قانون اگر اندھا ہو جائے تو عدلیہ چراغ بن جاتی ہے؛
سپریم کورٹ کے جج صاحبان کبھی کبھار ایک ’ریٹریٹ‘ (فکری نشست) کا اہتمام کرتے ہیں جہاں دیگر مصروفیات کے ساتھ ساتھ وہ مدعو کیے گئے مقررین کو بھی سنتے ہیں۔ عموماً یہ مقررین اہم موضوعات پر مختلف اور متضاد فکری آراء رکھتے ہیں۔ مقررین کو ان کا اپنا سیشن ختم ہونے کے بعد دیگر سیشنز میں بھی شرکت کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ تقریباً اٹھارہ سال قبل مجھے بھوپال کی نیشنل جوڈیشل اکیڈمی میں ایک ایسی ہی ’ریٹریٹ‘ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاکہ میں بعض معاشی مسائل پر بائیں بازو کا موقف پیش کر سکوں۔ اس وقت جسٹس کے جی بالاکرشنن ہندوستان کے چیف جسٹس تھے۔ اس نشست میں امریکہ کی سپریم کورٹ کے جسٹس اسٹیفن بریئر (Justice Stephen Breyer) بھی بطور مہمان شریک تھے جو کلنٹن انتظامیہ کے مقرر کردہ ایک لبرل جج تھے۔
میرا سیشن ختم ہونے کے بعد میں اگلے سیشن کے لیے بھی وہیں رکا رہا جس میں اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ ججوں کو ’خراب‘ (Bad) قوانین پر کیا رد عمل ظاہر کرنا چاہیے۔ جہاں جسٹس بریئر نے ’خراب‘ قوانین کو واپس مقننہ (قانون ساز اسمبلی) کو بھیجنے کی امریکی روایت کا ذکر کیا وہیں ہندوستانی سپریم کورٹ کے جسٹس ایس بی سنہا کی رائے تھی کہ اگر کوئی قانون ’خراب‘ ہو تو ججوں کو اسے مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنانا چاہیے۔ اگرچہ بعض صورتوں میں جسٹس سنہا کا یہ موقف پیچیدہ ثابت ہو سکتا تھا لیکن میں عدلیہ کی مکمل آزادی کے تئیں ان کے عزم کو سراہے بغیر نہ رہ سکا۔ بہرحال دونوں آراء نے اس بنیادی اصول کو تسلیم کیا کہ عدلیہ محض قوانین کا اطلاق ہی نہیں کرتی بلکہ ’خراب‘ قوانین کی مخالفت میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
جسٹس سنہا کے اس موقف کو جو بڑی حد تک اس دور کی عکاسی کرتا تھا اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عمر خالد جلد ہی جیل میں اپنے چھ سال مکمل کر لیں گے جب کہ شرجیل امام پہلے ہی چھ سال مکمل کر چکے ہیں لیکن ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی ابھی تک شروع ہی نہیں ہوئی ہے۔ اس کے باوجود ان کی جانب سے دائر کی گئی متعدد ضمانت کی درخواستوں کو نہ صرف نچلی عدالتوں یا دہلی ہائی کورٹ نے بلکہ خود سپریم کورٹ نے بھی مسترد کر دیا ہے۔ چوں کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون (UAPA) جس کے تحت ان پر مقدمہ درج ہے اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے غیر معینہ مدت تک سلاخوں کے پیچھے رکھا جا سکتا ہے، اس لیے سپریم کورٹ نے بھی اس قانون کی حدود میں رہتے ہوئے انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
بغیر مقدمے کے اس طرح کی غیر معینہ مدت تک قید کی اجازت دینے والا قانون نہ صرف ’خراب‘ ہے بلکہ ایک ہول ناک قانون سازی ہے۔ لیکن اس قانون نے نہ تو سپریم کورٹ کی جانب سے اس طرح کی مداخلت کو دعوت دی جیسی جسٹس سنہا چاہتے تھے اور نہ ہی اسے ترمیم کے لیے واپس مقننہ کو بھیجنے کی نوبت آئی، جس کی تجویز جسٹس بریئر نے دی تھی۔ یہ واقعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حالات کس قدر بدل چکے ہیں اور آج ہندوستان کی عدلیہ اٹھارہ سال پہلے کے مقابلے میں، جب مجھے ججوں کی اس نشست میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا تھا کس قدر کم ہمت اور بزدل ہوچکی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ عدلیہ کی یہ بزدلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خود مقننہ اپنے منظور کردہ قوانین کی خوبیوں اور خامیوں کو پرکھنے کی ذمہ داری سے تیزی سے دستبردار ہو رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں بڑی تعداد میں قوانین بغیر کسی بحث کے محض چند منٹوں میں منظور کر لیے جاتے ہیں۔ ارکانِ پارلیمنٹ میں اپوزیشن پارٹیوں کو چھوڑ کر حکم راں جماعت میں شامل ہونے کا رجحان—خواہ وہ خوف کی وجہ سے ہو یا موقع پرستی کی بنا پر—ایک ایسی وبائی شکل اختیار کر چکا ہے کہ اب مشکل سے ہی یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ پارٹیاں بدلنے والے یہ ارکان حکم راں جماعت کی جانب سے لائے گئے کسی بھی قانون کا بغور جائزہ لیں گے۔ مختصر یہ کہ پارلیمنٹ محض ایک ’ربر اسٹامپ‘ کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے جس سے عدلیہ پر اور بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوانین کی جانچ پڑتال کرے، ’خراب‘ قوانین کو مسترد کرے (چاہے جسٹس سنہا کے انداز میں ہو یا جسٹس بریئر کے انداز میں) اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ لیکن افسوس کہ عدلیہ یہی کام کرنے سے بری طرح کترا رہی ہے۔
اس وقت دل کو کچھ ڈھارس ملی جب جسٹس ناگرتنا اور جسٹس اجل بھویان پر مشتمل بنچ نے ’سید افتخار اندرابی بمقابلہ این آئی اے‘ کیس میں یہ فیصلہ سنایا کہ دہشت گردی یا خصوصی تعزیری قوانین کے سخت مقدمات میں بھی، اگر مقدمے کی کارروائی شروع ہونے میں طویل تاخیر ہو تو مسلسل حراست غیر آئینی ہو جاتی ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ امید بھی عارضی ثابت ہوئی۔ اس فیصلے کے بعد دائر کی گئی عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستوں کو ٹرائل کورٹ نے دوبارہ مسترد کر دیا جس نے صرف 5؍ جنوری 2026 کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت کے استرداد کو تو مد نظر رکھا لیکن ناگرتنا-بھویان کے فیصلے کو نظر انداز کر دیا۔ اب جب کہ میں یہ لکھ رہا ہوں، ان کی تازہ ضمانت کی درخواستیں ایک بار پھر دہلی ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں اور اس کے فیصلے کا انتظار ہے۔
یہاں تک کہ برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے بھی قیدیوں کو بغیر مقدمہ چلائے اتنی طویل مدت تک قید نہیں رکھا تھا۔ 1919 کے بد نام زمانہ رولٹ ایکٹ (Rowlatt Act) میں بغیر مقدمہ چلائے زیادہ سے زیادہ دو سال تک قید کی گنجائش تھی۔ یہ سچ ہے کہ دونوں عالمی جنگوں کے دوران بغیر مقدمے کے نظر بندی کی مدت غیر معینہ ہو سکتی تھی لیکن پہلی عالمی جنگ چار سال تک جاری رہی جب کہ دوسری عالمی جنگ چھ سال اور محض ایک دن تک جاری رہی، اس لیے جنگی قوانین کے تحت بھی درحقیقت کسی کو اتنے لمبے عرصے تک بغیر مقدمے کے جیل میں نہیں رکھا گیا جتنا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کو رکھا گیا ہے۔ جواہر لال نہرو، مولانا آزاد اور سردار پٹیل جیسے قومی رہنماؤں کو جنگ کے دوران ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے تحت اگست 1942 سے جون 1945 تک تقریباً تین سال کے لیے بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رکھا گیا تھا۔
یہ انتہائی شرم ناک بات ہے کہ آزاد ہندوستان میں کسی جنگ کے نہ ہونے کے باوجود بعض لوگوں کو بغیر مقدمے چلائے اتنی طویل مدت کے لیے حراست میں رکھا جا رہا ہے جو نوآبادیاتی دور میں جنگوں کے دوران ہونے والی قید سے بھی زیادہ طویل ہے۔ ہر ایک اضافی دن جو عمر خالد اور شرجیل امام جیسے افراد بغیر مقدمے کے جیل میں گزار رہے ہیں، ہمارے ملک پر، اس جمہوریت پر جس پر ہم فخر کرتے ہیں، اور ہماری اس عدلیہ پر ایک بدنما داغ ہے جس کی ذمہ داری شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا۔
یہ داغ صرف اسی صورت میں مٹایا جا سکتا ہے جب سپریم کورٹ ان تمام مقدمات کا از خود نوٹس (suo motu cognizance) لے جن میں شہریوں کو مقدمہ چلائے بغیر طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا ہے اور نظر بند افراد کو ضمانت فراہم کرے، اور خاص طور پر عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملات میں اسے انتہائی ہنگامی بنیادوں پر کیا جانا چاہیے۔
(پربھات پٹنائک، سنٹر فار اکنامک اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں پروفیسر ایمریٹس ہیں)
ماخوذ: دی ٹیلی گراف
آزاد بھارت اور عدلیہ

جہاں غلط قانون عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالے،وہاں عدلیہ خاموش تماشائی نہیں رہتی؛

