دو اکتوبر کو جب کہ سارا ملک گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کر رہا تھا، دہلی کے جنتر منتر اور ممبئی کی سڑکوں پر پرجوش نوجوانوں کا جم غفیر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے غیر معمولی مطالبے کے ساتھ صف آرا تھا۔ پولیس کے ڈنڈوں اور جبری حراستوں کے درمیان طلبا کی گونجتی ہوئی یہ آوازیں کہ "احتجاج ہمارا آئینی حق ہے اور ہمیں ووٹوں کی چوری کا حساب چاہیے" محض ایک جذباتی ردِ عمل نہیں تھا بلکہ حکومت کے تئیں نوجوانوں کی بے اعتمادی کی علامت تھی۔ اور اس کے ٹھیک تین دنوں بعد یعنی پانچ اکتوبر کو سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی ہے۔ یوں ملک کا ایک اہم آئینی ادارہ اپنی تاریخ کے سنگین اخلاقی و قانونی بحران سے دوچار ہو گیا ہے۔ سوال محض ایک عہدے دار کی کارکردگی کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ جب جمہوریت کا نگہبان اور امین ہی فریق بن جائے تو آئینی عمارت متزلزل ہونے سے کیسے بچ سکتی ہے؟
یہ مطالبہ کسی سیاسی جماعت کے دفتر سے نہیں بلکہ نوجوان نسل کے اجتماعی احساسِ محرومی سے پھوٹا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نامی طلبا و نوجوانوں کی تحریک اور سول سوسائٹی کا یہ اتحاد انتخابی عمل کے زوال کے خلاف ایک منظم جدوجہد کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جنتر منتر وہی مقام ہے جہاں اسی سال نوجوانوں کے احتجاج نے ایک وزیر کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا۔ یہ بیداری خلا میں نہیں پیدا ہوئی، پڑوس کے کئی ممالک میں نوجوان نسل انتخابی دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف سڑکوں پر آ چکی ہے اور یہی لہر اب ہندوستانی نوجوانوں میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ ان نوجوانوں کو خدشہ ہے کہ ووٹر لسٹوں کو برسرِ اقتدار جماعت کی خواہش کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اور اربابِ اقتدار خواہ ان الزامات کو کتنا ہی مسترد کریں مگر عوامی شکوک اب اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ انہیں محض پریس ریلیزوں کے ذریعے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔
اس بے اعتمادی کی جڑ خود کمیشن کی تشکیل کے طریقہ کار میں ہے۔ مارچ 2023 میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے ‘انوپ برنوال کیس' میں تہتر برس پرانی اس روایت کو ختم کر دیا تھا جس کے تحت الیکشن کمشنروں کا تقرر تنہا حکومت کرتی تھی۔ عدالت نے حکم دیا کہ تقرر ایک ایسے تین رکنی پینل کے ذریعے ہو جس میں وزیرِ اعظم، قائدِ حزبِ اختلاف اور چیف جسٹس آف انڈیا شامل ہوں تاکہ کمیشن آزادی اور غیر جانبداری کے ساتھ کام کر سکے۔ مگر اسی سال کے اختتام پر پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کر کے چیف جسٹس کو اس پینل سے خارج کیا اور ان کی جگہ ایک مرکزی وزیر کو بٹھا دیا۔ نتیجتاً تین رکنی کمیٹی میں حکومت کو دو کے مقابلے میں ایک کی مستقل برتری حاصل ہو گئی۔ یوں کمیشن کو انتظامیہ کے اثر سے آزاد کرنے کے لیے کی گئی تبدیلی عملاً بے اثر کر دی گئی۔ گیانیش کمار اسی نئے قانون کے تحت مقرر ہونے والے پہلے چیف الیکشن کمشنر ہیں؛اور چونکہ وہ ماضی میں متعدد حساس سیاسی و پالیسی نوعیت کے فیصلوں کے نفاذ میں انتظامی کردار ادا کر چکے ہیں اس لیے ان کے تقرر نے شکوک میں مزید اضافہ کیا ہے۔ بنیادی نکتہ کسی فرد کی ذات کا نہیں بلکہ اس بنیادی خرابی کا ہے جس نے انتخابی نگراں کو انہی طاقتور ہاتھوں کا تابع بنا دیا جن کے انتخابی احتساب کا فریضہ اسے سونپا گیا تھا۔
اس بنیادی خرابی کے اثرات اب کمیشن کے اندرونی انتشار کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایک مؤقر اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے دونوں ساتھی کمشنروں نے گزشتہ دس ماہ میں کم از کم چودہ مرتبہ ووٹر لسٹوں کی نظر ثانی، اندراج کے طریقہ کار اور کمیشن کے ڈیجیٹل و سافٹ ویئر نظام پر باقاعدہ تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ کئی فیصلے، ہدایات اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹس دونوں کمشنروں کی رضامندی کے بغیر نافذ کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کوئی یک رکنی ادارہ نہیں بلکہ ایک کثیر رکنی ادارہ ہے جسے اجتماعی مشاورت سے فیصلے کرنا ہوتا ہے مگر ناقدین کے مطابق یہ عملاً ایک شخص کی چودھراہٹ میں بدل گیا ہے۔ آج سپریم کورٹ میں جو درخواستیں زیرِ سماعت ہیں ان کی بنیاد بھی یہی ہے کہ چیف کمشنر نے یک طرفہ فیصلے کیے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ اندرونی مشاورت میں اختلافِ رائے ایک معمول کی بات ہے اور اس کے تمام اقدامات قانونی ہیں مگر دس ماہ میں چودہ مرتبہ اختلاف معمول کا اختلاف نہیں بلکہ کسی گہری خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ سارا تنازعہ جس معاملے سب سے زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے وہ ایس آئی آر ہے۔ یہی وہ کھلونا ہے جس کے ذریعے یہ سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ مختلف ریاستوں میں اس کے تشویش ناک اثرات کی تفصیل ہم اپنے پچھلے اداریے میں پیش کر چکے ہیں۔ یہاں اصولی طور پر یہ بات کہنا کافی ہے کہ اس پورے عمل کی بنیاد ہی ٹیڑھی ہے۔ کسی شہری کو نا اہل ثابت کرنے کا بوجھ ریاست پر ہونا چاہیے تھا مگر یہاں شہری کو ہی اپنی اہلیت ثابت کرنے پر مجبور کر دیاگیا ہے۔ اس طرح پیدائشی حق کو ہی مشکوک قرار دے کر ووٹر کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ اور اس کی سب سے بھاری قیمت وہی طبقات چکا رہے ہیں جن کے پاس دستاویزات نہیں ہوتے۔ یہ طبقات ہیں غریب، مہاجر مزدور اور اقلیتیں اور بالخصوص مسلمان۔ اور یہ کوئی سادہ سی انتظامی کارروائی نہیں ہے۔ جب لاکھوں اہل شہریوں کے نام خاموشی سے فہرست سے اڑا دیے جائیں اور اس کی تلافی کا راستہ اتنا طویل اور دشوار گزار ہو کہ انتخابات آئیں اور گزر جائیں مگر بے چارہ اہل ووٹر جہاں کا وہیں کھڑا رہے تو یہ دراصل اس کے حقِ رائے دہی کو بتدریج اور منظم انداز میں سلب کرنے کے مترادف ہے۔ دستورِ ہند کی دفعہ 326 ہر بالغ شہری کو حقِ رائے دہی اور دفعہ 14 قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتی ہے، ان دونوں کی خلاف ورزی کسی عام بے ضابطگی کا نام نہیں بلکہ جمہوریت کے سب سے بنیادی ستون پر وار ہے۔
اس پوری کشمکش میں عدلیہ کا رویہ متضاد اور تاخیر کا شکار رہا ہے۔ ایک طرف انوپ برنوال کیس کا شاندار آئینی روح پر مبنی فیصلہ تھا تو دوسری طرف جب پارلیمنٹ نے اس فیصلے کی روح کو زخمی کیا تو عدالتِ عظمیٰ نے قانون پر فوری طور پر قدغن لگانے سے آنکھیں چرائیں۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ عدالت نے اس وقت مداخلت کی جب انتخابی مرحلہ مکمل ہو چکا تھا اور ووٹروں کو ان کے ووٹ حذف کیے جانے کا نقصان ہو چکا تھا۔ اور اب بینچ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں چیف الیکشن کمشنر کی معطلی کی درخواستوں کو سننے کے بعد یک طرفہ معطلی سے انکار کردیا ہے۔ ان سطور کے لکھے جانے تک اس سماعت کا مکمل نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے، مگر اصل اہمیت کسی ایک دن کے حکم سے زیادہ اس سوال کی ہے جو عدالت کے سامنے کھڑا ہے کہ کیا وہ انتخابی غیر جانبداری کی فیصلہ کن محافظ بنے گی یا پھر ماضی کی طرح احتیاط اور التوا کی روش برقرار رہے گی؟ عدالت خواہ درخواستیں قبول کرے، مسترد کرے یا سماعت آگے بڑھائے بنیادی سوال اپنی جگہ قائم رہے گا اور اس کے ساتھ کمیشن اور عدلیہ دونوں کی ساکھ پر خدشات کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔
جمہوریت کی پوری عمارت اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ جو ادارے کھیل کے ریفری ہیں وہ کسی ایک فریق کے ساتھ نہیں ہیں۔ جب الیکشن کمیشن جیسا غیر جانبدار ادارہ اور اس کے ساتھ دیگر آئینی ادارے جانب داری کے شبہات میں گِھر جائیں، تو عام شہری کے بنیادی حقوق محض کاغذی رہ جاتے ہیں۔ آزادانہ و منصفانہ انتخابات اس جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ایک شخص، ایک ووٹ اور ایک قدر اس کی روح۔ اس اعتماد کی بحالی کا راستہ یہی ہے کہ الیکشن کمیشن کے تقرر کے لیے ایک حقیقی اور غیر جانبدار طریقہ کار بحال کیا جائے جس میں انتظامیہ کی یک طرفہ برتری نہ ہو؛ کمیشن کے کثیر رکنی و اجتماعی کردار کو زندہ کیا جائے، ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کو شفاف بنایا جائے، شہریوں پر سے بوجھ ہٹایا جائے اور اسی کے ساتھ عدلیہ بر وقت محافظ کا کردار کرے نہ کہ تاخیر سے پہنچنے والے تبصرہ نگار کا! نوجوانوں کا یہ احتجاج ایک انتباہ بھی ہے اور امید بھی۔ یہ اس جنریشن کی آواز ہے جو تسلیم نہیں کرتی کہ اس کا ووٹ خاموشی سے کاٹ دیا جائے۔ کسی بھی جمہوریت کی صحت کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے حکم راں کتنے طاقت ور ہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کا ووٹر کتنا طاقت ور ہے۔
اداریــــہ

الیکشن کمیشن اور آئینی اداروں کا بحران

