تیرہ راتوں سے جاری کشیدگی میں 25 جولائی کا وقفہ بہت مختصر ثابت ہوا اور 28 جولائی کی صبح اردن کے الازرق فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ میزائل حملے سے خلیجِ فارس کا میدان دوبارہ گرم ہو اٹھا۔ تہران نے حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس اڈے سے ایران پر حملے کے لیے امریکی F-35 طیارے اڑان بھرنے والے تھے، جنہیں ایرانی میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا دعویٰ ہے کہ میزائل حملے میں تین امریکی F-35 طیارے تباہ، مزید تین شدید متاثر ہوئے، اور متعدد امریکی فوجی مارے گئے۔ تاہم امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ کوئی امریکی طیارہ تباہ ہوا، نہ ہی اسے نقصان پہنچا بلکہ ایرانی حملہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اگلے روز امریکہ نے ایران میں ایک درجن سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جس سے دونوں جانب کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
نیتن یاہو کا دورہ امریکہ: رسومات کے ساتھ خفیہ سفارت کاری
اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکہ کے دورے پر تھے۔ ان کی امریکہ یاترا کا مقصد سینیٹر لنڈسے گراہم کی آخری رسومات میں شرکت تھا مگر اس موقع پر انہوں نے امریکی صدر، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران کا معاملہ سرِفہرست رہا جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
دمیاط بندرگاہ پر حملہ: نہرِ سوئز تک جنگ پھیلنے کا خدشہ
کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب 28 جولائی کو دمیاط (Damietta) کی مصری بندرگاہ پر گیس ذخیرہ کرنے والے دو جہاز ڈرون حملوں کا نشانہ بن گئے۔ امریکی حلقوں کے مطابق یہ ڈرون ایران یا اس کے حوثی اتحادیوں نے داغے تھے جب کہ تہران نے اسے اسرائیل کی خفیہ یا فالس فلیگ (False Flag) کارروائی قرار دیا۔ دمیاط وہ بندرگاہ ہے جہاں سے خلیجی تیل اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ نہرِ سوئز کے ذریعے یورپ پہنچتا ہے۔ نہرِ سوئز دنیا کی 10 سے 12 فیصد سمندری تجارت کا اہم راستہ ہے۔ اس حملے نے یہ خدشہ پیدا کر دیا کہ ایران اور اس کے اتحادی جنگ کا دائرہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے آگے بڑھا کر نہرِ سوئز تک لے جانا چاہتے ہیں۔ اسی دوران سعودی بمباری کے جواب میں حوثیوں نے ابقیق میں ارامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خلیجی توانائی کا پورا نظام لرز اٹھا۔
سعودی–عراق تناؤ اور علاقائی ثالثی کی ناکامی
دوسرے دن امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کی الحشد الشعبی (PMU) ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملے کیے جن میں 20 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس حملے نے سعودی عرب اور عراق کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے سعودی ولی عہد سے اپنی ملاقات احتجاجاً منسوخ کر دی جو ایک دن بعد جدہ میں طے تھی۔ چند روز پہلے تک عراقی وزیر اعظم امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہے تھے اور نیویارک ٹائمز کے مطابق عارضی جنگ بندی کی امریکی تجویز وہ خود تہران پہنچا چکے تھے۔ ان حملوں کے بعد یہ کوششیں بری طرح متاثر ہوئیں۔
واشنگٹن کی دھمکیاں اور ممکنہ مشترکہ حملے کی خبریں
کشیدگی کے اس ماحول میں واشنگٹن سے آنے والی خبریں انتہائی تشویشناک تھیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا کہ ایران کو اردن کے امریکی اڈے پر حملے کی بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ صدر نے اپنے جرنیلوں کو شدید بمباری کی نئی مہم کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ ادھر CBS نے یروشلم سے خبر دی کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی توانائی کی تنصیبات پر مشترکہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور یہ کارروائی یکم اگست کی صبح شروع ہو سکتی ہے۔ اسی روز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو انخلا کی تیاری کی ہدایت جاری کر دی جس سے ان اطلاعات کی سنجیدگی مزید بڑھ گئی۔
پاکستان کی ثالثی اور سفارت کاری کو ایک اور موقع
اسی دوران 28 جولائی کو پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ حملوں اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان کی ثالثی میں بات چیت جاری ہے اور بعض امور پر مثبت پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ اگرچہ کئی تجزیہ نگاروں نے اسے پاکستان کا روایتی پرامید مؤقف قرار دیا، لیکن یکم اگست کی شام صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی امید پر انہوں نے مجوزہ حملہ روک دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج Locked & Loaded تھی، مگر وہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔
سفارت کاری کو موقع دینا قابلِ تحسین ہے لیکن اگر مذاکرات ہی مطلوب ہیں تو وقتاً فوقتاً سخت دھمکیاں اور "تباہ کر دینے" جیسے بیانات کس مقصد کی تکمیل کرتے ہیں؟ مہذب دنیا تمام فریقوں سے تحمل، شائستگی اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو کی توقع رکھتی ہے۔
مذاکرات کا ایک نیا دور، تشریحات میں ابہام اور سعودی کردار
اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے بعد واشنگٹن واپسی پر صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ تنازع کا سفارتی حل ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 3 اگست کو شروع ہوگا۔ انہوں نے پراعتماد لہجے میں کہا کہ ایران 60 دن کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں کسی بھی عملی پیش رفت سے پہلے "یادداشتِ اسلام آباد" پر عمل درآمد کا آغاز ہونا چاہیے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی حملوں کے التوا کی وجوہات پر بھی دونوں دارالحکومتوں کی تشریحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے سفارت کاری کو ایک موقع دینے کی درخواست پر حملے عین وقت پر ملتوی کیے گئے۔ اس کے برعکس ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔ دوسری طرف مغربی صحافتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست دراصل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی تھی۔ سعودی قیادت کو خدشہ تھا کہ اگر ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ ہوا تو جوابی کارروائی میں خطے کی تیل و گیس کی تنصیبات نشانہ بن سکتی ہیں۔
جنگی معیشت: تیل کمپنیوں اور اسلحہ ساز اداروں کے غیر معمولی منافع
بد قسمتی سے یہ خون ریزی بعض اداروں کے لیے غیر معمولی یک بارگی (Windfall Profit) کا سبب بھی بن رہی ہے۔ اس جنگ اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے بڑا فائدہ عالمی تیل کمپنیوں کو ہوا۔ صرف تین بڑی مغربی کمپنیاں Shell، ExxonMobil اور Chevron گزشتہ سہ ماہی میں مجموعی طور پر تقریباً 39 ارب ڈالر منافع کما چکی ہیں جو یومیہ تقریباً 40 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔ اس کے برعکس دنیا بھر کے صارفین نے مہنگے ایندھن، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور نقل و حمل کے اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کیا ہے۔
دل چسپ بلکہ کسی حد تک ستم ظریفی یہ ہے کہ اس غیر معمولی منافع کو تیل و گیس کے نئے وسائل کی تلاش، پیداوار میں اضافے یا بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری پر خرچ کرنے کے بجائے، شیئر بائی بیک اور حصص یافتگان کو زیادہ ادائیگی ان اداروں کی ترجیح رہی ہے۔
اسی طرح اسلحہ ساز اداروں کے لیے بھی نئے دروازے کھل گئے ہیں۔ امریکی حکومت، جہاں ضعیف افراد کے صحت بیمے (Medicare) کے لیے مختص رقم میں کٹوتی کر رہی ہے، وہیں وزارتِ دفاع نے Lockheed Martin کو پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائل اور ڈرون شکن انٹرسیپٹرز (Interceptors) کی فراہمی کے لیے 58 ارب 60 کروڑ ڈالر کے نئے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
جنگ کا ٹل جانا خوش آئند ہے لیکن امن کے لیے صرف انگلیاں لبلبی سے ہٹانا کافی نہیں، زبان کی توپیں خاموش کرنا بھی ضروری ہے۔ طاقت کا اصل اظہار جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں ہے۔ اب بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات، معاہدوں کی پاسداری اور باہمی اعتماد ہی تاریخ کا رخ متعین کریں گے۔
ایران، امریکہ اور خلیج: جنگ کے سائے میں سفارت کاری

مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشمکش، امن، تیل اور اسلحہ کی سیاست

