طلبا و نوجوانوں نے سیرتِ نبوی کو اختراعی انداز میں پیش کیا۔ پچاس سے زائد ماڈلس کے ذریعہ حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی
ربیع الاول کا مبارک مہینہ ہر سال ہمیں حضورِ رسالت مآب حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ اس بنیادی سوال کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ ہماری زندگی میں سیرتِ رسول کا مقام کیا ہے اور ہم نے آپؐ کی حیاتِ طیبہ سے کیا سیکھا ہے؟مسلمانوں کی حقیقی کامیابی اسی میں مضمر ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو سمجھیں، آپؐ کے اسوہ حسنہ کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا رہنما بنائیں اور نئی نسل کی تربیت بھی اسی شعور اور وابستگی کے ساتھ کریں۔ان خیالات کا اظہار جناب محمد اظہر الدین، امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے 12؍ ربیع الاول کو گرینڈ امپیرئل فنکشن پیلیس، چادرگھاٹ میں منعقدہ ’’سیرت ایکسپو 2026‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایکسپو کا اہتمام جماعت اسلامی ہند ملک پیٹ کی جانب سے کیا گیا تھا۔
’’وہ زندگی جس نے دنیا بدل دی‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ اس منفرد نمائش میں صبح ہی سے شرکا کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف گوشوں میں سجائے گئے پچاس سے زائد ماڈلس، چارٹس اور معلوماتی ڈسپلے نے سیرتِ نبوی کے مختلف پہلوؤں کو نہایت تخلیقی انداز میں پیش کیا۔ طلبا و نوجوان، خواتین، مرد اور بچے ماڈلس کے سامنے رک کر ان کی تفصیلات کا مشاہدہ کرتے، سوالات کرتے اور عہدِ نبوی کے مختلف واقعات اور تعلیمات سے واقف ہوتے رہے۔
نمائش کے بعض گوشوں میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک ہجرت کے تاریخی سفر اور عہدِ نبوی کے اہم واقعات کو ماڈلس کے ذریعے پیش کیا گیا تھا، جبکہ دیگر گوشوں میں رسول اللہ ﷺ کی اخلاقی تعلیمات، دعوتی جدوجہد اور آپؐ کے ذریعے برپا ہونے والی عظیم سماجی و اخلاقی تبدیلی کو اختراعی انداز میں اجاگر کیا گیا۔ مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد طلبا و نوجوانوں، خواتین، مردوں اور بچوں نے ایکسپو کا مشاہدہ کیا۔
جماعت اسلامی ہند ملک پیٹ کی جانب سے مسلسل چھٹے سال منعقد ہونے والے اس ایکسپو کا بنیادی مقصد عامتہ الناس، بالخصوص مسلم طلبہ و نوجوانوں کو سیرتِ نبوی سے جوڑنے کے ساتھ ان کی تخلیقی اور اختراعی صلاحیتوں کو تعمیری رخ دینا ہے۔ مختلف اسکولوں کے طلبا کے علاوہ ایس آئی او اور جی آئی او سے وابستہ نوجوانوں اور طالبات نے بھی اپنے تیار کردہ ماڈلس اور ڈسپلے کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ نمائش میں طلبا و نوجوانوں اور طالبات و خواتین کے لیے الگ گوشے بھی قائم کیے گئے تھے۔
ایکسپو میں سیرتِ نبوی پر شارٹ فلم، برسرِموقع کوئز، کتب کے اسٹال اور فوڈ کورٹ بھی شرکا کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ اردو، انگریزی اور ہندی زبانوں میں سیرتِ نبوی اور اسلامی موضوعات پر گراں قدر کتابیں دستیاب تھیں، جن پر پچاس فیصد رعایت دی گئی۔
اس موقع پر ڈاکٹر محمد مبشر احمد، ناظمِ شہر جماعت اسلامی ہند عظیم تر حیدرآباد نے ایکسپو کے مرکزی موضوع ’’وہ زندگی جس نے دنیا بدل دی‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ محض تاریخ کا ایک روشن باب نہیں بلکہ آج بھی انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایکسپو کا مقصد امت، بالخصوص نئی نسل کو یہ احساس دلانا ہے کہ اسوۂ رسول آج کے مسائل اور چیلنجز کے درمیان بھی ہماری عملی رہنمائی کرسکتا ہے۔ سیرتِ نبوی کے پیغام کو جدید اور تخلیقی انداز میں نئی نسل تک پہنچانے کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دینے کے ساتھ انہیں اپنے حقیقی آئیڈیل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
قبل ازیں امیرِ مقامی جماعت اسلامی ہند ملک پیٹ جناب محمد مجیب الاعلیٰ نے خیرمقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے ایکسپو کی خصوصیات پر روشنی ڈالی اور اس میں حصہ لینے والے اسکولی طلبہ، ایس آئی او، جی آئی او، سی آئی او اور شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہند ملک پیٹ کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ’’جین زی‘‘ کا بہت چرچا ہے اور اس نسل کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ اس کی دلچسپیاں اور ترجیحات ماضی کی نسلوں سے مختلف ہیں۔ تاہم سیرت ایکسپو میں نوجوان نسل نے اپنی صالح فکر، تخلیقی صلاحیتوں اور اختراعی ذہن کا بھرپور مظاہرہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو صحیح رخ، مناسب رہنمائی اور تعمیری مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ غیر معمولی کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ایکسپو کی سب سے اہم خوبی یہی ہے کہ یہاں نئی نسل نے سیرتِ رسول ﷺ کو صرف پڑھنے اور سننے کے بجائے اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔تقریب میں چلڈرن اسلامک آرگنائزیشن (سی آئی او) کے طلبا نے بھی تعلیمی مظاہرہ پیش کیااور شرکا کی بھرپور توجہ حاصل کی۔