وقف بورڈ: انتظامی ادارہ یا مذہبی نگراں؟ یکساں خطبہ جمعہ کی کوشش اور اٹھتے سوالات
ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے قائم وقف بورڈ کیا اپنے بنیادی مقاصد کی تکمیل کرنے میں کامیاب ہے؟ ظاہر ہے کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران ملک بھر میں وقف جائیدادوں کی جس طریقے سے خرد برد ہوئی ہے، قبضے کیے گئے ہیں اور غیر قانونی طریقے سے خرید و فروخت کی گئی ہے، اس تناظر میں اس سوال کا جواب کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ وقف ترمیمی قانون بننے کے بعد وقف بورڈ محض ایک علامتی ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ ضلع کلکٹر کے اختیارات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ مگر حال ہی میں دو ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جو وقف اداروں کے زوال کی ایک نئی شکل ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ کیا وقف بورڈ اب محض حکومتی پالیسیوں کے نفاذ کی ایجنسی بن کر رہ جائے گا؟
یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ ایک طرف وادی کشمیر میں وقف بورڈ جمعہ کے خطبات کو کنٹرول اور ڈائریکٹ کرنے کی کوششوں پر سوالوں کی زد میں ہے کہ آیا وقف بورڈ ایک انتظامی ادارہ ہے یا پھر مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے کا مجاز ادارہ ہے؟ دوسری طرف دارالحکومت دہلی میں دہلی ریس کورس میں واقع تاریخی مسجد جو ڈیڑھ سو سال قدیم ہے، اسے منہدم کرنے کی نوٹس دے دی گئی ہے۔ یہ مسجد تاریخی ورثے میں شمار ہوتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر دہلی وقف بورڈ اسے بچانے کے لیے متحرک ہونے کے بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جب مسجد کے امام نے اس تاریخی ورثے کو بچانے کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو عدالت نے ان کی عرضی صرف اس بنیاد پر خارج کر دی کہ امام مسجد جائیداد کے کسٹوڈین نہیں ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب وقف بورڈز خود حکومت کی منشا پر کام کریں گے تو مساجد اور وقف جائیدادوں کا محافظ کون ہوگا؟
دہلی ہائی کورٹ نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ایک صدی پرانی ریس کورس مسجد کے بجلی اور پانی کے کنکشن کی بحالی سے تکنیکی بنیاد پر انکار کیا اور کہا کہ مسجد کے امام کا احاطے پر کوئی حق نہیں ہے۔ کیوں کہ دہلی وقف بورڈ کو بیوروکریٹس کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ بیوروکریٹس میں حکومت کے خلاف جانے کی جرأت نہیں ہوتی، اس لیے اس نے چیلنج تک نہیں کیا۔
حیرت انگیز طور پر 53 ایکڑ پر پھیلے ریس کورس کلب میں واقع یہ مسجد نئی دہلی میں صفدر جنگ کے مقبرے کے عقب میں واقع ہے۔ اس سے متصل قبرستان 8 ستمبر 1977 کے دہلی ایڈمنسٹریشن کے گزٹ نوٹیفکیشن میں شامل ہے۔ انٹری نمبر 18 کے تحت درج یہ جائیداد دو بیگھہ اراضی پر محیط ہے اور اس میں مسجد اور قبرستان دونوں شامل ہیں۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں تھی لیکن اب خطرہ ہوگئی!
جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشان اندرابی کی جانب سے تمام مساجد اور زیارت گاہوں میں جمعہ کے خطبات کو یکساں (Uniform Friday Sermons) بنانے کی ہدایت پر شدید عوامی و سیاسی ردِعمل کے بعد فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی کئی ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ نہیں ہے کہ اس کے پیچھے سماجی برائیوں، مثلاً منشیات و ماحولیات سے نمٹنے کی ایک انتظامی کوشش تھی بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا وقف بورڈ کو قانونی طور پرمذہبی امور میں مداخلت کرنے کا اختیار بھی ہے؟ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے اس طرح کی ہدایت کوئی پہلی مرتبہ نہیں دی گئی ہے بلکہ اس سے قبل چھتس گڑھ وقف بورڈ کی جانب سے بھی ہدایات جاری کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ وقف بورڈ کے اختیارات کو کم کرنے کے بعد اب حکومت مسلمانوں کے مذہبی امور اور منبر و محراب کی آزادی کو ختم کرنے کلا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا آئین انہیں اس کی اجازت دیتا ہے؟ کیوں کہ بچوں سے متعلق قانونی حقوق کی آڑ اور دیگر قوانین کی آڑ میں بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں مدارس اسلامیہ جہاں پسماندہ اور غریب خاندان سے آنے والے بچوں کو مفت میں تعلیم فراہم کرتی ہیں وہاں کسی نہ کسی بہانے سے مدارس کے نظام میں مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے تو ایسے میں اقلیتوں کے سامنے مذہبی آزادی کا مسئلہ سنگین شکل میں سامنے آتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ پولرائزیشن اور مذہبی تقسیم کے اس دور میں اس ملک کی اقلیتیں اپنی مذہبی آزادی کو برقرار رکھ سکیں گی یا پھر خود سپردگی کردیں گی؟
بھارت میں مذہبی آزادی کو لے کر ہمیشہ آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں بھارت ان ممالک میں شامل رہا ہے جہاں مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کے رجحانات نمایاں ہوئے ہیں۔ پیو ریسرچ سنٹر (Pew Research Center) کی حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2022 میں مذہب سے متعلق سماجی مخاصمتوں کی پیمائش کرنے والے اشاریے پر بھارت نے 198 ممالک میں سب سے زیادہ اسکور حاصل کیا۔سماجی مخاصمتوں کے اشاریے (Social Hostilities Index—SHI) پر زیادہ اسکور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی ملک میں مذہب کی بنیاد پر ہراسانی، ہجومی تشدد، دہشت گردی، عسکریت پسندانہ سرگرمیوں اور مذہبی تبدیلی یا مذہبی علامات و لباس کے استعمال سے متعلق تنازعات کی سطح بلند ہے۔ اس اشاریے پر بھارت کا اسکور 10 میں سے 9.3 رہا، جب کہ 7.2 سے زیادہ اسکور کو ’انتہائی بلند‘ (Very High) زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ رپورٹ میں حکومتوں کی جانب سے مذہب پر عائد پابندیوں کا جائزہ لینے کے لیے سرکاری پابندیوں کے اشاریے (Government Restrictions Index—GRI) کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اشاریہ ان قوانین، پالیسیوں اور اقدامات کی پیمائش کرتا ہے جن کے ذریعے مذہبی عقائد اور رسومات کو منضبط یا محدود کیا جاتا ہے۔ ان میں مخصوص مذہبی عقائد یا رسومات پر پابندیاں عائد کرنا، بعض مذہبی گروہوں کو غیر مساوی مراعات دینا اور ایسے انتظامی ضوابط نافذ کرنا شامل ہیں جن کے تحت مراعات حاصل کرنے کے لیے مذہبی گروہوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کے تناظر میں اگر جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے خطباتِ جمعہ کو یکساں بنانے کی تجویز کا جائزہ لیا جائے تو مذہبی خود مختاری اور ریاستی مداخلت سے متعلق کئی اہم سوالات سامنے آتے ہیں۔ بی جے پی کی سینئر رہنما اور وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشان اندرابی کی قیادت میں سامنے آنے والی اس تجویز کو مذہبی معاملات میں انتظامی مداخلت کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر اس اقدام کو سماجی ہم آہنگی اور اصلاحِ معاشرہ سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان مقاصد کے حصول کے لیے مذہبی خطبات کے موضوعات کو پہلے سے طے اور منظور کرنے کا انتظام ضروری ہے؟ اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے خطے میں سیاسی، انتظامی اور شناخت سے متعلق مسائل مسلسل زیرِ بحث رہے ہیں۔ کشمیریوں کے سامنے سیاسی تحفظ، علاقائی شناخت اور خود مختاری کے سوالات بدستور اہم ہیں۔ خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے لیے پیش کیے گئے مقاصد کس حد تک حاصل ہوئے، یہ اپنی جگہ ایک الگ بحث ہے لیکن اس اقدام کے بعد خطے کے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں ضرور آئی ہیں۔2011 کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست تھی۔ بعد ازاں اسے دو وفاقی علاقوں، یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ وادی کشمیر میں مسلم آبادی کی اکثریت برقرار ہے۔ آزادی کے بعد سے کشمیر کی تاریخ سیاسی کشمکش، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات سے متاثر رہی ہے۔ تاہم، اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد قائم ہونے والے نئے انتظامی ڈھانچے نے مذہبی اداروں اور وقف املاک کے انتظام سے متعلق معاملات کو بھی ایک نئے تناظر میں لا کھڑا کیا ہے۔ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے بعد خطے میں وقف املاک کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں آئیں۔ وقف بورڈ کا دائرہ کار مساجد، خانقاہوں، زیارت گاہوں اور دیگر وقف املاک کے انتظام سے متعلق ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ مذہبی املاک کا انتظام ایک معاملہ ہے جب کہ مذہبی تعلیمات، خطبات اور مذہبی اظہار کے مواد کا تعین کرنا بالکل الگ معاملہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 یا وقف بورڈ سے متعلق قانونی اختیارات بورڈ کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ مذہبی امور میں مداخلت کرتے ہوئے یہ طے کرے کہ ائمہ مساجد جمعوں کے خطبات میں کن موضوعات پر بات کریں اور کن پر نہ کریں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پورے تنازعے اور وقف بورڈ کی مجوزہ پالیسی کو سمجھا جائے۔
وقف بورڈ سے وابستہ ایک ایگزیکٹیو مجسٹریٹ اشتیاق محی الدین کی قیادت میں جموں و کشمیر بھر کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں جمعے کی نماز کے خطبات کو یکساں بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اس کا مقصد سماجی ہم آہنگی، اخلاقی اقدار اور منشیات کے استعمال جیسے مسائل کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینا نیز، خواتین کے حقوق سے متعلق شعور بیدار کرنا بتایا گیا ہے۔ تجویز کے مطابق وقف بورڈ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دینا چاہتا ہے جس میں مسلم علماء شامل ہوں۔ یہ کمیٹی وقف بورڈ سے وابستہ مساجد کے خطباء کے لیے خطبات کے موضوعات طے کرے گی اور انہیں پیشگی منظوری دے گی۔ بی جے پی کی سینئر رہنما اور وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشان اندرابی نے اس موقع پر کہا کہ موضوعات کے انتخاب میں بورڈ کے اہلکاروں کا براہِ راست کردار نہیں ہوگا بلکہ اس سلسلے میں وقف بورڈ سے وابستہ ائمہ اور علماء کی کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ ان کے مطابق اس تجویز میں بی جے پی یا آر ایس ایس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ لیکن اس وضاحت کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر موضوعات کا تعین علماء کی کمیٹی کرے گی تو اس کمیٹی کی تشکیل، اختیارات اور اس کے فیصلوں کی نوعیت کیا ہوگی؟ کیا یہ کمیٹی محض رہنمائی کرے گی یا اس کے فیصلوں پر عمل کرنا مساجد کے خطباء کے لیے لازمی ہوگا؟ خطباتِ جمعہ کو یکساں بنانے کی تجویز نے خطے میں مذہبی خود مختاری، سیاسی مداخلت اور مسلم برادری کے مذہبی حقوق سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سیاسی مبصرین اور مذہبی حلقوں کے سامنے بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی انتظامی ادارے کو مذہبی رہنماؤں کے خطبات کے موضوعات طے کرنے میں کوئی کردار ادا کرنا چاہیے؟ سماجی ہم آہنگی، اخلاقی اقدار اور منشیات کے خلاف آگاہی یقیناً اہم مقاصد ہیں لیکن ان مقاصد کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی مذہبی ادارے کی جانب سے یہ تاثر پیدا ہو کہ مذہبی زندگی سے متعلق فیصلے آزادانہ مشاورت کے بجائے انتظامی نظام کے ذریعے کیے جا رہے ہیں تو اس سے مذہبی خود مختاری کے بارے میں خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے اصل بحث صرف خطبات کے موضوعات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس بات سے بھی متعلق ہے کہ مذہبی اداروں کے انتظامی اختیارات کی حدود کیا ہیں اور مذہبی اظہار کی آزادی کو کس طرح محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر خطبات کے موضوعات کا انتخاب علماء کی کمیٹی کرے گی تب بھی اس کمیٹی کی تشکیل کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اس کے ارکان کا انتخاب کون کرے گا، ان کی مدتِ کار کیا ہوگی اور ان کے فیصلوں کی نگرانی کون کرے گا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ موضوعات پر عمل کرنا تمام متعلقہ مساجد کے لیے لازمی ہوگا؟ اگر کوئی امام اپنے علاقے کے حالات، مقامی مسائل یا نمازیوں کی ضروریات کے مطابق کسی دوسرے موضوع پر بات کرنا چاہے تو کیا اسے اس کی اجازت ہوگی؟تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی خطیب منظور شدہ موضوعات سے ہٹ کر کسی سماجی، معاشی یا سیاسی مسئلے پر گفتگو کرتا ہے تو کیا اسے اس کی آزادی حاصل ہوگی؟ کیا کمیٹی کی منظوری صرف رہنمائی کی حیثیت رکھے گی یا اسے خطبات کے مواد پر کنٹرول حاصل ہوگا؟ چوتھا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر کوئی امام یا مسجد انتظامیہ اس تجویز پر عمل کرنے سے انکار کرتی ہے تو اس کے خلاف کیا کارروائی کی جا سکتی ہے؟ کیا ایسی صورت میں کسی قسم کی انتظامی پابندی، تادیبی کارروائی یا دیگر اقدامات کا امکان ہوگا؟ اگر ایسا کوئی اختیار موجود ہے تو اس کی قانونی بنیاد کیا ہے؟ اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کمیٹی کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد رکھنے کے لیے کیا ضمانتیں فراہم کی جائیں گی؟ کیا اس کے فیصلوں کو شفاف بنایا جائے گا؟ کیا مذہبی رہنماؤں اور مقامی برادری کو ان فیصلوں پر اعتراض کرنے یا متبادل تجاویز پیش کرنے کا حق حاصل ہوگا؟ یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ یکساں خطبات کی تجویز کو محض ایک انتظامی اقدام سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی خطبات عبادت کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ دینی و اخلاقی تربیت، سماجی اصلاح اور عوامی مسائل پر گفتگو کا ایک اہم ذریعہ بھی ہیں۔ ان کے موضوعات سے متعلق کوئی بھی پالیسی مذہبی آزادی، مقامی ضروریات اور خطباء کے آزادانہ اظہار کے حق کو ملحوظ رکھتے ہوئے بنائی جانی چاہیے۔ بہرحال معاملہ صرف یہی نہیں ہے کہ جمعوں کے خطبات میں کن موضوعات پر بات کی جائے گی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان موضوعات کا تعین کرنے کا اختیار کس کے پاس ہوگا، اس اختیار کی قانونی حدود کیا ہوں گی اور مذہبی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے کون سے حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے؟ اگر وقف بورڈ کا مقصد واقعی سماجی اصلاح اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے تو اسے یہ واضح کرنا ہوگا کہ یہ مقصد مذہبی اداروں کی آزادی اور خطباء کے آزادانہ اظہار کو محدود کیے بغیر کیسے حاصل کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے وکیل اور تجزیہ نگار حامد راٹھور اس تنازع پر کہتے ہیں کہ کشمیر میں مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ مذہبی روایات اور قواعد و ضوابط کے تحت چلنے والا ادارہ بھی ہے۔ لیکن جب کوئی انتظامی ادارہ یہ طے کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ امام جمعے کے خطبے میں کیا کہے تو معاملہ مذہبی خطابت سے آگے بڑھ کر انتظامی اختیارات کی قانونی حدود تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے مطابق، وقف بورڈ کی بنیادی ذمہ داری وقف املاک اور اداروں کا انتظام و انصرام ہے، لیکن کیا یہ اختیار مذہبی خطبات کے موضوعات اور مواد کا تعین کرنے تک بھی پھیلا ہوا ہے؟ اس سوال کا جواب قانون کی روشنی میں دیا جانا ضروری ہے۔
وقف ایکٹ 1995 ترمیم شدہ، اوقاف کے انتظام، نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس میں متولیوں کی تقرری، برطرفی اور ان کی ذمہ داریوں سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔ تاہم، ان انتظامی اختیارات سے یہ خودبخود ثابت نہیں ہوتا کہ وقف بورڈ کی چیئرپرسن کو ائمہ کے خطبات کے موضوعات یا الفاظ طے کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ حامد راٹھور کے مطابق کسی قانونی عہدے کے اختیارات اس قانون سے متعین ہوتے ہیں جس کے تحت وہ قائم کیا گیا ہو، نہ کہ عہدے پر فائز شخص کے مرتبے یا اس کے اپنے دعوے سے! وقف املاک کا انتظام اور مذہبی خطبات کے مواد کو کنٹرول کرنا دو الگ معاملات ہیں، جنہیں ایک دوسرے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ وقف ایکٹ کی کون سی دفعہ چیئرپرسن کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ طے کریں کہ ائمہ مساجد منبر سے کیا کہیں؟ بورڈ کو اس قانونی دفعہ کی نشاندہی کرنی چاہیے جس کی بنیاد پر وہ خطبات کے موضوعات کی پیشگی منظوری کا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اس دلیل کا مطلب یہ نہیں کہ وقف ادارے قانونی نگرانی سے بالاتر ہیں۔ وقف املاک کا مناسب انتظام، مالی شفافیت اور قانونی ذمہ داریوں کی تکمیل بورڈ کے جائز فرائض ہیں۔ تاہم، ان ذمہ داریوں کی بنیاد پر مذہبی خطبات پر کنٹرول کا اختیار خودبخود حاصل نہیں ہو جاتا۔ ان کے مطابق، بنیادی مسئلہ کسی عہدیدار کی ذاتی نیت نہیں بلکہ اس کے اختیارات کی قانونی حدود ہیں۔ اچھی نیت قانونی جواز کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ اگر واضح قانونی بنیاد کے بغیر انتظامی اختیارات کو وسعت دی جائے تو رفتہ رفتہ مداخلت ان شعبوں تک بھی پھیل سکتی ہے جنہیں قانون نے کبھی اس ادارے کے سپرد نہیں کیا ہے۔ اسی لیے خطباتِ جمعہ کو یکساں بنانے کی تجویز کے سلسلے میں وقف بورڈ کو اپنے قانونی اختیار کی واضح وضاحت کرنی چاہیے۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جموں و کشمیر کا یہ معاملہ محض ایک خطے تک محدود تھا یا وقف بورڈ کی اس تجویز کے ذریعے عوامی اور سیاسی ردِعمل کا پیمانہ آزمایا جا رہا تھا؟ کیا اس تجربے سے ان خدشات کو تقویت نہیں ملتی کہ مستقبل میں دیگر ریاستوں میں بھی وقف بورڈز کے ذریعے ائمہ مساجد اور منبر و محراب کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی جا سکتی ہے؟ یہ خدشات اس لیے بھی گہری تشویش کا باعث ہیں کہ 2024 میں چھتیس گڑھ وقف بورڈ بھی اسی نوعیت کی ہدایات جاری کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔
مذہبی امور میں مداخلت کا دائرہ صرف مساجد تک محدود نہیں بلکہ دینی مدارس کے تعلیمی نصاب اور انتظامی نظام میں بھی مداخلت کے رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔ اتر اکھنڈ میں مدارس کے خلاف یک طرفہ کارروائیاں کی گئیں، جموں و کشمیر میں مذہبی اداروں اور ائمۂ مساجد کی پروفائلنگ کا معاملہ سامنے آیا، جبکہ اترپردیش، آسام، بہار اور دیگر ریاستوں میں جانچ پڑتال کے نام پر مدارس کے اندرونی امور میں مداخلت کی جا رہی ہے۔
ان تمام واقعات کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک وسیع تر صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ شدید سیاسی پولرائزیشن اور مذہبی تقسیم کے اس پُر فتن دور میں کیا ملک کی اقلیتیں آئینی راستے پر چلتے ہوئے اپنی مذہبی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ کر سکیں گی یا انہیں اس منظم دباؤ کے سامنے بالآخر سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا؟
وقف ایکٹ 1995 اور آئین ہند کی دفعہ 25 تا 28 کے تحت حاصل شدہ حقوق کا قانونی مطالعہ اور بیداری انتہائی ضروری ہے۔ جب بھی کوئی انتظامی بورڈ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرے تو اسے فوراً ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں آئینی بنیادوں پر چیلنج کیا جانا چاہیے۔ ایڈووکیٹ حامد راٹھور جیسے قانونی ماہرین کے دلائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ قانون کی نظر میں انتظامی بورڈز کے پاس دینی امور پر کنٹرول کا کوئی جواز نہیں ہے۔ فرقہ وارانہ، مسلکی اور علاقائی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مساجد کی انتظامی کمیٹیوں، ائمہ اور دینی تنظیموں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانا ہوگا۔ جموں و کشمیر میں متحدہ مجلسِ علماءکا ماڈل یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب تمام مکاتبِ فکر کے علماء ایک آواز میں بولتے ہیں تو حکومت یا اس کے مقرر کردہ بورڈز کو اپنے غیر آئینی فیصلوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اگر مساجد کے ائمہ خود آگے بڑھ کر منشیات، تعلیم، پسماندگی، ماحولیات اور معاشرتی ناانصافیوں پر باقاعدگی سے خطبات دیں گے تو انتظامیہ کے پاس "اصلاحِ معاشرہ" کے نام پر مداخلت کرنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہے گا۔
جموں و کشمیر سے لے کر چھتیس گڑھ تک مساجد اور اداروں کی آزادی پر اثر انداز ہونے کی یہ کوششیں بظاہر انتظامی نظر آتی ہیں لیکن ان کی جڑیں گہری سیاسی اور نظریاتی تبدیلیوں میں پیوست ہیں۔ بھارت کا آئین ایک سیکولر، کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی معاشرے کی ضامن ہے۔ سیکولرزم کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ریاست مذہبی اداروں کے اندرونی اور ایمانی امور سے خود کو الگ رکھے اور مذہبی ادارے ریاست کے سیاسی امور میں مداخلت نہ کرے۔ آئین کا آرٹیکل 30 اور دیگر متعلقہ آئینی دفعات مذہبی و لسانی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کا بنیادی اور تحفظ شدہ حق فراہم کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے نومبر 2024کو یوپی مدرسہ ایکٹ کی قانونی حیثیت کو بحال کرتے واضح کیاکہ 'رائٹ ٹو ایجوکیشن (RTE) ایکٹ کی دفعہ 1(5) کے تحت مدارس کو اس کے دائرہ کار سے استثنیٰ حاصل ہے، کیونکہ اقلیتی اداروں پر آر ٹی ای ایکٹ کی جبری تعمیل ان کے اقلیتی کردار کو متاثر کر سکتی ہے جو آرٹیکل 30 کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ ریاست کو تعلیمی معیار، اساتذہ کی اہلیت اور طلباء کی فلاح و بہبود کے لیے معقول ضوابط (Regulations) عائد کرنے کا اختیار ہے تاکہ بدنظمی کو روکا جا سکے، لیکن آر ٹی ای ایکٹ یا سیکولرازم کے نام پر مدارس کے روزمرہ کے انتظامی امور، بنیادی ساخت اور مذہبی تعلیم کے حق میں غیر قانونی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح فنڈنگ کے نام پر نگرانی کی جو کوشش کی جارہی ہے اس اقدامات کو بھی قانونی اور آئینی ضمانتوں کی روشنی میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔جموں و کشمیر وقف بورڈ کا یو ٹرن اس بات کا سبق ہے کہ جمہوریت میں عوامی بیداری، آئینی استدلال اور علمائے کرام کا اتحاد کسی بھی غیر آئینی مداخلت کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ اقلیتوں کی مذہبی آزادی کسی کی خیرات نہیں بلکہ آئینِ ہند کے تحت حاصل بنیادی حق ہے۔ منبر و محراب کی آزادی مساجد کی روح ہے اور اس آزادی کا تحفظ نہ صرف مسلم اقلیت کی دینی ذمہ داری ہے، بلکہ ملک کے جمہوری اور سیکولر تانے بانے کی بقا کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
چھتیس گڑھ سے کشمیر تک: مساجد کی آزادی پر قدغن کی شروعات؟

منبر و محراب پر سرکار کی نظر؟ جموں و کشمیر وقف بورڈ کے متنازع فیصلے

