غیر مسلموں سے تعلقات کی تحریک اپنے گھر اور محلے سے شروع کریں
امتِ مسلمہ کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پیغمبرانہ مشن کا تار ٹوٹ گیا، انذار و تبشیر کا پیغمبرانہ کام بند ہوگیا اور جو شخص دعوت کے کام کی طرف لوگوں کو متوجہ کرے اس کے بارے میں تبصرہ یہ ہوتا ہے کہ فلاں صاحب کو دعوت کا مالیخولیا ہوگیا ہے۔ بہت سے لوگ دعوت کا مفہوم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ محلے یا شہر کے مسلمانوں کو مسجد میں جمع کرکے ان کو وعظ سنا دیا جائے، ان کو نیکی کی تلقین کی جائے، ان کے یقین کو مضبوط کیا جائے اور بری باتوں سے روکا جائے۔ یہ کوششیں قابلِ تعریف کوششیں ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے دائرے میں آتی ہیں، پھر بھی یہ کام وہ پیغمبرانہ مشن نہیں ہے جس کا ذکر قرآن میں ہر پیغمبر کے قصے میں آیا ہے، یعنی یہ وہ انذار و تبشیر نہیں ہے جو ہر پیغمبر کا مشن ہوتا ہے اور جس کی پاداش میں پیغمبر کو آتشِ نمرود میں ڈالا جاتا ہے اور کبھی اسے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس عظیم الشان پیغمبرانہ مشن کو لے کر اٹھنے کے لیے بنیادی کام مدعو سے تعلقات استوار کرنا ہوتا ہے۔ ہر پیغمبر کے اپنی قوم سے تعلقات قائم تھے، ہر پیغمبر لسانِ قوم کو سمجھتا تھا اور اسی لسانِ قوم کے ذریعے دعوت کا فریضہ انجام دیتا تھا۔
اس ملک میں اللہ کی نصرت کے نازل ہونے، حالات کو بدلنے، عزت و قیادت کا منصب حاصل کرنے، سکونِ دل پانے اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے دعوت، یعنی پیغمبرانہ مشن کو زندہ کرنا ضروری ہے، اور حالات کو بدلنے کا واحد راستہ ملک گیر سطح پر غیر مسلموں سے تعلقات قائم کرنا اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ نہ مسلمان باہر سے آئے ہیں اور نہ انہوں نے مندر منہدم کیے ہیں، وہ ملک کے ہمیشہ سے وفا دار ہیں، پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ غیر مسلموں کی غالب ترین اکثریت نے ہندوستان میں عدم مساوات سے اکتا کر اسلام قبول کیا تھا۔ وہ توحید اور انسانی مساوات کے دلکش عقیدے سے متاثر ہوئے تھے۔ مسلمانوں کی تہذیبی برتری بھی انہیں مرعوب کرتی تھی۔ قطب مینار کی بلندی اور تاج محل کے حسن کو دیکھ کر ان کی نگاہیں چکا چوند ہو جاتی تھیں۔ وہ مسلمانوں کی قوتِ بازو، قوتِ شمشیر اور جذبۂ جہاد سے خوف زدہ تھے۔ مجموعی اسباب نے مل کر تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں کی عظمت اور سطوت کو اس ملک میں باقی اور برقرار رکھا۔
ہندوستان کے قالین کے شیر کمتر ذاتوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔ وہ دوسرے شیروں کو دیکھتے تو بکری بن جاتے۔ مسلمانوں نے اپنے دورِ حکومت میں تھوڑا انہیں ڈرایا تو سارے شیر بکری بن گئے اور دم ہلانے لگے، اور جب انہیں سیاسی طاقت ہاتھ آئی تو پھر حیوانیت دکھانے لگے، دوسرے مذہب کے لوگوں کو برا بھلا کہنے لگے، پیغمبروں کے ساتھ بدزبانی کرنے لگے، دھرم سنسد منعقد کرنے لگے اور جب مسلمان ملکوں میں احتجاج شروع ہوا تو سیدھے ہوگئے۔
ایک زمانہ تھا جب گاندھی جی، جواہر لال نہرو، مولانا آزاد، رفیع احمد قدوائی، ذاکر حسین، اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ جیسے شریف لیڈر کانگریس کی قطار میں تھے اور جمہوریت اور سیکولرازم کا چراغ روشن تھا۔ فضاؤں میں شرافت، انسانیت، بین الاقوامیت، سائنس، صنعت اور تعلیم کے افکار تازہ و توانا تھے۔ اب یہ چراغ گل ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کے قتلِ عام کی باتیں برسرِ عام کی جارہی ہیں، پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے اور اقتدار کی شمع مودی، یوگی اور امت شاہ کے ہاتھ میں ہے۔
رو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہوئی مینا اسے
کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے
اب ہر شخص کی زبان پر سوال ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے؟ اب اس ملک میں ناتھورام گوڈسے کی بھی پوجا شروع ہوگئی ہے اور گاندھی جی کا قتل ہو رہا ہے۔ گاندھی جی کی تصویر پر گولیاں چلائی جارہی ہیں۔ اس طرح گاندھی جی کی فکر سے نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ صحیح اور سیکولر سوچ رکھنے والوں کی ہر ریاست میں کانفرنسیں بلانے کی ضرورت ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز نے پہلے غیر مسلموں کے ساتھ مل کر بڑی بڑی کانفرنسیں کی ہیں مگر اب ایسی کانفرنسیں نہیں ہوتیں جیسی وہ پہلے کیا کرتا تھا۔ وہ لوگ نہ جانے کہاں روپوش ہو گئے یا خاموش ہیں۔ اگر نفرت ایک تحریک بن جائے تو پھر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی اعتماد و اتحاد اور شریفانہ خیالات کی نمائش کی ضرورت ہوتی ہے۔ غنیمت ہے کہ دہلی میں کئی بڑے جلسے ہوئے۔ ان میں اہلِ درد نے غم و غصے کا اظہار کیا، فرقہ پرستوں پر تنقید کی گئی، حکومت کی خاموشی کو نشانہ بنایا گیا لیکن اہلِ حکومت اقتدار کے نشے میں چُور ہیں۔ ان کے سامنے ایک ہی مقصد ہے، ہندو راشٹر کا قیام۔
ان حالات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ مسلمانوں کو صاف ذہن کے غیر مسلموں کو ملا کر اور انہیں اعتماد میں لے کر کاموں کی صحیح منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کے لیے یہاں مستقبل کی منصوبہ بندی سے پیشتر اپنی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا ضروری ہے۔ مسلمان جب باہر سے ہندوستان کی سرزمین پر پہنچے تو ان کی رگوں میں ایک تازہ دم قوم کا خون دوڑ رہا تھا۔ انہوں نے اس وسیع اور شاداب ملک میں صرف اسلامی علوم و فنون کی بے مثال خدمت انجام نہیں دی، بلکہ علم و سائنس، صنعت و حرفت، تہذیب و تمدن، عمارت سازی اور زبان و ادب، ہر میدان میں اپنی ذہانت کے نقوش چھوڑے۔ یہاں انہوں نے شجرکاری کی اور میٹھے پھلوں کی باغبانی کی۔ ہر جگہ چمن کو خوشنما پھولوں سے آراستہ کیا اور اس ملک کے باشندوں کو ایک نئے طرزِ حیات سے آشنا کیا۔
جنوبی ہندوستان میں جب مسلمان آئے تو اسلام اور مسلمانوں سے کسی کو ایسی پرخاش نہیں تھی جیسی اس وقت نریندر مودی کے عہد میں ہے۔ تاریخ میں ہے کہ اس وقت کے ہندوستان کے راجاؤں نے تبلیغی مراکز قائم کرنے اور بستیاں بسانے کے لیے مسلمانوں کو زمینیں دیں۔ جنوبی ہندوستان میں تاجروں کے قافلے کے ساتھ اسلام آیا تھا لیکن شمال میں لشکر کشی ہوئی تھی اور اس لشکر کشی کے اسباب تھے جن سے اس کا جواز نکلتا تھا۔ مثال کے طور پر سندھ میں فوج کشی کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے اس بحری جہاز کو جس میں خواتین سفر کر رہی تھیں لوٹ لیا گیا تھا اور بار بار کے مطالبے کے باوجود سندھ کے راجا نے مسلمان عورتوں کو واپس نہیں کیا۔ چنانچہ لشکر کشی ہوئی اور جب سندھ فتح ہوگیا تو وہاں کے باشندے محمد بن قاسم کے اخلاق و کردار کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ اپنی عادت کے مطابق اس کے جانے کے بعد اس کا بت بنا ڈالا اور اس کی پرستش شروع کردی۔ اسی طرح غیر مسلموں کو اسلامی اخلاق کا گرویدہ بنانے کی ضرورت ہے۔
محمد بن قاسم کی طرح محمود غزنوی کے حملوں کے بھی اسباب تھے، جن کا تذکرہ غیر مسلم مؤرخین کی لکھی ہوئی کتابوں میں موجود ہے۔ جس کو ضرورت ہو، وہ تاریخ کے صفحات الٹ کر دیکھ لے۔ اسلام اس ملک میں جنوب سے بھی داخل ہوا اور شمال سے بھی پہنچا۔ اسلام اس ملک کے لیے نیا دین، نیا نظریہ اور بالکل نیا عقیدہ تھا۔ ہندوستان کے مذہب میں دین اور دنیا کے درمیان موافقت اور آشتی نہیں تھی۔ اسلام نے ہندو مذہب اور عیسائیت کی طرح دین کو دنیا کا دشمن نہیں ٹھیرایا بلکہ اسے دنیوی زندگی کا رہنما بنایا اور دنیا کو دین کے لیے کارگاہِ عمل کی حیثیت دی۔ نیا دین، یعنی توحید اور دینِ مساوات، ہندوستان میں بہت پرکشش تھا۔ اس نئے دین میں نہ تو رہبانیت تھی اور نہ مادہ پرستی، بلکہ روح اور مادہ دونوں باہم ہم آہنگ ہوگئے تھے۔ دین کی وجہ سے دنیوی زندگی بھی خوشگوار اور روشن تھی۔ توحید اور مساوات کے عقیدے نے بھی لوگوں کی توجہ مبذول کی۔ اسلام لوگوں کے لیے ایک دلکش اور پرکشش عقیدہ بن گیا تھا۔
اس ملک میں یہاں کے باشندوں کو اسلام نے مساوات، انسانیت کی عزت اور عظمت کا تحفہ دیا تھا۔ اس ملک میں آریائی نسل کے لوگ مقامی باشندوں کے ساتھ غلاموں سے بھی بدتر سلوک کرتے تھے اور انہیں ملیچھ اور ناپاک سمجھتے تھے۔ اس ملک میں انسانیت کی پامالی کے خلاف دو مرتبہ بغاوت اٹھی۔ بدھ مذہب اور جین مذہب کی تحریک دراصل برہمن واد کی نسل پرستی کے خلاف عام بغاوت تھی لیکن برہمنوں نے اس بغاوت کو بڑی زیرکی اور ذہانت کے ساتھ کچل دیا، جیسے اس وقت بھارت میں وہ مسلمانوں کو کچلنا چاہتے ہیں۔
جب مسلمان آئے تھے تو اس وقت ملک کا نقشہ یہ تھا کہ ہزاروں دیوی اور دیوتا تھے، شرک و بت پرستی نے پورے سماج کو جکڑ رکھا تھا، ذات پات کے بندھن میں پوری قوم گرفتار تھی۔ راجاؤں اور رجواڑوں کی اس سرزمین پر اور ذات پات کی زنجیر میں جکڑے ہوئے سماج میں جب اسلام نے قدم رکھا تو اس سر زمین کو دینِ اسلام کے لیے مسخر کرنے اور نسل پرستی اور ذات پات کو ختم کرنے کی مختلف انداز سے کوششیں کی گئیں۔ مسلمان سلاطین اور کِشوَر کُشاؤں نے راجاؤں اور مہاراجاؤں کو ختم کرکے ہندوستان کو ایک ملک اور ایک ریاست کی شکل دی۔ اس کے لیے انہوں نے خون بھی بہایا اور پسینہ بھی، دوستی بھی کی اور دشمنی بھی مول لی۔ انہوں نے ہندوستان کو دل و جان سے اپنا وطن بنایا اور ملک گیری کی ہوس کے بجائے ملک کی خدمت کے جذبے سے سب کام کیے۔ انہوں نے یہ طے کیا کہ جب وہ اس ملک میں داخل ہوگئے ہیں تو اس ملک کی خدمت کریں گے، اور یہاں سے اگر جائیں گے تو صرف اللہ کے پاس جائیں گے۔ اس حب الوطنی کے جذبے نے جنگل کٹوائے، سڑکیں بنوائیں، جو ہندوستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتی تھیں۔ سڑکوں کے دونوں طرف انہوں نے سایہ دار درخت لگوائے، مسافر خانے قائم کیے اور اس ملک میں حکومت کا وہ ڈھانچہ تیار کیا جس میں ملوکیت اور جمہوریت کے سوا کوئی بڑا تغیر آج تک نہیں ہوا ہے۔
مسلمانوں نے اپنی حکومت میں ہندوؤں کو اونچے عہدے دیے اور ان کے ساتھ مکمل رواداری کا معاملہ کیا۔ اس رواداری کی مفصل داستان صباح الدین عبد الرحمن صاحب نے اپنی بیش قیمت کتاب ’’اسلام اور رواداری‘‘ میں بیان کی ہے۔ یہ کتاب دو جلدوں میں دارالمصنفین، اعظم گڑھ سے شائع ہوئی ہے۔ ہندوستان کی مختلف زبانوں میں اس کتاب کی اشاعت وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ برادرانِ وطن کو معلوم ہو کہ مسلمانوں نے اپنی حکومت کے زمانے میں ان کے ساتھ کتنا منصفانہ، رحم دلانہ اور کرم گسترانہ سلوک کیا۔ انہوں نے یہاں کے سماج میں، جہاں نچلی ذات کے لوگوں پر بہت ظلم ہوتا تھا، شرافت اور انصاف کا عنصر داخل کیا۔
کشور کشائی کی داستان اور اس سرزمین کو فتح کرنے کے واقعات تاریخ میں موجود ہیں اور ان کے اسباب بھی مؤرخین نے لکھے ہیں۔ محمد بن قاسم کا حملہ ہو یا محمود غزنوی کا، ایسا نہیں تھا کہ بے سبب ملک گیری کی ہوس میں تلوار لہراتے ہوئے لوگ اس ملک میں داخل ہوگئے ہوں، جیسا کہ موہن بھاگوت کہتے ہیں۔ موہن بھاگوت کو تاریخ پڑھنی چاہیے۔ مسلمان جارحیت اور حملوں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ نہ محمد بن قاسم نے بے سبب حملہ کیا تھا اور نہ محمود غزنوی نے صرف ہندوستان پر حملے کی خاطر تیغ زنی کے جوہر دکھائے تھے۔ جو تحقیق کرنا چاہتا ہو، وہ لائبریری میں جا کر تاریخ کی کتابیں نکال کر پڑھ لے۔
ہم تو یہاں اس وقت تصوف کے کردار کا ذکر کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی اس لیے کہ اس کا تعلق مستقبل کی منصوبہ بندی سے ہے۔ اس ملک میں نگاہ کی تیغ زنی (تصوف و اخلاق) کی داستان، سپاہ کی تیغ زنی (فتوحات) کی داستان سے کچھ کم دلکش اور حسین نہیں ہے۔ محمود غزنوی کے زمانے میں خواجہ معین الدین چشتیؒ ہندوستان آئے اور اجمیر میں انہوں نے آخری پڑاؤ ڈالا۔ انہوں نے یہاں کے باشندوں کو پیغامِ حق سنایا اور جنہیں یہاں کے نسل پرستوں نے اچھوت بنا ڈالا تھا، انہیں اسلامی مساوات کا درس دیا۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بھائی چارے کے اسلامی پیغام نے اس ملک میں لاکھوں دلوں کو متاثر کیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ ’’جتنے کنکر اتنے شنکر‘‘ کا عقیدہ رکھنے والے ملک میں چشتی سلسلے کے صوفیائے کرام نے توحید کا دلکش عقیدہ پیش کیا۔ اس طرح اسلامی تعلیمات کی روشنی اس ملک کے اندھیروں کو کاٹتی رہی۔ ملک بھر میں خانقاہیں قائم ہوئیں۔ یہ خانقاہیں انسانیت کی پناہ گاہیں تھیں، جہاں انسانوں کی چارہ سازی، دلوں کی صفائی اور انسانوں کو مخلوقات کی بندگی سے نجات دلانے کا کام انجام دیا جاتا تھا۔ مسلمان مبلغین اور صوفیائے کرام کو ہندوستانی سماج کے بند دلوں اور بند دروازوں کو کھولنے کا جتنا موقع ملا، اتنا موقع سلاطین اور مسلم حکم رانوں کو بھی نہیں مل سکا۔
اس حقیقت کی گواہی ایک غیر مسلم مؤرخ پروفیسر آرنلڈ نے اپنی کتاب ’’پریچنگ آف اسلام‘‘ میں دی ہے۔ ان خانقاہوں میں غیر مسلم بڑی عقیدت اور محبت کے ساتھ آتے تھے، جہاں ان کی روحانی اور ایمانی تربیت کا کام ہوتا تھا۔ ان صوفیائے کرام نے کایا پلٹ دی اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔ افسوس اور غم کی بات یہ ہے کہ روحانی اور ایمانی تربیت کی خانقاہیں اب اس زمانے میں درگاہیں بن گئی ہیں، جہاں غیر مسلموں کے دلوں کے بند دروازوں کو کھولنے کی ذرہ برابر بھی کوشش نہیں کی جاتی۔ آج بھی برادرانِ وطن جس قدر بزرگوں کے آستانوں پر عقیدت کے ساتھ جاتے ہیں، اس قدر وہ مدرسوں اور مسلم تنظیموں کے دفاتر میں نہیں جاتے۔
یہ بات مسلم قیادت کے سمجھنے کی ہے کہ برادرانِ وطن کے دلوں پر دستک دینے کا کام اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کو درخشندہ بنانے کے لیے اشد ضروری ہے، اور یہی حقیقی پیغمبرانہ مشن ہے۔ اس کے لیے دوستانہ ماحول چاہیے، حریفانہ اور مخالفانہ ماحول نہیں۔ غیر مسلموں سے خوشگوار روابط اور تعلقات کی شدید ضرورت ہے۔ سینۂ صحرا میں آب و حباب پیدا کرنے کے لیے اور آتشِ نمرود کو گلزارِ ابراہیم سے بدلنے کے لیے صحیح منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خیرسگالی بورڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
اس منصوبہ بندی کی ضرورت کا احساس ملی قیادت کو نہیں ہے۔ یہ تنہا راستہ ہے، ہوائے تند و تیز میں اس بحرِ متلاطم پر حکومت کی کشتی چلانے کا۔ تصوف، بمعنی احسان، روحانیت، اخلاقِ فاضلانہ اور خدمتِ خلق، اسلام کی روح بھی ہے، اس ملک میں ہماری ضرورت بھی، اور بحرِ ہند میں سفینۂ نجات بھی۔ آج جو لوگ درگاہوں کے متولی ہیں، اگر اپنے اسلاف کی روش پر چلنے کا پھر سے عزم کرلیں، اپنے تزکیۂ نفس کی تکمیل کریں، عوام کے دلوں کی صفائی کا کام سلیقے اور حکمت کے ساتھ انجام دیں، غیر مسلم عوام و خواص کے لیے روحانیت کی پناہ گاہیں تعمیر کریں، زرگری اور زرکشی سے دست کشی اختیار کریں، حرص و آز سے توبہ کریں اور خدمتِ خلق اور رفاہِ عام کے جذبے سے کمزور طبقات اور ہر مظلوم و محتاج کو اپنے قریب کریں، انہیں توحید اور مساوات کے عقیدے سے آشنا کریں اور خدا آشنا بنائیں تو آج بھی وہ معجزہ رونما ہوسکتا ہے جو ہندوستان میں اسلام کی تاریخ میں ہوا تھا۔
غیر مسلموں سے روابط اور تعلقات کی تحریک کو اپنے گھر اور اپنے محلے سے شروع کیجیے۔ پڑوسیوں سے تعلقات پیدا کیجیے:
چاہیے خانۂ دل کا کوئی گوشہ خالی
شاید آجائے کہیں سے کوئی مہمانِ عزیز
سلاطین اور صوفیہ کے ساتھ ایک اور طبقہ تھا جس نے یہاں کے باشندوں کے دلوں کو موہ لیا تھا۔ یہ وہ مسلمان تھے جو اعلیٰ درجے کی صنعت و حرفت کو لے کر اس ملک میں داخل ہوئے تھے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کی تہذیبی برتری واضح طور پر اس ملک میں نظر آتی تھی۔ اس ملک میں گھروں میں قالین، چلمن، پردے، حوض اور فوارے، لہکتے ہوئے باغ اور مہکتے ہوئے پھول، مغل گارڈن جیسے خوشنما چمن، دسترخوان اور صراحیاں، خوبصورت پوشاکیں اور ٹوپیاں، سلے ہوئے کپڑے، معانقے کی رسم، عمارت سازی میں محرابیں اور چبوترے، روشن اور ہوا دار مکانات، وسیع گھروں میں مردانہ اور زنانہ حصوں کا الگ الگ ہونا، فنِ تعمیر کا جمالیاتی ذوق اور اس میں تکلف و نزاکت، مسلمانوں کی دین ہیں۔ ایسی سر زمین میں، جہاں بہت سے لوگ ننگے پاؤں، کھڑاؤں پہنے یا لنگوٹی باندھے پھرتے ہوں، جہاں نہ عمارتوں میں صفائی ہو، نہ موزونیت، نہ انگور ہوں، نہ خربوزے، نہ دوسرے لذیذ میوے، نہ آبِ سرد اور نہ حمام، ایسے ملک میں مقامی باشندے باہر سے آئی ہوئی مسلم قوم کے مقابلے میں لازماً احساسِ کمتری کا شکار ہوئے ہوں گے، اور ان کی نقل اتارنا ان کا فیشن بن گیا ہوگا۔ انہوں نے بھی اپنے گھروں میں پاندان، اگل دان، دسترخوان، باورچی خانہ اور نہ جانے کتنے ’’خان‘‘ داخل کیے ہوں گے۔
یعنی مسلمانوں کو تعلیمی اور تہذیبی طور پر دوسروں سے زیادہ بلند ہونا مستقبل کی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ہوگا۔ ان تمام ظاہری تدبیروں کے ساتھ اگر تعلق مع اللہ کی دولت نصیب ہوجائے تو فتحِ مبین کا یقین کرلینا چاہیے۔
یہ بات طے ہے کہ اس ملک میں دینِ اسلام نہ زبردستی پھیلایا گیا اور نہ زبردستی پھیل سکتا ہے۔ یہ ایک خاموش اور مسلسل جہد و عمل کا نتیجہ تھا۔ اس میں سلاطین کے اندازِ قاہرانہ، اہلِ دل اور اہلِ تصوف کے اندازِ دلبرانہ، اہلِ علم کے رنگِ دانشورانہ اور اہلِ ہنر کی صنعتِ فنکارانہ، سب کا اشتراکِ عمل تھا۔ آئندہ کی کسی بھی منصوبہ بندی کے لیے گزشتہ تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ منصوبہ بندی ایسی ہونی چاہیے کہ کسی نہ کسی اعتبار سے مسلمان دوسروں سے فائق نظر آئیں اور غیر مسلم اس فوقیت کا اعتراف کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پائیں۔
مستقبل میں کام کے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے تعلیم اور روحانیت پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خانقاہوں کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہونا ہوگا، اور اس منصوبے کی تکمیل کے لیے نئی نسل کو دینی، اخلاقی اور تعلیمی اعتبار سے امتیازی مقام دلانا ضروری ہے۔ اس اندرونی تیاری کے ساتھ برادرانِ وطن سے تعلقات استوار کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے، ہر سطح پر، ہر محلے اور ہر بستی کی سطح پر۔
پوری مسلم امت کے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے ہمیں دین کے تعارف کے کام پر بھی توجہ دینی ہے۔ اس مقصد کے لیے پورے ملک میں غیر مسلموں سے رابطے کی مہم اور خدمتِ خلق کے کام کی بڑی اہمیت ہے۔ آج کل ’’مسجد پریچے‘‘ کا پروگرام جو چل رہا ہے، وہ خوش آئند ہے۔ ضرورت تھی کہ اس وقت ماحول کی سازگاری کا فائدہ اٹھایا جاتا، تعلیم یافتہ غیر مسلموں کو سیرت پر کتابیں مطالعے کے لیے دی جاتیں۔ تمام زبانوں میں سیرت کا لٹریچر موجود ہے۔ لوگوں کو معلوم تو ہو کہ مائیکل ایچ ہارٹ کیا کہتے ہیں، جنہوں نے تاریخِ عالم کی سو بڑی شخصیتوں میں پہلا مقام حضرت محمد ﷺ کو دیا ہے اور ’’The 100‘‘ کے نام سے کتاب لکھی ہے۔ دنیا کی بے شمار بڑی شخصیتوں سے لے کر گاندھی جی تک، سب نے حضور اکرم ﷺ کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، اور کچھ لوگوں نے اسلام بھی قبول کیا ہے۔ یہ خراجِ عقیدت کئی زبانوں میں موجود ہے، لیکن مسلمانوں کا غیر دعوتی ذہن ہمیشہ دعوت کے مواقع کھو دیتا ہے۔
جن لوگوں نے ہندوستان کے حالات کو درست کرنے کا عزم کیا ہے، وہ مبارک باد کے لائق ہیں۔ ذہن نشین کر لیجیے کہ غیر مسلموں سے تعلقات اور حسنِ سلوک ہی کام کا نقطۂ آغاز ہونا چاہیے۔ خدا کا شکر ہے کہ ملک کی ساکن سطح پر حالیہ عرصے میں کچھ لہریں نمودار ہوئی ہیں۔ سیرت کا لٹریچر غیر مسلموں تک پہنچانے سے کام کا آغاز کیجیے اور نفرت کی خلیج کو کم کرنے کی کوشش کیجیے۔
ہندوستان کی تاریخ میں ہندو مسلم تعلقات کے پس منظر میں فیض احمد فیض کے یہ اشعار آج کے اپنے ہم وطنوں کو سنانے کو دل چاہتا ہے:
اصل پیغمبرانہ مشن اور امّت کا رویہ

سیرۃ النبی کے جلسے باہمی منافرت کو ختم کرسکتے ہیں

