نئی نسل کو صرف جلسوں میں ’’ ملک کا مستقبل‘‘ کہنے سے مستقبل نہیں بنتا۔ مستقبل کو جگہ دینی پڑتی ہے
پندرہ اگست کی صبح جب ترنگا ہوا میں لہراتا ہے تو ایک لمحے کے لیے پورا ملک اپنی تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہے۔ کہیں اسکول کے صحن میں ننھے ہاتھ پرچم کو سلامی دے رہے ہوتے ہیں، کہیں کسی بزرگ کی آنکھوں میں گزرے ہوئے زمانے کی دھند اتر آتی ہے، کہیں قومی ترانے کی آواز میں ایک پوری نسل اپنے ماضی سے رشتہ جوڑ رہی ہوتی ہے۔ بازاروں میں سبز، سفید اور زعفرانی رنگ بکھر جاتے ہیں اور سڑکوں پر دوڑتے ہوئے بچے شاید ابھی یہ نہیں جانتے کہ جس پرچم کو وہ ہاتھ میں اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے پیچھے کتنی نسلوں کے خواب، قربانیاں اور انتظار دفن ہیں۔ آزادی کا دن اسی لیے محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں؛ یہ ایک قوم کی اجتماعی یادداشت کا دن ہے۔ مگر ہر یاد اگر صرف ماضی کو جگائے اور حال کی آواز نہ سن سکے تو وہ آہستہ آہستہ رسم بن جاتی ہے۔ پندرہ اگست ہمیں ماضی کی طرف ضرور لے جاتا ہے، لیکن شاید اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ ہمیں آج کے ہندوستان کے چہرے کو دیکھنے کا موقع بھی دیتا ہے۔ خاص طور پر اس نوجوان کے چہرے کو، جو ایک آزاد ملک میں پیدا ہوا ہے مگر جس کی زبان پر کبھی کبھی پھر بھی آزادی کی پکار سنائی دیتی ہے۔
یہ ایک عجیب سا منظر ہے۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہندوستان آزاد ہے، دوسری طرف اسی ملک کی سڑکوں، یونیورسٹیوں، جلسوں، سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی گفتگو میں ’’آزادی‘‘ کا لفظ بار بار سنائی دیتا ہے۔ بظاہر اس میں تضاد ہے، مگر شاید یہی تضاد ہمارے عہد کی ایک اہم حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے۔ 1947 میں آزادی کا مطلب واضح تھا۔ ایک غیر ملکی اقتدار تھا، ایک محکوم قوم تھی اور ایک سیاسی غلامی تھی جس سے نجات حاصل کرنا مقصود تھا۔ اس وقت آزادی کا دشمن باہر تھا، اس کا چہرہ پہچانا جاسکتا تھا اور اس کے خلاف جدوجہد کا مقصد بھی واضح تھا۔ آج کا نوجوان غلامی کی وہ شکل جانتا ہی نہیں جس کے خلاف اس کے بزرگوں نے جدوجہد کی تھی۔ اس نے انگریز کی حکومت نہیں دیکھی، اس نے آزادی سے پہلے کا ہندوستان نہیں دیکھا، اس نے وہ ہندوستان نہیں دیکھا جہاں اپنے ملک کے فیصلے اپنے ہاتھ میں نہیں تھے۔ پھر اس کی پکار میں ’’آزادی‘‘ کا لفظ کہاں سے آتا ہے۔؟ شاید اس سوال کا جواب تاریخ کی کتاب میں نہیں، آج کی زندگی میں چھپا ہوا ہے۔
آزادی ایک تاریخی حقیقت ضرور ہے، مگر صرف تاریخی حقیقت نہیں۔ یہ ایک احساس بھی ہے۔ ایک انسان قانونی طور پر آزاد ہوسکتا ہے، مگر اپنی زندگی میں بے اختیاری محسوس کرسکتا ہے۔ اس کے پاس بولنے کا حق ہوسکتا ہے، مگر اسے یہ یقین نہ ہو کہ کوئی اس کی بات سننے والا بھی ہے۔ اس کے پاس تعلیم ہو، مگر مستقبل غیر یقینی ہو۔ اس کے پاس خواب ہوں، مگر ان خوابوں تک پہنچنے کا راستہ دھندلا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایک آزاد ملک میں بھی آزادی کا سوال زندہ رہ سکتا ہے۔
یہاں آج کے نوجوان کو سمجھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ 1947 کے نوجوان کے سامنے آزادی کا مطلب تھا: ’’اپنے ملک پر اپنا اختیار۔‘‘ آج کے نوجوان کے سامنے آزادی کا مطلب کچھ وسیع ہوگیا ہے۔ وہ اپنے ملک کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی زندگی کی آزادی کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی قابلیت کو راستہ ملے، اس کی محنت کا کوئی نتیجہ نکلے، اس کے خواب صرف خواب نہ رہیں، اسے اپنی شناخت کے ساتھ جینے کی گنجائش ملے اور اس کے مستقبل کے فیصلوں میں اس کی اپنی آواز بھی شامل ہو۔ وہ شاید کسی غیر ملکی حکم راں سے آزادی نہیں مانگ رہا؛ وہ اپنی زندگی کے امکانات کو تنگ کرنے والی رکاوٹوں سے آزادی چاہتا ہے۔
اس تبدیلی کو سمجھے بغیر نوجوانوں کی بے چینی کو سمجھنا مشکل ہے۔
آج کا نوجوان ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جہاں دنیا اس کی جیب میں ہے۔ موبائل کی چھوٹی سی اسکرین پر وہ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں کو دیکھتا ہے، جدید ٹیکنالوجی کو دیکھتا ہے، نئی صنعتوں کو دیکھتا ہے، کامیاب نوجوانوں کو دیکھتا ہے، مختلف معاشروں کی زندگی دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دنیا کہاں پہنچ چکی ہے۔ اس کے خواب اس کے شہر کی حدود تک محدود نہیں رہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس نے اپنے سامنے مقابلہ بھی پہلے سے کہیں زیادہ دیکھا ہے۔ تعلیم مہنگی ہے، مقابلہ سخت ہے، روزگار کا راستہ آسان نہیں، کامیابی کے معیار بدل رہے ہیں اور ہر طرف دوسروں کی کامیابی کی تصویریں موجود ہیں۔
اس صورتِ حال میں نوجوان کے اندر ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ محروم بھی نہیں ہونا چاہتا اور انتظار بھی نہیں کرنا چاہتا۔ وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے، مگر اسے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ آگے بڑھنے کے راستے پہلے جیسے سیدھے نہیں رہے۔ ایک طرف دنیا اسے کہتی ہے کہ تم کچھ بھی بن سکتے ہو، دوسری طرف زندگی اسے بتاتی ہے کہ ہر خواب کی اپنی قیمت ہے۔ یہی فاصلہ کبھی امید پیدا کرتا ہے اور کبھی بے چینی۔
اس بے چینی کو صرف ’’نوجوانوں کا غصہ‘‘ کہہ دینا آسان ہے، لیکن مسئلہ اس سے بڑا ہے۔ نوجوان جب اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتا ہے تو اس کے اندر سوالات اٹھتے ہیں۔ اگر محنت کے باوجود راستہ واضح نہ ہو تو مایوسی بڑھتی ہے۔ اگر وہ بار بار دوسروں کو آگے بڑھتے دیکھے اور خود کو ایک ہی جگہ کھڑا پائے تو احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ اگر اسے لگے کہ اس کی بات سننے والا کوئی نہیں تو احتجاج کی خواہش پیدا ہوسکتی ہے۔ اور اگر اس بے چینی کو کوئی تعمیری راستہ نہ ملے تو یہی احساس نعرے کی صورت میں باہر آسکتا ہے۔
اس لیے ’’آزادی‘‘ کا نعرہ ہمیشہ صرف سیاسی نعرہ نہیں ہوتا۔ کبھی اس میں روزگار کی فکر چھپی ہوتی ہے، کبھی عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش، کبھی اظہار کی طلب، کبھی شناخت کا سوال اور کبھی مستقبل کے بارے میں یقین کی تلاش۔ نعرہ ایک ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی زندگیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ نوجوان کی آواز سننے کے لیے اس کے لفظوں سے آگے اس کی کیفیت کو سمجھنا ضروری ہے۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ نوجوانوں کی ہر بے چینی کو درست اور ہر مطالبے کو جائز سمجھ لینا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر ذمہ داری سے آزاد ہوجائے۔ یہ بھی آزادی نہیں کہ جو بات مجھے پسند نہ آئے اسے جبر کہہ دوں، جو نصیحت مجھے اچھی نہ لگے اسے اپنی آزادی پر حملہ سمجھوں اور جو خواہش پوری نہ ہو اسے ناانصافی کا نام دے دوں۔ انسان اگر اپنی خواہشات کا غلام بن جائے تو بظاہر بہت آزاد نظر آتے ہوئے بھی اندر سے آزاد نہیں رہتا۔
یہاں ہمارے تعلیمی اور معاشرتی نظام کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔ ہم نوجوان کو سوال کرنے کی دعوت دیتے ہیں، مگر اس کے سوال سننے کے لیے ہمیشہ تیار نہیں ہوتے۔ ہم اسے خود اعتمادی کا درس دیتے ہیں، مگر اس کی غلطی کو برداشت نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں کہ نئی نسل کو آگے آنا چاہیے، مگر جب وہ اپنے انداز سے کچھ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے فوراً ناتجربہ کار قرار دے دیتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان دنیا کا مقابلہ کرے، مگر اسے وہ ماحول نہیں دیتے جس میں وہ اپنی صلاحیت آزما سکے۔
نوجوان اس تضاد کو بہت جلد محسوس کرلیتا ہے۔ وہ تقریروں سے زیادہ رویوں کو پڑھتا ہے۔ اسے جو کہا جاتا ہے، وہ سنتا ضرور ہے، مگر جو کچھ وہ اپنے اردگرد دیکھتا ہے، اس سے زیادہ سیکھتا ہے۔ اگر ہم اسے ایمانداری کا سبق دیں اور وہ زندگی میں بے ایمانی کو کامیاب ہوتے دیکھے، اگر ہم اسے میرٹ کی اہمیت بتائیں اور وہ سفارش کو راستہ بناتے دیکھے، اگر ہم اسے برداشت سکھائیں اور ہم خود اختلاف پر مشتعل ہوجائیں، تو اس کے اندر الفاظ اور حقیقت کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہوگا۔ یہی فاصلہ آہستہ آہستہ اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
کسی بھی ملک کے لیے نوجوانوں کا اعتماد معمولی چیز نہیں ہوتا۔ ایک نوجوان اپنے ملک سے صرف اس لیے جڑا نہیں رہتا کہ اسے تاریخ پڑھائی گئی ہے۔ وہ اس لیے بھی جڑا رہتا ہے کہ اسے اپنے مستقبل میں اس ملک کی جگہ نظر آتی ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہاں رہ کر وہ کچھ بن سکتا ہے، کچھ کرسکتا ہے، کچھ بدل سکتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کی محنت بے معنی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے وطن صرف ماضی کی یاد نہیں رہتا، مستقبل کی امید بھی بن جاتا ہے۔
یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ جہاں آزادی کا سوال معاشی اور تعلیمی سوال بن جاتا ہے۔ ایک آزاد ملک کی نئی نسل اگر علم حاصل کرنے، ہنر سیکھنے، تحقیق کرنے، کاروبار کرنے اور اپنی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے مواقع پاتی ہے تو آزادی اس کے لیے ایک زندہ تجربہ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر نوجوان کے خواب بار بار مواقع کی کمی سے ٹکرا جائیں تو اس کے دل میں ایک عجیب سا فاصلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ وہ ملک کو برا نہیں سمجھتا، مگر اپنے مستقبل کے بارے میں مطمئن بھی نہیں ہوتا۔ یہ کیفیت کسی بھی قومی معاشرے کے لیے سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔
ہمیں اس مقام پر نوجوانوں کو صرف شکایت کرنے سے بھی آگے لے جانا ہوگا۔ دنیا بدل رہی ہے اور بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، تحقیق، نئی صنعتیں، سائنس اور عالمی رابطے مستقبل کی دنیا کی شکل بدل رہے ہیں۔ آنے والے زمانے میں وہی نوجوان آگے بڑھے گا جو صرف حالات کا شکوہ نہیں کرے گا بلکہ اپنی صلاحیت کو نئے زمانے کی ضرورت سے جوڑے گا۔ آزادی کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اپنی صلاحیت کو بے کار پڑے رہنے سے آزاد کرے۔ اپنے وقت کو، اپنی توجہ کو، اپنی ذہانت کو اور اپنی محنت کو کسی مقصد کے لیے استعمال کرے۔ لیکن اس کے لیے معاشرے کو بھی اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ نوجوانوں کو صرف جلسوں میں ’’ملک کا مستقبل‘‘ کہنے سے مستقبل نہیں بنتا۔ مستقبل کو جگہ دینی پڑتی ہے۔ انہیں تعلیم میں جگہ چاہیے، تحقیق میں جگہ چاہیے، کاروبار میں جگہ چاہیے، تخلیق میں جگہ چاہیے اور قومی گفتگو میں بھی جگہ چاہیے۔ ان کی بات اس وقت ہی نہیں سننی چاہیے جب وہ شور بن جائے؛ اس وقت بھی سننی چاہیے جب وہ خاموشی سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔
احتجاج نظر آجاتا ہے، مایوسی اکثر نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کے نعروں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان کے پیچھے چھپی کیفیت کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ ہر نعرہ درست نہیں ہوتا، لیکن ہر نعرے کو بے معنی سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ ایک سمجھ دار معاشرہ نوجوان کی آواز سنتا ہے، اس کے مطالبات کو پرکھتا ہے، درست بات کو قبول کرتا ہے، غلط بات کو دلیل سے رد کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود وہ اس معاشرے کا حصہ ہے۔ یہی جمہوری بلوغت ہے۔ آزادی کا حسن بھی یہی ہے کہ انسان اختلاف کرسکے اور پھر بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکے۔ اتنے بڑے اور متنوع ملک میں آزادی صرف فرد کے بولنے کا حق نہیں؛ دوسروں کو سننے کا حوصلہ بھی ہے۔ اپنی شناخت سے محبت کے ساتھ دوسروں کی شناخت کا احترام بھی ہے۔ اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کا خیال بھی ہے۔ اگر آزادی صرف ’’میں‘‘ بن جائے تو معاشرہ ٹوٹنے لگتا ہے؛ جب اس میں ’’ہم‘‘ شامل ہوجائے تو آزادی اجتماعی قوت بن جاتی ہے۔
اسلامی تصورِ آزادی بھی انسان کو اسی توازن کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان باوقار ہے، اسے اختیار حاصل ہے، مگر وہ اپنے اختیار کے نتائج سے بے نیاز نہیں۔ آزادی خواہشات کی بے لگامی کا نام نہیں، بلکہ شعور کے ساتھ اختیار استعمال کرنے کا نام ہے۔ قرآن انسان کو عزت دیتا ہے، اسے ذمہ داری دیتا ہے اور اسے ظلم و جبر سے نکل کر عدل اور خیر کی طرف بڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے حقیقی آزادی صرف یہ نہیں کہ کوئی دوسرا ہمیں مجبور نہ کرے؛ یہ بھی ہے کہ ہم خود اپنی جہالت، خوف، تعصب، سستی اور بے مقصدیت کے اسیر نہ بنیں۔
پندرہ اگست اسی لیے ہمارے لیے صرف جشن کا دن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اپنے حال کو دیکھنے کا دن بھی ہے۔ ہم نے انگریز سے آزادی حاصل کی، یہ ہماری تاریخ کی عظیم کامیابی ہے۔ لیکن ہر نسل کو آزادی کا اگلا مفہوم تلاش کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے سیاسی آزادی کے لیے جدوجہد کی؛ ہماری نسل کو علمی، معاشی، اخلاقی اور فکری قوت پیدا کرنی ہے۔ اور نئی نسل کو ایک ایسا ہندوستان دینا ہے جہاں اسے اپنے خوابوں کے لیے بار بار یہ نہ سوچنا پڑے کہ آزادی آخر کہاں ہے۔ شاید آج کے نوجوان کی پکار کا اصل مفہوم بھی یہی ہے۔ وہ کسی پرانے زمانے کی غلامی سے آزادی نہیں مانگ رہا۔ وہ ایک ایسے مستقبل کی تلاش میں ہے جس میں اس کی زندگی کا راستہ کچھ زیادہ روشن ہو، اس کی محنت کا اعتبار کچھ زیادہ مضبوط ہو، اس کی آواز کچھ زیادہ سنی جائے اور اس کے خوابوں کے لیے کچھ زیادہ جگہ ہو۔ اس پکار کو سننا ہوگا۔ مگر صرف نوجوان کو نہیں، خود کو بھی۔
کیوں کہ آزادی کی سب سے بڑی آزمائش یہ نہیں کہ ہم نے غلامی سے نجات حاصل کرلی؛ اصل آزمائش یہ ہے کہ ہم نے آزادی کے ساتھ کیا کیا۔ کیا ہم نے اسے صرف جشن بنا دیا یا اسے ایک ایسی زندگی میں ڈھالا جس میں انسان اپنے آپ کو باوقار، محفوظ اور بااختیار محسوس کرسکے؟
پندرہ اگست کی صبح جب پھر ترنگا آسمان میں بلند ہوگا تو ہمیں اپنے ماضی پر فخر ضرور کرنا چاہیے۔ مگر ایک لمحے کے لیے اپنی نظریں اس پرچم سے ہٹا کر نئی نسل کے چہروں پر بھی ڈالنی چاہییں۔ ان چہروں میں مستقبل لکھا ہے۔ کہیں امید ہے، کہیں بے چینی، کہیں خواب، کہیں شکایت اور کہیں ایک ایسی پکار جسے ابھی پوری طرح سنا نہیں گیا۔
ملک آزاد ہے۔ آزادی محفوظ بھی رہے گی۔ لیکن آزادی کا احساس ہر نسل کو خود اپنے عمل سے پیدا کرنا ہوگا۔ اور شاید بحیثیت شہری ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ آنے والی نسل جب ترنگے کو دیکھے تو اسے صرف یہ نہ محسوس ہو کہ یہ ایک آزاد ملک کا پرچم ہے؛ اسے یہ بھی محسوس ہو کہ اس پرچم کے سائے میں اس کے اپنے خواب بھی آزاد ہیں۔
آزاد ملک، آزادی کا احساس اور نوجوانوں کی پکار

آزادی اوراحساس آزادی کے درمیان نوجوانوں کی نفسیات سمجھنا ضروری ہے

