موجودہ حکومت جہاں ہر محاذ پر ناکام رہی ہے، وہیں تعلیم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اداروں کی بربادی اس حکومت کے ان کارناموں میں سے ہے جن کے لیے اسے یاد رکھا جائے گا۔ امتحانات اور ان کے نتائج ہندوستان میں ہمیشہ ایک سنجیدہ عمل رہے ہیں۔ اگر کبھی کوئی کوتاہی ہوئی بھی تو وہ محدود پیمانے پر تھی اور اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا گیا۔ لیکن بی جے پی کے دورِ حکومت میں پیپر لیک ایک مستقل اور عام سی بات بن گئی ہے جب کہ حکومت اس کی روک تھام کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ دکھائی نہیں دی اور ہمیشہ عوام کو صبر کرنا پڑا۔ لیکن اس بار کے پیپر لیک میں صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔ ۲۲؍ مئی کو این ٹے اے نے نیٹ کا امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ نیٹ پیپر لیک، امتحان کی منسوخی اور دوبارہ انعقاد کے سبب پیدا ہونے والے شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کے نتیجے میں کم از کم ۲۰ سے ۲۲طلبا کی خودکشی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ان واقعات نے ملک بھر میں شدید عوامی ناراضگی کو جنم دیا۔
کانگریس جو اس سے قبل عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانے میں ناکام دکھائی دے رہی تھی اس بار اس نے کوئی غلطی نہیں کی۔ اس وقت نیٹ کا مسئلہ کانگریس کے لیے سب سے مضبوط عوامی ایشو بن چکا تھا۔ راہل گاندھی نے 17؍ جون 2026 کو راجستھان کے شہر کوٹا میں چھاتروں کی گونج کے عنوان سے ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ یہ ان کی اب تک کی بہترین تقریروں میں سے ایک تھی۔ یہ تقریر صرف نیٹ پر نہیں تھی بلکہ پورے تعلمی نظام پر سوالیہ نشان تھی۔ بی جے پی نے بھرپور کوشش کی کہ پروگرام ناکام ہو جائے، یہاں تک خبریں آئیں کہ پارلیمنٹ اسپیکر اوم برلا جن کا علاقہ کوٹا ہے، انہوں نے بھرپور کوشش کی کہ پروگرام میں طلبا شریک نہ ہونے پائیں، یہاں تک انہوں نے ذاتی طور پر اسکولوں و کالجوں کو فون کالس کیے کہ طلبا کو پروگرام میں شرکت سے روکا جائے۔ اس کے باوجود راہل گاندھی کا پروگرام کامیاب رہا اور ہزاروں طلبا نے شرکت کی۔
دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی جس کی بنیاد مئی میں رکھی گئی تھی۔ یہ ایک آن لائن طنزیہ گروہ ہے جو مبینہ طور پر چیف جسٹس کے بے روزگار نوجوانوں سے متعلق ایک ریمارک کے بعد وجود میں آیا۔ اس کی قیادت بوسٹن سے واپس آنے والے ایک شخص کے ہاتھ میں ہے، جس کا ماضی میں اروند کیجریوال سے تعلق رہا ہے۔ اس پارٹی نے جنتر منتر پر 6؍ جون سے طلبا کی حمایت میں دھرنا شروع کیا۔ حالانکہ ابتدا میں اس دھرنے کو ملا جلا رسپانس تھا۔ 28؍ جون کو سونم وانگچک بھی اس دھرنے میں شامل ہو گئے اور اپنی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔
پہلےتھوڑی کہانی وانگچک کی سمجھ لیتے ہیں۔ وانگچوک جن کی امیج تھری ایڈیٹ فلم سے بنی، دیش بھکت اور بی جے پی سے قربت بھی رہی لیکن ایک فاصلے کے ساتھ۔ سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا ستمبر 2025 میں لیہ میں فائرنگ کے واقعے تک جس میں چار شہری جان سے گئے، کرفیو نافذ ہوا اور انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا۔ انہیں قومی سلامتی قانون کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔ وہ بے بسی سے دیکھتے رہے کہ ان کی اہلیہ کی دائر کردہ آزادی کے تحفظ کی درخواست اکتوبر سے دسمبر اور پھر جنوری تک مسلسل التوا کا شکار رہی، جب کہ ریاست خاموشی سے ان کی آزادی کے پانچ ماہ ہڑپ کر گئی۔
پھر مارچ میں، حتمی دلائل سے صرف چند روز پہلے، وزارتِ داخلہ نے اچانک نظر بندی کا حکم واپس لے لیا۔ تین دن بعد ایک ایسا شخص جس کے پاس یہ ماننے کی ہر وجہ موجود تھی کہ عدالتی راستہ محض ایک رسمی تماشا بن چکا ہے، صحافیوں کے سامنے کھڑا تھا اور "دونوں فریقوں کے فائدے"، "لین دین" اور حکومت کے "ہاتھ بڑھانے" کی باتیں کر رہا تھا۔ جودھ پور میں واقعی کوئی معاہدہ ہوا یا نہیں کہا نہیں جاسکتا اور ضروری بھی نہیں کہ ہر مفاہمت کاغذ پر لکھی جائے تاکہ اس کا وجود ثابت ہو لیکن مارچ میں اختیار کی گئی زبان بتا رہی تھی کہ اس رہائی کی قیمت کیا تھی۔ جس نظام میں آزادی کے تحفظ کی درخواست اپنے حقیقی مقصد اور معنویت سے محروم ہو چکی ہو، وہاں انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت ہی داد رسی کا واحد مؤثر قانونی راستہ بن کررہ جاتی ہے۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ وانگچک نے اپنی قوت اور توانائی ایسے اسٹیج پر صرف کی جو دوسروں نے اپنے مقاصد کے لیے تعمیر کیا تھا؛ ایسے مقاصد جو مکمل طور پر ان کے اپنے تھے بھی نہیں، اور ایک ایسی حکومت کے مقابلے میں جس نے بارہا یہ ثابت کیا تھا کہ اس نوعیت کا احتجاج اس پر خاطر خواہ اثر نہیں ڈالتا۔
اس کی سب سے نمایاں مثال پروفیسر جی ڈی اگروال تھے جو سوامی سَنند کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔ آئی آئی ٹی کانپور کے سابق پروفیسر، بھگوا لباس میں ملبوس ایک سنیاسی، جو گنگا کے تحفظ کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ اسی گنگا کے لیے جس کا ذکر حکومتی عہدیدار اپنی ہر تقریر میں عقیدت سے کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کو ذاتی طور پر تین خطوط لکھے مگر کسی ایک کا بھی جواب نہ ملا۔ وہ ایک سو گیارہ دن تک مسلسل بھوک ہڑتال پر رہے اور اکتوبر 2018 میں آنجہانی ہو گئے۔
موجودہ علامتی سیاست میں شاید ہی کسی کے پاس ان سے زیادہ اخلاقی اور معنوی جواز موجود ہو: ایک سنیاسی، ایک سائنس داں اور مقدس گنگا کا محافظ۔ مگر یہ سب کچھ بھی انہیں کچھ نہ دلا سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جان کی بازی لگا دینے والی بھوک ہڑتال صرف اسی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے جو شرمندگی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو یا ایسے عوام کے سامنے جواب دہ ہو جو بے شرموں کو سزا دیتے ہوں۔
اگروال نے جس راستے پر چل کر اپنی جان دی۔ اب وانگچک اس راستے پر چلنے کے لیے تیار تھے۔ میگسیسے انعام یافتہ، فلم تھری ایڈیٹس کے کردار پھنسکھ وانگڈو کی حقیقی شخصیت اور متوسط طبقے کے نزدیک تعمیری حب الوطنی کی ایک معتبر علامت، وہ یہ دیکھ چکے تھے کہ بھگوا روایت سے قربت رکھنے والی ایک با وقار اخلاقی آواز بھی اس حکومت کو کسی ذمہ داری کا پابند نہیں بنا سکی پھر بھی وہ اس راستے پر چلے۔ نہ جانے کیوں؟
دوسرے بھوک ہڑتالی، جن میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا ایک صدر اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا ایک محقق بھی شامل تھا، جو سولہویں روز جسم میں شدید پانی اور خون کی کمی کے باعث ہسپتال پہنچے خاموشی اور گمنامی میں بھوک برداشت کرتے رہے۔ دوسری طرف، باہر سے لایا گیا معروف چہرہ وانگچک، جو سب کی نگاہوں کے سامنے بھوک ہڑتال کرتا رہا۔ وہ اس پورے احتجاج کا منتظم جو خود بھوکا نہیں تھا، دونوں کی قربانی کو اپنی سیاسی قوت میں تبدیل کرتا رہا۔
وانگچک کی آمد کا پورا منظر کسی سابقہ تنظیمی وابستگی کے بغیر اچانک نمودار ہونا، پہلے ہی بھوک ہڑتال کا اعلان کر دینا اور راج گھاٹ پر رسمی حاضری کے فوراً بعد احتجاج کے مرکزی اسٹیج پر جگہ سنبھال لینا صرف انہی لوگوں کو حیران کرتا ہے جو 2011 کے بعد کی احتجاجی سیاست کی مانوس ساخت کو فراموش کر چکے ہیں۔
انڈیا اگینسٹ کرپشن کی تحریک بھی پہلے ایک منظم ڈھانچے کے طور پر کھڑی کی گئی تھی۔ بعد میں اسی ڈھانچے سے فائدہ اٹھا کر اس کے منتظمین نے ایک سیاسی جماعت تشکیل دی۔ گاندھیائی اخلاقی علامت کو سب سے آخر میں شامل کیا گیا، کیونکہ وہی وہ جز تھا جو کسی مطالبے کو محض ایک مسئلہ نہیں رہنے دیتا ہے بلکہ اسے اخلاقی قوت اور سیاسی اثر میں بدل دیتا ہے جو اسٹیج خود کو "غیر سیاسی" کہتا تھا وہ کبھی حقیقتاً غیر سیاسی تھا ہی نہیں۔ اس کا کام یہ تھا کہ ایک ایسے عوامی مسئلے کو جس کا فطری سیاسی فائدہ کسی قائم شدہ جماعت کو پہنچ سکتا تھا، اپنی طرف کھینچ لے اور اس کے سیاسی ثمرات کا رخ موڑ دے۔ اب اسی خاکے کو موجودہ صورتِ حال پر منطبق کر کے دیکھیے۔
نیٹ کا مسئلہ اس وقت کانگریس کے لیے سب سے مؤثر سیاسی ہتھیار تھا۔ مئی میں جے پور میں اس کے کارکنوں پر پانی کی توپیں چلائی گئیں، 6؍ جون کو کروکشیتر میں اور 15؍ جون کو اگرتلہ میں بھی وہ اسی وزیر کے استعفےٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاستی کارروائی کا سامنا کرتے رہے۔ پھر 25؍ جون کو کانگریس نے 30؍ جون سے شروع ہونے والی چالیس روزہ ملک گیر مہم کا اعلان کیا۔ لیکن وانگچک نے 28؍ جون کو بھوک ہڑتال شروع کر دی۔
صرف اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اس پورے مسئلے کی علامتی مرکزیت کانگریس کے احتجاج سے منتقل ہو کر جنتر منتر پہنچ گئی۔ جنتر منتر سے انا آندولن کے سبب کانگریس کی خوف ناک یادیں وابستہ ہیں اس لیے یہ ایک ایسا اسٹیج تھا جہاں کانگریس نہ تو پوری طرح شامل ہو سکتی تھی، کیونکہ اس احتجاج کی روایت اور شناخت اس کے لیے ایک اجنبی اور غیر سازگار سیاسی میدان بناتی تھی، اور نہ ہی اسے نظر انداز کر سکتی تھی، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ اس وقت کے سب سے اہم عوامی احتجاج سے غیر حاضر دکھائی دیتی۔ یوں کانگریس کے دو ماہ پر محیط احتجاج، جس میں اس کے کارکنوں نے واٹر کینن برداشت کیے تھے، گرفتاریاں دیں، جیلوں میں گئے، گویا اجتماعی یاد داشت سے محو ہو گئے۔ اب وزیرِ تعلیم پردھان کے خلاف مزاحمت کی کہانی اس دن سے شروع ہوتی ہوئی دکھائی جانے لگی جب ایک “سادھو نما” شخصیت آ کر دھرنے پربیٹھ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سیاسی جماعت جو انتخابات لڑتی ہے، تنظیم رکھتی ہے اور منظم سیاسی جدوجہد کرتی ہے، اپنے ہی سب سے مضبوط عوامی مسئلے پر ایک ایسے احتجاجی اسٹیج کے ہاتھوں پس منظر میں دھکیل دی گئی جو زیادہ سے زیادہ کامیابی کی صورت میں صرف ایک وزیر کی برطرفی تک محدود رہ سکتا ہے اور پھر خود تحلیل ہو جاتا ہے۔
اور وانگچک؟ آخر میں یہ بھی دیکھیے کہ وہ کس چیز کے لیے بھوک ہڑتال نہیں کر رہے ہیں۔ نہ ریاستی درجے کے لیے، نہ چھٹے شیڈول کے لیے، نہ لیہ میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے لیے، نہ ہی جودھ پور میں گزارے گئے اپنے ایک سو ستر دنوں کے لیے۔ وہ واحد مسئلہ جو ان کی شناخت بن چکا ہے، وہی مسئلہ جس کے باعث انہیں قید کیا گیا، ان کی اپنی جان لیوا بھوک ہڑتال سے نمایاں طور پر غائب ہے۔
اس اسٹیج پر موجود ہر کردار اپنے اپنے مفاد کے تحت متحرک تھا: ایک طنزیہ سیاسی جماعت جسے ایک “گاندھی” کی ضرورت تھی؛ ایک کمزور پڑ چکی اور مسائل میں گھری حکم راں جماعت، جسے 2011 کے احتجاج کی ایک نئی قسط درکار تھی تاکہ اسے نئی سیاسی زندگی مل سکے؛ ایک ایسی حکومت جو وانگچک کی عوامی کشش کو چین کی سرحد سے متعلق حساس سوالات سے دور رکھنا چاہتی تھی؛ اور ایک ایسا ستیہ گرہی جو “لین دین” اور “مفاہمت” کی زبان کے ذریعے اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتا تھا۔ ان سب کے مفادات مختلف تھے، مگر ان کا عوامی نتیجہ ایک ہی نکلا: برسرِ پیکار سیاسی اپوزیشن کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔
اسے ایک منظم سازش کہنا ضروری نہیں، کیونکہ جب ہر فریق کےمفادات ایک ہی نتیجے پر آ کر مل جائیں تو باقاعدہ سازش کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ایسی صورتِ حال خود بخود یہ تاثر پیدا کر دیتی ہے جیسے سب کچھ کسی منصوبہ بند سازش کے تحت ہو رہا ہو۔ یہی پہلو اسے سازش سے بھی زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے، کیونکہ سازش کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے مگر مفادات کی اس ہم آہنگی کو کسی ایک کردار کے سر نہیں ڈالا جا سکتا۔تاہم، اس سیاسی اٹھا پٹخ کے باوجود بھی عوامی ناراضگی اپنی ابتدائی حدود سے آگے نکل چکی تھی۔ جس احتجاج کو محدود اور قابلِ کنٹرول رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاکہ مختلف عوامی مسائل کو اسی کے اندر سمو دیا جائے وہ اب قابو سے باہر ہوچکی تھی۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کانگریس کے ہاتھ سے ایشو اچک لیا گیا لیکن راہل گاندھی نے ہمت نہیں ہاری اور مستقل ایشو کو پکڑے رہے، پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی کانگریس نے خاموش مارچ کرتے ہوئے اچانک وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی طرف پیش قدمی کر دی۔ اس غیر متوقع اقدام نے پورا سیاسی بیانیہ بدل کر رکھ دیا اور مخالفین کا منصوبہ پس منظر میں چلا گیا۔ راہل گاندھی کی گرفتاری، اس کے بعد کی پریس کانفرنس اور احتجاج نے کانگریس کو ایسی مضبوط سیاسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا جہاں شاید وہ صرف اپنی معمول کی سیاسی مہم سے نہیں پہنچ پاتی۔
اس حکومت کا عمومی مزاج یہ رہا ہے کہ وہ سیاسی مسائل کو حکمتِ عملی اور چالوں کے ذریعے نمٹانے کی کوشش کرتی ہے مگر اس بار معاملہ الٹا پڑ گیا۔ جو مسئلہ وہ محدود کرنا چاہتی تھی وہ مزید وسیع ہو گیا اور جو بیانیہ وہ قائم کرنا چاہتی تھی وہ خود اس کے خلاف چلا گیا۔وانگچک نے وہی کیا جس کی ان سے توقع تھی یا یوں کہیے کہ جس مقصد کے لیے وہ آئے تھے وہ پورا کر دیا۔ معمولی شرطوں پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی، لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور اقتدار سے ایک بڑی لغزش ہوگئی جس کی قیمت اسے چکانی پڑے گی۔
اسے گمان تھا کہ احتجاج چند شہروں میں محدود پیمانے پر ہوگا، کچھ دن شور مچے گا پھر سب کچھ معمول پر آ جائے گا۔ لیکن وہ عوام کے غصے اور ناراضگی کا درست اندازہ نہ لگا سکی اور یہی احتجاج اس کے لیے وبالِ جان بن گیا۔ وہ جین زی کی قوت کا صحیح اندازہ نہیں لگا پائی۔ اسے لگا جس طرح پرانے احتجاجوں کو بدنام کرکے حاشیے پر ڈحکیل دیتی تھی ویسا ہی اب بھی ہوگا لیکن جین زی نے پوری بساط پلٹ دی اور حکومت کو جھکنا پڑا اور دھرمیندر پردھان مستعفی ہوگئے۔
دھرمیندر پردھان کے استعفے سے نہ تو تعلیمی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی آئے گی اور نہ ہی طلبہ کے ہوئے نقصان کی تلافی ہو سکے گی۔ ویسے بھی عام تاثر یہی ہے کہ اہم فیصلے وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) میں ہوتے ہیں، ایسے میں کسی بھی وزیر کا کردار محض رسمی رہ جاتا ہے۔تاہم یہ شکست دراصل اس انا، ہٹ دھرمی اور ضد کی ہے جو کسی بھی قیمت پر جھکنے کو تیار نہیں تھی؛ جس کے نزدیک عوامی احتجاج کی کوئی اہمیت نہیں تھی؛ جسے اپنے کسی بھی فیصلے یا کوتاہی پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا تھا؛ اور جو خود کو عوام، اداروں اور سول سوسائٹی سے بالاتر اور ہر قسم کی جوابدہی سے آزاد سمجھنے لگا تھا۔ اب آںے والے حالات یہ طے کریں گے کہ کیا جین زی نے جس انقلاب کی راہ ہموار کی ہندوستانی عوام اس کی رو کو برقرار رکھ پائے گی۔
کاکروچ، کانگریس اور وانگچک

ایک تحریک، کئی کردار اور بیانیے کی کشمکش

