ماہِ ربیع الاول امتِ مسلمہ کے لیے مسرت و شادمانی کا پیغام لاتا ہے۔ یہ اس ہستی کی ولادتِ باسعادت کا مہینہ ہے جس کی بعثت نے انسانیت کو نورِ ہدایت عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان پر شکر کا تقاضا ہے کہ محبتِ رسولؐ کے اظہار کے ساتھ اس انقلاب کی روح اور طریقِ کار کو بھی سمجھا جائے جو آپؐ کے ذریعے برپا ہوا تھا۔ اس محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہی ہے کہ امت آپؐ کے پیغام کی پیروی کرے اور اپنے عہد کے مسائل میں اس سے رہنمائی حاصل کرے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دنیا میں سب سے پہلے کیا تبدیل کیا؟ آپ کی لائی ہوئی تبدیلیوں میں سماجی اصلاح، معاشی عدل، سیاسی نظم، مساوات اور اخلاقی پاکیزگی سب شامل ہیں؛ لیکن یہ کسی منتشر اصلاحی پروگرام کے اجزا نہ تھے بلکہ ان سب کی جڑ ایک بنیادی انقلاب میں تھی: انہوں نے انسان کے گھڑے ہوئے کئی معبودوں کو ایک حقیقی معبود سے بدل دیا۔ معبود بدل جاتا ہے تو وفاداریاں، اقدار اور ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ یہی نکتہ سیرتِ طیبہ کے پیغام کو ہمارے عہد سے جوڑتا ہے۔
اسلام کا مرکز و محور عقیدۂ توحید ہے، وہ یہ کہ عبادت اور اطاعت کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ عربوں کی جاہلیت کا مرض محض پتھر کے بتوں کی پرستش نہ تھا بلکہ اس کی اصل روح اللہ کے سوا دوسری ہستیوں، طاقتوں، مفادات یا تصورات کو مطلق حیثیت دینا تھا۔ قرآن نے شرک کو ظلمِ عظیم قرار دیا ہے: اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ (لقمان: 13) یہ آیت توحید اور عدل کے درمیان گہرے تعلق کو واضح کرتی ہے۔ شرک انسان کو مخلوق کا محکوم جبکہ توحید کا عقیدہ اسے بندوں کی بندگی سے آزاد کراتا ہے۔ اسی لیے مکی دور کے تیرہ برسوں میں رسول اللہ ﷺ نے لا الٰہ الا اللہ کی حقیقت لوگوں کے دماغوں میں راسخ کی۔ یہ محض دعوت کی ابتدائی ترتیب نہیں تھی بلکہ ایک ابدی اصول تھا: تصورِ الٰہ کے درست ہوئے بغیر زندگی کا کوئی نظام درست نہیں ہو سکتا۔ عدل، مساوات، اخوت اور رحمت اسی شجرِ طیب کے پھل ہیں جس کی جڑ توحید ہے۔ اس کے بغیر حقیقی عدل و انصاف اور انسانی بھائی چارہ کبھی قائم نہیں ہو سکتا۔
توحید کا سب سے انقلابی پہلو اس کی قوتِ آزادی ہے۔ پیغمبر اسلام کے تربیت یافتہ حضرت ربعی بن عامرؓ نے ایرانی سپہ سالار رستم کے سامنے کہا تھا: انسان کو انسان کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لانا اور ادیانِ باطلہ کے ظلم سے اس کو نجات دلانا ہمارا مقصد ہے۔ کلمہ لا الٰہ الا اللہ ہر جھوٹے مطلق کی نفی کرتا ہے، خواہ وہ پتھر کا بت ہو، قبیلے کا سردار ہو، نسل کا غرور ہو، دولت کی بالادستی ہو یا ریاستی طاقت ہو۔ انسان جب ایک اللہ کے سامنے جھکتا ہے تو وہ دراصل تمام باطل قوتوں کا منکر ہوتا ہے۔ عربِ جاہلیت کی نمایاں سماجی بیماری عصبیت تھی، خون، نسب اور قبیلے سے ایسی اندھی وفاداری جس کے سامنے حق و انصاف کی اہمیت باقی نہ رہے شرک ہی کی سماجی صورت تھی۔ قبیلہ ایسی مطلق قدر بن گیا تھا جس پر انصاف کو بآسانی قربان کیا جا سکتا تھا۔ اسلام نے اس جاہلیت کو توحید کی ضرب سے توڑا۔ جاہلیت کا مقولہ تھا: اپنے بھائی کی مدد کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ رسول اللہ ﷺ نے اس روش کی اصلاح کی اور فرمایا کہ ظالم کو ظلم سے روکنا ہی اس کی مدد ہے خواہ وہ کوئی ہو۔ یوں گروہی وفاداریاں عدل و انصاف کے تابع ہوگئیں۔
جب معبود ایک ہو تو حق و انصاف گروہی مفاد سے بلند ہو جاتا ہے۔ قرآن حکم دیتا ہے کہ انصاف کے علم بردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہارے خلاف یا تمہارے والدین یا رشتہ داروں کے خلاف کیوں نہ پڑتی ہو (النساء: 135)۔ نیز کسی قوم کی دشمنی تمہیں بے انصافی پر آمادہ نہ کرے؛ عدل کرو کہ یہی تقویٰ سے قریب تر ہے (المائدہ: 8) اپنے مفاد کے خلاف اور دشمن کے حق میں انصاف وہی کرسکتا ہے جو اللہ کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتا ہو۔ مواخات اور میثاقِ مدینہ اسی توحیدی انقلاب کے اجتماعی مظاہر تھے۔ مواخات نے نسب سے اوپر ایمانی اخوت قائم کی اور میثاق مدینہ نے مختلف مذہبی و قبائلی گروہوں کو منصفانہ سیاسی عہد میں شریک کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر حضرت بلال حبشیؓ کا خانہ کعبہ کی چھت پر اذان دینا اس حقیقت کا اعلان تھا کہ جب رب ایک ہے تو نسل، رنگ یا نسب کسی انسان کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہے۔
شرک کی روح مخلوق کو خدا کی حیثیت دینے میں ہے، اس لیے یہ کسی ایک زمانے یا شکل تک محدود نہیں ہے۔ جدید دنیا میں قوم، نسل، اکثریت، ریاست، منڈی اور اجتماعی خودی کو ایسا مقام دیا جاتا ہے جہاں سچائی، عدل اور انسانی وقار کو بے دریغ قربان کیا جاتا ہے، صورتیں بدلتی ہیں، مگر معبودانِ باطل کا مطالبہ وہی رہتا ہے یعنی غیر مشروط وفاداری۔ عصری ہندوستان کے بحران کو بھی اسی زاویے سے سمجھنا چاہیے۔ آزادی کے بعد دستور نے شہری تعلق کی بنیاد عمرانی عہد، مساوی حقوق اور مشترک شہریت پر رکھی لیکن جب اسے نسل، اکثریت یا مخصوص ثقافتی شناخت کی عصبیت سے بدلنے کی کوشش ہو تو ملک میں عدل اور کمزوروں کے حقوق تلف ہونے لگتے ہیں۔ قوم یا اکثریت کی اجتماعی خودی کو معیارِ حق بنا دینا اسی جاہلی منطق کی نئی صورت ہے جسے عقیدہ توحید رد کرتا ہے۔ قومی وابستگی سمیت ہر اجتماعی تعلق کو عدل و انصاف کے تابع رہنا چاہیے، نہ کہ کسی عصبیت کے تابع!
ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا احتساب دیانت داری کے ساتھ کریں۔ مخلوق کو مطلق بنانے کا فتنہ کسی ایک گروہ تک محدود نہیں ہے بلکہ مسلمان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔ دوسروں کے بتوں کی نشان دہی سے پہلے ہمیں اپنی صفوں میں چھپی ہوئی عصبیتیں پہچاننی ہوں گی۔ اگر مسلک، برادری یا جماعت حق پر مقدم ہو جائے، دولت و طاقت کے سامنے اصول پسپا ہوں یا ہماری سیاست خدا و رسول کی ہدایت کے بجائے گروہی عصبیت کے تابع ہو تو توحید کے عملی تقاضوں کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ مکی دور کے مسلمانوں کی اصل قوت تعداد، دولت یا وسائل نہیں تھی بلکہ خالص توحید تھی، جس نے انہیں وقار اور دبدبہ عطا کیا۔ وہ باطل کے سامنے جھکتے نہ تھے، مگر ہر اشتعال پر بے قابو بھی نہ ہوتے تھے؛ ثابت قدمی اور حکمت سے دعوت دیتے تھے۔ آج امت کہیں مایوسی و بے عملی تو کہیں غیر حکیمانہ رد عمل کا شکار ہے۔ دونوں کا علاج عقیدہ توحید کی تجدید میں ہے، یعنی خوف، امید، محبت اور اطاعت کو اللہ کی رضا کے تابع کر دیا جائے۔
ماہ ربیع الاول ہم سے سوال کرتا ہے کہ کیا حُبّ رسول کا دعویٰ ہمارے لیے اتباعِ رسول اور تجدیدِ عقیدہ توحید کا ذریعہ بن رہا ہے یا ہم محض اظہارِ عقیدت ہی کو مقصد سمجھ بیٹھے ہیں؟ سیرتِ طیبہ کا اصل سبق یہ ہے کہ توحید ہی وہ اصل سرچشمہ ہے جس سے عدل، رحمت، اخوت اور انسانی وقار کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ جہاں قوم، جماعت یا نفس مطلق بنیں گے وہاں ظلم و جبر راہ پائے گا، اور جہاں اللہ کے سامنے جواب دہی کا یقین ہوگا وہاں عدل کی بنیاد مضبوط ہوگی۔آج ہندوستان سمیت پوری جدید دنیا کو ان باطل خداؤں سے آزادی کی ضرورت ہے جنہیں انسانوں نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ ربیع الاول کی اصل دعوت صرف ایک تاریخی یاد نہیں بلکہ اس انقلابی توحید کی تجدید ہے جس نے انسان کو انسان کی بندگی سے نکالا اور عدل و رحمت پر قائم معاشرے کی بنیاد رکھی۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ اس پیغام کی سچی گواہ بنے اور اپنی اجتماعی زندگی میں اس کا عملی نمونہ پیش کرے۔ اللّٰهم صلِّ على سيّدنا محمّدٍ و على آله وصحبه و سلِّم۔