اسلامی اکیڈمی الومنی اسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ’’جہاں بانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والا یک روزہ علمی و تحقیقی سیمینار علمی و فکری مباحث، تحقیقی مقالات اور بامقصد مکالموں کے ساتھ کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔ سیمینار کا آغاز قاری مفتی اسد اللہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ محمد علی، التمش انصاری اور عبدالرحمٰن نے اسلامی اکیڈمی کا ترانہ پیش کیا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت اسلامی اکیڈمی کے چیئرمین پروفیسر حسن رضا نے کی۔ ممتاز ماہرِ تعلیم اور دانشور، پدم شری پروفیسر اختر الواسع مہمانِ خصوصی تھے۔ نظامت کے فرائض محمد اسعد فلاحی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
سیمینار کے کنوینر ساجد انصاری ندوی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مہمانوں، اساتذہ، سابق و موجودہ طلبا اور مقالہ نگاروں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اسلامی اکیڈمی الومنی اسوسی ایشن کے قیام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسوسی ایشن کا بنیادی مقصد سابق طلبہ کو ایک مؤثر علمی پلیٹ فارم پر متحد کرنا، تحقیقی مزاج کو فروغ دینا اور سنجیدہ علمی و فکری مکالمے کی روایت کو مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الومنی اسوسی ایشن ادارے اور اس کے فارغین کے درمیان علمی و فکری ربط کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف تحقیقی اور تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی رہے گی۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر اختر الواسع نے اپنے خطاب میں موجودہ سماجی اور سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کو تصادم سے زیادہ مکالمے، رواداری اور تعمیری فکر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں مثبت سوچ، باہمی احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کو اختلافِ دل میں تبدیل ہونے سے روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
صدرِ اجلاس پروفیسر حسن رضا نے اپنے صدارتی خطاب میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے قیام، اس کے تعلیمی سفر اور آئندہ کے اہداف پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کا نصب العین صرف سند یافتہ افراد تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے باکردار، صاحبِ بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ افراد کی تربیت کرنا ہے جو علم و تحقیق کو سماجی خدمت کا ذریعہ بنا سکیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسلام نے اختلاف اور مکالمے کا جو مہذب، متوازن اور استدلال پر مبنی طریقہ سکھایا ہے، آج کے ماحول میں اسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
افتتاحی اجلاس کے اختتام پر ادارے کے پہلے پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر ابو زید کو خصوصی طور پر تہنیت پیش کی گئی اور انہیں پروفیسر اختر الواسع کے ہاتھوں یادگاری شیلڈ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر نیٹ اور جے آر ایف میں کامیابی حاصل کرنے والے بارہ طلبا کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اسی طرح مضمون نویسی کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا انعام الحق قاسمی، نہال کدیور اور شیخ یاسر کو بالترتیب پانچ ہزار، تین ہزار اور دو ہزار روپے کے انعامات دیے گئے۔
افتتاحی سیشن کے بعد پہلی تکنیکی نشست جامعہ ہمدرد کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وارث مظہری کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں انعام الحق نے ’’ادبِ اطفال کی تشکیل میں جماعتِ اسلامی ہند کی خدمات‘‘، معز الحق نے ’’تعلیم: مقاصد، مسائل اور طریقۂ کار؛ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے حوالے سے‘‘، محمد اشفاق عالم ندوی نے ’’ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی صورتِ حال: مسائل، وجوہ اور اصلاحی تدابیر‘‘ اور نہال کدیور نے انگریزی میں "Education: Ideals, Realities and the Conundrum" کے عنوان سے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ اس سیشن کی نظامت احمد وقاص نے کی۔
دوسری تکنیکی نشست ظہر کے بعد پروفیسر اسحاق (سابق ڈین، فیکلٹی آف ہیومینٹیز، جامعہ ملیہ اسلامیہ) کی صدارت میں منعقد ہوئی، جبکہ نظامت کے فرائض عبداللہ بیگ نے انجام دیے۔ اس سیشن میں اسلامی فکر، تاریخ اور بین المذاہب مطالعے سے متعلق چھ تحقیقی مقالات پیش کیے گئے۔ شیخ مدثر نے "A Comparative Study of Ethical and Social Teachings in Islam and Lingayat Thought"، محمد حنیف نے "State Formation and Geo-political Consolidation under Hazrat Umar (R.A.)"، شہروز عالم نے "Revisiting the Theological Beliefs of Qadianism"، محمد ساجد ندوی نے ’’اردو نثر کے فروغ میں قدیم تراجمِ قرآن کا حصہ‘‘، محمد اسعد فلاحی نے ’’امنِ عالم کے قیام میں اسلام کا کردار‘‘ اور شیخ راحیل نے ’’ابنِ خلدون کے تصورِ عصبیت کا تحقیقی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے اپنے مقالات پیش کیے۔ پروفیسر اسحاق نے تمام مقالات کو سراہا اور علم و تحقیق کے میدان میں محنت، لگن اور تن دہی سے کام کرنے پر زور دیا۔
سیمینار کی تیسری تکنیکی نشست میں تین مقالات پیش کیے گئے، جس کی صدارت جماعتِ اسلامی ہند کے مشیرِ مالیات ڈاکٹر وقار انور نے کی۔ انہوں نے پیش کیے گئے مقالات کا گہرائی سے جائزہ لیا اور ان میں مزید گہرائی اور انفرادیت پیدا کرنے پر زور دیا۔ اس سیشن میں محمد شاداب نے ’’بادشاہ اکبر کے مذہبی افکار: عبدالقادر بدایونی کی نظر میں‘‘، ناصر حسین نے "Islamic Movements in WANA: A Case of Al-Ikhwan al-Muslimun" اور ڈاکٹر ابو زید نے ’’مولانا ولی رحمانی: ایک علمی و ادبی شخصیت‘‘ کے عنوان سے اپنے مقالات پیش کیے۔ اس سیشن کے ناظم معز الحق تھے۔
سیمینار کا اختتامی اجلاس نہایت حوصلہ افزا ماحول میں منعقد ہوا، جس کی نظامت کے فرائض انڈین انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے استاذ جناب انیس الرحمٰن ندوی نے انجام دیے۔ الومنی اسوسی ایشن کے صدر محمد اشفاق عالم ندوی نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو مطالعہ، تحقیق اور علمی سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے اور ملت و معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ اسلامی اکیڈمی ٹرسٹ کے سکریٹری جناب عتیق الرحمٰن نے مسلسل محنت، استقامت اور یکسوئی کو کامیابی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے طلبا کو اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنے کی نصیحت کی۔
پروفیسر حسن رضا نے زادِ راہ کے طور پر کہا کہ علم کی حقیقی روح خدا شناسی، اعلیٰ اخلاق اور انسانیت کی خدمت میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انسان اپنے رب سے مضبوط تعلق قائم کر لیتا ہے تو یہی تعلق اس کے علم میں گہرائی، کردار میں بلندی اور زندگی میں حقیقی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ایسے ہی باکردار، باصلاحیت اور قائدانہ اوصاف کے حامل نوجوان پیدا کرنا انڈین انسٹیٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کا مقصد ہے۔
آخر میں منتظمین نے تمام مہمانانِ گرامی، مقالہ نگاروں، اساتذہ، طلبا اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ شرکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کے علمی و تحقیقی سیمینار آئندہ بھی باقاعدگی سے منعقد ہوتے رہیں گے تاکہ تحقیق، مکالمہ اور سماجی شعور کو مزید فروغ حاصل ہو۔
اختلافِ رائے کو اختلافِ دل میں تبدیل ہونے سے روکیں : پروفیسر اختر الواسع

اسلامی اکیڈمی الومنی اسوسی ایشن کا یک روزہ علمی و تحقیقی سیمینار

