اسرائیل کے حالیہ انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جمہوریت کا اصل امتحان صرف ووٹ گننے اور نشستیں تقسیم کرنے میں نہیں ہے بلکہ بلکہ انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے اور ان کے سیاسی تقاضے قبول کرنے میں ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کے حامی اتحاد کو 53 نشستیں ملیں، جبکہ ان کے مخالفین 48 اور عرب قیادت والی جماعتیں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یوں 120 رکنی کنیسہ (پارلیمنٹ) میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت کسی ایک سیاسی اکائی کو بھی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ عرب جماعتیں پہلی بار اس قدر مضبوط پارلیمانی حیثیت میں سامنے آئی ہیں کہ ان کی حمایت کے بغیر نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے لیے حکومت بنانا مشکل ہے۔
متناسب نمائندگی: ووٹ کی طاقت اور انتخابی نظام
اسرائیل کے انتخابی نظام کا اجمالی تعارف قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے۔ یہاں کنیسہ کے انتخابات متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے اصول پر ہوتے ہیں۔ ملک کو انفرادی انتخابی حلقوں میں تقسیم کرکے ہر حلقے سے ایک رکن منتخب کرنے کے بجائے، پورا ملک ایک واحد انتخابی حلقہ شمار ہوتا ہے اور ووٹر کسی امیدوار کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ جماعتوں کو ملک بھر میں حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے پارلیمنٹ میں نشستیں ملتی ہیں، البتہ 3.25 فیصد سے کم ووٹ لینے والی جماعتیں پارلیمانی نمائندگی سے محروم رہتی ہیں۔ اس نظام کا اہم فائدہ یہ ہے کہ کسی حلقے میں دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کے ووٹ مکمل طور پر بے اثر نہیں ہوتے، ملک بھر میں حاصل ہونے والی حمایت پارلیمانی نشستوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں اس کے برعکس قومی اسمبلی یا لوک سبھا کے بیشتر عام انتخابات میں ہر حلقے سے سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے۔ چنانچہ کسی جماعت کو ملک بھر میں خاصے ووٹ ملنے کے باوجود، اگر وہ مختلف حلقوں میں دوسرے نمبر پر رہے تو ان ووٹوں کے تناسب سے نشستیں نہیں ملتیں۔
اسرائیل کے عرب شہری اور ان کا سیاسی وزن
اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ فلسطینی نژاد عرب شہریوں پر مشتمل ہے، جن میں مسلمان، عیسائی اور دروز شامل ہیں۔ قانونی طور پر انہیں ووٹ ڈالنے، سیاسی جماعتیں بنانے، پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے اور دیگر شہری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقوق حاصل ہیں۔ تاہم 2018کے بنیادی قانون (Nation-State Law) نے قومی حقِ خودارادیت کو یہودی عوام کے ساتھ مخصوص کیا جس سے عرب شہریوں کے مساوی قومی تشخص کا سوال مزید نمایاں ہوا۔ ایک اہم تضاد یہ بھی ہے کہ غربِ اردن کی اسرائیلی قبضہ بستیوں میں رہنے والے اسرائیلی شہری کنیسہ کے انتخابات میں ووٹ دے سکتے ہیں، جبکہ ان کے قریب رہنے والے فلسطینیوں کو یہ حق حاصل نہیں۔
اہم عرب سیاسی جماعتیں
رَعَم (Ra’am) عرب شہریوں کے مسائل اور اسرائیلی پارلیمانی سیاست میں عملی شرکت پر توجہ دیتی ہے۔ اس کا تعلق جنوبی اسلامی تحریک سے ہے اور 2021 میں یہ نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کی مخلوط حکومت میں شامل ہوئی تھی۔ حداش (Hadash) بائیں بازو کا یہودی عرب مشترکہ سیاسی اتحاد ہے جبکہ تَعال (Ta’al) احمد طیبی کی قیادت میں عرب سیاسی جماعت ہے۔ بلد (Balad) فلسطینی عرب قومی شناخت اور شہری مساوات پر زور دیتی ہے۔ ان جماعتوں کی سیاسی ترجیحات ایک جیسی نہیں؛ بعض اسرائیلی حکومتوں میں شامل ہوکر عرب آبادی کے مسائل حل کرنے کی حامی ہیں، جبکہ دوسری فلسطینی قومی حقوق اور اسرائیل کی ریاستی شناخت سے متعلق بنیادی سوالات اٹھاتی ہیں۔ اس انتخاب میں رَعَم کے سوا باقی تین عرب جماعتوں نے قائمہ المشترکہ (Joint List) کے بینر تلے حصہ لیا۔ اس اتحاد نے گیارہ اور رَعَم نے آٹھ نشستیں حاصل کیں۔ یوں عرب جماعتوں کی مجموعی نمائندگی انیس نشستوں تک پہنچ گئی جو ان کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔
عرب جماعتیں: انتخابی حاشیے سے فیصلہ کن مقام تک
انتخابی کامیابی کے بعد جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت نیتن یاہو حکومت کے خاتمے کے لیے سیاسی تعاون پر آمادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب شہریوں نے اس انتخاب کو اپنی سیاسی بقا اور مستقبل کا معاملہ سمجھ کر ووٹ دیا۔ تاہم جبارین نے واضح کیا ہے کہ تعاون کے لیے سیاسی مفاہمت اور باہمی احترام ضروری ہے۔ وہ عرب جماعتوں سے متعلق شکوک و شبہات اور ان کے ووٹ کو مشکوک بنانے کی کوششوں کو خطرناک سیاسی مہم قرار دیتے ہیں۔
جبارین نے چینل 12 کو انٹرویو میں کہا کہ ان کی جماعت 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کے سرحدی اسرائیلی آبادیوں میں ہونے والے قتلِ عام کی مذمت کر چکی ہے۔ تاہم جب ان سے فلسطینی مزاحمتی تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے کے بارے میں براہِ راست سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ مطالبہ قبول نہیں کیا اور کہا کہ فلسطینی سیاسی تحریکوں کو دہشت گرد کہنا درست نہیں۔ اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مخالف یہودی جماعتوں اور عرب قیادت کے درمیان تعاون کی راہ ہموار نہیں ہے۔
یائر گولان: عرب ووٹ بھی یہودی ووٹ کے برابر ہے
اسرائیلی بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے حکومت مخالف جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عرب جماعتوں کو سیاسی عمل سے الگ رکھنے کے بجائے ان کے ساتھ حکومت سازی کے امکان پر غور کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری اسرائیل میں کوئی شہری دوسرے درجے کا نہیں ہے۔ عرب علاقوں سخنین یا رہط میں ووٹ ڈالنے والے شہری کا ووٹ تل ابیب یا سدروت میں ووٹ ڈالنے والے یہودی شہری کے ووٹ کے برابر ہے۔ گولان نے کہا کہ جو لوگ صبح جمہوریت کے دفاع کی بات کرتے ہیں وہ شام کو لاکھوں شہریوں کے ووٹ کو ان کے نام یا نسلی پس منظر کی بنیاد پر مسترد نہیں کر سکتے۔
اسی سلسلے میں گولان نے یائیر لاپید اور رَعَم کے سربراہ منصور عباس سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔ یہ ملاقاتیں نیتن یاہو کی حکومت کا متبادل تلاش کرنے کے لیے سیاسی رابطوں کا حصہ ہیں۔ تاہم گولان کے اس مؤقف کو ابھی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی حمایت حاصل نہیں۔ گادی آئزنکوٹ، نفتالی بینیٹ اور ایوگدور لیبرمین سمیت بعض اہم رہنماؤں نے عرب جماعتوں کو حکومتی اتحاد میں شامل کرنے یا ان پر انحصار کرنے کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ منصور عباس نے بھی تسلیم کیا ہے کہ عرب ارکان کی حمایت سے اقلیتی حکومت بنانا آسان نہیں ہوگا۔
تل ابیب کا بل بورڈ: 67 نشستوں نے تبدیلی کا انتخاب کیا
تل ابیب میں انتخابی نتائج کے بعد لگائے گئے ایک بل بورڈ پر لکھا ہے: ’’67 نشستوں کے ووٹروں نے تبدیلی کا انتخاب کیا‘‘ اور اس کے نیچے درج ہے: ’’عوام کی اکثریت نے نیتن یاہو کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ اس کا اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ نیتن یاہو کے 53 کے مقابلے میں حکومت مخالف اور عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 67 نشستیں حاصل کی ہیں۔ یہ بل بورڈ دراصل ایک سیاسی پیغام ہے کہ اکثریت کو حکومت سازی کا حق ملنا چاہیے اور منتخب عرب نمائندوں کے لیے ایوانِ اقتدار کے دروازے بند نہیں کیے جانے چاہئیں۔
حکومت سازی کے تین ممکنہ راستے ۔ نیتن یاہو کی پانچوں انگلیاں گھی میں
پہلا راستہ یہ ہے کہ نیتن یاہو مخالف محاذ قائمہ المشترکہ کے تعاون سے حکومت قائم کرلے۔ اس صورت میں 67 نشستوں کی طاقت سے ایک مستحکم حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ فی الحال حزبِ اختلاف 'اچھوتوں' کی طرف دیکھنے کی روادار نہیں۔ لیکن سیاست میں کوئی راستہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوتا۔
دوسرا راستہ قومی اتحاد کی حکومت ہے، جس میں نیتن یاہو اور ان کے مخالفین کی بعض جماعتیں مل کر حکومت چلائیں۔ لیکن اس کے لیے وزارتِ عظمیٰ، کابینہ کی تشکیل اور مذہبی و انتہا پسند جماعتوں کے کردار پر اتفاق ضروری ہوگا۔ نیتن یاہو کے بعض مخالفین ان کی زیرِ قیادت کام کرنے کے لیے تیارنہیں ہیں۔ جبکہ دوسری طرف دائیں بازو کے اتحادیوں کو چھوڑنا بھی نیتن یاہو کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
تیسرا راستہ ایک اور انتخاب ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کم نہ کر سکیں اور کوئی قابلِ عمل اتحاد سامنے نہ آئے تو اسرائیل کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ اس صورت میں نیتن یاہو نئی حکومت قائم ہونے تک نگران وزیر اعظم کے طور پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں نگراں حکومت کے اختیارات بہت محدود ہوتے ہیں لیکن ہنگامی صورتحال کی بناپر بطور نگراں وزیراعظم انہیں لامحدود اختیارات حاصل ہیں اور اس وقت انہیں کینیسہ کے احتساب کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ گویا حکومت سازی میں تعطل نیتن یاہو کے لیے طول اقتدار کا نادر موقع بن گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نئے انتخاب کے نتائج حالیہ چناو سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہوں گے اور سیاسی تعطل برقرار رہے گا۔
جمہوریت کا اصل امتحان
اسرائیل کے حالیہ انتخابات نے عرب شہریوں کی سیاسی شرکت کو ایک اقلیتی مسئلے سے بڑھا کر حکومت سازی کا مرکزی سوال بنا دیا ہے۔ اگر عرب شہری اسرائیل کے قانونی انتخابی نظام کے تحت ووٹ دیتے ہیں، پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کرتے ہیں اور حکومت سازی میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو محض عرب شناخت کی بنیاد پر ان کے سیاسی کردار کو مسترد کرنے کا جواز کیا ہے؟ کیا جمہوریت کا اصول صرف اسی وقت قابلِ قبول رہتا ہے جب انتخابی نتائج اکثریتی گروہ کی سیاسی ترجیحات کے مطابق ہوں؟ فلسطینیوں کے جائز حقوق کی حمایت اور ان کی قومی جدوجہد کے بارے میں اختلافِ رائے کو دہشت گردی کے لیبل میں سمیٹ دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اسرائیل کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے عرب شہریوں کو محض ووٹ ڈالنے کا حق دینے پر اکتفا کرتا ہے یا ان کے منتخب نمائندوں کو بھی اقتدار کی تشکیل میں جائز شریک تسلیم کرتا ہے؟ جمہوریت کی ساکھ کا فیصلہ نعروں سے نہیں بلکہ اسی عملی رویے سے ہوگا۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
masood_abdali@hotmail.com
اسرائیلی انتخابات: عرب ووٹ سے خوف یا جمہوریت کا امتحان؟

نیتن یاہو کے اقتدار کی کشمکش، حکومت سازی کے تین راستے اور عرب جماعتوں کی تاریخی پیش رفت

