنی، پورنا، جالنہ، مالیگاؤں، مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس اور اجمیر شریف سے متعلق واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے مکتوب نگار نے ایک وسیع سازش کا دعویٰ کیا ہے۔ ان تمام دعوؤں کو کسی حتمی عدالتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف بم دھماکوں اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں الگ الگ قانونی کارروائیاں، تحقیقات، چارج شیٹس اور عدالتی فیصلے موجود رہے ہیں۔ اس لیے مکتوب میں پیش کردہ ’’ایک ہی قومی سازش‘‘ کا تصور مکتوب نگار کا دعویٰ ہے جس کی آزادانہ، شفاف اور قانونی سطح پر تصدیق ضروری ہوگی۔
سب سے اہم سوال: کیا سابق کارکن کی گواہی کی تحقیقات ہونی چاہیے؟
اس پورے مکتوب کا شاید سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ اس کے مصنف نے خود کو سابق آر ایس ایس پرچارک اور متعدد معاملات کا گواہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بعض تحقیقات میں گواہ کی حیثیت سے مدد کر سکتے ہیں اور ان کے پاس مختلف معاملات سے متعلق معلومات اور دستاویزات موجود ہیں۔مکتوب میں بعض افراد، تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی ہے۔ ساتھ ہی مصنف نے اپنی جان کو خطرہ ہونے، سرکاری
تحفظ نہ ملنے اور عدالتی و تفتیشی نظام پر بھی سنگین اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ مکتوب نگار کے ہر الزام کو فوراً درست مان لیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خود کو کسی مبینہ مجرمانہ یا پرتشدد سرگرمی کا گواہ قرار دے رہا ہے تو کیا ریاست کو اس کے دعوؤں کی غیر جانب دارانہ جانچ نہیں کرنی چاہیے؟ جمہوریت میں نہ صرف الزام لگانے والے کو سنا جانا چاہیے بلکہ جس کے خلاف الزام لگایا گیا ہے، اسے اپنا موقف پیش کرنے کا پورا حق بھی حاصل ہونا چاہیے۔ یہی قانون اور انصاف کا بنیادی اصول ہے۔
آر ایس ایس اور بی جے پی کے تعلق پر مکتوب نگار کا مؤقف
مکتوب میں آر ایس ایس کو بی جے پی کی نظریاتی اور سیاسی بنیاد قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد اور دیگر تنظیمیں بالآخر بی جے پی کے لیے سیاسی اور انتخابی بنیاد مضبوط کرنے کا کام کرتی ہیں۔ یہ مؤقف ہندوستانی سیاسی مباحث میں برسوں سے موجود ہے، تاہم مکتوب نگار اسے محض نظریاتی تعلق کے بجائے ایک منظم سیاسی ڈھانچے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف سماجی اور مذہبی تنظیموں کے ذریعے مخصوص سیاسی قوت کے لیے ووٹ بینک تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک وسیع تر سیاسی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا نظریاتی تنظیم اور سیاسی جماعت کے درمیان حد ہمیشہ واضح رہتی ہے؟ ہندوستانی سیاست میں یہ بحث صرف آر ایس ایس اور بی جے پی تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کے درمیان تعلق کے حوالے سے بھی اٹھتی رہی ہے۔
دہشت گردی کے معاملات اور انتہائی حساس الزامات
مکتوب کا سب سے حساس حصہ مختلف بم دھماکوں اور دہشت گردی کے مقدمات سے متعلق ہے۔ مصنف نے پورنا، جالنہ، پربھنی، ناندیڑ، مالیگاؤں، مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس اور اجمیر شریف کے واقعات کو ایک مبینہ وسیع سازش کا حصہ قرار دیا ہے اور متعدد افراد کے نام لیے ہیں۔ انہوں نے بعض افراد کو مبینہ منصوبہ ساز، تربیت دینے والا یا دیگر کردار ادا کرنے والا قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان معاملات کی ازسرنو اور جامع تحقیقات کی جائیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سنسنی خیزی کے بجائے صحافتی ذمہ داری سب سے زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ دہشت گردی کے مقدمات میں کسی شخص یا تنظیم کے خلاف الزام، عدالتی ثبوت اور حتمی سزا کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک ذمہ دار جمہوری نظام میں ہر الزام کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے لیکن بغیر عدالتی ثبوت کے کسی کو مجرم قرار دینا بھی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
مکتوب کے پیچھے اصل پیغام
اس پورے مکتوب کا بنیادی پیغام صرف کسی ایک تنظیم یا سیاسی جماعت پر تنقید نہیں ہے۔ یہ ہندوستانی سیاست کے اس پیچیدہ رشتے پر سوال اٹھاتا ہے جہاں نظریہ، مذہب، قوم پرستی، انتخابی سیاست اور ریاستی طاقت ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔
یشونت شندے کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس بعض واقعات سے متعلق معلومات اور دستاویزات موجود ہیں اور وہ تفتیشی ایجنسیوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مکتوب کے ساتھ بعض دستاویزات، عدالتی حلف ناموں اور فارنسک سے متعلق مواد شامل کرنے کا بھی ذکر کیا ہے۔
نتیجہ: الزام نہیں، غیر جانب دارانہ تحقیقات اصل ضرورت
اس مکتوب کو پڑھنے کے بعد سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ اسے محض سیاسی پروپیگنڈا قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے یا پھر اس میں موجود ہر الزام کو بغیر تحقیق سچ مان لیا جائے۔ لیکن ایک ذمہ دار صحافتی اور جمہوری رویہ ان دونوں انتہاؤں سے مختلف ہے۔ اگر کسی سابق تنظیمی کارکن کے پاس واقعی ایسے شواہد ہیں جو کسی سنگین جرم یا قومی سطح کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ان کی آزاد، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ دوسری طرف جن افراد اور تنظیموں کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں انہیں بھی اپنا قانونی اور عوامی موقف پیش کرنے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔
جمہوریت میں سچ کا فیصلہ سیاسی نعروں، جذباتی تقریروں یا سوشل میڈیا کے ذریعے نہیں ہوتا۔ سچ کا راستہ ثبوت، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قانون کی بالادستی سے گزرتا ہے۔ یہ مکتوب دراصل ہندوستانی سیاسی نظام کے سامنے ایک بڑا سوال رکھتا ہے کہ کیا ہم اتنے مضبوط جمہوری ادارے رکھتے ہیں کہ اپنے ہی نظام کے اندر سے اٹھنے والے سنگین سوالات کی بے خوف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کر سکیں؟ یہی سوال اس مکتوب کی اصل اہمیت ہے—اور شاید سب سے بڑا امتحان بھی۔
یشونت شندے کی جانب سے اس مکتوب میں اٹھائے گئے نکات محض نئے دعوے نہیں ہیں بلکہ وہ ماضی میں بھی ناندیڑ بم دھماکہ 2006 کے معاملے میں اپنے مؤقف کو باضابطہ طور پر عدالت کے سامنے رکھ چکے ہیں۔ انہوں نے اس وقت ضلع عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے خود کو اس مقدمے میں گواہ کے طور پر پیش ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔ تاہم، سی بی آئی نے ان کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ تقریباً انیس برس بعد اس طرح سامنے آکر گواہ بننے کا مطالبہ قابلِ قبول نہیں ہے، اور اگر ان کے پاس اس معاملے سے متعلق کوئی اہم معلومات تھیں تو انہیں پہلے ہی تفتیشی ایجنسی کے سامنے پیش کرنا چاہیے تھا۔ عدالت نے بھی سی بی آئی کے اس مؤقف کو قبول کرتے ہوئے یشونت شندے کی سرکاری گواہ بننے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ایسے میں اب، جبکہ کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے آر ایس ایس کی سرگرمیوں کے معاملے میں سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور ریاست میں تنظیم کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کے ساتھ اس کے رجسٹریشن، املاک، کارکنان کی تعداد اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، یشونت شندے کا یہ تازہ مکتوب ایک بار پھر غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ مکتوب میں پیش کیے گئے دعوے اور الزامات، اگرچہ آزادانہ اور قانونی جانچ کے متقاضی ہیں، تاہم یہ دستاویز کرناٹک حکومت کو آر ایس ایس کی پالیسی، تنظیمی ڈھانچے اور سرگرمیوں کو ایک سابق اندرونی فرد کے نقطہ نظر سے سمجھنے کا موقع ضرور فراہم کر سکتی ہے اور ممکن ہے کہ اس کی بنیاد پر ریاستی سطح پر تنظیم کی سرگرمیوں پر مزید گہری اور سخت نگرانی کا دائرہ وسیع ہو۔
یشونت شندے نے اپنے مکتوب میں جن سنگین معاملات اور دعوؤں کا ذکر کیا ہے، ان ہی نکات کو وہ مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر بھی کھلے عام انٹرویوز اور گفتگو کے ذریعے مسلسل بیان کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے تو متعلقہ حکام یا اداروں کی جانب سے ان کے خلاف اب تک کوئی واضح قانونی کارروائی کیوں سامنے نہیں آئی، اور آر ایس ایس و اس سے وابستہ تنظیموں کے خلاف لگائے گئے ان الزامات پر ان کا تفصیلی اور دوٹوک موقف کیا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی مزید اہم ہو جاتا ہے کہ مہاراشٹر کے سابق ڈی جی پی ایس ایم مشرف نے بھی اپنی ایک کتاب میں آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کے بارے میں انتہائی سنگین دعوے اور الزامات پیش کیے تھے اور ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے بم دھماکوں کے تناظر میں ان تنظیموں کے مبینہ کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔ تاہم، ان تمام دعوؤں اور الزامات کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ البتہ یشونت شندے اور ایس ایم مشرف جیسے سابق اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے مسلسل اٹھائے جانے والے یہ سوالات ایک غیر جانب دار، شفاف اور قانونی جانچ کے مطالبے کو ضرور تقویت دیتے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں سنگین الزامات کا جواب خاموشی، سیاسی بیانات یا محض تردید سے نہیں بلکہ حقائق، شواہد اور شفاف تحقیقات کے ذریعے سامنے آنا چاہیے۔
ایک سابق پرچارک کا پریانک کھرگے اور امیت شاہ کے نام تہلکہ خیز مکتوب

یشونت شندے کے مکتوب میں کیا ہے؟ پرانے الزامات اور نئی بحث

