ہمارے ملک کی ڈیجیٹلائزیشن کے سفر نے جہاں ایک طرف معاشی آسانیوں کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں ڈیجیٹل انحصاریت کی شکل میں پیچیدہ نفسیاتی و سماجی مشکلات کو بھی پیدا کیا ہے۔ وزارتِ مالیات اور بھارت سرکار کے ذریعے پیش کیے گئے معاشی سروے 26-2025 کے ’’ڈیجیٹل انڈیا اور سماجی اثرات‘‘ میں اس موضوع پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ لوگوں کو ذہنی مریض بنا رہے ہیں۔ ڈیجیٹل انحصاریت محض ٹیکنیکل استعمال کی زیادتی نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت ضروری حرکیات کی گڑبڑ بھی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق جب ڈیجیٹل مشینوں کی عدم موجودگی میں تفکر اور کام میں سستی پیدا ہونے لگے تو یہ انحصاریت کے زمرے میں آتا ہے۔ ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 2014 میں 25 کروڑ سے بڑھ کر آج تقریباً 97 کروڑ ہوچکی ہے۔ باشندگانِ ملک کے ذریعے 2024 میں اسمارٹ فون پر گزارے گئے ایک لاکھ کروڑ گھنٹے ہماری لیبر پروڈکٹیوٹی پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈیجیٹل معیشت کا جی ڈی پی میں تعاون 13.42 فیصد تک ہوگیا ہے۔ اس ڈیجیٹل انحصاریت کے پسِ پشت سائبر لوپس اور اِنفِنائٹ اسکرول جیسے سائیکولوجیکل وسائل کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ خصوصاً 15 تا 25 سال کے نوجوانوں کی ذہنی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے جس سے تعلیمی مظاہرہ اور ذہن کو مرتکز کرنے کی صلاحیت میں تنزلی دیکھی گئی ہے۔ ملک کے شہری علاقوں کے 82 فیصد سے زائد نوجوان ڈیجیٹل لت سے کسی نہ کسی سطح پر متاثر ہیں۔ اس میں 35 فیصد تشویشناک حد تک عادی ہوچکے ہیں جو انٹرنیٹ کے بغیر بے حد بے چینی اور تناؤ محسوس کرتے ہیں۔ معاشی سروے 26-2025 کے مطابق ملک کے 55 فیصد انٹرنیٹ صارفین اب دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دیہی بھارت میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ تیزی سے پہنچا ہے، وہیں ڈیجیٹل صلاحیت میں کمی بھی آئی ہے۔
ایک ترقی یافتہ بھارت اور ذہنی اعتبار سے متاثر سماج کی تعمیر کی ذمہ داری محض حکومتوں، پالیسی سازوں یا آن لائن گیمنگ (ریگولیشن) ایکٹ 2025 جیسے قوانین پر نہیں چھوڑی جا سکتی ہے۔ حکومتیں بنیادی ڈھانچہ فراہم کر سکتی ہے، تحفظاتی اصول متعین کرسکتی ہے اور متعلقہ ہیلپ لائن کھول سکتی ہے مگر ڈیجیٹل کنٹرول کی روایت کو بہرحال خود کو اور خاندان کو ہی پروان چڑھانا ہوگا۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم ٹیکنالوجی کے غلام ہیں یا بادشاہ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ ہمارے کتنے جی بی ڈیٹا یا اسمارٹ فونز ہیں، بلکہ یہ پیمائش ہونی چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والا دماغ کتنا آزاد، یکسو اور تعمیری ہے۔ ہم اپنے غور و فکر کی بنیادی صلاحیت کو ٹیکنالوجی کے الگورتھم کے حوالے کرکے ایک اسمارٹ ملک تو بن سکتے ہیں مگر ایک علم و دانش کا مرکز ہرگز نہیں۔
اب ہمارے ملک میں ابتدائی طور پر ہی تعلیم کی ڈیجیٹلائزیشن پر زور دینے کی باتیں چل رہی ہیں، وہیں عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک شعبہ تعلیم میں اس ٹیکنالوجی کے ابتدائی استعمال سے کنارہ کش ہو رہے ہیں۔ یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 25-2024 میں واضح طور پر متنبہ کیا گیا ہے کہ اسکولوں میں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا بے محابہا استعمال طلبا کی بہتری کے بجائے طلبا کی یکسوئی اور حسی استقلال کو کم کر رہا ہے۔ بھارت میں جس ’’ون ڈیوائس پر چائلڈ‘‘ یا اسمارٹ کلاس روم کے ماڈل کو کامیابی تصور کیا جا رہا ہے، عالمی ماہرین اسے ایک ایسا تجربہ مان رہے ہیں جو مغرب میں پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ انڈونیشیا اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے اسکول میں اسمارٹ فون پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جبکہ ہمارا ملک بڑے پیمانے پر اس تجربے کو لاگو کرنے جا رہا ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک نے اس کے نقصانات کی وجہ سے اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ یہ ڈیجیٹل جنون کہیں تعلیم کے نام پر ہمارے طلبا سے غور و فکر کی بنیادی صلاحیت کو ہی داؤ پر نہ لگا دے۔ مودی نے بھی لال قلعہ سے 15؍ اگست کے خطاب میں کہا کہ حکومت طلبا کے لیے فری آن لائن کوچنگ کلاسز کھولنے جا رہی ہے۔ جبکہ فرانس کی پارلیمنٹ نے سوشل میڈیا پر پابندی کا ایک بل بھی پاس کر دیا ہے جسے جلد ہی سینیٹ کے پاس بھیج کر قانون بنایا جا سکتا ہے۔ وہیں آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی ہے۔ اس عمر کے بچوں کے لیے انسٹاگرام، ٹک ٹاک، فیس بک جیسے پلیٹ فارموں پر اکاؤنٹ رکھنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ایک اکنامک سروے میں کہا گیا ہے کہ آن لائن خریداری، گیمنگ اور سائبر فراڈ سے براہِ راست معاشی چوٹ لگتی ہے۔ ڈیجیٹل چیزوں کے زیادہ استعمال سے اینگزائٹی، اسٹریس، ڈپریشن اور نیند نہ آنے کی مشکلات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ چیف اکانومک ایڈوائزر نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ دہائی سے ڈیجیٹل لین دین گوگل پے، فون پے یا کسی بھی عام یو پی آئی کے ذریعے کافی ہوا ہے۔ یو پی آئی کرنے والے کروڑوں لوگوں کے درمیان ان دنوں مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کو لے کر کافی بحث ہے۔ سب سے زیادہ بحث دو ہزار روپے کی حد کی ہو رہی ہے کہ حکومت نے ابھی دو ہزار روپے تک کے یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر لگانے کی کسی حد کا اعلان نہیں کیا ہے۔ یہ معاملہ پہلے سے چلی آ رہی حکومت کی یو پی آئی انسینٹیو سے جڑا ہوا ہے اور اب ممکنہ نئی فیس لگانے کی کوشش میں اسے ایک معاملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے چھوٹے کاروباریوں کے درمیان ڈیجیٹل پیمنٹ کو بڑھاوا دینے کے لیے انسینٹیو منصوبہ شروع کیا تھا۔ گزشتہ مارچ میں چودھویں منسٹریل لیول کانفرنس جسے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی وساطت سے کیمرون میں منعقد کیا گیا تھا، وہاں بھی ڈیجیٹل تجارت کے مستقبل پر کافی گفت و شنید ہوئی ہے۔ دنیا اس کے ذریعے بھی تجارت کو آگے بڑھانے کی کوشش میں ہے۔
ایک طرف ڈیجیٹلائزیشن کی خامیاں ہیں جن پر ہماری توجہ ہونی چاہیے اور ہمیں ہی اس سے بہتری کا راستہ نکالنا ہوگا۔ مرکزی حکومت مکمل طور پر ڈیجیٹلائزیشن پر زور دے رہی ہے۔ اسی کے مد نظر بینکرز بکس ایویڈنس بل 2026 کا پارلیمنٹ سے پاس ہونا ایک ضروری قدم ہے۔ بینک ریکارڈ کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسے انگریزوں کے زمانے کے 135 سال پرانے بینکرز بکس ایویڈنس ایکٹ 1891 کی جگہ لایا گیا ہے۔ اس وقت جب قانون سازی ہوئی تو بینکوں میں سبھی ریکارڈ موٹے رجسٹروں اور کاغذوں میں رکھے جاتے تھے مگر اب مکمل بینکنگ سسٹم ڈیجیٹل ہوچکا ہے۔ نئے بل میں الیکٹرانک ریکارڈ، ڈیجیٹل انٹری اور کمپیوٹر سسٹم میں موجود بینک ریکارڈ کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اب عدالت میں بینک کے ڈیجیٹل ریکارڈ کو بھی ثبوت کے طور پر استعمال میں لایا جاسکے گا۔ تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی بھارتی معیشت میں اب آن لائن ٹرانسفر، یو پی آئی، چیک اور بینک اسٹیٹمنٹ سے منسلک مقدمات کی یکسوئی عدالت میں تیزی سے ہوسکے گی جس سے مالی جھگڑوں میں عوام الناس کو بسرعت انصاف مل سکے گا۔ اگر کوئی ڈیجیٹل کاپی اصل ڈیٹا سے صحیح طریقے سے نقل کی گئی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہو تو اسے عدالت میں اصلی ریکارڈ کی طرح تسلیم کیا جائے گا۔ اس نئے قانون سے کروڑوں ڈیجیٹل بینکنگ، یو پی آئی اور نیٹ بینکنگ کرنے والے تمام شہریوں کو فائدہ ہوگا۔ جب کبھی بھی بینکنگ فراڈ، غلط لین دین، چیک باؤنس یا پیسے کے لین دین میں کوئی قانونی اختلاف ہوتا ہے تو صارفین کو مہینوں تک بینک سے کاغذی ریکارڈ لینے کا بکھیڑا نہیں رہے گا اور اس سے بینک کے عمل میں بھی تیزی آئے گی۔ ریکارڈ تلاش کرنے میں کم وقت لگے گا۔ ڈیجیٹل ریکارڈ ہونے سے ڈیٹا کو ٹریک کرنا بھی آسان ہوگا۔
ڈیجیٹل بھارت: آسانیوں کے ساتھ بڑھتے خدشات

ڈیجیٹلائزیشن کی دو دھاری تلوار: سہولت بھی اور چیلنج بھی

