کبھی کبھی کوئی چھوٹی سی چیز پورے نظام کی کہانی بیان کر دیتی ہے۔ چنانچہ حج سال 2026 میں عازمین کی کلائیوں پر بندھی اسمارٹ گھڑی بھی ایسی ہی بد عنوانی کی ایک علامت بن گئی ہے۔ اس گھڑی کے لیے ہر عازم حج سے پانچ سے سات ہزار روپے وصول کیے گئے اور تمام سوا لاکھ حاجیوں کے لیے اسے ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا۔ بتایا گیا کہ اس سے حاجیوں کو ٹریک کرنے اور راستہ بھٹکنے سے بچانے میں مدد ملے گی۔ مگر رپورٹوں کے مطابق یہ گھڑیاں چلیں ہی نہیں، ہوٹل سے نکلتے ہی بیٹری جواب دے جاتی اور بیشتر عازمین اسے کباڑ کی صورت میں گھر واپس لے آئے۔
یہ گھڑیاں حج کمیٹی نے دہلی کی فرم سیکیو انوویشنز سے ایک تیز رفتار ٹینڈر کے تحت خریدیں۔ رپورٹ کے مطابق جس گھڑی کی بیرونِ ملک تھوک قیمت چند سو روپے تھی، اسے عازمین کو پانچ سے سات ہزار روپے میں فروخت کیا گیا؛ فرم کے نام کی معروف برانڈ سیکو سے مشابہت نے بھی کئی سوالات کھڑے کیے۔ زمینی حقیقت یہ رہی کہ بہت سے عازمین، بالخصوص بزرگ اور ٹیکنالوجی سے ناواقف افراد، اسے چلا ہی نہ سکے۔رپورٹوں کے مطابق تقریباً ستّر فیصد لوگ اسے آن تک نہ کر پائے۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت کا "حج سہولت ایپ" پہلے ہی پروازوں، رہائش، صحت اور ہنگامی ہیلپ لائن جیسی خدمات فراہم کر رہا ہے، تو ہزاروں  روپے مالیت کی اس گھڑی کی کیا ضرورت تھی — اور معیار جانچے بغیر اس کا بوجھ حاجیوں پر کیوں ڈالا گیا؟ گھڑی تو محض ایک نمونہ ہے؛ اصل اور اس سے بھی سنگین معاملہ حج 2027 کے جامع خدماتی پیکیج کے ٹینڈر کا ہے۔ سعودی عرب کی نئی پالیسی کے تحت ہر ملک کو رہائش، نقل و حمل، اور دیگر مناسک کے لیے ایک ہی کمپنی کا انتخاب کرنا تھا۔ مقصد اجتماعی سودے بازی کے ذریعے لاگت کم کرنا تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر بھارتی عازمین کے لیے یہ سودا الٹا مہنگا ثابت ہوا۔
ٹینڈر کے عمل میں ابتدا ہی سے خامیاں نمایاں تھیں۔ سعودی حکام کی جانب سے پالیسی کئی ماہ قبل واضح کیے جانے کے باوجود متعلقہ اداروں نے آخری وقت تک تاخیر کی۔ 11؍ اگست کو ٹینڈر جاری کر کے 22؍ اگست آخری تاریخ مقرر کر دی گئی۔ شرائط اتنی کڑی رکھی گئیں کہ زیادہ تر کمپنیاں ویسے ہی باہر ہو گئیں۔تکنیکی اسکور میں تیس میں سے بیس نمبر محض پریزنٹیشن کے لیے مختص تھے۔ سولہ کمپنیوں نے حصہ لیا، جن میں سے تیرہ کو پہلے ہی مرحلے میں باہر کر دیا گیا۔ مالی مرحلے تک پہنچنے والی تین کمپنیوں میں "مشارق المتمیزہ" نے سب سے کم بولی (8717 سعودی ریال فی عازم حج) اور سب سے زیادہ تکنیکی اسکور (92.13) حاصل کر کے L1 پوزیشن حاصل کی۔ اس کے برعکس "اثراء الخیر" نے سب سے مہنگی بولی 9777 ریال فی عازم حج) دی اور اس کا تکنیکی اسکور بھی سب سے کم تھا۔ دونوں کے درمیان فی عازم حج 1,060 ریال کا فرق تھا جو سوا لاکھ حاجیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 331 کروڑ روپے بنتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تکنیکی کمیٹی کی جانب سے L1 کمپنی کو اہل قرار دیے جانے کے باوجود، دہلی پہنچتے ہی فیصلہ بدل گیا اور ٹھیکہ مہنگی کمپنی کو دے دیا گیا۔ اگر ٹھیکہ پرانی اور مہنگی کمپنی ہی کو دینا تھا تو تکنیکی کمیٹی بنانے کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا؟ جس کمپنی کو مسلسل چوتھے سال ٹھیکہ ملا، گزشتہ برس اس کی ناقص کارکردگی کی بے شمار شکایتیں موصول ہوئی تھیں۔ اس کے باوجود اسی کمپنی کو ٹھیکہ مل جانے کو محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔
بد انتظامی کی یہ کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ حکومت عازمین حج سے آٹھ نو ماہ پہلے رقم جمع کروا لیتی ہے، مگر اس رقم پر حاصل ہونے والے سود کا کوئی شفاف حساب سامنے نہیں آتا، یہ مسئلہ خاص طور پر اس لیے بھی سنگین ہے اسلام میں سود حرام ہے۔ اسی طرح ہوائی سفر کے کرایے کا معاملہ بھی ہے۔ عام طور پر بھارت سے جدہ آنے جانے کا ٹکٹ بیس سے پینتیس ہزار روپے ہوتا ہے، مگر حاجیوں سے فی کس ایک لاکھ روپے سے زائد وصول کیے جاتے ہیں، گزشتہ سال تو آخری لمحات میں فی کس دس ہزار روپے اضافہ بھی لیے گئے۔ ان تمام خامیوں کا خمیازہ اس عازمِ حج کو بھگتنا پڑتا ہے جو اپنی زندگی بھر کی کمائی مہینوں پہلے حکومت کے حوالے کر چکا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی روشنی میں حج سبسڈی 2022 میں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اب ہر عازم حج کو اپنے سفر کا مکمل خرچ خود اٹھانا ہے۔ ایسے میں ٹینڈر میں ہونے والے گھپلوں اور فی عازم ہزار ریال کے اضافی بوجھ کی ذمہ داری وزارت خود کیوں نہیں لیتی؟ اسے براہِ راست عبادت گزاروں کی جیب پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ متعلقہ اداروں کو عوام کا سہولت کار ہونا چاہیے، نہ کہ بوجھ بڑھانے کا سبب۔
اگر اس معاملے کو وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو یہ مسئلہ محض حج تک محدود نہیں رہتا۔ حال ہی میں ایودھیا کے رام مندر کے چندے میں کروڑوں روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ بعد میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی اور متعدد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ گویا مسئلہ کسی ایک مذہب یا برادری کا نہیں ہے بلکہ اس بد عنوان طرزِ حکم رانی کا ہے جہاں عقیدت مندوں کا پیسہ شفافیت اور آزاد نگرانی کے بغیر آسانی کے ساتھ نگل لیا جاتا ہے، چاہے وہ مندر کا چندہ ہو یا عازمین حج کی ڈپازٹ کی ہوئی رقم۔ جہاں معاشرہ مذہب کے نام پر تقسیم ہو رہا ہو، وہاں بد عنوانی اور لوٹ سب کے ساتھ یکساں طریقے سے جاری ہے۔ احتساب کی عدم موجودگی میں ہر عقیدت مند کی گاڑھی کمائی خطرے میں ہے۔
اس سلسلے میں حکومت کو ایک بنیادی اصول یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ اپنے شہریوں کو ان کے کسی مذہبی فریضے کی ادائیگی میں خصوصی سہولت فراہم نہیں کر سکتی تو بھلے ہی نہ کرے مگر کم از کم سرکاری مشینری تو ان کے لیے نقصان کا باعث نہ بننے دے۔ لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ناقص گھڑیوں کی خریدی اور حج 2027 کے ٹینڈر، دونوں معاملات کی آزادانہ و شفاف تحقیقات ہوں اور یہ بتایا جائے کہ سب سے سستی اور بلند اسکور والی بولی دینے والی کمپنی کو رد کر کے مہنگی بولی دینے والی کمپنی کو کیوں چنا گیا؟ حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ جہاں عازمین حج سے نا جائز طور پر زائد رقم لی گئی، وہ انہیں واپس کی جائے اور اس پورے عمل کو عوامی جواب دہی کے دائرے میں لایا جائے۔ وہ گھڑی جو حاجیوں کو ٹریک نہ کر سکی، وہ دراصل اس بد عنوان نظام حکومت کی عکاس ہے جو اپنے شہریوں کو سہولت پہنچانے کے اپنے بنیادی مقصد فراموش کر چکی ہے۔ اس سلسلے میں اعتماد کی بحالی کا واحد راستہ شفاف احتساب ہے اور اس میں مزید تاخیر بذاتِ خود ایک نا انصافی متصور ہو گی۔