تیرہ راتوں تک مسلسل بمباری، میزائل حملوں اور دھماکوں کی گونج سننے کے بعد 25 جولائی کی شب ایران اور خلیج فارس نے ایک غیر معمولی خاموشی دیکھی۔ نہ امریکی فضائیہ نے حسبِ معمول حملے کیے، نہ ہی کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں کے اطراف ایرانی میزائلوں کی بازگشت سنائی دی۔ جنگوں میں ایک رات کی خاموشی بھی معمولی واقعہ نہیں ہوتی کیونکہ یہی وقفے اکثر سفارت کاری کے لیے سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خاموشی کسی نئے سیاسی مرحلے کا آغاز ہے یا صرف ایک بڑے حملے سے پہلے کا وقفہ؟
جنگی تیاری و سفارت کاری ساتھ ساتھ؟
امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی مرکزی کمان کو بڑے حملوں کی تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے شبانہ فضائی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 کا دعویٰ ہے کہ بڑے آپریشن کی تیاری جاری ہے اور امریکہ کے تقریباً 90 ایندھن بردار طیارے (Refueling Aircraft) اسرائیلی اڈوں پر موجود ہیں۔ امریکی ذرایع ابلاغ کے مطابق 23 جولائی کو امریکہ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں میں پہلی مرتبہ B-1 Lancer بمبار استعمال کیا ہے۔ یہ دیوپیکر طیارے 2000 پاونڈ کے 24 بم اور درجنوں کروز میزائیل اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عسکری ماہرین نے B-1 کی شمولیت کو زمینی کارروائی (Ground Operation) کی تمہید قراردیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کا کہنا ہے کہ تباہ کن B52 بمبار بھی خلیج بھیج دیے گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ اب کوه کلنگ‌گزلا (Pickaxe Mountain) کے دامن میں مبینہ طور پر قائم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان متضاد اطلاعات سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ واشنگٹن عسکری دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
کیا اصل اختلاف واقعی موجود ہے؟
اگر دونوں ممالک کے سرکاری مؤقف کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو بنیادی اختلاف اتنا وسیع دکھائی نہیں دیتا جتنا میدانِ جنگ سے محسوس ہوتا ہے۔
امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے جب کہ ایران برسوں سے یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بجلی کی پیداوار، طب اور صنعتی تحقیق تک محدود ہے۔ یہی موقف 2015ء کے جوہری معاہدے (JCPOA) میں بھی درج تھا اور اس سال یادداشتِ اسلام آباد میں بھی یہی موقف من و عن دہرایا گیا ہے۔ ایران یہ اشارہ بھی دے چکا ہے کہ افزودہ یورینیم کے ذخائر اور ان کے استعمال کے طریقہ کار پر مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کے سلامتی کے خدشات کو بھی تسلیم کیا جائے۔ اصل رکاوٹ شاید تکنیکی سے زیادہ سیاسی ہے، جہاں اعتماد کا فقدان اور مسلسل بدلتے ہوئے بیانات ہر پیش رفت کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں۔
ہر بار مذاکرات، پھر جنگ
اس معاملے پر کم از کم تین بار مذاکرات کی میزیں سجیں اور تینوں بار جب مذکرات کار معاہدے کے قریب پہنچ گئے تو صدر ٹرمپ نے بات چیت ختم کرکے ایران پر بارود کی بارش کر دی۔
اپریل-مئی 2025 میں مذاکرات بہت کامیابی سے جاری تھے اور جون کے پہلے ہفتے میں امریکی وفد کے سربراہ اسٹیو وٹکاف نے خود کہا کہ بات چیت بہت ہی مثبت رخ اختیار کر چکی ہے اور خیال ہے کہ اس ماہ کے اختتام تک ہم معاہدے کے متن پر کام کر رہے ہوں گے کہ 22 جون امریکی فضائیہ نے 14 بنکر بسٹر بموں سے فردو، نظنز اور اصفہان میں مبینہ جوہری اثاثوں کو صدر ٹرمپ کے الفاظ میں فنا یا Obliterate کر دیا ہے۔
اس کے بعد عمان میں مذکرات کی میز دوبارہ بچھی اور ابتدائی دو تین نشستوں کے بعد عمان کی ثالثی میں فریقین جینوا میں سر جوڑ کر بیٹھے۔ جمعہ 27 فروری کی صبح دامادِ اول جیررڈ کشنر نے بہت پر اعتماد لہجے میں کہا کہ معاہدے کی راہ میں حائل اکثر رکاوٹیں دور کرلی گئی ہیں اور امید ہےاگلے ہفتے معاملہ طئے پا جائے گا۔ ابھی اس خوش گوار اعلان کی بازگشت ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔
اس بار پاکستان نے ثالثی کا بیڑہ اٹھایا اور 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی ہوگئی۔ دونوں فریق اسلام آباد میں جمع ہوئے۔ اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے لیکن بندوقیں خاموش رہیں اور آخر کار ایک 14 نکاتی یادداشتِ اسلام آباد نے تہران و امریکہ کو ایک بار پھر معاہدے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ لیکن آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد وہ عمل بھی تعطل کا شکار ہو گیا اور جنگ دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ یہ واقعات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان صرف اعتماد کا بحران نہیں بلکہ ہرمرحلے پر سیاسی حساب کتاب بھی مذاکرات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سخت بیانات، خفیہ رابطے
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور کہا کہ امریکہ ایران کو "Piece by Piece" تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران مذاکرات کے لیے بے تاب ہے، لیکن فوجی کارروائی جاری رہے گی۔ دوسری طرف ایرانی قیادت نے واضح کیا کہ اگر ایران کے معاشی اور سلامتی سے متعلق بنیادی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو کسی عارضی جنگ بندی کی گنجائش نہیں۔
اسی دوران نیویارک ٹائمز نے خبر دی کہ عراقی وزیر اعظم علی الزیدی امریکی تجویز لے کر تہران پہنچے، مگر ایران نے اس بنیاد پر عبوری جنگ بندی مسترد کر دی کہ اس میں آبنائے ہرمز، جہاز رانی اور خطے کے سلامتی کے انتظامات پر کوئی واضح ضمانت موجود نہیں تھی۔یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ پس پردہ رابطے بند نہیں ہوئے لیکن ایران جزوی سمجھوتوں کے بجائے زیادہ جامع سیاسی تصفیہ چاہتا ہے۔
جنگ کا پھیلتا ہوا دائرہ
اسی دوران بحران صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہا۔ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے اور اس کے جواب میں سعودی فضائی کارروائیوں نے یہ خدشہ بڑھا دیا ہے کہ اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو خلیجی توانائی کی عالمی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے۔یوں آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں عالمی تجارت کے لیے بیک وقت خطرے کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔
سیاسی دباؤ بھی فیصلہ کن عنصر
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جب کہ وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اندر اس وقت دو مختلف سوچیں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک حلقہ سفارت کاری کے ذریعے جلد سمجھوتہ چاہتا ہے جب کہ دوسرا طاقت کے بھرپور استعمال کے ذریعے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کا حامی ہے تاکہ انتخابات سے پہلے صدر ٹرمپ ایک مضبوط رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔ متوقع انتخابات کے تناظر میں اسرائیلی قیادت بھی اسی سوچ کی حامل نظر آتی ہے کہ سخت گیر مؤقف سیاسی فائدہ دے سکتا ہے۔
پچیس جولائی کی خاموش رات یقیناً امید کی ایک ہلکی سی کرن تھی مگر اسے امن کی نوید قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ گزشتہ برسوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اور میزائل ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔ یہی اس بحران کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جب بھی سفارت کاری کامیابی کے قریب محسوس ہوتی ہے، بارود کی گونج اسے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔تاہم ایک حقیقت اب دونوں فریقوں کے سامنے پہلے سے زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے: ایران کا جوہری تنازع نہ بمبار طیارے مستقل طور پر حل کر سکتے ہیں اور نہ میزائل۔ بالآخر اس کا فیصلہ مذاکرات کی میز ہی پر ہونا ہے۔ وہ مرحلہ کب آئے گا اس کا درست جواب ایران و امریکہ سمیت کسی کے پاس نہیں ہے۔