مساجد میں وقف بورڈ کی مبینہ مداخلت کے خلاف کشمیری علمائے کرام کی حکمتِ عملی؟
کشمیری مسلمانوں کا مشترکہ اور نمائندہ پلیٹ فارم MMU
متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر کا قیام، پس منظر، اغراض و مقاصدپر میر واعظ عمر فاروق علماء کی تنظیم کی جانب سے جموں و کشمیر اور لداخ میں ماہانہ مشترکہ جمعہ خطبے کا اہتمام؛
بھارت میں اظہارِ رائے اور مذہبی آزادی کی گنجائش کیوں سکڑ رہی ہے؟
کشمیر میں جمعہ کے خطبات کو یکساں بنانے کی وقف بورڈ کی تجویز نے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مسلم تنظیموں، علمائے کرام اور جموں و کشمیر کی حکم راں نیشنل کانفرنس نے اسے مذہبی خودمختاری میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔ شدید ردِعمل کے بعدکشمیر وقف بورڈ کی صدرڈاکٹر درخشاں اندرابی کو اپنے مؤقف میں نرمی لانا پڑی۔اس تنازع، وقف بورڈ کے اختیارات، مساجد کے منبر کی آزادی اور کشمیری مسلمانوں کے مشترکہ مذہبی پلیٹ فارم متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر کے قیام و مقاصد پر میرواعظِ کشمیر، ڈاکٹر محمد عمر فاروق، بانی صدر متحدہ مجلس علماء نے ہمارے ایکزیکیوٹیو ایڈیٹرڈاکٹر خالد ملا سے خصوصی گفتگو کی۔
تناظر:
11 اکتوبر 2026 کو جموں و کشمیر وقف بورڈ کی صدرڈاکٹر درخشاں اندرابی کی جانب سے جمعہ کے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات متعین کرنے کی تجویز کے تنازع کا بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ ائمہ مساجد منشیات کی لت، خودکشی اور دیگر سماجی مسائل پر گفتگو کریں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مسجد کے منبر سے دیے جانے والے خطبے کے موضوعات طے کرنے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے؟ کیا یہ اختیار علماء اور مقامی ائمہ کے پاس رہے گا یا وقف بورڈ سے وابستہ کسی ادارے کے ذریعے خطبات کے موضوعات متعین کیے جائیں گے؟
سیدہ درخشاں اندرابی مارچ 2022 سے جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ہیں اور انہیں وزیر مملکت کا درجہ حاصل ہے۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی مجلسِ عاملہ کی رکن بھی ہیں۔ کئی حلقوں میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا کہ بی جے پی اس تجویز کے ذریعے صورتِ حال کو آزمانا چاہتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر 2025 میں درخشاں اندرابی اس وقت ایک عوامی تنازع کا مرکز بن گئی تھیں، جب ان کی سربراہی میں وقف بورڈ نے سری نگر کی معروف درگاہ حضرت بل کی تزئین و مرمت کے بعد افتتاحی تختی پر قومی نشان نصب کیا تھا۔ اس تختی پر قومی نشان (اشوک کے ستون پر موجود شیروں کی شبیہ) کو کندہ کیا گیاتھا۔ اس اقدام پر مقامی سیاسی رہنماؤں اور دینی شخصیات نے اعتراض کیا اور اسے کسی عبادگاہ کے لیے نامناسب قرار دیا تب اس کو توڑ دیا گیا تھا.
موجودہ تنازع محض خطبۂ جمعہ کے موضوعات متعین کرنے تک محدود نہیں ہے۔ اس کے پس منظر میں مذہبی خودمختاری، وقف بورڈ کے اختیارات اور سیاسی اعتماد جیسے بنیادی سوالات بھی موجود ہیں۔ اصل بحث یہ ہے کہ بی جے پی سے وابستہ کسی ادارے کی جانب سے شروع کیے گئے اقدام کو سماجی اصلاح کی کوشش سمجھا جائے یا مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں سیاسی مداخلت؟ اس معاملے میں کشمیر کے مقامی حالات، مذہبی تنوع اور مساجد و درگاہوں کے انتظام میں وقف بورڈ کے اختیارات کی حدود کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
دعوت ویکلی سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ کے قریبی ساتھی، متحدہ مجلس علماء کے سکریٹری اور رسالہ نصرت الاسلام کے مدیرِ اعلیٰ سید شمس الرحمٰن قاسمی نے بتایا کہ ایک منفرد اجتماعی اقدام کے تحت جموں وکشمیر اور لداخ کی 70 سے زائد بڑی مساجد میں جمعہ، 16 اکتوبر کو متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر کی اپیل پر’ایمان‘ کے مشترکہ موضوع پر خطبات دیے گئے۔ یہ مشترکہ مہم وادیٔ کشمیر کے تمام اضلاع، بشمول سری نگر، بڈگام، گاندربل، بارہمولہ، بانڈی پورہ، کپواڑہ، اننت ناگ، کولگام، پلوامہ، سوپور اور شوپیاں تک پھیلی۔ اس کے علاوہ جموں، راجوری، پونچھ، اودھم پور اور وادیٔ چناب کے اضلاع ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن میں بھی "ایمانیات" کے موضوع پر خطبات دیے گئے۔ یہ مہم لداخ کے علاقوں کرگل، دراس اور لیہہ تک پہنچی۔اس اقدام میں حنفی، شیعہ، اہلِ حدیث، بریلوی اور دیوبندی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، ائمہ اور خطباء بھی شامل ہوئے۔ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کی اس مشترکہ شرکت کو دینی اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔ اپنے اپنے مذہبی اسلوب اور تشریحات میں فرق کے باوجود انہوں نے رضاکارانہ طور پر ایمان کے مشترکہ پیغام کو عام کیا، جبکہ ہر مسلک کے منبر کی آزادی اور تقدس کو برقرار رکھا۔ سید شمس الرحمٰن قاسمی کے مطابق یہ اقدام 15 ستمبر کو متحدہ مجلس علماء کی جانب سے منعقدہ علماء کانفرنس میں مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اہم مذہبی اور سماجی مسائل سے اجتماعی طور پر نمٹنے کے لیے مخصوص جمعہ خطبات، ضلعی سطح پر سرگرمیوں اور مسلسل عوامی بیداری کی مہمات کا اہتمام کیا جائے گا۔ ان میں امتِ مسلمہ کا اتحاد، منشیات کی لت، خودکشی، ذہنی صحت کے مسائل، نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال، خاندانی اقدار اور ماحولیاتی تحفظ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ڈیڑھ ماہ میں ایک مرتبہ، جمعہ کے خطبات دیے جانے کا منصوبہ ہے۔
آئیے، دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر مولانا محمد عمر فاروق نے ہمارے سوالات کے جواب میں کیا کہا۔
انٹرویو از میرواعظ کشمیر، ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق، بانی صدر متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر
سوال :1
متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر کے بارے میں کچھ بتائیے۔ اس پلیٹ فارم کے قیام کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
جواب:
متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر مختلف اسلامی مکاتبِ فکر، دینی تنظیموں، علماء و مشائخ اور مذہبی و تعلیمی اداروں کا ایک مشترکہ اور نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے دینی تشخص، عقائد، تہذیبی اقدار اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ باہمی اتحاد، رواداری اور اخوت کو فروغ دینا اور معاشرے کو درپیش اہم دینی و سماجی مسائل پر مشترکہ رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
اس پلیٹ فارم کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر اپنے فقہی اور مسلکی اختلافات کے باوجود مشترکہ دینی اور اجتماعی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد کسی کے مسلک کو بدلنا یا اختلافات کو مٹانا نہیں، بلکہ ان کا احترام کرتے ہوئے ان مشترکہ امور پر متحد ہونا ہے جو پوری ملت اور معاشرے کے مفاد میں ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ آج کے حالات میں باہمی انتشار کی گنجائش نہیں ہے۔ ہماری اصل قوت اتحاد، باہمی احترام، مشترکہ ذمہ داری کا احساس اور مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے عملی کوشش ہے۔
سوال :2
اس پلیٹ فارم کے ذریعے آپ عوام سے کیا چاہتے ہیں؟
جواب:
ہمارا مقصد صرف بیانات جاری کرنا یا مذہبی اجتماعات منعقد کرنا نہیں ہے بلکہ علماء، مساجد، امام بارگاہوں، خانقاہوں اور دینی اداروں کے ذریعے معاشرے میں ایک مثبت اور پائیدار تبدیلی لانا ہے۔ آج خصوصاً نوجوان نسل کو منشیات، اخلاقی بے راہ روی، خاندانی نظام کی کمزوری، سوشل میڈیا کے منفی استعمال، دینی شعور میں کمی اور مختلف معاشرتی دباؤ جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ مسائل کسی ایک مکتبِ فکر یا ادارے تک محدود نہیں۔ چنانچہ اسی تناظر میں ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶ کو متحدہ مجلس علماء کے زیرِ اہتمام ایک اہم علماء کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں اور مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ اس میں اتفاق ہوا کہ مذہبی اداروں کو نوجوانوں کی رہنمائی، اخلاقی تربیت، والدین سے رابطے، معاشرتی اصلاح اور اجتماعی فلاح کے مؤثر مراکز بنایا جائے۔
اسی فیصلے کی عملی کڑی کے طور پر ۱۶ اکتوبر کو شریک مساجد اور امام بارگاہوں میں رضاکارانہ طور پر مشترکہ موضوع ’’ایمان‘‘ پر جمعہ کے خطبات اور بیانات دیے گئے۔ مختلف مکاتبِ فکر نے اپنے اپنے اسلوب اور علمی روایت کے مطابق اس موضوع پر گفتگو کی۔ ہمارا ارادہ ہے کہ اس اجتماعی کوشش کو مشاورت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور اصلاح کی بات کو عملی اقدامات میں بدلا جائے۔
سوال :3
بعض علماء اور حلقے جمعہ کے خطبے کے لیے ایک مشترکہ موضوع منتخب کرنے کو وقف بورڈ کی تجویز جیسا سمجھ رہے ہیں۔ اس بارے میں آپ کا مؤقف کیا ہے؟
جواب:
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ علماء کا اپنی آزادانہ مشاورت سے کسی اہم دینی یا سماجی موضوع پر مشترکہ رہنمائی فراہم کرنے کا فیصلہ ایک چیز ہے، جبکہ کسی سرکاری یا انتظامی ادارے کی طرف سے خطبے کا موضوع یا مواد متعین کرنا بالکل دوسری بات ہے۔
متحدہ مجلس علماء نے کسی امام، خطیب یا مسجد پر کوئی مخصوص خطبہ مسلط نہیں کیا۔ نہ کوئی تیار شدہ متن دیا گیا اور نہ ہی کسی مذہبی ادارے کی آزادی محدود کی گئی۔ ہم نے صرف باہمی اتفاق سے ایک اہم موضوع منتخب کیا ہے، جبکہ ہر عالم اور خطیب کو اپنے علم، مسلک اور اسلوب کے مطابق گفتگو کی مکمل آزادی ہے۔ جمعہ کا منبر ایک دینی امانت ہے۔ اس سے رہنمائی کا اختیار علماء اور ائمہ کا ہے، نہ کہ کسی انتظامی محکمے کا۔ رضاکارانہ اشتراک کو حکم اور پابندی کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
سوال:4
کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی بھی سماجی برائیوں کے خلاف جمعہ کے خطبات میں یکسانیت کی بات کرتی رہی ہیں۔ اس اقدام کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
جواب:
سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ منشیات، اخلاقی زوال اور نوجوانوں کو درپیش مسائل پر رہنمائی یقیناً ضروری ہے۔ خود متحدہ مجلس علماء نے انہی معاملات کو اپنی اجتماعی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اختلاف مقصد ِ اصلاح پر نہیں، بلکہ طریقہ کار اور اختیار کے سوال پر ہے۔
اگر علماء اور ائمہ باہمی مشاورت سے کسی موضوع پر متفق ہوتے ہیں تو یہ خوش آئند ہے۔ لیکن اگر کوئی سرکاری یا انتظامی ادارہ یہ طے کرنے لگے کہ جمعہ کے منبر سے کیا کہا جائے، کیا نہ کہا جائے یا کس انداز سے کہا جائے، تو یہ مذہبی امور میں غیر ضروری مداخلت ہوگی۔
وقف بورڈ کی بنیادی ذمہ داری وقف املاک، مساجد اور متعلقہ اداروں کا شفاف اور مؤثر انتظام ہے۔ مذہبی رہنمائی، خطبات اور دینی تعبیر کی ذمہ داری اہلِ علم اور دینی اداروں کے پاس رہنی چاہیے۔ سماجی اصلاح کے لیے تعاون ضرور ہونا چاہیے لیکن مذہبی خودمختاری کی قیمت پر نہیں۔
سوال:4
متحدہ مجلس علماء کے مشترکہ خطبے کے اعلان کے بعد وقف بورڈ کی جانب سے بھی خطبات کے موضوعات متعین کرنے کی بات سامنے آئی۔ آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب:
متحدہ مجلس علماء نے ۱۵ ستمبر کی کانفرنس میں باقاعدہ مشاورت کے بعد اجتماعی اصلاحی پروگرام کا فیصلہ کیا تھا اور ۱۶ اکتوبر کو اس کی پہلی عملی صورت سامنے آئی۔ یہ عمل رضاکارانہ، شفاف اور مختلف مکاتبِ فکر کی آزادانہ شرکت پر مبنی تھا۔
وقف بورڈ کی تجویز کے وقت اور انداز کے بارے میں سوالات اٹھنا فطری ہے، لیکن ہم کسی کی نیت کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارا اعتراض اصولی ہے: مذہبی ادارے اپنے خطبات اور دینی رہنمائی کے بارے میں خود مختار رہیں۔ کسی سرکاری ادارے کو اس عمل پر اختیار یا نگرانی کا حق نہیں دیا جا سکتا۔
ہم چاہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنی متعین ذمہ داریوں کے اندر رہ کر معاشرتی اصلاح میں کردار ادا کریں۔ علماء کے درمیان مشاورت اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہماری ترجیح ہے۔
سوال:6
کیا اس طرح کی مداخلت کے اثرات جموں و کشمیر سے باہر بھارت کی دوسری مساجد پر بھی پڑ سکتے ہیں؟
جواب:
یقیناً یہ معاملہ اصولی طور پر صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں۔ اگر کہیں یہ روایت قائم ہوجائے کہ کوئی سرکاری یا انتظامی ادارہ جمعہ کے خطبات کے موضوعات اور ان کے مواد کا فیصلہ کر سکتا ہے تو اسی نوعیت کی مداخلت کا راستہ دوسرے علاقوں میں بھی کھل سکتا ہے۔
ہندوستان بھر میں مسلمانوں کی مساجد، مدارس، امام بارگاہیں، خانقاہیں اور دیگر مذہبی ادارے اپنی الگ علمی اور تاریخی روایات رکھتے ہیں۔ ان اداروں کا دینی کردار اور ان کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔ ان میں اصلاح، احتساب اور شفافیت کے تقاضے اپنی جگہ ہیں مگر مذہبی رہنمائی کو انتظامی احکامات کے تابع کرنا درست نہیں۔
اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ ملک بھر کے ذمہ دار علماء، مشائخ اور معتبر دینی ادارے باہم رابطے میں رہیں اور ایسے معاملات پر مشترکہ، پُرامن اور اصولی مؤقف اختیار کریں۔
سوال :7
اگر وقف بورڈ اپنی سابقہ تجویز سے پیچھے ہٹ گیا ہے تو متحدہ مجلس علماء آئندہ کیا لائحہ ٔ عمل اختیار کرے گی؟
جواب:
اگر بورڈ نے یہ واضح کردیا ہے کہ خطبے کا موضوع اور مواد مساجد کے ائمہ اور خطباء کی آزادانہ صوابدید رہے گا تو یہ ایک مثبت بات ہے۔ لیکن ہمارے لیے اہم صرف ایک تجویز کا واپس لیا جانا نہیں، بلکہ اس اصول کا مستقل احترام ہے کہ دینی معاملات میں علماء اور مذہبی اداروں کی آزادی برقرار رہے۔
متحدہ مجلس علماء اپنا اصلاحی پروگرام جاری رکھے گی۔ مشترکہ موضوعات پر رضاکارانہ خطبات، نوجوانوں اور والدین کی رہنمائی، علماء کی مقامی سطح پر ملاقاتیں اور معاشرتی مسائل پر اجتماعی کوششیں اسی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ہماری خواہش کسی سے محاذ آرائی نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول قائم کرنا ہے جس میں دینی ادارے اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
سوال:8
کیا آپ اپنے مؤقف کے حق میں سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں گے؟
جواب:
متحدہ مجلس علماء بنیادی طور پر ایک دینی، علمی اور سماجی پلیٹ فارم ہے، سیاسی جماعت نہیں۔ ہمارا مقصد کسی سیاسی جماعت کے لیے کام کرنا یا سیاسی وابستگی اختیار کرنا نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، دینی اداروں کی خودمختاری، مسلمانوں کے اجتماعی مفادات اور معاشرتی اصلاح سے متعلق اصولی معاملات کو اٹھانا ہے۔ ان معاملات میں کسی بھی ذمہ دار شخص، عوامی نمائندے یا سیاسی جماعت کی طرف سے اصولی تائید سامنے آئے تو اس کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے لیکن ہماری رائے اور فیصلے کسی جماعت کے تابع نہیں ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذہبی اداروں کا تحفظ اور لوگوں کو پُرامن انداز میں اپنی بات کہنے کا موقع دینا کسی ایک طبقے کا نہیں، پورے معاشرے کا معاملہ ہے۔
ہمارا طریقہ مکالمہ، مشاورت، دلیل اور پُرامن اجتماعی کوشش ہے۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے سننے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ہے۔
سوال :9
مولانا شاہ عالم گورکھپوری سے کشمیر کے بارے میں یہ بیان منسوب کیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں گھر گھر میں ارتداد ہو رہا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے؟ کیا حکومت ایسے رجحانات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے؟
جواب:
سب سے پہلے ضروری ہے کہ کسی بھی شخص سے منسوب بیان کے اصل الفاظ، سیاق و سباق اور مستند شواہد سامنے آئیں۔ کسی غیر مصدقہ بیان کی بنیاد پر پوری صورتِ حال کی تصویر کشی کرنا درست نہیں ہوگا۔ اگر کسی نے واقعی ایسا کہا ہے تو اسے اپنی بات کی وضاحت اور ثبوت پیش کرنا چاہیے۔
کشمیر کی ایک گہری دینی، روحانی اور علمی روایت ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ آج نوجوانوں کو ایمان، اخلاق، ذہنی دباؤ، شناخت اور زندگی کے مختلف مسائل کے حوالے سے نئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان کا جواب خوف پھیلانا یا الزام تراشی نہیں بلکہ علم، محبت، حکمت، معقول رہنمائی اور عملی تعاون ہے۔
جہاں تک کسی سرکاری سرپرستی یا حوصلہ افزائی کا سوال ہے، اس نوعیت کا الزام ٹھوس شواہد کے بغیر نہیں لگایا جانا چاہیے۔ البتہ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ مذہبی معاملات میں غیر ضروری مداخلت، لوگوں پر دباؤ یا ان کی شناخت سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
سوال :10
آپ بھارت کے مسلمانوں کی مجموعی صورتِ حال اور بالخصوص مسلم اکثریتی جموں و کشمیر میں درپیش مشکلات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب:
ہمیں بھارت بھر کے مسلمانوں کی صورتِ حال پر گہری تشویش ہے۔ مختلف علاقوں سے مذہبی شناخت، عبادت گاہوں، تعلیمی و سماجی اداروں، نفرت انگیز ماحول اور امتیازی رویّوں سے متعلق جو شکایات اور خدشات سامنے آتے ہیں، انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی معاشرے کی سلامتی اسی میں ہے کہ اس کے تمام طبقات عزت، تحفظ اور برابری کے احساس کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور اپنی مذہبی و تہذیبی روایات پر آزادانہ عمل کر سکیں۔
جموں و کشمیر، جو مسلم اکثریتی خطہ ہے، خود بھی ایک نہایت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ یہاں ہماری اجتماعی شناخت، تہذیبی و دینی روایت، مذہبی اداروں کی خودمختاری اور عوام کی آواز کے لیے گنجائش کے حوالے سے سنجیدہ تشویش پائی جاتی ہے۔ مساجد، آستانوں، خانقاہوں، مدارس اور اوقاف سے متعلق معاملات ہمارے لیے محض انتظامی مسائل نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط مذہبی اور اجتماعی ورثے کا حصہ ہیں۔
اس صورتِ حال کی تکلیف کا مجھے ذاتی طور پر بھی مسلسل سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چار سال سے زائد مسلسل نظر بندی کے بعد رہائی کے باوجود مجھے بارہا جمعہ کے روز تاریخی جامع مسجد سری نگر جانے، خطبہ دینے اور نماز میں شرکت کرنے سے روکا جاتا ہے۔ میری نقل و حرکت اور مذہبی و سماجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ جمعۃ الوداع، شبِ قدر اور عید کے مقدس مواقع پر پابندیوں اور تاریخی عیدگاہ و جامع مسجد میں عید کی اجتماعی نماز کی اجازت نہ ملنے نے لوگوں کے جذبات کو گہری ٹھیس پہنچائی ہے۔ یہ صرف کسی ایک شخص کے ساتھ
معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے ہزاروں نمازی، پورے معاشرے اور آنے والی نسلوں کی دینی روایت متاثر ہوتی ہے۔
ہم یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ جائز، پُرامن اور اختلافی آوازوں کے لیے جگہ مسلسل سکڑ رہی ہے۔ لوگوں کی مشکلات اور خدشات کو سننے کے بجائے خاموش کرنے کی روش اعتماد پیدا نہیں کر سکتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ عبادت، مذہبی سرگرمیوں، اظہارِ رائے اور دینی اداروں کے جائز کام میں رکاوٹیں ختم ہوں، لوگوں کا وقار ملحوظ رکھا جائے اور مسائل کو دبانے کے بجائے بات چیت اور انصاف کے ذریعے حل کیا جائے۔
سوال :11
وقف (ترمیمی) قانون کے سلسلے میں متحدہ مجلس علماء نے کیا اقدامات کیے، اور کیا آپ ہندوستان کے دیگر علماء کے ساتھ بھی مشترکہ طور پر کام کریں گے؟
جواب:
ہم نے اس معاملے پر محض زبانی تشویش کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ عملی طور پر اپنا مؤقف متعلقہ فورم کے سامنے رکھا ہے۔ ۲۴ جنوری ۲۰۲۵ کو میری قیادت میں متحدہ مجلس علماء کا ایک وفد نئی دہلی گیا اور وقف (ترمیمی) بل ۲۰۲۴ کا جائزہ لینے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوا۔ ہم نے کمیٹی کے چیئرمین شری جگدمبیکا پال کو ایک مفصل تحریری یادداشت پیش کی اور مجوزہ تبدیلیوں پر اپنے شدید اعتراضات درج کرائے۔
ہمارے بنیادی تحفظات میں وقف املاک پر سرکاری و انتظامی اختیار میں اضافہ، ضلعی کلکٹر کو وقف املاک کی حیثیت پر اثر انداز ہونے کے وسیع اختیارات، وقف اداروں میں مسلم نمائندگی اور خودمختاری میں کمی اور صدیوں سے عبادت و رفاہ کے لیے استعمال ہونے والی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق ’’وقف بائی یوزر‘‘ کی شق کا مسئلہ شامل تھا۔ ہم نے واضح کیا کہ وقف املاک مسلمانوں نے دینی، تعلیمی، رفاہی اور سماجی مقاصد کے لیے وقف کی ہیں؛ ان کی حفاظت اور بہتر انتظام ضروری ہے، مگر اس مقصد کے نام پر ان کی مذہبی حیثیت اور ادارہ جاتی خودمختاری کمزور نہیں ہونی چاہیے۔ بعد میں یہ بل قانون کی شکل اختیار کر گیا ہے لیکن اس سے ہمارے اصولی تحفظات ختم نہیں ہوئے ہیں۔
ہم ہندوستان بھر کے معتبر علماء، مشائخ، مسلم مذہبی و تعلیمی تنظیموں اور ذمہ دار سماجی اداروں کے ساتھ رابطہ، مشاورت اور تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ چاہے معاملہ وقف املاک کا ہو، مذہبی اداروں کی آزادی کا، مسلم نوجوانوں کی رہنمائی کا یا باہمی ہم آہنگی کا، ہم مشترکہ مسائل پر مشترکہ اور پُرامن کوشش کے قائل ہیں۔ ہمارا مقصد کسی کے خلاف صف بندی نہیں، بلکہ مسلمانوں کے جائز دینی و سماجی مفادات کا تحفظ اور ملک کے تمام طبقات کے درمیان اعتماد، انصاف اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہے۔
سوال :12
ایمان اور دینی تشخص کو درپیش موجودہ چیلنجوں کے مقابلے میں علماء اور سماج کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب:
میرے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل سے رابطہ مضبوط کریں۔ نوجوانوں کو محض نصیحت کے بجائے سمجھنے، سننے اور ان کے سوالات کا سنجیدگی سے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ وہ تعلیم، روزگار، ذہنی دباؤ، شناخت، سوشل میڈیا اور تیزی سے بدلتی دنیا کے مختلف اثرات سے گزر رہے ہیں۔ ان کی رہنمائی علم، حکمت، محبت اور اچھے کردار کے ذریعے ہونی چاہیے۔
علماء، اساتذہ، والدین اور دینی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ مساجد کو نماز اور خطبات کے ساتھ نوجوانوں کی تربیت، والدین کی رہنمائی، منشیات سے بچاؤ، ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی اور معاشرتی خدمت کے مراکز بھی بنانا چاہیے۔ جہاں طبی، نفسیاتی یا دیگر ماہرانہ مدد درکار ہو، وہاں اہلِ تخصص کے ساتھ رابطہ قائم کیا جائے۔
متحدہ مجلس علماء کا اجتماعی پروگرام اسی سوچ کا حصہ ہے۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ ایمان کی حفاظت صرف تقریروں تک محدود نہ رہے، بلکہ دیانت داری، خدمت، انصاف، ذمہ داری، باہمی احترام اور اچھے عمل کی صورت میں زندگی میں نظر آئے۔ جب علماء و مشائخ خود ایک دوسرے کے احترام اور اجتماعی ذمہ داری کی مثال پیش کریں گے تو نوجوانوں کا اعتماد بھی بڑھے گا اور معاشرے کی اصلاح کی کوششیں زیادہ مؤثر ہوں گی۔