مشرقِ وسطیٰ میں جاری خونریزی کو تین سال مکمل ہونے کو ہیں مگر نہتے انسانوں کا قتل عام رکنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ لبنان سے غزہ اور غربِ اردن تک ہر طرف آگ، دھواں، بربادی اور بے بسی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ اس ہفتے بھی جنگ کے مختلف محاذوں پر ہونے والی کارروائیاں اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہیں کہ یہ تنازعہ اب محض عسکری نہیں رہا بلکہ انسانی، سیاسی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
جنوبی لبنان—آگ جو دو دن نہ بجھی
جنوبی لبنان پر بمباری کا سلسلہ اس ہفتے بھی جاری رہا۔ لبنانی قصبے مرجیعون پر 25 اگست کی بمباری سے لگنے والی آگ دو دن تک بجھائی نہ جاسکی۔ اسی دوران صور کے قصبے بیوت السید اور النبطیہ الفوق پر بمباری اور ڈرون حملوں نے فصلوں اور باغات کو شدید نقصان پہنچایا۔ جنگ کا یہ پہلو کم ہی زیرِ بحث آتا ہے کہ بمباری صرف انسانوں کو نہیں، بلکہ ان کی روزی، زمین اور معاشی زندگی کو بھی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔
غزہ کے آسمان پر بچوں کی پتنگیں۔ خطرے کی گھنٹیاں
غزہ میں بچوں کے کھیل اب اسرائیلی نشانے پر ہیں۔ اسکول تباہ ہوچکے، لائبریریاں ملبے میں بدل گئیں، کھیل کے میدان اجڑ گئے۔ بچوں نے کھیلنے کو کچھ نہ پایا تو پتنگیں اڑانا شروع کردیں۔ ساحلی ہوائیں غزہ کی ’’گڈی‘‘ کو چند لمحوں میں آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔ کبھی ڈور ہاتھ سے چھوٹ جائے تو پتنگ اسرائیلی چوکیوں کے قریب جاگرتی ہے۔ اب تک کسی پتنگ سے کوئی دھماکہ نہیں ہوا، نہ کسی جانی نقصان کی اطلاع ہے، مگر اسرائیلی حکام اسے ’’ممکنہ خطرہ‘‘ اور ’’نئے 7 اکتوبر‘‘ کی پیش بندی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نتیجتاً غزہ کے ساحلی خیمہ بستیوں میں ’’پتنگ فیکٹریوں‘‘ کو تباہ کرنے کے لیے بمباری اور ڈرون حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ بورڈ آف پیس نے اسرائیلی ردِعمل کو غیر ضروری قرار دیا ہے مگر غزہ کے بڑوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی بند کی جائے۔ جس انداز میں ان معمولی پتنگوں کو پیش کیا جا رہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان پر بچوں کی گڈیاں نہیں بلکہ ڈرون اور میزائل پرواز کر رہے ہوں۔
خان یونس اور شیخ رضوان—خیمہ بستیاں اور مسجدیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔
خان یونس میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر بمباری جاری رہی۔ غزہ کے شیخ رضوان محلے کی مرکزی جامع مسجد اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ (Desalination Plant) کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایک بچے سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ الزویدہ اور دیرالبلاح پر بمباری سے متعدد افراد جان سے گئے۔ غزہ میں اب نہ عبادت گاہ محفوظ ہے، نہ پانی، نہ گھر، نہ کھیل، زندگی کا ہر پہلو جنگ کے نشانے پر ہے۔
مذہبی حساسیت یا انسانی حساسیت؟ اسرائیلی فوجیوں کا انکار
اسرائیلی فوج کی گیواتی بریگیڈ کے روتم بٹالین کے بعض مذہبی سپاہیوں نے غزہ میں ایک آپریشن کے لیے اس بکتر بند گاڑی میں سوار ہونے سے انکار کردیا جس میں ایک خاتون طبی کارکن بھی موجود تھی۔ کمانڈر کی ہدایات کے باوجود فوجی اپنی مذہبی حساسیت کا حوالہ دیتے رہے اور بالآخر مشن منسوخ کر دیا گیا۔ مذہبی اصولوں کا احترام اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ مذہبی حساسیت صرف اپنے طرزِ زندگی تک محدود رہتی ہے یا میدانِ جنگ میں دوسرے انسانوں کی جان کے احترام تک بھی پہنچتی ہے؟ تورات میں پاکیزگی اور عصمت کی تعلیم کے ساتھ انسانی جان اور انصاف کی حرمت بھی بنیادی اصول ہے۔ ایک خاتون پیرامیڈک کے ساتھ بیٹھنا ناقابلِ قبول، مگر نہتے شہریوں کی جان اور گھروں کی تباہی پر مذہبی حساسیت خاموش۔ حضرت عیسیٰؑ نے کیا خوب فرمایا تھا "تم مچھر چھانتے اور اونٹ نگل جاتے ہو۔"
غربِ اردن—قبضے، حملے اور یادگاروں کی مسماری
غربِ اردن میں فلسطینی مکانوں پر قبضے، حملے اور لوٹ مار جاری ہے۔ نابلوس کے قصبے قصریٰ میں کئی گھروں پر آباد کاروں نے قبضہ کرلیا، اور فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فوجی نگرانی میں ہوئی۔ مدما قبرستان میں شہدا کی یادگار بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ عظمتِ یہود جماعت کے رکنِ پارلیمنٹ زوی یدیدیا سوکوٹ نے خود تیشہ چلا کر یادگار کو مسمار کیا اور کتبے پر درج قرآنی آیات کی بے حرمتی کی۔ تصاویر میں فوجی جوان بھی موجود تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائی حکومتی سرپرستی میں ہوئی۔
صحافیوں اور کارکنوں پر حملے—تشدد کی نئی حدیں
نابلوس کے قصبے جالود میں آبادکاروں نے ایک پچاس سالہ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور واقعے کی تصویر کشی کرنے والے NBC کے صحافیوں پر حملہ کیا۔جب 25 اگست کو جناتۃ میں اسرائیلی انسانی حقوق کے کارکن اور AFP کے صحافی فلسطینی گھروں کے گرد حفاظتی باڑ لگانے میں مدد کے لیے پہنچے تو نقاب پوش آبادکاروں نے ان پر دھاوا بول دیا۔ ڈنڈے برسائے، پتھر پھینکے، مرچوں کا اسپرے کیا۔ ایک ستر سالہ اسرائیلی کارکن کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چار گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، ٹائر پھاڑ دیے گئے۔اس ہفتے 28 اگست کو جنین پر ڈرون حملے میں تین نوجوان جاں بحق ہوئے۔
امریکی سینیٹ کا خط—بدلتی رائے عامہ کا اشارہ
غربِ اردن میں تشدد اور بے دخلی پر واشنگٹن میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے تمام 45 سینیٹروں نے وزیراعظم نیتن یاہو کو مشترکہ خط لکھ کر آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی گرفتاریوں اور نئی آبادکاریوں پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ چشم کشا پہلو یہ ہے کہ دستخط کنندگان میں چک شومر، آدم شِف، کوری بوکر اور نو یہودی سینیٹرز شامل ہیں، یعنی وہ لوگ جو روایتی طور پر اسرائیل کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس سال اپریل کے Pew سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دینے کا عندیہ دینے والے 80 فیصد افراد نے اسرائیل کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی ہے جو گزشتہ سال 69 فیصد اور 2022 میں 53 فیصد تھی۔
انتخابی نتائج—نئی نسل کا بدلتا مزاج
ظہران ممدانی، عبدل السید اور عائشہ وہاب کی کامیابیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ڈیموکریٹک حلقوں میں اسرائیل کے بارے میں پرانی غیر مشروط حمایت کمزور پڑ رہی ہے۔ کیا یہ کامیابیاں اسرائیل نواز ڈیموکریٹس کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر رہی ہیں؟ کچھ تجزیہ نگار اسے عارضی رجحان کہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ نئی نسل کے ووٹر، غزہ و غربِ اردن کی تصاویر، اور اسرائیلی پالیسیوں پر بڑھتی تنقید سب مل کر سیاسی فضا بدل رہے ہیں۔ اگر چک شومر جیسے دیرینہ حامی بھی اب نیتن یاہو حکومت سے بازپرس کر رہے ہیں تو یہ معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اشارہ ہے۔
نیتن یاہو کی انتخابی حکمتِ عملی—خوف کو ووٹ میں بدلنا
دوسری طرف نیتن یاہو نے خوف اور دشمنی کو اپنی انتخابی مہم کا عنوان بنالیا ہے۔ تل ابیب کی سڑک پر نصب ایک بڑے بل بورڈ پر رہبرِ ایران آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، نیویارک کے رئیسِ شہر، ظہران ممدانئ، ترک صدر طیب اردوان اور حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کی تصویر کے ساتھ عبرانی میں لکھا ہے ’’وہ چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو ہار جائیں، انہیں جیتنے نہ دیں۔‘‘ یعنی نیتن یاہو کی شکست کو اسرائیل کے دشمنوں کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات کہ 2019 کے انتخابات میں نیتن یاہو، ٹرمپ، پوتن اور مودی جیسے عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی قربت کو طاقت کے نشان کے طور پر پیش کرتے تھے اور اس بار وہ اپنے مخالفین کو خوف کے استعاروں کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاکہ خوف اور دشمنی کو ووٹ میں تبدیل کیا جائے۔
تین سال کی خونریزی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فوجی طاقت کسی ملک کو تباہ کر سکتی ہے مگر سیاسی مسئلے کو لازماً حل نہیں کر سکتی۔ غزہ کے بچے اگر ملبے کے درمیان بھی پتنگ اڑانے کی خواہش رکھتے ہیں تو یہ صرف بچوں کا کھیل نہیں بلکہ یہ اس انسانی جبلت کی علامت ہے جو جنگ کے باوجود زندگی کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن میں اسرائیل کے دیرینہ حامیوں کی زبان بدل رہی ہے، امریکی ووٹر کا مزاج تبدیل ہو رہا ہے اور اسرائیل کے اندر انتخابی سیاست پہلے سے زیادہ خوف، دشمنی اور ’’وجودی خطرے‘‘ کے گرد گھوم رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کو یہ جان لینا چاہیے کہ فتح ہمیشہ طاقتور کی نہیں ہوتی بلکہ جیتتا وہ ہے جو یہ جان لے کہ طاقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جنگ میدانِ جنگ میں جیتی جاسکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف سیاست اور انصاف کی میز پر حاصل ہوتا ہے۔
masood_abdali@hotmail.com
اسرائیل کی امریکی حمایت میں دراڑیں

غربِ اردن کی آبادکاری،تشدد اور امریکی سیاست کا بدلتا ہوامزاج

