مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کی تجویز، قانونی پیچیدگیوں کے حل کی امید!
انتخابی فہرستوں کی درستگی کے ساتھ حقِ رائے دہی کا تحفظ اور الیکشن کمیشن کی جواب دہی بھی ضروری
ہندوستان میں انتخابی فہرستوں کی تیاری اور نظرثانی جمہوری عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ اہل شہریوں کے نام درج کرنا اور غیر مستحق اندراجات کو خارج کرنا الیکشن کمیشن کی اہم ذمہ داری ہے۔ لیکن جب نظرثانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگیں، پہلے سے رجسٹرڈ ووٹروں کو اپنے نام دوبارہ درج کرانے میں دشواری پیش آئے اور خود کمیشن کے اندر بھی طریقۂ کار پر اختلافات سامنے آئیں تو معاملہ محض انتظامی کارروائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ انتخابی عمل کی شفافیت اور ادارے پر عوامی اعتماد کا سوال بن جاتا ہے۔
اسی تناظر میں مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو فارم-6 میں ترمیم کے لیے مکتوب بھیجنے کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر سے موصولہ معلومات کے مطابق، ریاست کے انتخابی حکام چاہتے ہیں کہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران انتخابی فہرستوں سے خارج ہونے والے دو کروڑ سے زائد سابقہ ووٹروں کو دوبارہ نام درج کرانے کے لیے پہلی مرتبہ ووٹر بننے کا اعلان کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ اس تجویز نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے طریقۂ کار اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی قانونی حیثیت پر جاری بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔
فارم-6 کا تنازع کیا ہے؟
فارم-6 عام طور پر انتخابی فہرست میں پہلی مرتبہ نام درج کرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس فارم میں درخواست گزار کو یہ اعلان کرنا ہوتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ انتخابی فہرست میں اپنا نام شامل کرانے کے لیے درخواست دے رہا ہے اور اس کا نام کسی دوسرے اسمبلی یا پارلیمانی حلقے کی انتخابی فہرست میں شامل نہیں ہے۔لیکن ایس آئی آر کے دوران اگر کسی ایسے شخص کا نام انتخابی فہرست سے خارج ہوجائے جو پہلے سے ووٹر تھا تو اسے دوبارہ نام شامل کرانے کے لیے یہی فارم استعمال کرنے کی ہدایت دی جاسکتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی قانونی اور انتظامی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے: جو شخص پہلے ہی ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ رہ چکا ہو، وہ پہلی مرتبہ رجسٹریشن کا اعلان کیسے کرے؟عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 31 کے تحت انتخابی فہرست سے متعلق جان بوجھ کر غلط اعلان کرنے پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس قانونی شق کے باعث بعض سابقہ ووٹروں میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر وہ فارم میں پہلی مرتبہ رجسٹریشن کا اعلان کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔مہاراشٹر کے انتخابی حکام نے اسی عملی دشواری کی نشاندہی کرتے ہوئے فارم-6 میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز میں فارم کے عنوان سے ’’نئے ووٹر‘‘ کے الفاظ ہٹانے، پہلے سے رجسٹرڈ مگر اب کسی انتخابی فہرست میں شامل نہ ہونے والے افراد کے لیے متبادل اعلان شامل کرنے اور سابقہ ووٹر شناختی کارڈ، یعنی (ای پی آئی سی) نمبر درج کرنے کی سہولت دینے کی بات شامل ہے۔یہ مطالبہ دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ انتخابی فہرست کی درستگی کے لیے اختیار کیا گیا طریقۂ کار بعض حالات میں اہل شہریوں کے دوبارہ اندراج میں خود رکاوٹ بن سکتا ہے۔ تاہم، اس تجویز کی منظوری اور نفاذ الگ معاملہ ہے؛ اسے تاحال نافذ شدہ ترمیم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ایس آئی آر: انتخابی فہرست کی تطہیر یا شہریوں کے لیے نئی دشواریاں؟
الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کا مقصد ووٹروں کے ریکارڈ کی تصدیق، دوہرے اندراجات کی نشان دہی، فوت شدہ افراد کے ناموں کی درستی اور مستقل طور پر نقل مکانی کرنے والے ووٹروں کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ انتخابی عمل کی شفافیت اور درستگی کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں لیکن کسی بھی نظرثانی مہم کی کامیابی محض حذف کیے گئے ناموں یا جانچ کیے گئے اندراجات کی تعداد سے نہیں ناپی جاسکتی۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ کتنے اہل ووٹروں کے نام درست طور پر برقرار رہے، جن کے نام خارج ہوئے انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا کتنا مؤثر موقع ملا اور غلطی کی صورت میں دوبارہ اندراج کا عمل کتنا آسان اور قابلِ اعتماد رہا۔
انتخابی فہرستوں سے نام خارج ہونے کی وجوہات یکساں نہیں ہوتیں۔ فوت شدہ افراد، مستقل طور پر منتقل ہونے والے ووٹروں اور دوہرے اندراجات کے معاملات ایک طرف ہیں، جبکہ دستاویزات کی کمی، ناموں کے ہجوں میں فرق، خاندانی ریکارڈ میں عدم مطابقت یا انتظامی غلطی کے باعث کسی اہل شہری کا نام خارج ہوجانا بالکل مختلف صورتِ حال ہے۔ ان تمام معاملات کو ایک ہی پیمانے سے دیکھنا مناسب نہیں ہے۔ اسی لیے ایس آئی آر جیسے وسیع عمل میں واضح ہدایات، مناسب مہلت، شہریوں کی رہنمائی اور اعتراضات و اپیلوں کا مؤثر نظام ناگزیر ہے۔ اگر نام خارج ہونے کے بعد دوبارہ اندراج کا راستہ بھی پیچیدہ ہو تو انتخابی فہرستوں کی درستگی کی کوشش اہل شہریوں کے لیے نئی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن پر تنقید: سیاسی اعتراضات سے آگے شفافیت اور جواب دہی کا سوال
فارم-6 کا تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ایس آئی آر، انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں، ووٹروں کے ناموں کے اخراج اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر مختلف حلقوں کی تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں، شہری حقوق کے کارکنوں اور بعض سماجی تنظیموں نے نظرثانی کے دوران شفافیت، مناسب نوٹس، دستاویزات کی شرائط اور اپیل کے مؤثر مواقع پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم، سیاسی الزامات، دستاویزی شواہد اور قانونی طور پر ثابت شدہ حقائق میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ تنقید بذاتِ خود کسی الزام کو ثابت نہیں کرتی، لیکن مسلسل اٹھنے والے سوالات کا شفاف جواب دینا کسی بھی آئینی ادارے کی ذمہ داری ہے۔
انڈین ایکسپریس کی ستمبر 2026 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، فارم-6 میں اضافی سوالات شامل کرنے اور متعلقہ فیصلوں کے طریقہ کار پر الیکشن کمیشن کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے تھے۔ اخبار نے رپورٹ کیا کہ دو الیکشن کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بعض فیصلوں پر اعتراض کیا تھا، خصوصاً اس سوال پر کہ قانونی قواعد میں ترمیم کیے بغیر مقررہ فارم میں تبدیلی کرنا کس حد تک درست ہے۔ اس معاملے میں ایک اہم فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے: فارم-6 میں پہلے شامل کیے گئے اضافی سوالات اور سابقہ ووٹروں کے دوبارہ اندراج کے لیے متبادل اعلان کی موجودہ تجویز دو الگ معاملات ہیں، اگرچہ دونوں کا تعلق اسی فارم اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے ہے۔ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے بعد میں بھیجی گئی تجویز نے فارم میں تبدیلی کے قانونی اختیار اور اس کے عملی اثرات سے متعلق بحث کو مزید اہم بنادیا ہے۔
انتخابی عمل پر اعتماد صرف انتخابات کے انعقاد سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ ووٹر لسٹوں کی تیاری سے لے کر ووٹوں کی گنتی تک ہر مرحلے میں شفافیت، یکساں قواعد اور مؤثر جواب دہی ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کی قانونی بنیاد واضح ہو، اختلافات کو ضابطے کے مطابق حل کیا جائے اور شہریوں کو اپنے ناموں کے اخراج کے خلاف مؤثر داد رسی میسر ہو تو انتخابی نظام پر اعتماد مضبوط ہوسکتا ہے۔
فارم-6 میں ترمیم سے تنقید کم ہوسکتی ہے؟
فارم-6 میں مناسب ترمیم سے الیکشن کمیشن پر ہونے والے بعض عملی اعتراضات دور ہوسکتے ہیں، تاہم اس سے تمام اختلافات ختم ہوجائیں گے، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کی تجویز میں تین اہم پہلو شامل ہیں: سابقہ ووٹروں اور پہلی مرتبہ رجسٹریشن کرانے والوں کے لیے الگ الگ اعلانات، سابقہ ووٹر شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) نمبر کے ذریعے پرانے ریکارڈ کی تلاش اور دوبارہ اندراج کے طریقۂ کار کی قانونی وضاحت۔ ان اقدامات سے سابقہ ووٹروں کی الجھن کم کرنے اور درخواستوں کی جانچ میں سہولت پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، شناختی کارڈ نمبر بذاتِ خود اہلیت کا حتمی ثبوت نہیں اور متعلقہ ریکارڈ کی تصدیق ضروری رہے گی۔ اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے قانونی تقاضوں کی پابندی بھی ناگزیر ہے۔ اگر متعلقہ قواعد میں ترمیم ضروری ہو تو اس کے لیے مقررہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔ چیف الیکٹورل آفیسر کا مکتوب مسئلے کی نشان دہی اور ممکنہ حل کی تجویز ہے، بذاتِ خود نافذ شدہ ترمیم نہیں۔ الیکشن کمیشن کو اس کا قانونی بنیادوں پر جائزہ لے کر ضروری کارروائی آگے بڑھانی چاہیے۔ کسی بھی تاخیر کی وجوہات جانے بغیر اسے بدنیتی سے تعبیر کرنا درست نہیں، لیکن واضح عملی مشکلات کے حل میں غیر ضروری تاخیر عوامی شکوک و شبہات کو بڑھا سکتی ہے۔
انتخابی شفافیت کے لیے وسیع تر اصلاحات ضروری
فارم-6 میں ترمیم کے ساتھ انتخابی فہرستوں سے نام خارج کرنے کی وجوہات واضح کرنا، متاثرہ شہریوں کو مناسب نوٹس دینا اور اعتراضات و اپیلوں کے نظام کو مؤثر بنانا بھی ضروری ہے۔ بزرگوں، معذور افراد اور دستاویزات کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنے والوں کے لیے خصوصی رہنمائی فراہم کی جائے، جبکہ آن لائن سہولت کے ساتھ آف لائن درخواستوں کا راستہ بھی برقرار رہے۔ انتخابی فہرستوں کی جانچ میں سیاسی جماعتوں اور دیگر مجاز نمائندوں کو قواعد کے مطابق یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ اسی طرح کتنے نام دوبارہ درج ہوئے، کتنی درخواستیں مسترد ہوئیں اور کتنے اعتراضات زیرِ التوا ہیں، اس بارے میں باقاعدہ اعداد و شمار جاری کیے جائیں۔ اس سے انتخابی عمل کے بارے میں دعووں اور اعتراضات کو قابلِ تصدیق معلومات کی روشنی میں پرکھنا ممکن ہوگا۔
جمہوریت میں ووٹر محض ایک اندراج نہیں
انتخابی فہرست میں نام کا اندراج کسی شہری کے لیے محض سرکاری ریکارڈ کی ایک سطر نہیں بلکہ جمہوری عمل میں اس کی شرکت کی بنیادی شرط ہے۔ غیر مستند، دوہرے اور نااہل اندراجات کی روک تھام جتنی ضروری ہے، اتنا ہی ضروری ہے کہ کسی اہل شہری کا نام انتظامی غلطی یا پیچیدہ طریقہ کار کے باعث خارج نہ ہو اور اگر ایسا ہو تو اسے بروقت اصلاح کا موقع ملے۔ اس لیے انتخابی فہرستوں کی درستگی اور حقِ رائے دہی کا تحفظ ایک دوسرے کے مقابل نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کی تجویز الیکشن کمیشن کے لیے اس عملی مسئلے کا جائزہ لینے کا موقع ہے۔ اگر کمیشن قانونی تقاضوں کے مطابق مناسب اصلاحات کرتا، فیصلوں کی وجوہات واضح کرتا اور شہریوں کی شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام فراہم کرتا ہے تو اس سے اس کی ساکھ پر اٹھنے والے بعض سوالات کا جواب دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، فارم-6 میں تبدیلی کو انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق تمام اعتراضات کا حل نہیں سمجھا جاسکتا۔ کسی آئینی ادارے پر اعتماد محض تنقید کی عدم موجودگی سے نہیں، بلکہ اس کی شفافیت، قانونی پابندی اور جائز سوالات کے جواب دینے کی آمادگی سے قائم ہوتا ہے۔ آزاد اور منصفانہ انتخابات کا اعتماد ووٹنگ کے دن سے بہت پہلے، اس یقین سے شروع ہوتا ہے کہ ہر اہل شہری کا نام انتخابی فہرست میں درست طور پر درج ہوگا اور کسی غلطی کی صورت میں اسے انصاف حاصل کرنے کا حقیقی موقع ملے گا۔
ایس آئی آر میں حذف شدہ ووٹروں کی واپسی مشکل کیوں؟ فارم۔6میں ترمیم کا مطالبہ

سابقہ ووٹروں کو دوبارہ اندراج کے لیے پہلی بار ووٹر ہونے کا اعلان کیوں کرنا چاہیے؟

