ایس آئی آر، ووٹر فہرستوں سے اخراج اور ہندوستانی جمہوریت میں مساوی سیاسی شرکت کا سوال
ایک ایسے وقت میں جبکہ الفاظ اپنی وقعت اور قلم اپنی حرمت کھو چکے ہیں اور میڈیا ’گودی میڈیا‘، ’کانگریسی میڈیا‘ یا ’اینٹی نیشنل میڈیا‘ جیسے خانوں میں تقسیم ہے، یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ کسی اخبار کی ایک خبر یوں پورے ملک میں موضوعِ بحث بن جائے گی۔ اس خبر نے اس حکم راں جماعت کو بھی جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے جو عام طور پر عوامی جذبات، سیاسی جماعتوں کی نعرے بازی اور میڈیا کی رپورٹوں کو خاطر میں لانے کی قائل نہیں رہی۔ انگریزی روزنامے ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کی خاتون صحافی کی رپورٹ جس میں الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات، طریقۂ کار اور ووٹر لسٹوں کی تیاری میں مرکزیت کے نظام کو بے نقاب کیا گیا ہے، اسے نظر انداز کرنا نہ حکم راں جماعت کے لیے ممکن رہا اور نہ ہی الیکشن کمیشن کے لیے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انتخابی نظام کی شفافیت پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران انتخابی اعداد و شمار کے اجرا، پولنگ کے بعد ووٹوں کی تعداد میں تبدیلی، فارم 17-سی کی تفصیلات اور پولنگ بوتھ کی ویڈیو ریکارڈنگ جیسے معاملات پر اپوزیشن اور مختلف حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ آندھرا پردیش میں پولنگ کے اوقات اور حتمی اعداد و شمار کے اجرا کو بھی موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ اسی طرح مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے قبل نئے ووٹروں کے اندراج اور انتخابی نتائج کو لے کر بھی سیاسی تنازع پیدا ہوا ہے۔
ان تمام سوالات کے درمیان، گزشتہ ایک برس کے دوران ایس آئی آر نے انتخابی نظام کے ایک اور پہلو کو نمایاں کر دیا ہے: ووٹر لسٹ سے ناموں کا اخراج۔ اس عمل کے دوران بہت سے شہریوں کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ معمولی نامی یا تکنیکی فرق، دستاویزات کی عدم دستیابی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر ان کا نام ووٹر فہرست سے خارج ہو سکتا ہے۔ یوں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ ایس آئی آر کا بنیادی مقصد اہل ووٹروں کو انتخابی فہرست میں شامل کرنا ہے یا بڑی تعداد میں ناموں کو خارج کرنا؟
ایک طرف ملک میں آبادی میں اضافے کا شور مچایا جاتا ہے اور اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں پر زیادہ بچے پیدا کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں تو دوسری طرف انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اس عمل پر مسلسل سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے پریس کانفرنس اور پریزنٹیشن کے ذریعے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مرکزی سطح پر ڈیٹا کے استعمال کے سوالات اٹھاتے رہے ہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے ان اعتراضات سے نمٹنے کا طریقہ بھی بحث کا موضوع بنا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے راہل گاندھی سے حلف نامہ یا معافی کے مطالبے کو اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک آئینی ادارے کو سیاسی الزامات کا جواب سیاسی انداز میں دینا چاہیے یا شفاف تحقیقات اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار کے ذریعے عوام کے خدشات دور کرنے چاہئیں؟
بھارت کی جمہوریت کی ایک بڑی خصوصیت انتخابی تسلسل اور آئینی اداروں کا وجود رہی ہے۔ ایمرجنسی کے مختصر دور کو چھوڑ دیں تو ملک میں انتخابات کے ذریعے اقتدار کی پرامن منتقلی کا سلسلہ برقرار رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کے کئی دوسرے ممالک میں یہ تسلسل بار بار ٹوٹا لیکن بھارت میں انتخابی عمل اور آئینی اداروں نے جمہوری نظام کو بڑی حد تک قائم رکھا ہے۔ اسی لیے آج انتخابی اداروں کی غیر جانب داری، شفافیت اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات معمولی نوعیت کے نہیں ہیں۔ اگر عوام کا اعتماد انتخابی اداروں سے اٹھنے لگے تو اس کا اثر صرف کسی ایک انتخاب یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے جمہوری نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
انگریزی اخبار کی رپورٹ آنے کے بعد جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پریس کانفرنس کر رہے تھے تو ایک معروف نیوز چینل کی رپورٹر یہ سوال پوچھتی ہیں کہ ’’کیا ان حالات میں انڈیا اتحاد انتخابات کا بائیکاٹ کرے گا؟ تو یہ سوال خود اپنے آپ میں اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہماری جمہوریت اب صحت مند نہیں رہی۔ اگرچہ اپوزیشن نے اسے اصل موضوع سے بھٹکانے کی کوشش قرار دے کر ٹال دیا لیکن ہمیں اس سوال پر انتہائی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کیا بھارت کا جمہوری و انتخابی نظام واقعی اس ڈگر پر چل پڑا ہے جہاں سیاسی جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ پر مجبور ہو جائیں گی؟ اور اس تشویش ناک صورتِ حال کو بننے سے روکنے کے لیے کن فوری اصلاحات کی ضرورت ہے؟
ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے سے قبل ہمیں کچھ دیر کے لیے اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر وہ کون سے حالات تھے جن کے باعث ہمارے پڑوسی ممالک میں سیاسی جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ پر مجبور ہوئیں؟ کیا وہ محض اقتدار کے حصول کی باہمی کشمکش تھی یا پھر جمہوری و انتخابی اداروں کی سنگین خامیاں اور ان کے جانبدارانہ اقدامات کا نتیجہ تھا جس نے سیاسی جماعتوں کو بائیکاٹ کی راہ پر دھکیلا؟
جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جمہوری نظام کا زوال کبھی راتوں رات نہیں ہوتا بلکہ اس کی شروعات ان اداروں کی زوال پذیری سے ہوتی ہے جن پر غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پڑوسی ممالک میں سیاسی جماعتوں کا انتخابی بائیکاٹ محض کسی سیاسی ضد یا اقتدار کی کشمکش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اداروں پر عوامی اور سیاسی اعتماد کے بالکلیہ ختم ہو جانے کا ردِ عمل تھا۔ بنگلہ دیش میں جب حکم راں جماعت نے نگران حکومت (Caretaker Government) کے آئینی نظام کو ختم کیا اور انتخابی کمیشن مکمل طور پر حکومت کا دستِ راست بن گیا تو اپوزیشن (بی این پی) کے پاس بائیکاٹ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں ہونے والے انتخابات نے اپوزیشن کو تو معطل کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ انتخابی عمل کی اخلاقی اور جمہوری معتبریت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ بالآخر ملک ایک یک جماعتی نظام اور شدید عوامی اشتعال کی طرف بڑھ گیا۔ پاکستان میں اداروں کی براہِ راست مداخلت، اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں کی بے دخلی اور انتخابی عمل سے پہلے ہی نتائج کو پراسیس کرنے (Pre-poll Rigging) کے رویوں نے بارہا اپوزیشن کو بائیکاٹ یا عدم اعتماد کے راستے پر دھکیلا ہے۔ جب انتخابی کمیشن اور ریاستی ادارے غیر جانبدار رہنے کے بجائے فریق بن جاتے ہیں تو انتخاب عوامی فیصلے کے بجائے محض ایک دفتری کارروائی (Formal Routine) بن کر رہ جاتا ہے۔ میانمار میں ملٹری جنتا اور ان کے ماتحت قائم انتخابی اداروں نے جب سیاسی اداروں کو مفلوج کیا اور ووٹروں کی منشا کو نظر انداز کیا تو عوامی عدم اعتماد اس حد تک بڑھا کہ پورا سیاسی نظام ہی زمیں بوس ہو گیا۔ ان پڑوسی ممالک کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے غیر جانبداری کا چولا اتار کر کسی ایک فریق کا آلہ کار بنتے ہیں تو سیاسی جماعتوں کا بائیکاٹ محض ایک آپشن نہیں رہتا بلکہ ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔بھارت کے لیے تشویش ناک بات یہ ہے کہ جو تاریخ ہم اپنے پڑوسیوں میں دیکھتے آئے تھے آج اس کے دھندلے سائے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ اگر اپوزیشن کا بائیکاٹ کی طرف اشارہ کرنا محض ایک سیاسی بیان بھی ہو تب بھی انتخابی کمیشن کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے رویے اور طرزِ عمل سے اس اعتماد کو بحال کرے کیوں کہ جمہوری تسلسل کا ٹوٹنا صرف ایک حکومت کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ پوری قوم اور اس کے آئینی وجود کا خسارہ ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے انتخابی نظام کے بارے میں ظاہر کی جانے والی تشویش واقعی جائز ہے؟ اس سوال کے کئی پہلو ہیں۔ پہلا سوال الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری سے متعلق ہے کہ کیا تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی میدان میں یکساں مواقع حاصل ہیں؟ کیا حکم راں جماعت کے رہنماؤں کے متنازع یا اشتعال انگیز بیانات پر وہی معیار لاگو ہوتا ہے جو اپوزیشن کے رہنماؤں پر ہوتا ہے؟ دوسرا سوال انتخابی شفافیت کا ہے، پولنگ کے حتمی اعداد و شمار کے اجرا میں تاخیر، فارم 17-سی کی تفصیلات، پولنگ بوتھ کی ویڈیو ریکارڈنگ اور انتخابی ڈیٹا کے مرکزی انتظام جیسے معاملات پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ تیسرا سوال الیکشن کمشنروں کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس دیبانکر دتا نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر تقرری کے عمل میں حکومت کا اثر بہت زیادہ ہو تو مقرر ہونے والے افراد کی آزادی اور غیر جانب داری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کسی ادارے کا ریفری اسی ٹیم کے زیر اثر مقرر ہو جس کے خلاف اسے غیر جانب داری سے فیصلہ دینا ہو، تو اس کی غیر جانب داری پر اعتماد کیسے برقرار رہے گا؟ اسی تناظر میں موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے دور میں کمیشن کے اندر فیصلہ سازی اور دونوں ساتھی الیکشن کمشنروں کے ساتھ مبینہ اختلافات سے متعلق انڈین ایکسپریس کی رپورٹ بھی اہم بن جاتی ہے۔ رپورٹ میں کمیشن کے اندر اختلافات اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
گزشتہ ایک برس کے دوران ایس آئی آر کی پوری مشق کا جائزہ لیا جائے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: آخر اس عمل سے کون لوگ انتخابی نظام سے باہر ہو رہے ہیں؟ ایس آئی آر کے بعد ملک میں عملاً دو قسم کے لوگ رہ جانے کا خدشہ ہے: ایک وہ جن کے نام ووٹر فہرست میں موجود ہوں گے اور جنہیں حقِ رائے دہی حاصل ہوگا اور دوسرے وہ جن کے نام فہرست سے خارج ہو چکے ہوں گے اور جو انتخابی عمل سے باہر ہو جائیں گے۔تخمینوں کے مطابق ملک کی موجودہ انتخابی فہرستوں سے اب تک تقریباً تیرہ کروڑ نام حذف کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں ایس آئی آر مکمل ہونے کے بعد مزید تقریباً ایک کروڑ نام حذف شدہ فہرست میں شامل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں تقریباً پندرہ کروڑ ڈی نوٹیفائیڈ، خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش قبائل کے افراد ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد انتخابی فہرستوں میں موجود نہیں ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر حذف شدہ نام لازماً کسی اہل شہری کا نام نہیں ہوتا۔ بعض نام ایسے لوگوں کے ہو سکتے ہیں جو وفات پا چکے ہوں، مستقل طور پر منتقل ہو گئے ہوں، ایک سے زیادہ جگہ درج ہوں یا کسی دوسری جائز وجہ سے حذف کیے جانے کے قابل ہوں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر اہل شہری کو نام حذف ہونے کے بعد اپنا حق واپس حاصل کرنے کا مؤثر اور آسان موقع مل رہا ہے؟ ملک کے اندر ایک ریاست، شہر یا ضلع سے دوسرے مقام پر منتقل ہونا کسی شخص کو ملک کے ووٹروں کی مجموعی تعداد سے باہر نہیں کرتا۔ اس صورت میں بنیادی ضرورت یہ ہے کہ اس کا نام نئے انتخابی حلقے میں منتقل ہو، نہ کہ وہ مکمل طور پر انتخابی نظام سے باہر ہو جائے! اگر بڑی تعداد میں اہل شہری ووٹر فہرست سے باہر ہو جاتے ہیں تو نقصان صرف ووٹ کے حق تک محدود نہیں رہتا۔ ان کی سیاسی آواز بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی عموماً انہی لوگوں کی ترجیحات کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں جو انتخابی عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس لیے ووٹر فہرست سے اخراج کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ متعلقہ شہریوں کے مسائل، ترجیحات، خدشات اور مطالبات سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابی اعتبار سے کم اہم ہو جائیں۔اسی وجہ سے ایس آئی آر کو صرف ووٹر فہرست کی تکنیکی نظرثانی سمجھنا کافی نہیں ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ بھارت کے سیاسی معاشرے میں کس کی آواز شامل رہے گی اور کون انتخابی نظام سے باہر ہو جائے گا؟
آخر ایس آئی آر سے باہر کون ہو رہا ہے؟یہ غور کرنا ضروری ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کن طبقات کے نام زیادہ تعداد میں حذف ہو رہے ہیں۔ کولکاتا کے صبر انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق حیدرآباد لوک سبھا حلقے کے دو اسمبلی حلقوں میں حذف کیے گئے ووٹروں کی تعداد 2023 کے اسمبلی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں سے زیادہ تھی۔ ملک پیٹ اسمبلی حلقے میں 2023 میں 1,32,024 ووٹ ڈالے گئے تھے، جبکہ ایس آئی آر کے دوران وہاں 1,47,799 ووٹروں کے نام حذف کیے گئے۔ اسی لوک سبھا حلقے کے یاقوت پورہ اسمبلی حلقے میں 1,54,982 ووٹرز کے نام حذف کیے گئے، جبکہ 2023 میں وہاں 1,40,434 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ایک دوسری تحقیق میں دہلی کے چاندنی چوک اسمبلی حلقے کے پولنگ بوتھ نمبر 33 کا حوالہ دیا گیا، جہاں 909 ووٹروں میں سے 908 نام حذف کیے جانے کی نشاندہی کی گئی۔ مغربی بنگال میں بھی مسلم اکثریتی اضلاع مالدہ، مرشدآباد، شمالی دیناج پور میں سب سے زیادہ لوگوں کے نام خارج کیے گئے ہیں۔ مختلف محققین، تحقیقی اداروں اور میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مسلم اور عیسائی اقلیتوں، دلتوں، آدیواسیوں، معاشی طور پر پسماندہ طبقات، ناخواندہ افراد، یومیہ مزدوروں اور مہاجر مزدوروں کے نام ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ تعداد میں حذف ہوئے ہیں۔ ان طبقات میں خواتین ووٹروں کے اخراج کی شرح بھی زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی مکمل اور آزادانہ جانچ ضروری ہے کیونکہ اگر انتخابی اخراج کسی خاص سماجی یا معاشی طبقے پر غیر متناسب اثر ڈال رہا ہو تو یہ محض انتظامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ جمہوری نمائندگی کا سوال بن جاتا ہے۔
معاشی ماہر پرکالا پربھاکر نے ایس آئی آر کے ممکنہ سیاسی اثرات کا ایک وسیع تر تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایس آئی آر مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو معاشرے کے ان طبقات کی سیاسی اہمیت کم ہو سکتی ہے جو انتخابی فہرست سے باہر ہو جائیں گے۔ ان کا استدلال ہے کہ اس صورت میں سیاسی جماعتوں پر ہندو اکثریتی ووٹروں کو مرکز میں رکھتے ہوئے سیاست کرنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے اور طویل مدت میں دوسری جماعتیں بھی بی جے پی کے سیاسی انداز کے قریب جا سکتی ہیں۔ یہ ان کا تجزیہ ہے لیکن اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انتخابی حلقہ جتنا تبدیل ہوتا ہے، سیاسی جماعتوں کی ترجیحات بھی اسی کے مطابق تبدیل ہوتی ہیں۔ اگر کسی مخصوص طبقے کے ووٹروں کی تعداد کم ہو جائے تو سیاسی جماعتوں کے لیے اس طبقے کے مسائل کو انتخابی ترجیح بنائے رکھنے کی ترغیب بھی کم ہو سکتی ہے۔ اسی وسیع تر تناظر میں ملک میں اکثریتی مذہبی علامات کے بڑھتے ہوئے سرکاری استعمال پر بھی بحث ہو رہی ہے۔ سینگول کی پارلیمنٹ میں موجودگی، ’’وندے ماترم‘‘ کے استعمال سے متعلق فیصلے اور سرکاری اسکیموں کے ناموں میں مذہبی و تاریخی حوالوں کے استعمال کو بعض مبصرین ہندوستانی ریاست کی بدلتی ہوئی علامتی سیاست سے جوڑتے ہیں۔
پرکالا پربھاکر نے اس عمل کا موازنہ اسرائیل کی سیاسی ثقافت سے بھی کیا ہے اور اسے ہندوستانی سیاسی نظام کی ’’اسرائیلائزیشن‘‘ قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہودی ریاست اپنی ریاستی علامات کے طور پر یہودی مذہبی علامات رکھنے پر کوئی معذرت نہیں کرتی۔ ڈیوڈ کا ستارہ اس کے قومی جھنڈے پر ہے۔ اس ملک کی تمام بڑی، غالب، اور الیکٹورل طور پر اہم سیاسی پارٹیاں صرف یہودی مفادات کی خدمت کرتی ہیں، صرف یہودی امنگوں کو خطاب کرتی ہیں، صرف یہودی خدشات، پریشانیوں اور صہیونی ترجیحات پر توجہ دیتی ہیں۔ وہ بنیادی مسائل پر ایک دوسرے سے بمشکل قابلِ امتیاز ہیں۔ وہ حقیقت میں یہودی حمایت کے لیے مقابلہ کرنے اور یہودی مفادات کی وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ غیر یہودی، فلسطینی خدشات کے تئیں اپنی بے رخی اور دشمنی کا مظاہرہ کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے کام کرتی ہیں۔ ریاست غیر یہودیوں کی فلاح و بہبود کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتی۔ جو ایس آئی آر عمل اب جاری ہے اگر اسے روکا نہ گیا تو وہ ہندوستان کو صیہونی راستے پر لے جائے گا۔ دوسرے الفاظ میں، جو ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ ہندوستانی سیاسی نظام کی بتدریج اسرائیلائزیشن ہے‘‘۔ یہ ان کا تجزیہ ہے، جس سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ لیکن اس کے ذریعے وہ ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ہندوستانی ریاست کی سیاسی شناخت بتدریج ایک مخصوص اکثریتی شناخت کے گرد محدود ہوتی جا رہی ہے؟
یہاں ہندوستان کے بنیادی آئینی تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔ یورپ میں جدید قومی ریاستوں کے قیام کے دوران ریاست اور اکثریتی قومی شناخت کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا رجحان پیدا ہوا۔ کئی جگہ اقلیتوں کو دبایا گیا، بے دخل کیا گیا یا انہیں اکثریتی شناخت میں ضم ہونے پر مجبور کیا گیا۔ تاریخ میں ایسی قومی یکسانیت پیدا کرنے کی کوششوں کے کئی خونریز واقعات موجود ہیں۔ ہندوستان نے اس کے برعکس ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ ملک کے بانیوں نے ایک ایسے جمہوری نظام کا تصور پیش کیا جس میں مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور برادریوں کے لوگ اپنی الگ شناخت کے ساتھ ایک ہی ملک میں رہ سکیں۔ ہندوستانی جمہوریہ کی بنیادی روح یہی تھی کہ ریاست کسی ایک مذہب یا برادری کی ملکیت نہیں بلکہ تمام شہریوں کی مشترکہ ریاست ہے۔ لیکن آج ایک ایسا سیاسی تصور بھی موجود ہے جو ہندوستانی ریاست کو ایک مخصوص اکثریتی قومی شناخت، یعنی ہندو قوم، سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تصور کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ریاست کی سیاسی شناخت ایک مذہبی اکثریت کے گرد تشکیل پانے لگے تو اقلیتوں کی مساوی سیاسی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
یہاں ایس آئی آر کا سوال دوبارہ اہم ہو جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کا نام ووٹر فہرست سے خارج ہو جائے اور وہ حقِ رائے دہی سے محروم ہو جائے تو وہ انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکتا۔ یہ لازماً قانونی شہریت کے خاتمے کے برابر نہیں ہے لیکن اس کی سیاسی شہریت ضرور کمزور ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ووٹ کا حق محض ایک انتخابی سہولت نہیں بلکہ دراصل جمہوری شرکت کا بنیادی ذریعہ ہے۔
ایس آئی آر پر بحث صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ کتنے نام حذف ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے اہل شہری تھے، انہیں نام حذف ہونے کی اطلاع ملی یا نہیں، انہیں مؤثر اپیل کا موقع ملا یا نہیں اور غلطی سے خارج ہونے والے ہر شہری کو بروقت اپنا نام واپس شامل کرانے کا راستہ دیا گیا یا نہیں۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانیں، ثقافتیں اور برادریاں صدیوں سے ساتھ رہتی آئی ہیں۔ اس تنوع کو جمہوری نظام میں جگہ دینا بھارتی ریاست کی بنیادی خصوصیت رہی ہے۔ اگر انتخابی نظام میں کسی بڑی آبادی کی سیاسی شرکت مسلسل کم ہوتی جائے تو اس کے اثرات صرف ووٹر لسٹ تک محدود نہیں رہیں گے۔ سوال یہ ہوگا کہ ہندوستانی جمہوریت میں کس کی آواز سنی جائے گی، کس کی نمائندگی ہوگی اور کون سیاسی عمل کا حصہ رہے گا؟ اسی لیے ایس آئی آر محض انتخابی فہرست کی نظرثانی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہندوستانی جمہوریت، مساوی سیاسی شرکت اور شہریت کے بنیادی تصور سے جڑا ہوا سوال ہے۔
آج ضرورت کسی ایک شخص کے استعفے یا کسی ایک ادارے کے فیصلے پر بحث ختم کرنے کی نہیں ہے بلکہ اس بڑے سوال پر غور کرنے کی ہے کہ آزاد ہندوستان کے قیام کے وقت جس جمہوری تصور کو اختیار کیا گیا تھا، کیا ہم آج بھی اسی پر قائم ہیں؟ نئے ہندوستان کے بانیوں نے ایک ایسے ملک کا تصور پیش کیا تھا جہاں ریاست کسی ایک مذہب، ذات، زبان یا برادری کی ملکیت نہ ہو بلکہ یہاں رہنے والا ہر شخص اس جمہوریہ کا برابر کا شہری ہو۔ شہریت کا تعلق کسی فرد کی مذہبی یا سماجی شناخت سے نہیں بلکہ اس کے ہندوستان سے تعلق سے تھا۔ اسی تصور کے تحت ہر شہری کو برابر کے سیاسی حقوق حاصل ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے آج بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ہندوستانی انتخابی نظام ہر اہل شہری کو جمہوری عمل میں شامل رکھنے کا ذریعہ بنے گا یا ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جائے گی جو ملک میں رہتے ہوئے بھی سیاسی عمل سے باہر ہو جائیں گے؟ یہ صرف ووٹر لسٹ کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ اس بنیادی سوال کا فیصلہ ہے کہ بھارت کس کا ملک ہے، ہندوستانی جمہوریت میں کس کی آواز شامل رہے گی اور کیا اس جمہوریہ میں ہر اہل شہری کو برابر کی سیاسی حیثیت حاصل رہے گی؟ اس پورے منظرنامے کو ان سوالوں کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔