وزیراعظم مودی نے گیارہ برس پہلے اقتدار میں آتے وقت "نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا" اور "میں دیش کا چوکیدار ہوں" جیسے بلند و بانگ نعرے لگائے تھے۔ مگر دس برس کی حکم رانی کے بعد حالت یہ ہے کہ ملک میں بد عنوانی نہ صرف کم نہیں ہوئی بلکہ اس نے نئی، ادارہ جاتی اور ڈیجیٹل شکلیں اختیار کر لی ہے اور اس سارے کھیل کی مار بالآخر اسی عام شہری پر پڑ رہی ہے جس کو رجھانے کے لیے یہ وعدے کیے گئے تھے۔ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ مارنے کے کئی پرانے طریقے تو پہلے ہی سے موجود تھے اب ڈیجیٹل انڈیا کا بے دریغ استعمال بد عنوانی کی ایسی نئی نئی شکلوں کو جنم دے رہا ہے جنہیں سمجھنا تک عام آدمی کے بس سے باہر ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا شفافیت کے لبادے میں ایک نئی بد عنوانی بن کر سامنے آئی ہے۔
حکومت ڈیجیٹل انڈیا اور ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (DBT) کو بد عنوانی کے خلاف اپنا سب سے بڑا کارنامہ قرار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ آدھار سے منسلک براہِ راست منتقلی نے جعلی مستحقین کو نکال کر لاکھوں کروڑ روپے بچا لیے ہیں۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی ڈیجیٹل نظام نے فراڈ کی بالکل نئی اقسام کو بھی جنم دیا ہے۔ چنانچہ راجستھان میں حال ہی میں ایک ایسا سائبر سرکار ریکٹ بے نقاب ہوا جس میں ایجنٹوں، ای-مترا آپریٹروں اور سرکاری اہلکاروں کے گٹھ جوڑ سے پی ایم-کسان، پنشن اور آفات سے متعلق امدادی اسکیموں کے فنڈز میں خرد برد کی جا رہی تھی۔ غریبوں کے آدھار کارڈ کی تصویریں تک آدھی رقم کے لالچ میں حاصل کی گئیں۔ اس کے علاوہ جعلی سرکاری پورٹلوں اور "پی ایم اسکیم" کے نام پر فراڈ کا ایک پورا جال ہے جس کاخاص نشانہ دیہی غریب عوام، خواتین اور بزرگ شہری ہیں۔ اس سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ احتساب کے بغیر ڈیجیٹلائزیشن بد عنوانی کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے نئی، خود کار اور اکثر نا قابلِ فہم شکل دے دیتی ہے۔ شفافیت کے پردے کے پیچھے ایک نئی تاریکی پنپ سکتی ہے۔
بد عنوانی کی دوسری اور زیادہ سنگین شکل وہ ہے جس میں سرکاری ادارے اور کارپوریٹ سرمایہ باقاعدہ اقتدار اور اس کی نظریاتی سرپرست تنظیم کی آبیاری کرتے ہیں۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سرکاری ملکیت والے ادارے او این جی سی نے 2015 سے 2025 کے دوران اپنے سی ایس آر (کارپوریٹ سماجی ذمہ داری) فنڈ کا تقریباً 14.7 فیصد یعنی تقریباً 668 کروڑ روپے آر ایس ایس سے وابستہ بیس تنظیموں کو دیے، جب کہ اسی دور میں ادارے کی سی ایس آر کمیٹی کی صدارت برسرِ اقتدار جماعت کے ایک عہدیدار کے پاس رہی۔ اس سلسلے میں حکومت کے حامی حلقے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس رقم کا بڑا حصہ دواخانوں اور تعلیمی اداروں پر خرچ ہوا اور باقی 85 فیصد دیگر تنظیموں کو ملا۔ مگر بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا عوام کے سرمائے پر قائم کسی سرکاری ادارے کا پیسہ کسی سیاسی جماعت کے نظریاتی سر چشمے کی طرف بہنا درست ہے؟ اس کے ساتھ الیکٹورل بانڈز کا وہ نظام بھی یاد رہے جسے سپریم کورٹ غیر آئینی قرار دے چکا ہے، جو دراصل سرمائے اور اقتدار کے گٹھ جوڑ کو قانونی جامہ پہنانے کی کوشش تھا۔ جب عوامی اور کارپوریٹ دولت خاموشی سے اہلِ اقتدار اور ان کے نظریاتی سرپرستوں کو منتقل ہونے لگے تو بد عنوانی انفرادی جرم نہیں رہتی بلکہ ادارہ جاتی اور بعض اوقات قانونی بن جاتی ہے۔
تیسری اور سب سے تکلیف دہ شکل وہ ہے جہاں خود عوام کے لیے مختص فلاحی اسکیموں کو لوٹا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے واضح مثال حکومت کی اپنی مرکزی اسکیم "اسکل انڈیا" / پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے آڈٹ ادارے کیگ (CAG) کی جو رپورٹ گزشتہ برس پارلیمنٹ میں پیش ہوئی تھی، اس نے انکشاف کیا کہ سات برسوں میں تقریباً 10,194 کروڑ روپے خرچ کیے گئے مگر یہ جعلی تربیتی ریکارڈ، گھوسٹ (فرضی) بینک کھاتوں اور ایسے "ٹرینیز" کے ذریعے ہوا جنہوں نے کبھی کلاس میں قدم تک نہ رکھا۔ تحقیقات نے دلالوں، بچولیوں اور فرضی تربیتی مراکز کی ایک پوری متوازی دنیا کو بے نقاب کیا ہے۔ اکتوبر 2025 میں 178 تربیتی شراکت دار بلیک لسٹ کیے گئے اور اس سب کے باوجود اسکیم کی تشکیلِ نو کے لیے مزید ہزاروں کروڑ روپے منظور کر دیے گئے۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کی جو اسکیم بنی تھی وہ لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بن گئی۔ ایسے بھیانک گھپلوں کو مرکزی حکومت کی اسکیموں میں نظر انداز کرنا، چوکیدار کے "سوتے رہنے" اور "اپنے لوگوں کو کھانے دینے" کی رسم ادائیگی نہیں تو اور کیا ہے؟
بد عنوانی کی یہ عمارت اعلیٰ ترین سطح کی سیاسی سر پرستی کے بغیر کھڑی نہیں رہ سکتی اور اس کے کئی نمونے عوام پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔ ہر کھاتے میں پندرہ لاکھ اور چوکیدار جیسے وعدے آج عوامی گفتگو میں محض "جملہ" کی علامت بن چکے ہیں۔ مستزاد یہ کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) بھی گھپلے کی ایک انوکھی شکل بن کر سامنے آئی ہے، یہاں لوٹ کا نشانہ نوٹ نہیں بلکہ ووٹ ہے، جسے خاموشی کے ساتھ ووٹر لسٹوں سے خارج کیا جا رہا ہے اور جس کی سب سے بھاری قیمت غریب طبقہ چکا رہا ہے۔ ان تمام معاملات میں ایک مشترک نمونہ ابھرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور وہ ہے احتساب کا انتخابی استعمال، تفتیشی ادارے مخالفین کے خلاف انتہائی سرگرم اور موافقین کے معاملے میں آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔
اس احتسابی دوہرے معیار کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ اب برسرِ اقتدار جماعت کے وزرائے اعلیٰ تک کے نام مختلف گھپلوں اور ناجائز قبضوں کے الزامات میں گردش کر رہے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما پر اپوزیشن نے زمین پر قبضے اور ان کی پتنی کی فرم کو اسکیم میں ناجائز فائدہ پہنچانے کے الزامات لگائے اور انہیں ملک کا سب سے بد عنوان وزیر اعلیٰ تک کہا گیا، جسے انہوں نے من گھڑت اور سیاسی طور پر محرک قرار دے کر مسترد کیا۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو پر کانگریس نے 253 ایکڑ زمین کے گھپلے کا الزام عائد کیا اور ای ڈی و سی بی آئی سے کارروائی کا مطالبہ کیا جب کہ حکم راں جماعت نے اسے سازش قرار دیا۔ مہاراشٹر کی حکومت بھی مختلف الزامات کی زد میں رہی ہے۔ یہ تمام الزامات بہرحال الزامات ہیں اور متعلقہ شخصیات نے ان کی سختی سے تردید کی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ جو تفتیشی ادارے مخالفین کے دروازے فوراً کھٹکھٹاتے ہیں وہ ان معاملات میں خاموش کیوں ہو جاتے ہیں؟ کیا یہ خاموشی بذاتِ خود بدعنوانی کی ایک شکل نہیں ہے؟
اس پورے منظر نامے میں سب سے زیادہ نقصان عام شہری کا ہو رہا ہے جس کی فلاح و بہبود کی دہائیاں دے کر حکومتیں قائم ہوتی ہیں۔ جو فلاحی رقم اس تک پہنچنی تھی وہ جعلی کھاتوں کے ذریعے اڑا لی جاتی ہے۔ جو اسکیم اسے ہنر مند بنانے کے لیے بنی تھی اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ جو ووٹ اس کی طاقت تھا وہ خاموشی غائب کر دیا جاتا ہے اور جو سرکاری خزانہ اس کی فلاح کے لیے تھا وہ نظریاتی سرپرستوں اور منظورِ نظر لوگوں کی طرف بہہ نکلتا ہے، جب کہ مہنگائی بڑھتی جاتی ہے اور روزگار سکڑتا جاتا ہے۔ جس نام نہاد چوکیدار نے عوامی دولت کی حفاظت کا جو وعدہ کیا تھا آج قوم یہ پوچھ رہی ہے کہ وہ چوکیدار کہاں ہے؟ آیا وہ سو رہا ہے یا خود شریکِ جرم بن گیا ہے؟
اس بگاڑ کا واحد علاج حقیقی اور بلا امتیاز و بے لاگ احتساب ہے۔ تفتیشی ادارے بلا خوف و رعایت سب پر یکساں پنجہ کسیں، سرکاری اسکیموں اور سی ایس آر فنڈز کی شفاف آڈٹ ہو اور شہریوں کے ووٹ کو پورا تحفظ فراہم کیا جائے۔ ورنہ وہ جمہوریت جہاں بدعنوانی ادارہ جاتی اور احتساب خانوں میں تقسیم ہو جائے، وہاں نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا والا وعدہ تاریخ کا سب سے جھوٹ بن کر رہ جائے گا۔
اداریــــہ

ڈجیٹل ڈاکہ زنی؛ چوطرفہ کرپشن کی مار جھیلتے بھارتی شہری

