دنیا، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں جس تیزی سے سیاسی اور عسکری تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اس میں سات اگست کو مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودگی میں طے پانے والے اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ تینوں ملکوں میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اجتماعی دفاع کا یہ اصول اپنی نوعیت کے اعتبار سے نیٹو کے معروف اصول سے مماثلت رکھتا ہے، اسی لیے بعض حلقے اسے مسلم دنیا میں ایک نئے اجتماعی دفاعی نظام کی ابتدا قرار دے رہے ہیں۔
اس معاہدے کو محض تین ملکوں کے باہمی تعلقات کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ یہ دراصل اس بڑی تبدیلی کا حصہ ہے جو گزشتہ چند برسوں سے عالمی اور علاقائی سیاست میں رونما ہو رہی ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر 2025 میں باہمی دفاع کا ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جس میں بھی کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت قرار دیا گیا تھا۔ اب ترکیہ کی شمولیت نے اس معاہدے کو اور زیادہ وسیع علاقائی تناظر عطا کر دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل جنگوں، اسرائیلی جارحیت، ایران اور امریکا کی کشیدگی اور خلیجی ممالک کے سلامتی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات نے وہاں کے حکم رانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ خطے کے ممالک کب تک اپنی سلامتی کے لیے مکمل طور پر بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتے رہیں گے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکا کو اس خطے کے سلامتی نظام میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، لیکن حالیہ واقعات نے اس نظام کی کم زوری کو بھی نمایاں کیا ہے۔ چنانچہ مسلم دنیا کی اہم مملکتوں کا اپنی دفاعی صلاحیتوں اور باہمی تعاون کی طرف متوجہ ہونا ایک فطری پیش رفت ہے۔
سعودی عرب اپنی اقتصادی قوت اور علاقائی اثر و رسوخ کے لحاظ سے خطے کا اہم ملک ہے، ترکیہ ایک بڑی عسکری طاقت ہونے کے ساتھ ترقی یافتہ دفاعی صنعت کا حامل ہے، جبکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور وسیع فوجی تجربہ رکھنے والا ملک ہے۔ ان تینوں صلاحیتوں کا اشتراک یقیناً ایک نئے اسٹریٹجک امکان کو جنم دیتا ہے۔
تاہم کسی معاہدے کی اہمیت صرف اس کی عبارت سے متعین نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اسے کس طرح عملی شکل دی جاتی ہے، کیا مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی اور باہمی مشاورت کا کوئی مؤثر نظام قائم ہوگا؟ کیا دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، تربیت اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں حقیقی تعاون بڑھے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا کسی سنگین بحران کے موقع پر تینوں ممالک مشترکہ فیصلے کرنے کی صلاحیت دکھا سکیں گے؟
ان سوالات کے جوابات ہی اس معاہدے کا حقیقی وزن متعین کریں گے۔ مسلم دنیا میں اتحاد اور مشترکہ دفاع کی خواہش نئی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی متعدد تنظیمیں اور اتحاد وجود میں آئے، لیکن ان میں سے بہت سے داخلی اختلافات، متضاد قومی مفادات اور سیاسی عزم کی کمی کے باعث مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرسکے۔ اس لیے مکہ معاہدے کو محض جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل کرنا ضروری ہوگا۔
اس موقع پر ایک نہایت اہم پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاہدے کی افادیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اسے کسی خاص مسلم ملک، بالخصوص ایران، کے خلاف صف بندی میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ پاکستان نے بھی کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کا ہے۔
مسلم دنیا پہلے ہی مختلف سیاسی، نسلی اور مسلکی تقسیموں کی بھاری قیمت ادا کرچکی ہے۔ اگر کسی نئے دفاعی نظام کو سنی و شیعہ یا کسی اور نوعیت کی تقسیم سے جوڑ دیا گیا تو وہ مسلم ممالک کے تحفظ کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک نئی کشمکش کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی تقسیم سے بالآخر وہی بیرونی طاقتیں فائدہ اٹھائیں گی جو خطے کے اختلافات کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔
اس لیے دور اندیشی و حکمت اسی میں ہے کہ مکہ معاہدے کو ایک بند فوجی بلاک بنانے کے بجائے وسیع تر اجتماعی سلامتی کے نظام کی بنیاد بنایا جائے۔ خود معاہدے کے فریقوں کی طرف سے دوسرے ممالک کے لیے اس کے دروازے کھلے رکھنے کی بات اسی امکان کو تقویت دیتی ہے۔ مستقبل میں اگر حالات سازگار ہوں تو ایران سمیت دوسرے مسلم ممالک کو بھی اس نظام میں شامل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ مسلم دنیا کو ایک دوسرے سے محفوظ رہنے کے نظام سے زیادہ، ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیرونی جارحیت سے محفوظ رہنے کے نظام کی ضرورت ہے۔
ہمارا ملک بھی اس معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہا ہے۔ چوں کہ پاکستان اس کا براہ راست فریق ہے اور ترکیہ کے پاکستان سے قریبی تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس لیے نئی دہلی میں اس پیش رفت کے اسٹریٹجک اثرات پر غور کرنا فطری ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے لیے بھی مناسب راستہ فوری ردعمل یا غیر ضروری اندیشوں کے بجائے متوازن سفارت کاری ہی ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے تعلقات گزشتہ برسوں میں خاصے وسیع ہوئے ہیں۔ تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور لاکھوں ہندوستانی شہریوں کی خلیجی ممالک میں موجودگی دونوں طرف ایسے مفادات پیدا کرتی ہے جنہیں کسی ایک علاقائی صف بندی کی نذر کرنا نہ سعودی عرب کے مفاد میں ہے اور نہ بھارت کے۔ یہی حقیقت بھارت کے لیے ایک اہم سفارتی موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
بھارت کو اس پیش رفت کے جواب میں اسرائیل کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید یک طرفہ بنانے کے بجائے مغربی ایشیا کے تمام اہم ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھنے چاہئیں۔ لیکن اگر نئی دہلی کی مغربی ایشیا پالیسی بتدریج اسرائیل مرکوز ہوگئی تو اس سے بھارت اور مسلم دنیا کے درمیان تاریخی، اقتصادی اور تہذیبی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ بھارت جیسے بڑے ملک کے لیے زیادہ موزوں راستہ اپنی اسٹریٹجک خود مختاری، باہمی احترام اور مختلف فریقوں کے ساتھ متوازن روابط کا ہے۔
بہرحال مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے لیکن اسے ابھی کسی مسلم نیٹو کی مکمل شکل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اس کی حقیقی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ اس کے بانی ممالک اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔ اگر یہ اتحاد کسی ملک یا مسلک کے خلاف محاذ بن گیا تو مسلم دنیا کی موجودہ تقسیم میں ایک اور لکیر کا اضافہ ہوگا۔ لیکن اگر اسے بیرونی جارحیت کے مقابلے میں مشترکہ دفاع، دفاعی خود انحصاری اور باہمی تعاون کے ایک وسیع نظام میں تبدیل کیا گیا اور دوسرے مسلم ممالک کے لیے بھی اس کے دروازے کھلے رکھے گئے تو یہ ایک نئے اور مثبت دور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔
مسلم دنیا کو آج نعروں سے زیادہ تدبر، اتحاد کی باتوں سے زیادہ اتحاد کی عملی صورت اور طاقت سے زیادہ طاقت کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت ہے۔ مکہ معاہدے نے ایک امکان ضرور پیدا کیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ متعلقہ قیادتیں اس امکان کو نئی کشمکش کا ذریعہ بناتی ہیں یا امن، توازن اور اجتماعی تحفظ کی بنیاد بنتی ہیں؟ اس کا فیصلہ معاہدے کے الفاظ نہیں، آنے والے دنوں کے اقدامات کریں گے۔