ہر سال 23؍ اگست کو دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن 22 اور 23؍ اگست 1791ء کی اس درمیانی رات کی یاد دلاتا ہے جب فرانسیسی نو آبادی سینٹ ڈومنگو (آج کا ہیٹی) میں لاکھوں افریقی غلاموں نے عَلم بغاوت بلند کیا تھا۔ بعد ازاں یہی چنگاری انقلابِ ہیٹی میں بدل گئی اور دنیا کی پہلی آزاد سیاہ فام جمہوریہ کی تشکیل ہوئی۔ اسی مزاحمت نے غلاموں کی تجارت کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس دن کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس غلامی کا خاتمہ کسی آقا کی فیاضی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ خود مظلوموں نے اپنی مزاحمت اور قربانی سے یہ آزادی حاصل کی تھی۔ مؤرخین کے اندازوں کے مطابق چار صدیوں کے دوران ایک کروڑ پچیس لاکھ کے قریب افریقی باشندے زنجیروں میں جکڑ کر بیچے گئے اور لاکھوں تو دورانِ سفر ہی دم توڑ گئے۔
اس کے بعد دنیا بھر میں قانون کے ذریعہ غلاموں کی تجارت پر پابندی لگادی گئی۔ اگرچہ کہ غلامی کی ایک صورت کا خاتمہ ہوگیا ہے لیکن اس کے باوجود غلامی کا یہ نظام دوسرے روپ میں آج بھی برقرار ہے اور حال کا یہ آئینہ بھیانک ہے۔ بین الاقوامی ادارہ محنت، عالمی ادارہ برائے مہاجرت اور واک فری کے مشترکہ تخمینے کے مطابق 2021 میں تقریباً پانچ کروڑ انسان جدید غلامی کی گرفت میں تھے، جن میں دو کروڑ اسّی لاکھ جبری مشقت میں اور دو کروڑ بیس لاکھ جبری شادیوں میں باندھے گئے۔ یہ تعداد 2016 کے بالمقابل پچیس فیصد زیادہ ہے؛ گویا ہر ڈیڑھ سو میں سے ایک انسان آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اس صورت حال کی چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ جبری مشقت کا باون فیصد حصہ امیر ممالک میں پایا جاتا ہے۔ خود ہمارے اطراف میں بندھوا مزدوری جیسا نظام لاکھوں انسانوں کو گروی رکھے گئے انسان کی حیثیت میں دھکیل دیتا ہے۔
پیدائش کی بنیاد پر انسانوں کو اونچ نیچ میں تقسیم کرنے والی سب سے پرانی صورت خود ہمارے ملک میں پائی جاتی ہے۔ ذات پات کا یہ نظام صدیوں سے عزت و ذلت اور سفید پوش و گندے کاموں کو پیدائش کی بنیاد پر تقسیم کرتا آیا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے 25؍ نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں خبردار کیا تھا کہ یہ ذات پات کا نظام اپنی نوعیت کے لحاظ سے فطرتاً قوم دشمن ہے، کیونکہ وہ سماج کو ٹکڑوں میں بانٹتا اور رقابت و نفرت کو ہوا دیتا ہے۔ چنانچہ ان کا یہ جملہ آج بھی اتنا ہی درست ہے جتنا اس وقت تھا کہ بھائی چارے کے بغیر مساوات اور آزادی محض اوپری رنگ و روغن ہیں جو سماجی انصاف کی پہلی چوٹ پڑتے ہی اڑ جاتے ہیں۔
اب ذرا اس ستم ظریفی پر غور کیجیے۔ ٹھیک ان دنوں جبکہ کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کا ضمیر غلامی کے خاتمے کا جشن منا رہا تھا، عین اسی وقت (21 اور 22؍ اگست 2026 کو) دہلی کے جنتر منتر پر ایک مظاہرہ ہو رہا تھا جو غلامی کے خلاف نہیں تھا بلکہ غلامی مٹانے کی ایک کوشش کے خلاف تھا۔ ریزرویشن دراصل وہی کردار ادا کرتا ہے جو کبھی غلاموں کی آزادی نے ادا کیا تھا۔ یہ صدیوں کی جبری محرومی کے ازالے اور برابری کی طرف ایک آئینی راستہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے خلاف صف آرا ہونا دراصل پیدائش کی بناد پر مسلط کردہ غلامی کو مٹانے کی کوششوں کے خلاف صف آرا ہونا ہے۔ منتظمین اسے میرٹ، کریمی لیئر اور معاشی معیار جیسے خوش نما الفاظ میں چھپا رہے ہیں، لیکن یہ الفاظ دراصل موروثی بالادستی پر چڑھائے گئے مہین نقاب ہیں۔ جب کچھ لوگ فخریہ طور پر اونچی ذات کی شناخت کے نعروں کے ساتھ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے سماجی انصاف کے خلاف اکٹھے ہوں تو یہ عین وہی قوم دشمن تفریق ہے جس سے ڈاکٹر امبیڈکر نے خبردار کیا تھا۔ ناقدین اسے سیاسی طور پر منظم کردہ مہم قرار دیتے ہیں اور اسی ضمن میں حزبِ اختلاف کی خاموشی کو بھی ایک طرح کی شراکت سمجھتے ہیں۔
اور یہ محض کوئی ہوا میں اڑائی ہوئی بات یا بے دلیل دعویٰ نہیں ہے بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ چنانچہ چند ہی روز قبل اتر اکھنڈ کے ضلع ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، جو دلت ہیں، ان کے جلسے کے بعد اسٹیج کا شدھی کرن کیا گیا۔ کھرگے نے اس معاملے کو راجیہ سبھا میں اٹھایا اور اسے اپنی توہین قرار دیا، اگرچہ حکم راں جماعت نے اس عمل سے خود کو الگ کر لیا ہے لیکن یہ سماج میں پائی جانے والی چھوت چھات والی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ملک کے ایوانِ بالا میں قائدِ حزبِ اختلاف کی نشست تک کو "ناپاک" سمجھ کر پاک کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ چھوت چھات تاریخ کا کوئی باب نہیں بلکہ آج کے بھارت کی تلخ سچائی ہے۔
اسی لیے 23؍ اگست محض شمعیں جلانے کا نہیں ہے بلکہ احتساب کا دن ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ اس دن کی یادگار کو یومِ عمل میں بدلا جائے، غلامی کی جدید صورتوں کے خلاف مؤثر قوانین بنائے جائیں، مہاجر مزدوروں کے حقوق محفوظ ہوں اور خود اپنے ملک میں ذات پات کے خلاف، بھائی چارے اور سماجی انصاف کے حق میں کھڑا ہوا جائے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ آزادی ہمیشہ مظلوموں کی
جدوجہد سے ہی آتی ہے، آقاؤں کی فیاضی سے نہیں۔ آج جب دنیا غلامی کی زنجیروں کے ٹوٹنے کا جشن منا رہی ہے تو ہمارے ملک میں کچھ ہاتھ انہی زنجیروں کو مضبوط کرنے کے لیے اٹھے ہیں۔ 23؍ اگست کو حقیقی خراج تحسین صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ ہم ہر اس تدبیر کے ساتھ کھڑے ہوں جو انسان کو پیدائش کی بنیاد پر مسلط کردہ ذلت سے آزاد کرتی ہو اور ہر اس کوشش کے خلاف جدوجہد کریں جو اسے دوبارہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتی ہو۔