دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام ریاست کا آئینی فریضہ ہے؛ اصل سوال اس مقصد کے حصول کے طریقہ کار کا ہے۔ کیا انتہا پسندی کی نشان دہی شواہد کی بنیاد پر ہو گی یا محض عقیدے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر؟ کسی شخص کو اس کے مجرمانہ عمل سے پہچانا جائے گا یا اس کے لباس، وضع قطع، زبان اور طرزِ عبادت سے؟ گجرات پولیس کے "اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل" (ARC) اور اس کے لیے تیار کیے گئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) نے یہی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کی وجہ سے یہ معاملہ قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس منصوبے کی بنیادی نکات 2022 کے گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے منشور میں ہیں، جس میں اس سیل کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا؛ موجودہ فریم ورک اسی کی عملی شکل ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاستی انٹلیجنس بیورو نے یکم جون کو ایک خفیہ SOP اور اس کے ساتھ ایک روڈ میاپ جاری کیا ہے جبکہ 15 جون کو ایس پی (انٹیلیجنس) نے باضابطہ نوٹس جاری کیا۔ تمام اضلاع اور پولیس کمشنریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ سیل قائم کریں اور ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک اپنی خفیہ رپورٹ انٹیلیجنس بیورو کو بھیجیں۔ جام نگر اس نظام کو نافذ کرنے والا پہلا ضلع ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اس سیل کا مقصد انتہا پسند نظریات کی روک تھام، متاثرہ افراد کی نشان دہی، کونسلنگ، بحالی اور انتہا پسند حلقوں میں واپسی روکنا ہے۔ کونسلنگ میں خاندان، علما، ماہرین اور تربیت یافتہ عملے کی شمولیت، متاثرہ فرد کی شناخت کو چھپانا اور اسے دوبارہ تعلیم و روزگار سے جوڑنا شامل ہے۔ بظاہر یہ ابتدائی انتباہ کا ایک نظام ہے؛ لیکن اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ ریڈیکلائزیشن کی نشان دہی کن علامات کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں ان کے مطابق نشان دہی اور تفتیش کے لیے جن علامات کو بنیاد بنایا گیا ہے ان میں سے اکثر عام مسلمانوں کے مذہبی شعائر سے متعلق ہیں۔ مثلاً ڈاڑھی، نقاب، عربی کلمات و اسلامی تسلیمات، اعتکاف، مسلمانوں سے متعلق عالمی واقعات پر ردِ عمل، اسلامی فریضے کے نام پر تعلیم یا ملازمت ترک کرنا، مخصوص مساجد و مدارس میں بہ کثرتِ آمدورفت اور مشرقِ وسطیٰ کا سفر وغیرہ۔ اسی طرح بعض ڈیجیٹل سرگرمیوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ سب امور آئین کی دفعہ 25 کے تحت مذہبی آزادی کے دائرے میں شامل ہیں، کسی مجرمانہ ارادے کے ثبوت نہیں؛ انہیں شبہ کی علامت بنانا عبادت اور جرم کے درمیان کی لکیر مٹا دیتا ہے۔ جن ڈیجیٹل ٹولس کا ذکر ہے وہ بھی رازداری کے جائز وسیلے ہیں جنہیں کروڑوں عام شہری، صحافی، وکلا اور تاجر استعمال کرتے ہیں؛ ان کو شک کی بنیاد بنانا راز داری کے آئینی حق پر ضرب ہے۔ اس کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ SOP میں ریڈیکلائزڈ فرد کی تعریف تو ہے مگر خود ریڈیکلائزیشن کے عمل کی کوئی متعین تعریف نہیں ہے۔ جس کے سبب افسروں کو غیر معمولی اختیار تمیزی حاصل ہو جاتا ہے: مبہم معیار کی وجہ سے ایک جائز عمل بھی شبہ کی بنیاد بن سکتا ہے اور فہرست میں مذہبی شعائر شامل ہوں تو یہ صوابدید پوری کمیونٹی کی طرف رخ کر لیتی ہے۔ اس پر سب سے مضبوط تنقید اس کی انتخابی نوعیت پر ہے۔ سامنے آنے والی علامات کا بڑا حصہ بظاہر ایک ہی مذہبی گروہ سے متعلق ہے، جبکہ اس تشدد کا کوئی ذکر نہیں ہے جو ملک میں گزشتہ پندرہ بیس برسوں سے جاری ہے، ہجومی تشدد، گئو رکشا کے نام پر تشدد، ترشول کی تقسیم کے منظم پروگرام اور نفرت انگیز تقاریر۔ اگر یہ سب ریڈیکلائزیشن نہیں ہیں اور عام عبادت اور ڈیجیٹل رازداری اس میں شامل ہوں تو یہ رویہ کھلے طور پر امتیازی ہے۔ جب کسی شہری کو یہ احساس ہونے لگے کہ ڈاڑھی، نقاب، سلام یا اعتکاف اسے نگرانی کے دائرے میں لا سکتا ہے تو وہ اپنے شعائر سے کترانے لگتا ہے، اور یہی Chilling effect ہے: یعنی سزا کے بغیر، محض خوف سے آزادی کو محدود کر دینا۔ ویسے تو یہ فریم ورک بظاہر کسی عمل پر پابندی نہیں لگاتا مگر عملاً خوف و نگرانی سے مذہب پر عمل کا دائرہ تنگ کرتا ہے؛ اس سے دفعہ 14 (مساوات) 21 (آزادی و راز داری) اور 25 (مذہبی آزادی) تینوں زد میں آتی ہیں۔
دوسری جانب اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ SOP میں کسی کمیونٹی کا نام نہیں لیا گیا ہے اور اس کی بیشتر علامات ماضی کی حقیقی تفتیشوں میں سامنے آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کسی کو پیدائشی انتہا پسند قرار نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ چونکہ SOP سرکاری طور پر عام نہیں کیا گیا ہے، اس لیے اس سے متعلق بعض دعوے قیاس آرائی پر بھی مبنی ہو سکتے ہیں۔ یہ نکات اپنی جگہ ہیں مگر وہ بنیادی اعتراضات کو دور نہیں کرتے۔ اگر مقصد صرف پُرتشدد اور ممنوعہ سرگرمیوں کی روک تھام ہے تو ڈاڑھی، نقاب، عربی زبان، اعتکاف اور وی پی این کو اس فہرست میں شامل کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔ یہی علامات معاملے کو شواہد سے عقیدے پر منتقل کر دیتی ہیں۔ کسی فرقہ کا نام نہ لینا بے معنی ہے جب کہ علامات کا پورا مجموعہ ایک ہی گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہو۔ اسی طرح دستاویز سرکاری طور پر جاری نہ ہونے کی دلیل خود شفافیت کے فقدان کا اعتراف ہے: جو نظام شہریوں کی نگرانی کرے مگر خود جانچ سے باہر رہے، وہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
دہشت گردی کے انسداد اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھنا ہر جمہوری ریاست کا امتحان ہوتا ہے۔ ریاست اس وقت اپنے مقصد سے ہٹ جاتی ہے جب وہ پورے ایک مذہبی گروہ کو، اس کے روزمرہ مذہبی شعائر سمیت ایک سیکیورٹی مسئلہ سمجھنے لگے۔ گجرات کا یہ SOP اسی خدشے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں عبادت شبہ میں بدل جائے، راز داری جرم کا پیش خیمہ بن جائے اور مذہبی شناخت خود ایک خطرے کے طور پر دیکھی جانے لگے۔ اس لیے بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ ایسے تمام اقدامات شفاف ہوں، قابلِ تصدیق شواہد پر مبنی ہوں، مذہبی اور ثقافتی شناخت سے مکمل طور پر غیر جانب دار ہوں اور آزاد آئینی جانچ کے عمل سے گزریں۔ جب تک یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، اس SOP پر اٹھنے والے خدشات کو محض "پروپیگنڈا" قرار دے کر مسترد کرنا نہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور نہ جمہوری اصولوں کے مطابق۔ ہندوستان کا دستور کسی شہری کے عقیدے کو اس کے خلاف شبہ کی بنیاد بنانے کی اجازت نہیں دیتا اور یہی اس پورے معاملے کا اصل امتحان ہے۔
اداریہ : گجرات میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل: مضمرات و خدشات


