گزشتہ دنوں دہلی ہائی کورٹ نے ایک بظاہر معمولی ضمانتی درخواست کی سماعت میں جو بات کہی ہے اس نے موجودہ صحافت کی سب سے دکھتی رگ پر انگلی رکھی ہے۔ جسٹس گریش کٹھپالیا نے کہاکہ صحافت کی آزادی جمہوریت کا ناگزیر ستون ضرور ہے مگر اسے غیر ذمہ دارانہ صحافت، دھمکی اور امنِ عامہ کو مجروح کرنے والے مواد کی ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ آج موبائل اور مائیک تھاما ہوا ہر شخص خود کو رپورٹر کہلوانے لگا ہے، کسی تربیت، اخلاقی بنیاد یا جواب دہی کے بغیر۔ اہم بات یہ کہ عدالت نے قانون ساز ادارے سے ایسے ضابطے پر غور کی اپیل کی جو آزادی صحافت کو مجروح کیے بغیر پیشہ ورانہ جواب دہی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ یہ فیصلہ ایک بنیادی نکتے پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ آخر وہ لکیر کہاں ہے جہاں آزادی کی حد سے تجاوز شروع ہوتا ہے؟
آزادی صحافت، صحافیوں کا طبقاتی مفاد نہیں ہے بلکہ عوام کے جاننے کے حق کی ضمانت ہے۔ ہمارے دستور میں پریس کی آزادی کا الگ ذکر نہیں ہے؛ یہ دفعہ 19(1)(a) کی اظہارِ رائے کی آزادی ہی کا حصہ ہے، جسے سپریم کورٹ نے رومیش تھاپر (1950) جیسے مقدمات میں تسلیم کیا ہے۔ صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا کام اقتدار اور اس کے کاموں پر نگاہ رکھنا، سوال اٹھانا اور عوام تک سچ پہنچانا ہے۔ اس کے بغیر جمہوریت محض ایک انتخابی رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ لیکن کوئی بھی آزادی مطلق نہیں ہوتی۔ خود دفعہ 19(2) امنِ عامہ، اخلاق اور ہتکِ عزت جیسی بنیادوں پر معقول پابندیوں کی گنجائش رکھتی ہے۔ گویا آزادی اور ذمہ داری دستور کے ایک ہی صفحے پر لکھی گئی دفعات ہیں: صحافی کو خبر کی آزادی کے ساتھ صداقت، توازن اور احتیاط کا فرض بھی سونپا گیا ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب آزادی "کچھ بھی کہہ دینے کے لائسنس" میں بدل جائے۔
ہندوستانی صحافت اس وقت ایک متضاد صورتِ حال سے دو چار ہے۔ ایک طرف صحافت کی آزادی مسلسل سکڑ رہی ہے اور دوسری طرف مرکزی دھارے کے ایک بڑے حصے میں غیر ذمہ دارانہ صحافت عروج پر ہے۔ یہ بظاہر متضاد مگر حقیقت میں ایک ہی بیماری کی دو علامتیں ہیں۔رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے 2026 کے عالمی انڈیکس میں ہندوستان 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ محض ایک سال میں چھ درجے کی گراوٹ آئی جسے اس نے اسے انتہائی سنگین زمرے میں پہنچا دیا ہے۔ رپورٹ نے نشان دہی کی کہ اس زوال کی جڑ صحافیوں پر تشدد، میڈیا کی ملکیت کے ارتکاز اور خبر رساں اداروں کی کھلی اقتدار سے وابستگی ہے۔ سب سے تیز گراوٹ قانونی ماحول میں آئی، یعنی قومی سلامتی اور ہتکِ عزت کے قوانین کا صحافیوں کے خلاف بے جا استعمال، جسے رپورٹ نے صحافت کو مجرمانہ فعل بنانا قرار دیا ہے۔
دوسری طرف بے لگامی کا منظر نامہ ہے۔ سیکڑوں نیوز چینلوں کا ایک بڑا حصہ خبر کے بجائے تماشا، تحقیق کے بجائے شور، اور توازن کے بجائے فریق بننے کو صحافت سمجھ بیٹھا ہے۔ ٹی آر پی کی دوڑ نے نیوز روم کو ایسا اکھاڑا بنا دیا ہے جہاں اشتعال منافع کا اور سنجیدگی خسارے کا سودا بن گئی ہے۔ یہ روش عدالتوں کے لیے بھی باعثِ تشویش بن چکی ہے۔ 2020 میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کی کوریج پر بمبئی ہائی کورٹ کو کہنا پڑا کہ شرکا کو بلی کا بکرا بنایا گیا۔ اسی طرح سدرشن ٹی وی کے ایک پروگرام پر سپریم کورٹ کو روک لگانی پڑی جسے عدالت نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مکارانہ کوشش قرار دیا ہے۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ انہی معاملات کی درخواستیں چھ برس زیرِ التوا رہ کر بغیر کسی مؤثر کارروائی کے نمٹا دی گئیں جو پورے نظامِ احتساب کی سست روی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس بحران کا کوئی ایک مجرم تلاش کرنا غلط ہو گا؛ یہ کئی ہاتھوں کی مشترکہ کارگزاری ہے۔ پہلی ذمہ داری اقتدار کی ہے، جب اشتہارات، لائسنس اور دباؤ کے ذریعے آزاد آوازیں خاموش اور فرماں بردار آوازیں نوازی جائیں تو سوال پوچھنے والا طبقہ سکڑنے اور تعریف کرنے والا ٹولہ پھیلنے لگتا ہے۔ دوسری ذمہ داری میڈیا کی ملکیت اور تجارتی ماڈل پر ہے، جب خبر کا مقصد سچ کے بجائے منافع اور اثر و رسوخ ہو، تو ادارتی خود مختاری پہلی قربانی بنتی ہے۔ تیسری ذمہ داری صحافتی برادری اور کمزور ضابطوں پر ہے، پریس کونسل کے پاس صرف نصیحت کا اختیار ہے، نشریاتی خود احتسابی رضا کارانہ اور ڈیجیٹل میدان تقریباً کھلا ہوا ہے۔ چوتھی ذمہ داری ناظرین پر ہے; جب عوام سنسنی کو سچائی پر ترجیح دیں گے تو میڈیا وہی مواد تیار کرے گا جو بکتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اگر بے لگامی کا علاج ضابطے کی صورت میں ریاست کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو یہ آسانی سے آزاد صحافت کا گلا گھونٹنے کا ہتھیار بن سکتا ہے؛ تاریخ گواہ ہے کہ میڈیا ریگولیشن کے نام پر بننے والے قوانین اکثر گودی میڈیا کو نہیں، سوال پوچھنے والی آوازوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس کا ایک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ جب فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی برسوں سے بلا روک ٹوک جاری رہے اور احتساب کا شکنجہ صرف کمزور یا آزاد آوازوں پر کسا جائے تو انصاف خود مشکوک ہو جاتا ہے۔ ذمہ داری کا تقاضا سب سے پہلے اس میڈیا سے ہے جس کی طاقت سب سے زیادہ ہے۔
اس تعطل سے نکلنے کے لیے چند سمتیں پیشِ نظر رہنی چاہئیں۔ اول: ریاستی کنٹرول کے بجائے ایک آزاد اور با اختیار میڈیا کونسل بنے، جس میں حکومت، صحافیوں، ججوں اور سول سوسائٹی کی متوازن نمائندگی ہو، جو تینوں میڈیاؤں کا احاطہ کرے اور جس کے فیصلے نافذ العمل ہوں، مگر باگ ڈور کسی ایک طاقت کے ہاتھ میں نہ ہو۔ دوم: میڈیا کی ملکیت میں شفافیت اور ارتکاز پر حد بندی ہو۔ سوم: ادارتی خود مختاری اور صحافیوں کے روزگار کا تحفظ، تاکہ سچ کہنے کی قیمت نوکری کا تحفظ نہ ہو۔ چہارم: حقیقی صحافیوں اور خود ساختہ رپورٹروں میں فرق کے لیے واضح اخلاقی معیار قائم ہو، مگر اس طرح کہ یہ سند نئی آوازوں کو خاموش کرانے کا حربہ نہ بنے۔ پنجم: میڈیا خواندگی کو تعلیم اور سماجی مہم کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ با خبر ناظر ہی بہترین ضابطہ ہے۔ آخری یہ کہ آزاد فیکٹ چیکنگ اور فوری تصحیح کا نظام مضبوط کیا جائے۔
دہلی ہائی کورٹ نے دراصل ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے کہ صحافت کی آزادی اور ذمہ داری متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی محافظ ہیں، کیونکہ بے لگام صحافت خود آزادی صحافت کو بدنام کر کے اس پر شب خون مارنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ آج ہندوستانی صحافت کو بیک وقت دو محاذوں پر لڑنا ہے۔ اس دباؤ کے خلاف جو آزاد آوازوں کو خاموش کروا رہا ہے، اور اس بے لگامی کے خلاف جو صحافت کے نام پر نفرت اور تماشے بیچ رہی ہے۔ توازن کی یہ لکیر صرف قانون سے نہیں بلکہ اس دن کھنچے گی جب صحافی اپنے قلم کی حرمت، مالک اپنے ادارے کی ساکھ، ریاست اپنی جمہوری ذمہ داری اور شہری اپنے شعور کو یاد رکھیں گے۔ آزادی امانت ہے اور امانت کا تقاضا دیانت ہے۔ یہی وہ لکیر ہے جس پر جمہوریت کی صحت کا انحصار ہے۔