آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے متضاد دعوے۔ امریکی جانی نقصان کے چشم کشا اعداد و شمار
خلیج میں جاری جنگ نے خطے کی سیاسی حرکیات، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سفارت کاری کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عسکری محاذ پر مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعد واشنگٹن نے اب ایران کے خلاف معاشی دباؤ کو فیصلہ کن ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اقتصادی محاذ وہ کامیابی لا سکے گا جو جنگی کارروائیاں نہ لا سکیں؟ اور اگر نہیں تو اس تنازعے کا اگلا باب کیا ہوگا؟
معاشی محاذ کا آغاز، "Economic D-Day"
صدر ٹرمپ نے بمباری اور میزائل حملوں کے محدود اثرات کے بعد ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ تہران کے خلاف "Economic D-Day" کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے تاریخ کی ’’سب سے تباہ کن معاشی کارروائی‘‘ کی دھمکی دی اور کہا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک بھی ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ کے لیے تیار رہیں۔ امریکی صدر نے ایرانی تیل کی اسمگلنگ، مالیاتی ترسیلات، ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹری اور فرنٹ کمپنیوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ اگرچہ پابندیوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، مگر ان کے لب و لہجے سے واضح ہے کہ اب ہدف ایران کے ساتھ کھڑے رہنے والے ممالک بھی ہیں۔
عالمی مالیاتی نظام سے ایران کی ممکنہ تنہائی
ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے کاٹنا پہلے بھی امریکی پالیسی کا حصہ رہا ہے، مگر اس بار صورتِ حال مختلف ہے۔ چھ ماہ طویل جنگ، آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈی پر پڑنے والے اثرات نے کئی ممالک کے مفادات کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کو اپنے دباؤ کے سب سے طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کے فوراً بعد خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں، جبکہ امریکی بازارِ حصص میں بھی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ اگر ایران کو مکمل معاشی تنہائی میں دھکیلنے کی کوشش عالمی تیل کی رسد، جہاز رانی اور مہنگائی کو متاثر کرتی ہے تو امریکی اتحادیوں کے لیے اس قیمت کو طویل عرصے تک برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
حکمتِ عملی کی اُلٹی ترتیب
بین الاقوامی تنازعات میں دباؤ عموماً بتدریج بڑھایا جاتا ہے۔ پہلے مذاکرات، پھر سفارتی دباؤ، معاشی پابندیاں اور آخر میں فوجی طاقت۔ مگر ایران کے معاملے میں ترتیب الٹ گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے پہلے فوجی طاقت استعمال کی، چھ ماہ جنگ جاری رہی، مگر ایران واشنگٹن کی شرائط ماننے پر آمادہ نہ ہوا۔ اب جنگ کے بعد معاشی محاذ کھولا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عسکری قوت سے مقصد حاصل نہیں ہوا تو کیا معاشی طاقت وہ نتیجہ دے سکے گی؟ اور اگر نہیں تو واشنگٹن کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ مزید پابندیاں، مزید جنگ یا بالآخر مذاکرات؟
آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعوے
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری نقشے میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پورے خطے پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔ ایران نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل حسین نوش آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کا اختیار ایران کے پاس ہے اور امریکی دعوے دراصل ایران کے اقدامات کے ردِعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکہ کا ساتھ دینے والے ممالک کو جوابی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔
امریکہ کا بھاری جانی نقصان
ایران سے جنگ میں امریکی جانی نقصان کے نئے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق 21 اگست تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 756 زخمی ہو چکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ زخمیوں کی تعداد میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایک ہی دن میں 59 نئے زخمی فوجی ریکارڈ میں شامل ہوئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں یہ تعداد 757 بتائی گئی تھی جو اندراج میں تاخیر کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
امریکی معیشت کا بوجھ — قرض کی نئی بلند ترین سطح
دوسری طرف امریکی معیشت بھی دباؤ میں ہے۔ امریکی قومی قرض نے گزشتہ روز پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کر لی۔ مگر اصل حیرت اس ہندسے سے زیادہ اس رفتار پر ہے جس سے یہ قرض بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں امریکی قرض 38 ٹریلین ڈالر تھا، جو اس سال مارچ میں بڑھ کر 39 ٹریلین ڈالر ہو گیا اور اب 40 ٹریلین کے نشان سے اوپر چلا گیا، یعنی تقریباً ہر پانچ ماہ میں مزید ایک ہزار ارب ڈالر کا نیا قرض۔ اگر گزشتہ دس ماہ کی اوسط نکالی جائے تو امریکی وفاقی قرض میں روزانہ تقریباً 6.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت امریکہ سود کی مد میں 2.85 ارب ڈالر یومیہ خرچ کر رہا ہے۔
جنگ کے ممکنہ تزویراتی اثرات
ایران کے خلاف کامیابی کے دعوؤں کے باوجود جنگ کے ممکنہ تزویراتی نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹاگون اور امریکی مرکزی کمان خلیج میں فوجی موجودگی پر نظرِثانی کر رہے ہیں۔ ایران کے حملوں سے متعدد امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد واشنگٹن اس امکان پر غور کر رہا ہے کہ بعض تنصیبات کو دوبارہ تعمیر نہ کیا جائے اور فوج کے کچھ حصے کو اردن یا اسرائیل کے قریب منتقل کر دیا جائے۔ اگرچہ یہ پسپائی نہیں بلکہ عسکری نقشِ پا کی جغرافیائی تبدیلی ہوگی، مگر بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق جنگ نے امریکہ کو خلیج میں اپنی حکمتِ عملی ازسرِنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے، یعنی جنگ ایران کو کمزور کرنے کے بجائے خطے میں امریکی طاقت کے اندازِ موجودگی کو تبدیل کر رہی ہے۔
مذاکرات کی کوششیں - عسکری و معاشی دباؤ کے ساتھ سفارت کاری
صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کو ’’طلائی گولیوں‘‘ سے لڑنے کی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی اور امریکی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ گزشتہ ہفتے سید عباس عراقچی سے ان کی فون پر گفتگو کو ایرانی وزارتِ خارجہ نے ’’مثبت اور حوصلہ افزا‘‘ قرار دیا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش اب عسکری، معاشی اور سفارتی، تینوں محاذوں پر بیک وقت لڑی جا رہی ہے۔ معاشی D-Day اس تنازعے کا نیا باب ہے، مگر اس کے نتائج کا انحصار صرف پابندیوں کی شدت پر نہیں بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، علاقائی سیاست اور دونوں ممالک کی داخلی قوتِ برداشت پر بھی ہے۔ اگر معاشی دباؤ بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو واشنگٹن کو ایک بار پھر فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس تنازعے کا حل مزید طاقت میں ہے یا مذاکرات کی میز؟


