رسول اللہ ﷺ کی ۲۳ سالہ حیاتِ نبوت کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس میں دعوت، تزکیہ، تعلیم، خدمتِ خلق،  تربیتِ افراد، اصلاحِ معاشرہ، اجتماعی نظم، اقامتِ دین، معاہدات، صلح، دفاع اور جہاد وقتال ،سبھی پہلو نظر آتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ نبوت میں ہر محاذ و میدان میں ہر دور اور ہر قسم کے حالات کے لیے اپنی سیرت کے نقوش سارے عالم کے لیے اسوۂ حسنہ کی صورت میں چھوڑے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ۲۳ سالہ دورِ نبوت میں سارے انبیا و رسل کی سیرتوں کا خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ حضور ﷺ کی زندگی میں اتنا تنوع ہے کہ ہر سال دو سال کے بعد منظر نامہ بدل جاتا ہے۔ ختمِ نبوت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خود لے لی ہے تاکہ مستقبل میں کسی وحی کی ضرورت باقی نہ رہے۔ ختمِ نبوت کی دوسری دلیل یہ ہے کہ  آپ کے دورِ نبوت میں دین کی تکمیل ہوئی اور آپ کے اسوہ میں اتنا تنوع رکھ دیا گیا ہے کہ قیامت تک ہر فرد، ہر قوم اور ہر دور کے لیے آپ کا اسوہ کافی ہو جائے۔ آپ نے تونگری میں فقیری اس لیے کی کہ ایک فاقہ کش کو بھی یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ میرے لیے رسول کی زندگی میں کوئی نمونہ نہیں ہے۔ آپ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو آپؐ کئی محاذوں پر اور کئی رول میں نظر آتے ہیں لیکن آپ کے جامع کارِ رسالت کے اندر دو پہلو دعوت الی اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ ایسے ہیں جو پوری سیرت میں مسلسل نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم نے بعض انفرادی اور ظاہری سنتوں پر تو توجہ دی لیکن دعوت الی اللہ اور جہادفی سبیل اللہ جیسی دو اہم ترین سنتوں سے غفلت برتی ہے۔ آپ کا خونِ مبارک دو جگہوں پر بہا ہے۔ ایک طائف کی وادی اور دوسری جگہ ہے غزوۂ احد۔ طائف کا سفر دعوت الی اللہ کی کاوش کی ایک مثال ہے تو غزوۂ احد آپ کی اس جدوجہد کی داستان کا ایک باب ہے جو ظلم، فساد اور فتنہ کے سدباب کے لیے کیا گیا ہے۔
ربیع الاول کے مہینے میں ہر سال برصغیر میں میلاد کے نام پر جش منایا جاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ اس محبت کے اظہار میں رسول کی تعلیمات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ اول تو عید میلاد ہی ایک صریح بدعت ہے۔ پھر اس میں ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں جو سنت رسول اور اصحابِ رسول سے ثابت نہیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں سیرت کے مختلف عنوانات پر پروگرام کیے جائیں تاکہ مسلمانوں میں اتباعِ رسول کا جذبہ پیدا ہو اور غیر مسلموں میں رسول اللہ کا اس طرح سے تعارف پیش کیا جائے کہ آپ سارے انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
آئیے وہ دو اہم سنتیں "دعوت الی اللہ" اور "شہادت علی الناس" جن کے شعور سے امت مسلمہ خالی ہے اس پر تفصیلی نظر ڈالتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے دعوت الی اللہ کے بارے میں فرمایا کہ: قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورۃ یوسف :۱۰۸) ’’تم ان سے صاف کہہ دو کہ ”میرا رستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ اس آیت میں فرمایا جا رہا ہے کہ رسول کا رستہ یعنی رسول کا طریقہ اور اصل سنت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلایا جائے۔ اس آیت میں یہ پیغام بھی ہے کہ داعی بصیرت کی روشنی کے ساتھ دعوت دے۔ وہ یقین کی زمین پر کھڑے ہوکر اور با کردار ہو کر اخلاص کے ساتھ دعوت الی اللہ کا فرض انجام دے۔ رسول کے ساتھ اصحابِ رسول نے بھی دعوتی شعور سے سرشار ہو کر دعوتی فریضہ کو انجام دیا جن کی بدولت اسلام تین بر اعظموں میں پھیلا۔ دعوت کا فرض وہ لوگ انجام نہیں دے سکتے جو خود مشرکانہ عقائد رکھتے ہوں۔ دعوت الی اللہ خالص توحید کی دعوت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کی اکثریت مشرکانہ عقائد رکھتی ہے۔ گویا وہ اپنے عمل سے شرک کی شہادت پیش کر رہے ہیں۔ قرآن جیسی کتاب رکھ کر شرک کو اختیار کرنا ظلم کی انتہا ہے۔ قرآن کو اگر کوئی سمجھ کر پڑھے تو وہ کبھی شرک میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔
نبی کریم ﷺ طائف اس امید کے ساتھ تشریف لے گئے کہ طائف کے سردار اور وہاں کے لوگ آپ کو دعوت کو مان لیں گے اور جہنم کی آگ سے بچیں گے۔ آپ کو یہ امید بھی تھی کہ طائف اسلام کا پاسباں بن جائے گا جبکہ مکہ کی سرزمین اسلام اور مسلمانوں کے لیے تنگ کر دی گئی تھی۔ مکہ میں اتمامِ حجت ہونے کے بعد جب طائف میں بھی دعوت کے ضمن میں حجت کا اتمام ہوا تو نبی کریم ﷺ واپس مکہ واپس لوٹنے لگے تو مکہ میں آپ کا داخلہ ممنوع کردیا گیا جہاں آپ پیدا ہوئے تھے۔ چنانچہ مطعم بن عدی جنہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا، انہوں نے آپ کو امان دی جس کے بعد آپ کا مکہ میں داخلہ ممکن ہوا۔ اس وقت بھی آپ خاموش نہ رہے بلکہ رات کے اندھیرے میں حج کے خیموں میں جا جا کر سب کو ایک اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دیتے رہے۔
مدینے کے کچھ لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔یہی کاوش مدینے کی طرف ہجرت کا سبب بنتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نا مساعد حالات میں بھی دعوت الی اللہ کی سعی بند دروازوں کو کھولنے کا سبب بنتی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام جیل میں اپنے قیدی ساتھیوں کو ایک اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں اور یہی کاوش نہ صرف جیل سے نکلنے کی سبیل بن جاتی ہے بلکہ آپ کو شاہی دربار میں سب سے بڑے منصب تک پہنچا دیتی ہے۔
دورِ نبوت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک ہے مکی دور دوسرا ہے مدنی دور۔ مکی دورِ نبوت میں ان مسلمانوں کے لیے بہترین اسوہ ہے جو کسی ملک میں اقلیت میں ہوں۔ ان کے لیے لائحہ عمل یہ ہےکہ وہ قرآن کے ذریعے فکری جہاد کریں۔ مدنی دورِ نبوت میں ان مسلمانوں کے لیے شاندار اسوہ ہے جو ایک مسلم اکثریتی ملک میں رہ رہے ہوں۔
مکی دورِ نبوت میں فکری جہاد کیا گیا  جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشادہے: فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (سورۃالفرقان : ۵۲)’’ پس اے نبیؐ، کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیرکرو‘‘۔ یہ آیت مکی ہے۔ یہاں ’بِهِ ‘سے مراد قرآن ہے۔ لہٰذا مکی دور کا ایک عظیم جہاد قرآن کے ذریعے فکری، اخلاقی اور دعوتی جدوجہد تھا۔ یہ نکتہ آج کے دور میں بہت اہم ہے۔ اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں، مادیت، الحاد، اخلاقی انتشار، مذہبی تعصب اور اسلام مخالف پروپیگنڈا محض جذبات سے دور نہیں ہوسکتے۔ ان کے مقابلے کے لیے علم، تحقیق، دلیل، حسنِ اخلاق، تحریر، تقریر، تعلیم اور جدید ذرائع ابلاغ کی ضرورت ہے۔ قرآن کے ذریعے جہاد کو جہادِ کبیر اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ایسا جہاد ہے جو ہر جگہ اور ہر وقت انجام دیا جا سکتا ہے حتیٰ کہ سنتِ یوسفی کے مطابق جیل میں بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ قرآن کے ذریعے جہاد اس لیے فرمایا گیا ہے کہ قرآن جن حقائق کو پیش کرتا ہے اس کے لیے ٹھوس دلائل بھی پیش کرتا ہے۔ قرآن کے دلائل کے مقابلے میں کوئی باطل نظریہ کامیاب نہیں ہوسکتا ہے اس لیے کہ باطل کے پاس محض دعوے ہوتے ہیں دلائل نہیں۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قرآن دعوت کا ایک پر زور ہتھیار ہے جس سے ہر باطل عقیدہ اور نظریہ کا ابطال کیا جاسکتا ہے۔ قرآن تذکیر کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے: فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ (سورۃ ق:۴۵) ’’پس تم اس قرآن کے ذریعہ  سے ہر اس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے‘‘ یعنی دعوت، اصلاح اور تذکیر کے لیے قرآن کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ آج اصلاحی جماعتیں بھی اس لیے کامیاب نہیں ہو رہی ہیں کیونکہ ان کی بنیاد قرآن پر نہیں ہے۔
مکی دورِ نبوت کے ۱۳ سالوں میں آپؐ نے دعوت الی اللہ کو مقصدِ وحید بنا کر اس پر اپنی توجہ مرکوز فرمائی تاکہ اتمام حجت ہوجائے۔ دعوت الی اللہ فرائض رسالت میں ایسا فرض تھا جس کے بغیر حقِ رسالت ادا نہیں ہو سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صاف لفظوں میں بیان فرما دیا ہے: یاَ أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ (المائدہ:۶۷) ’’اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا‘‘ یعنی بحیثیتِ رسول، نبی کریم ﷺ نے اگر دعوت الی اللہ کے ماسوا دوسرے سارے خیر کے کام انجام دیے ہوتے تب بھی آپ رسالت کا حق ادا نہ کرتے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبل از نبوت کے دور میں رسول اکرم ﷺ نے خدمتِ خلق میں اپنی اور اپنی زوجہ حضرت خدیجہؓ کی سارے دولت لٹا دی لیکن نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد آپ نے  ہمہ تن اور ہمہ وقت دعوت الی اللہ کے کام میں مصروف ہو گئے۔ اسی دعوتی منصب کو مزید واضح اندازمیں اس طرح پیش کیا گیا: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا • وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا (سورۃ الاحزاب :۴۵، ۴۶) ’’اے نبی! ہم نے تم کو گواہ، خوشخبری دینے والا، خبردار کرنے والا، اللہ کے حکم سے اس کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ رسول اللہ ﷺ بنیادی طور پر داعی الی اللہ تھے۔ آپؐ انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف بلاتے تھے، شرک کے مقابلے میں توحید، ظلم کے مقابلے میں عدل، جاہلیت کے مقابلے میں علم، اخلاقی فساد کے مقابلے میں پاکیزگی اور آخرت سے غفلت کے مقابلے میں جواب دہی کا شعور پیدا کرتے تھے۔ قرآن نے دعوت کا طریقہ بھی متعین کر دیا ہے: ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (سورۃ النحل :۱۲۵) ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور لوگوں سے ایسے طریقے سے گفتگو کرو جو بہترین ہو۔‘‘ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ دعوت کا طریقہ جبر نہیں بلکہ دلیل، حکمت، اخلاق اور خیر خواہی پر مبنی ہے۔ یہاں تک کہ قرآن حکم دیتا ہے کہ اہلِ کتاب کے ساتھ بھی اختلاف ہو تو گفتگو بہترین انداز سے ہو: وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (سورۃالعنکبوت :۴۶) ’’اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے‘‘۔ دعوت الی اللہ ایک ایسا فریضہ ہے جس کا ہر شخص بقدر قابلیت مکلف ہے اس لیے کہ وہ اس فرض کو کسی بھی مقام پر اور کسی وقت بھی انجام دے سکتا ہے۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے کہ وہ اسی چیز کو فرضِ منصبی بناتا ہے جس کا امتِ مسلمہ کا ہر فرد مکلف ہو۔ اسی لیے آپ نے فرمایا: بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً میری طرف سے پہنچاؤ، خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو‘‘ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مسلمان بغیر علم کے مذہبی مسائل بیان کرنا شروع کر دے بلکہ اس کا مطلب ہے دینِ اسلام کے بنیادی عقائد توحید، آخرت و رسالت کو قرآنی آیات کی روشنی میں سادہ انداز میں پیش کرے۔
جو لوگ رسول اللہ کے ہاتھ پر ایمان لا کر مشرف بہ اسلام ہوتے وہ اصحابِ رسول کی جماعت میں شامل ہو جاتے تھے۔اصحابِ رسول کی تربیت و تزکیہ کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے: يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (سورۃ الجمعۃ :۲) ’’وہ ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘
رسول اکرم ﷺ کی دوسری بڑی سنت: جہاد فی سبیل اللہ
اور جب ہجرت کا حکم ہوا تو اس وقت  مدینہ میں آپ کے قیام کا اللہ تعالیٰ نے پیشگی انتظام فرما دیا تھا۔ مدینہ میں رسول اکرم ﷺ کے لیے مکہ سے مختلف صورتحال موجود تھی۔ یہاں پہنچنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کا دعوتی مشن ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں ایک نئی جہت شامل ہوگئی تھی۔ اب آپ داعی اور مربی ہونے کے ساتھ سربراہِ ریاست، قاضی، منتظم اور فوج کے سپہ سالار بھی تھے۔ یعنی آپ نے بیک وقت مذہبی، سیاسی اور عسکری قیادت سنبھال لی تھی۔ میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف قبائل اور مذہبی گروہوں کے ساتھ ایک اجتماعی نظم کو قائم کیا گیا۔ مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کی گئی۔ بازار اور معاشی معاملات کی اصلاح ہوئی۔ زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے کمزور طبقات کی کفالت کا نظام تشکیل پایا۔ عدل و قانون کے سامنے طاقتور اور کمزور دونوں کو برابر قرار دیا گیا۔ اس کے بعد مشرکین مکہ کے حملوں کے مقابلے میں دفاع ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ انصار نے جب رسول اللہ ﷺ کی حمایت کرکے آپ کو مدینے میں اپنا سربراہ بنایا تو سارا مدینہ ہی مشرکین کے حملوں کے نشانہ پر آ گیا تھا۔ غزوہ بدر، احد اور احزاب دفاعی جنگوں کی مثالیں ہیں۔ صلح حدیبیہ کے ذریعے نبی کریم ﷺ نے یہ اسوہ پیش کیا کہ صلح کے ذریعے جنگ  بندی کرنے کے اسباب اگر مہیا ہوں تو اس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چنانچہ اس صلح کے بعد مدینے کے اطراف و اکناف کے قبائل میں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ اس کے بعد ریاست ِ مدینہ کی فوجی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ وہ اقدامی پوزیشن میں آگئی۔ چنانچہ فتح مکہ کی ایسی منصوبہ بندی کی گئی کہ بغیر کسی خون خرابے کے مکہ فتح ہوگیا اور فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ اس طرح جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کے غلبہ کے سارے امکانات روشن ہوگئے۔ اس طرح مدنی دورِ نبوت میں مسلم عوام اور مسلم حکم رانوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں شاندار اسوہ موجود ہے۔ مسلم حکم رانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ اپنے ملک میں نظامِ عدل قائم کریں اور اپنے ملک کو  فوجی لحاظ سے اتنا  طاقتور بنائیں کہ وہ معاشی، تہذیبی اور عسکری لحاظ سے ہر طرح کی غلامی سے آزاد ہو کر اپنے ملک میں دین و شریعت کا نفاذ کریں۔ اسلام میں جنگی احکامات کا خلاصہ یہ ہے:
-۱ جارحیت کے مقابلے میں اپنے ملک کا دفاع کیا جائے (سورۃ الحج :۳۹)
-۲ مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے ظالم ملک کے خلاف جنگی کارروائی کی جائے (سورۃ النساء:۷۵)
-۳ایک فاشسٹ ملک کے خلاف کاروائی کی جائے جہاں اسلام قبول کرنا، اس پر چلنا اور اس کی تبلیغ کرنا ناممکن کر دیا جائے۔اس کیفیت کو فتنہ کہا گیا ہے۔فتنہ کے ازالے کے لیے قتال کو فرض کیا گیا ہے۔ (سورۃ الانفال :۳۹) پھر فرمایا گیا کہ اسلامی ریاست جنگی قوت کو اتنا بڑھائے کہ دشمن ممالک کی ہمت نہ ہو کہ وہ اس پر حملہ کریں، اور دوسرے یہ کہ ظلم اور فتنہ کو دور کرنے کے لیے جس جنگی طاقت کی ضرورت ہو وہ فراہم کی جائے (سورۃ الانفال :۶۰) اتنی واضح ہدایات کے باوجود ۵۷ مسلم ملکوں کے اکثر حکم راں اپنی رعایا اور اسلام کی خدمت کرنے کے بجائے حکومت اور سیاست کو اپنی دولت کو بڑھانے کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔
قرآن نے بار بار مال اور جان کے ذریعے جدوجہد کا ذکر کیا ہے: وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللہ (سورۃ التوبہ :۴۱) ’’اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جدوجہد کرو۔‘‘ جنگی آداب اس طرح سکھائے ہیں کہ فرمایاگیا: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللہِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (سورۃ البقرۃ ۱۹۰) ’’اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، لیکن زیادتی نہ کرو؛ بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ اس لیے جہاد فی سبیل اللہ کو بے قید تشدد یا انفرادی مسلح اقدام کے معنی دینا قرآن و سنت کے مجموعی منہج کے خلاف ہے۔ نبی ﷺ کی جنگیں نظمِ اجتماعی، اخلاقی حدود، معاہدات کی تابع تھیں۔ یہ جائز نہیں ہے کہ مسلمانوں میں سے چند افراد اپنے طور پر جہاد کرنے کا فیصلہ کرکے مسلح کاروائی کریں۔ یہ اختیار ایک مسلم مملکت کے حکم راں کو دیا گیا ہے کہ وہ مشاورت سے جنگی فیصلے کرے۔
دنیا میں اس وقت انسانوں کی آبادی ۸ ارب سے زائد ہے۔ اس میں سے ۸۰ فیصد غیر مسلم آبادی تک اسلام پہنچانے اور ۲۰ فیصد مسلمانوں کی اصلاح کے لیے جتنے داعیانِ حق کی ضرورت ہے اس کا عشرِ عشیر بھی میدان میں موجود نہیں ہے۔ اس لیے شاید اللہ تعالیٰ نے اس کا دوسرا انتظام فرمایا ہے اور سائنس دانوں کو اللہ نے مصنوعی ذہانت (AI) کا ایسا علم دیا ہے جس کی بدولت دنیا میں ہر شخص کو گھر بیٹھے اسلام کی معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ کل بروزِ قیامت کسی کے پاس یہ عذر نہیں رہے گا کہ ہم کو اللہ کے تخلیقی منصوبے کے بارے میں کوئی بتانے والا نہیں تھا۔ انٹرنیٹ اور AI کے اس دور میں جبکہ ہر شخص کے لیے دینِ حق تک رسائی ممکن ہو چکی ہے تو مسلمانوں کو کم از کم یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے عمل سے اسلام کی تصویر کو نہ بگاڑیں اور خرافات کے ذریعے اسلام کے پھیلنے میں سدِّ راہ نہ بنیں۔ اگر وہ اپنی بد عملی سے اسلام کے بجائے غیر اسلام کی شہادت دیں گے تو آخرت میں تو پکڑ ہوگی ہی اس دنیا میں بھی اللہ کے غضب کا شکار ہوں گے۔ پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے جن محاذوں پر اپنا خون بہایا ہے، کیا ہم نے آپ کی اتباع میں کم از کم پسینہ ہی بہایا ہے؟