للن نے کلن سے کہا یار میں تو یوگی کو بڑا بہادر سمجھتا لیکن وہ بھی شاہ اور پردھان جی کی مانند بزدل نکلے۔
یار للن! تمہاری یوگی سے دشمنی تو قابلِ فہم ہے مگر اب تو تم نے شاہ سمیت پردھان جی کو بھی لپیٹ لیا!
بھیا یہ بھلے برے کی بات نہیں سچائی ہے سچائی۔ وہ دنوں مل کر معمولی کاکروچوں کو نہیں کچل سکے اس کے باوجود تم انہیں شیر سمجھ رہے ہو؟
دیکھو جس طرح کاکروچوں کو تم حقیر سمجھ رہے ہو اسی غلط فہمی میں تو ہمارے چیف جسٹس صاحب بھی گرفتار ہوئے تھے لیکن تم جانتے ہو کہ ان کا کیا حشر ہوا؟
للن نے پوچھا ان کا کون سا بال بیکا ہوا؟چیف جسٹس صاحب تو اب بھی اپنی کرسی پر براجمان ہیں۔
کرسی پر چپکے رہنے سے کیا ہوتا ہے۔ ان کی عزت تو ملیا میٹ ہوگئی۔ اپنے وقار کا ذرہ برابر خیال ہوتا تو استعفیٰ دے دیتے۔
بھیا وہ بھی سنگھ پریوار سے ہیں۔ ہم لوگ بزدلوں کی طرح استعفیٰ دے کر نہیں بھاگتے کیا سمجھے؟
سمجھ گیا بھیا سمجھ گیا۔ ہم لوگ لاکھ رسوائی کے باوجود اپنی کرسی سے چپکے رہتے ہیں مگر پھر دھرمیندر پردھان سے کیوں استعفیٰ لیا گیا؟
بھیا وہ استعفیٰ بھی دھرمیندر پردھان نے خوشی سے تھوڑی دیا تھا۔ وہ تو نوجوانوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ہماری مجبوری تھی ورنہ....
کلن نے سوال کیا ورنہ کیا؟
ورنہ بات شاہ تک پہنچ گئی تھی اور تم تو جانتے ہی ہو کہ اگر ان کو جانا پڑ جاتا تو اگلا نمبر کس کا تھا؟ میں تو وہ سوچ کر ہی سہم جاتا ہوں۔
کیوں اس میں سہم جانے کی کیا بات ہے؟تم نے نہیں سنا ’جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے‘۔ بائیولوجیکل ہو یا نان بایولوجیکل۔
للن نے کہا ارے ہاں مگر پھر وہ 2047 کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہوگا؟
یہ نہ بھولو کہ اس وقت پردھان جی کی عمر 97 سال ہوگی اور ایسی ضعیفی میں وہ کیا کر سکیں گے۔ اپنے اڈوانی جی کو دیکھ لو ان کی کیا حالت ہوگئی ہے؟
للن بولا وہ تو ٹھیک ہے مگر جسٹس سوریہ کانت کیوں استعفیٰ دیں؟ انہوں نے پیپر لیک تھوڑی کیا ہے؟
انہوں نے پیپر لیک نہیں کیا مگر سارے معاملے کی جڑ تو وہی ہیں۔ وہ نہ کاکروچ والا تبصرہ کرتے اور نہ سی جے پی وجود میں آتی اور نہ ہی یہ دن دیکھنا پڑتا۔
ارے بھائی زبان میں ہڈی تھوڑی ہے۔ پھسل جاتی ہے۔ اب اس کے لیے استعفیٰ لے لوگے کیا؟ انہوں نے تو اپنی صفائی بھی دے دی ہے۔
دیکھو زبان نہیں پھسلی تھی بلکہ دل کی بات زبان پر آگئی تھی ورنہ وہ ویڈیو دیکھنے سے انکار نہیں کرتے۔
تم کس ویڈیو کی بات کر رہے ہو کلن؟ آج کل تو لوگ دن بھر میں سیکڑوں ویڈیو کلپس دیکھتے ہیں۔
وہی تو۔ جنتر منتر کے مظاہرین پر لاٹھی چارج کی ایک ویڈیو مفادِ عامہ کی شکایت کرنے والے وکیل نے عدالت میں پیش کی تو انہوں نے دیکھنے سےانکار کر دیا۔
اچھا تو انہوں نے کیا کہا؟
جسٹس صاحب نے کہہ دیا ہمارے پاس اس ویڈیو کو دیکھنے کے لیے وقت نہیں ہے۔
اچھا؟ اس قدر رعونت کہ ان کی ناک کے نیچے طلبا اور نوجوان لاٹھیاں کھا رہے ہیں اور موصوف ان کی ویڈیو تک نہیں دیکھنا چاہتے۔
جی ہاں بھیا اسی بے حسی نے نوجوانوں کا خون کھولا دیا ہے۔ جسٹس صاحب کے اندر ان کو اپنا دشمن نظر آنے لگا۔
یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیا کسی نے اپنے انٹرویو میں یہ بات کہی تھی؟
جی نہیں عمل کی گواہی زبان سے طاقتور ہوتی ہے۔ ملک کی معروف قانونی یونیورسٹی نلسار کے طلبا نے ان کے ہاتھوں ڈگری لینے سے انکار کردیا تھا۔
یار یہ تو چیف جسٹس کی توہین ہے۔ ایسا کرنے والوں پر ہتک عزت کا مقدمہ چلنا چاہیے۔
یہ احمقانہ غرور ہے۔ بار اسوسی ایشن کے سربراہ للن سنگھ نے بھی تمہاری طرح ان طلبا کو سزا دینے کی کوشش کی تھی کیا سمجھے؟
بار اسوسی ایشن کے چیف کو سزا دینے کا حق کس نے دے دیا؟ وہ کوئی جج ہے کیا؟
ارے بھائی جب پردھان جی اپنے آپ کو وشوگرو سمجھ سکتے ہیں تو للن سنگھ پھر بھی وکالت کے پیشے سے تو منسلک ہے۔
تو کیا خود جج سمجھ کر یہ حکم نامہ جاری کر دے گا کہ ان طلبا کو کسی عدالت میں پریکٹس کی اجازت نہ دی جائے؟ ایسا کوئی کیسے کہہ سکتا ہے؟
ارے بھائی ایک طالب علم محنت کرکے امتحان پاس کرے اور صرف کسی فردِ خاص سے ڈگری نہ لے تو کیا فرق پڑتا ہے۔
اس معمولی بات کے لیے کیا کسی کو پریکٹس کرنے سے محروم کیا جاسکتا ہے؟ یہ جرأت بے جا ہے۔ کس بیوقوف نے اسے بار کی کمان سونپی ہے۔
وہ ہمیں میں سے ایک ہے اور ہم جیسے بھکتوں نے ہی اسے سربراہ بنایا ہے۔
یار پھر تو ہم خود ہی قصور وار ٹھیرے۔
اور نہیں تو کیا مگر اس شر سے یہ خیر کا پہلو نکلا کہ نلسار کے طلبا کا احتجاج اور للن سنگھ کی حماقت نے مل کر جسٹس صاحب کا دماغ روشن کر دیا۔
یہ انکشاف تم پر کیسے ہوا؟
ارے بھائی وہ معاملہ بھی جسٹس صاحب کے سامنے آیا اور اس پر ان کے فیصلے نے یہ بات واضح کر دی۔
اچھا! تو انہوں نے اس پر کیا کہا؟
بھیا چیف جسٹس نے للن سنگھ کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ یہ طلبا اور کالج انتظامیہ کا معاملہ اس میں کسی تیسرے کو دخل دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
یار یہ تو نہایت معقول فیصلہ ہے۔ کاش کہ وہ پہلے سے ایسے فیصلے کرتے تو ساید رسوا نہ ہوتے۔
دیکھو بھیا جن کے دماغ آسمان پر ہوتے ہیں وہ جب تک ٹھوکر کھا کر اوندھے منہ نہیں گرتے ٹھیک نہیں ہوتے۔ یہی جسٹس صاحب کے ساتھ ہوا۔
اچھا تو کیا وہ اب بالکل سدھر گئے ہیں؟
ہاں۔ اس کے بعد انہوں نے کئی ایسے فیصلے کیے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف لائن پر آچکے ہیں ۔
اچھا! اگر ایسا ہوا ہے تو ہمیں بھی بتاو۔ مجھے خوشی ہوگی۔
بھیا کاکروچ کے معاملے میں ہی جب یہ بات ان کے سامنے آئی کہ ان کے جلوس سے نظم و نسق کو خطرہ ہے تو انہوں نے بڑا دو ٹوک رخ اختیار کیا۔
ہاں۔ تو برکس کانفرنس سے پہلے طے تھی اور اس میں گڑبڑ سے ملک کی شبیہ بگڑ سکتی تھی۔
اس کا حوالہ بھی دیا گیا تھا مگر جسٹس صاحب نے صاف کہہ دیا کہ ایسے حیلے بہانوں سے کسی کو احتجاج کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
یار یہ فیصلہ تو بالواسطہ حکومت کے خلاف چلا گیا۔
بھیا انہوں نے بلا واسطہ بھی کہہ دیا کہ نظم و نسق کو قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
یہ تو عمومی بات ہے اس میں حکومت کے خلاف کیا ہے؟
وہی کہ اگر نظم و نسق قائم نہیں رکھ سکتے تو چور دروازے سے روکنے کے بجائے جھولا اٹھاؤ اور اپنا راستہ ناپو۔
یار مجھے تو لگتا ہے کہ اب جسٹس صاحب تار کی طرح سیدھے ہوگئے ہیں۔
صحیح کہا۔ کاکروچوں نے سرکاری وعدہ خلافی پر سوال اٹھایا تو انہوں نے مظاہرین کے تمام مقدمات واپس کروائے اور تین ماہ میں ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
اچھا یہ بتاو کہیں تم کو اس میں بغاوت کی بو تو نہیں آتی؟
ارے بھائی تم بھول گئے بغاوت کی جرأت ہم سنگھیوں میں نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسا گمان مت کرو۔
اچھا تو پھر آخر جسٹس صاحب کو یہ کیا ہوگیا؟
مجھے تو لگتا ہے کہ وہ ڈر گئے ہیں۔ ہمارا تو یہی فلسفہ ہے کہ پہلے سامنے والے کو ڈراو اور اگر وہ نہ ڈرے تو خود ڈر جاو۔ یہی ہوا ہوگا۔
جی ہاں وہ تو ہے مگر شاہ اور پردھان جی ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔
یار تم کچھ بھی بول دیتے ہو۔ وہ لوگ اگر بہادر ہوتے تو اس طرح ایوان پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے منہ چھپاتے نہ پھرتے۔ سینہ ٹھونک کر مقابلہ کرتے۔
ارے بھیا کبھی کبھار آگے بڑھنے کے لیے ایک قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں وہ ایسی ہی ایک حکمتِ عملی تھی۔
چلو مان لیا مگر جب پپو یادو پارلیمانی احاطے میں چندہ چوری کا ناٹک کرکے ہمارا مذاق اڑا رہا تھا اس وقت ہمارے ارکان پارلیمنٹ کی غیرت کہاں مرگئی تھی؟
یار سچ بتاوں؟ وہ منظر دیکھ کر میرا بھی خون کھول گیا تھا اور اپنا پرانا نعرہ یاد آگیا۔
تم کس پرانے نعرے کی بات کر رہے ہو؟
وہی ’جس ہندو کا خون نہ کھولے خون نہیں وہ پانی ہے۔ جنم بھومی کے جو کام نہ آئے وہ بیکار جوانی ہے‘۔
ہاں بھیا رام جنم بھومی مندر کا مذاق اڑایا گیا اور دونوں ایوانوں ہمارے تین سے زائد ارکان خاموش تماشائی بنے رہے۔ میرا تو سر شرم سے جھک گیا۔
یار رام مندر کے معاملے میں پردھان جی کے علاوہ شاہ اور یوگی بھی یکساں ہی ہیں۔
بھیا گھوم پھر کر تم پھر سے وہی پہنچ گئے۔ آخر آج تم کو ہو کیا گیا ہے؟
یہ سمجھ لو کہ آج ’سینے میں میرے درد سوا ہوتا ہے‘۔
ارے بھائی سینے میں در ہے تو کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاو، یوگی کے پیچھے پڑنے سے کیا وہ مرض ٹھیک ہو جائے گا؟
تم نہیں سمجھو گے کلن۔ اس درد کی دوا کسی حکیم یا ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے۔ اچھا یہ بتاو کہ اترپردیش کا وزیر داخلہ کون ہے؟
یوگی اور کون؟ اتنا اہم شعبہ وہ کسی اور کے حوالے کرنے کا خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں؟
یہی خطرہ اور ڈر سارے فساد کی جڑ ہے۔ اوپر سے نیچے تک ہر کوئی اقتدار سے محرومی کے خوف میں مبتلا ہو چکا ہے۔
یار للن تم بات کرتے کرتے اچانک پہیلیاں بجھوانے لگتے ہو۔ سیدھے بتاو کہ مسئلہ کیا ہے؟
اچھا یہ بتاؤ کہ اگر یوگی ریاست کے وزیر داخلہ بھی ہیں تو یو پی کی پولیس ان سے کیوں نہیں ڈرتی؟ میرا مطلب ہے کہ ان کی بات کیوں نہیں مانتی؟
ارے بھائی انہیں کے اشارے پر تو بلڈوزر چلا کر انکاونٹر کرکے اس نے ملک بھر میں اپنا نام بد نام کیا ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ وہ ان کی بات نہیں مانتی؟
بھیا میں رام مندر کے تناظر میں بات کر رہا ہوں۔ کیا تم جانتے ہو کہ اس معاملہ میں داخل کی جانے والی چارج شیٹ میں کیا انکشافات ہوئے تھے۔
نہیں بھیا اپنی رام دھن واٹس ایپ یونیورسٹی میں تو اس بابت کچھ آیا ہی نہیں اس لیے ہمیں کیسے پتہ چلتا؟
ارے بھائی کبھی اس گلی سے نکل کر اِدھر ادھر تانک جھانک کرلیا کرو۔ دیکھو کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا کچھ کہتے اور لکھتے ہیں۔
دیکھو بھائی پہلے میں ایسا کرتا تھا مگر جب سے یہ جین زی آئی ہے ایسی خراب زبان استعمال کرتی ہے کہ موڈ ہی خراب ہو جاتا ہے۔
لیکن بھائی ہم لوگ تو پچھلے تیرہ سالوں سے دوسروں کی دلآزاری کر رہے ہیں۔ اور تم تو جانتے ہی ہو کہ گالی گلوچ میں کوئی ہم سے آگے نہیں نکل سکتا۔
دیکھو بھائی دوسروں کو دی جانے والی گالی جب لوٹ کر آتی ہے تو گولی سے کم نہیں ہوتی۔ خیر یہ بتاؤ کہ چارج شیٹ میں کیا انکشاف ہوا؟
بھیا چارج شیٹ کے مطابق 4 جون کو سوا دو لاکھ روپے کی رقم باتھ روم میں ملنے کی ویڈیو چمپت رائے کو بھیجی گئی۔
یہ تو اچھی بات ہے ہمارے رام بھکت اتنے بیدار تھے کہ فوراً چوری پکڑ کر ویڈیو بنالی۔ کوئی اور ہوتا تو چپ چاپ چرا کر گھر لے جاتا۔
ارے بھائی گھر لے جاتے ہوئے پکڑے جانے کے ڈر سے کسی رام بھکت نے وہ رقم حمام میں پھینکی ہوگی۔
اچھا تو آگے کیا ہوا؟
بھائی اگلے دن 5 جون کو چمپت رائے کو سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دکھایا گیا۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 25 جون کو درج ہوئی۔
ارے ہاں مگر ایف آئی آر تو درج ہوگئی نا؟
یہی تو سوال ہے کہ جب سی سی ٹی وی، برآمدگی اور مشتبہ ملازمین کی شناخت سامنے آ چکی تھی تو مجرمانہ کارروائی میں اکیس دنوں کی تاخیر کیوں ہوئی؟
کلن بولا تو کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ایسا کسی بچانے یا کچھ چھپانے کے لیے کیا گیا؟ اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو فردِ جرم داخل ہی کیوں ہوتی؟
چارج شیٹ کے مطابق سی سی ٹی وی میں چڑھاوے کی رقم چرانے کے 105 واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایک ملزم 85 بار رقم چوری کرتا نظر آیا۔
ارے ہاں تو اس کے خلاف کارروائی بھی ہوئی نا؟
ہاں ہوئی لیکن ایس آئی ٹی کو سب کچھ پتہ چلنے کے تین دن بعد بھی چمپت رائے نے چڑھاوا چوری ہونے سے انکار کیوں کیا؟
یار پرانی باتوں سے کیا حاصل۔ اب جو ہوا سو ہوا۔
بھیا لوگ پوچھ رہے ہیں کہ آخر چمپت رائے، انل مشرا اور گوپال راؤ کو ملزم کیوں نہیں بنایا گیا، انہیں گواہ بنا کر بچایا کیوں جا رہا ہے؟
ارے بھائی وہ لوگ ٹرسٹی ہیں۔ ان کا کچھ تو خیال رکھنا پڑے گا نا؟
پھر وہی سوال کہ عوام کا بھروسا ٹوٹنے کے باوجود وہ لوگ ٹرسٹ میں کیوں ہیں؟
ارے بھائی نیا سی ای او آگیا ہے جو سابق فوجی بھی ہے اب گڑے مردے اکھاڑنے سے کیا فائدہ؟
تو کیا چوری کا معاملہ دفن کر دیا جائے گا؟ کیا چڑھاوا چوری کی حقیقت کے لیے انتظام کی نگرانی اور ذمہ داری پر فائز لوگوں کی جانچ ضروری نہیں ہے؟
ہے بھائی ہے مگر اب ایس آئی ٹی کے بعد مخالفین کا کیا اعتراض ہے؟
وہ پوچھتے ہیں کہ سو سے زیادہ واقعات سامنے آئے، ہزاروں ڈیجیٹل پیغامات کی جانچ ہوئی مگر پھر بھی جانچ کے دائرے میں صرف آٹھ ہی لوگ ملزم کیوں ہیں؟
ارے بھائی جو ملزم ہے اسی کو سزا دیں گے، نہ کہ آپ کو اور ہم کو پکڑ کر لے جائیں گے؟
اس سے تو صاف نظر آ رہا ہے کہ ایس آئی ٹی نے پورے سسٹم کی جواب دہی طے کرنے کے بجائے صرف چھوٹے مہروں کو نشانہ بنایا ہے۔
بھیا مجھے تو لگتا ہے کہ یہ راون بھکت رام مندر کے بہانے ہمیں پریشان کر رہے ہیں۔ آپ ان کو بھول جائیں۔
دیکھو بھائی ہمارے بھولنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ رام بھکتوں کا بھروسا ختم ہو جائے تو ہم یو پی کا الیکشن نہیں جیت پائیں گے؟
ہاں وہ تو مشکل ہے مگر اس کا کیا علاج ہے؟
بھیا اس کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ تفتیش ہونی چاہیے۔
پھر وہی سپریم کورٹ۔ کہیں اس معاملے میں بھی جسٹس سوریہ کانت نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا تو کیا ہوگا؟
ہاں یہ خطرہ تو ہے۔ پھر تو اس کا ایک ہی علاج ہے کہ پردھان جی خاموشی توڑیں اور تنقید کریں ورنہ انہیں چوروں کا چوکیدار سمجھا جائے گا۔
یار وہ تو اب بھی سمجھا جا رہا ہے مگر جب سے کاکروچ آئے ہیں پردھان جی کا ہر بیان مذاق بن جاتا ہے۔ چندہ چوری معاملے میں بھی یہی ہوگا۔
اچھا اگر خطرہ اتنا ہی سنگین ہے تو جھولا اٹھا کر چلتے بنو۔ آخر کب تک ہمیں یونہی رسوائی جھیلنی پڑے گی۔