امریکہ۔ایران کشیدگی: پاکستان کے لیے سفارتی کردار کی گنجائش
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانیوں کو ’’سر قلم کر دینے‘‘ کی دھمکی کے باوجود گزشتہ دس دنوں میں کسی مسلح تصادم کی خبر نہیں آئی۔ تین اگست کو امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور آبنائے ہرمز جلد مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ایران کی ’’جوہری صلاحیت کے خاتمے‘‘ کے معاہدے کی طرف بڑھنے کا راستہ ہموار کرے گی۔ تاہم ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ نہ کوئی ملاقات طے ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز امریکی شرائط پر کھلے گی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے سے بحری ٹریفک اس کی مرضی کے مطابق ہی گزرے گی۔
ہرمز: جوہری پروگرام سے بڑا سوال؟
چار اگست کو امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے بھی مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی بات کی مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی عملاً بند ہے۔ رائٹرز نے ایران–عمان مشاورت کی تصدیق کی ہے لیکن اس منصوبے میں ایران نہ صرف اپنی حدود کی حفاظت بلکہ آنے والے جہازوں پر براہِ راست کنٹرول اور جانے والے جہازوں کی مکمل نگرانی چاہتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اصل سوال اب یہ نہیں کہ ایران کتنی یورینیم افزودہ کرے گا بلکہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر عملی اختیار کس کے پاس ہوگا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واضح کر دیا کہ ایران–عمان گفتگو کا آبنائے ہرمز کے کھلنے سے کوئی تعلق نہیں۔ آبنائے صرف اسی وقت کھلے گی جب امریکہ ایرانی شرائط تسلیم کرے گا۔
امریکی اسلحہ ذخائر کی کمی: فیصلہ سازی پر اثر؟
اسی دوران امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کابینہ اجلاس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی کمی پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس کی تردید کی ہے لیکن امریکی صدر کے لہجے میں نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی۔ ایران کو فوجی دھمکیوں کے بعد اچانک سفارت کاری کو ’’ایک اور موقع‘‘ دینے کی باتیں اس تبدیلی کی علامت ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ سفارتی پیش رفت کا نتیجہ ہو لیکن یہ امکان بھی موجود ہے کہ عسکری ذخائر پر دباؤ نے واشنگٹن کو حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر پر مجبور کیا ہو۔
اسی پس منظر میں CNN کی وہ رپورٹ خاصی معنی خیز ہے جس کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے نجی گفتگو میں ایران کی جنگ سے نکلنے کے لیے ایک ’’Off-ramp‘‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس اصطلاح کا بہتر اردو مفہوم ’’جنگ سے با وقار اخراج کی راہ‘‘ ہوسکتا ہے۔ یعنی ایسا راستہ جس کے ذریعے امریکہ اپنے بنیادی مفادات کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھتے ہوئے مزید جنگ میں الجھنے سے نکل آئے اور اسے شکست تسلیم کے بجائے سیاسی یا سفارتی نتیجے کے طور پر پیش کرسکے۔ رپورٹ کے مطابق جنرل صاحب کا خیال ہے کہ زیرِ غور بعض عسکری متبادل الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اور صرف فضائی طاقت کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس ، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ حکام بھی جنگ کو کسی قابلِ قبول انجام تک پہنچانے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
فضائی طاقت کی حدود اور زمینی جنگ کے خطرات
امریکی عسکری قیادت جانتی ہے کہ فضائی طاقت ایران کو مکمل طور پر زیر نہیں کر سکتی۔ اہداف کی تعداد بڑھتی جائے گی، حملے طویل ہوں گے اور ایران کے جوابی حملوں کا خطرہ بھی بڑھے گا۔ یوں ایک محدود فوجی مہم بتدریج طویل جنگ بلکہ افغانستان کی طرح دلدل میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ امریکہ کے بعض حلقے زمینی کاروائی کی سفارش کر رہے ہیں لیکن زمینی کارروائی اس سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگی۔ ایران جیسے بڑے، پہاڑی اور جغرافیائی اعتبار سے پیچیدہ ملک میں زمینی فوج اتارنے کا مطلب محض چند فوجی اڈوں پر قبضہ نہیں ہوگا بلکہ وسیع پیمانے پر فوج، رسد، فضائی دفاع اور طویل مدتی موجودگی درکار ہوگی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکی فوجیوں کے جانی نقصان اور ایران کی جانب سے خلیج، عراق، شام اور دیگر مقامات پر جوابی کارروائیوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔ امریکی فیصلہ ساز بظاہر ایک ایسے دائرے میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی آسان راستہ نظر نہیں آتا۔ فضائی حملے مطلوبہ سیاسی نتیجہ نہیں دے رہے اور زمینی جنگ کے مضمرات اس سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
سفارت کاری کی طرف جھکاؤ: آبنائے ہرمز بطور Off-ramp
صدر ٹرمپ کے بیانات میں آنے والی نرمی اسی عسکری دباؤ کا نتیجہ لگ رہی ہے۔ واشنگٹن اب مذاکرات کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنے کی بات کرتے ہوئے ایران–عمان مشاورت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ اگر آبنائے کھل جاتی ہے تو نہ صرف توانائی اور تجارت کا بحران کم ہوگا بلکہ امریکہ اسے ایک Off-ramp کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ یعنی یہ تاثر دیا جائے کہ فوجی دباؤ نے مذاکرات کی راہ ہموار کی اور اب سفارت کاری کامیاب ہو رہی ہے۔
پابندیوں میں نرمی ۔۔ موہوم اشارہ؟
اسی تناظر میں 5 اگست کو امریکہ کی جانب سے عراقی فضائی کمپنی Fly Baghdad المعروف Iraq Express اور متعلقہ دو طیاروں پر عائد انسدادِ دہشت گردی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ بھی معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں پاسداران انقلاب سے تعلق کے الزام میں عائد کی گئی تھیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی محکمہ خزانہ کے ایک عہدیدار نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان اداروں کے "طرزِ عمل میں نمایاں تبدیلی" (significant behavioral changes) کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس کا ایران کے بارے میں امریکی پالیسی یا جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ واشنگٹن کی اس وضاحت کے باوجود اسے مفاہمت کا ایک موہوم یا بالواسطہ اشارہ ضرور کہا جاسکتا ہے تاہم اسے کوئی واضح سفارتی پیش رفت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
امریکہ–ایران کشیدگی ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ اور سفارت کاری دونوں راستے موجود ہیں۔ واشنگٹن کی عسکری قیادت اور سیاسی حلقے بظاہر جنگ کو ایک قابلِ قبول انجام تک پہنچانے کے خواہاں ہیں۔ آبنائے ہرمز اس پورے منظر نامے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے میں استحکام کا باعث بنے گا بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اصل جنگ شاید میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر لڑی جائے گی۔
آبنائے ہرمز کا دباؤ، واشنگٹن جنگ سے پیچھے ہٹنے لگا؟

اسلحہ ذخائر پر دباؤ اور زمینی جنگ کے خطرات نے سفارت کاری کو ناگزیر بنا دیا ہے

