کامیابی سے پہلے اچھا انسان بننا ضروری ہے۔ ایسا انسان بنیں جس کی موجودگی راحت بن جائے
 خوش مزاجی انسانی شخصیت کی ان خوبیوں میں سے ہے جن کا اثر صرف انسان کی ذات تک محدود نہیں رہتا۔ ایک خوش مزاج شخص کے ساتھ بیٹھنا، گفتگو کرنا اور کسی معاملے میں اس سے مشورہ کرنا سہل محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص ہر وقت پریشان، بوجھل، خاموش یا چڑچڑا دکھائی دے تو لوگ رفتہ رفتہ اس سے فاصلہ اختیار کرنے لگتے ہیں۔ زندگی میں دکھ، ناکامیاں، پریشانیاں اور آزمائشیں آتی رہتی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود مزاج میں توازن، گفتگو میں شائستگی اور چہرے پر بشاشت برقرار رکھنا ایک بڑی خوبی ہے۔
ہر وقت سنجیدہ اور فکرمند دکھائی دینا دانائی کی علامت نہیں۔ بعض لوگ اپنی پریشانیوں کو اس قدر اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں کہ زندگی کی معمولی خوشیاں بھی ان تک نہیں پہنچ پاتیں۔ چہرے پر ہر وقت تفکر کے آثار، گفتگو میں بے دلی اور معمولی باتوں پر جھنجھلاہٹ رفتہ رفتہ شخصیت کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔ خوش مزاجی اس کے برعکس انسان کو مسائل سے فرار کا راستہ نہیں دکھاتی، بلکہ مشکلات کے درمیان خود کو متوازن رکھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمارے لیے اس معاملے میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ حسنِ اخلاق، خوش گفتاری، نرم مزاجی اور حسنِ معاملہ کے ساتھ لوگوں سے پیش آتے تھے۔ آپ کی گفتگو میں نرمی ہوتی، لوگوں کے حالات کا لحاظ ہوتا اور مشکل معاملات میں بھی حکمت نمایاں رہتی۔ قرآنِ مجید نے آپ کے اسی نرم رویے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالٰی نے فرمایا:
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ (آلِ عمران: ۱۵۹)
’’پس اللہ کی رحمت ہی سے تم ان کے لیے نرم ہو گئے، اور اگر تم سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمہارے گرد سے منتشر ہو جاتے۔‘‘
یہ آیت انسانی تعلقات کی ایک بنیادی حقیقت واضح کرتی ہے: سخت مزاجی فاصلے پیدا کرتی ہے، جبکہ نرمی دلوں کو قریب لاتی ہے۔ گھر ہو یا دفتر، کاروبار ہو یا سماجی زندگی، انسان کا لہجہ، اندازِ گفتگو اور طرزِ برتاؤ صرف اس کی اپنی شخصیت کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ پورے ماحول پر اثر انداز ہوتا ہے۔
گھریلو زندگی میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان اختلاف ہو، والدین اور اولاد میں کسی بات پر ناراضی ہو یا بہن بھائیوں کے درمیان کوئی مسئلہ پیدا ہو، وہاں ایک سخت جملہ معاملے کو طول دے سکتا ہے، جبکہ ایک نرم جواب اسے وہیں روک سکتا ہے۔ بسا اوقات مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا ہمارا ردِعمل اسے بنا دیتا ہے۔ خوش مزاجی اسی ردِعمل کو سنبھالنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
مسکراہٹ بھی حسنِ سلوک کا ایک حصہ ہے۔ ایسی مسکراہٹ جو طنز، تحقیر یا کسی کو نیچا دکھانے کے جذبے سے پاک ہو، تعلقات میں ایک خاص نرمی پیدا کرتی ہے۔ کبھی ایک ہلکی سی مسکراہٹ کشیدہ ماحول کا تناؤ کم کر دیتی ہے، کبھی کسی پریشان شخص کو حوصلہ دیتی ہے اور کبھی معمولی اختلاف کو بحث میں بدلنے سے روک دیتی ہے۔ اس کے لیے کسی خاص تربیت کی ضرورت نہیں؛ صرف اپنے رویے پر تھوڑی سی توجہ کافی ہے۔
البتہ خوش مزاجی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت ہنستا رہے یا ہر معاملے کو مذاق میں اڑا دے۔ زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جہاں خاموشی، سنجیدگی اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل خوبی یہ ہے کہ انسان موقع و محل کی مناسبت کو سمجھ سکے۔ جہاں خوشی کا موقع ہو وہاں خوشی کا اظہار کرے؛ جہاں کسی کو تسلی درکار ہو وہاں سنجیدگی اور ہمدردی سے بات کرے؛ اور جہاں اختلاف ہو وہاں غصے کے بجائے تحمل سے کام لے۔
خوش مزاجی کا تعلق گفتگو کے سلیقے سے بھی ہے۔ انسان کے پاس درست بات ہو لیکن وہ اسے ایسے انداز میں کہے کہ سامنے والے کی دل آزاری ہو جائے تو بات کی تاثیر کمزور پڑ جاتی ہے۔ قرآنِ مجید نے دعوت کے بارے میں فرمایا:
اُدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (النحل:۱۲۵)
’’اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔‘‘
یہ رہنمائی اگرچہ دعوت کے متعلق ہے لیکن حکمت اور حسنِ گفتار ایک مومن کی عمومی زندگی کا بھی حصہ ہونا چاہیے۔ گھر میں، دوستوں کے درمیان، دفتر میں، بازار میں اور اختلاف کے مواقع پر ہماری زبان اور ہمارا لہجہ ہمارے اخلاق کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اچھی بات صرف یہ نہیں کہی جائے کہ وہ درست ہے، بلکہ اسے اس انداز سے بھی پیش کیا جائے کہ سننے والا اسے سمجھنے اور قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو۔
زندگی ہمیشہ ایک ہی کیفیت میں نہیں رہتی۔ کبھی انسان خوشی سے سرشار ہوتا ہے اور کبھی ایسے حالات آتے ہیں کہ ایک کے بعد ایک مشکل سامنے آتی چلی جاتی ہے۔ کسی عزیز کی وفات، حادثہ، مالی نقصان، کاروباری ناکامی، کسی تعلق کا ٹوٹ جانا یا کسی اہم خواہش کا پورا نہ ہونا انسان کو اندر سے ہلا سکتا ہے۔ ایسے وقت میں غمگین ہونا فطری ہے۔ ہر دکھ کے بعد فوراً معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آنا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
مگر غم کو ہمیشہ کے لیے زندگی کا مرکز بنا لینا بھی درست نہیں۔ کچھ چیزیں واپس نہیں آتیں، کچھ خواہشیں پوری نہیں ہوتیں اور بعض سوالات کے جواب انسان کو نہیں ملتے۔ زندگی کا سلیقہ یہ ہے کہ انسان رفتہ رفتہ حقیقت کو قبول کرے اور آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔ دکھ کو بھلا دینا ضروری نہیں، مگر اسے اپنی پوری شخصیت پر حاوی کر لینا بھی مناسب نہیں۔ وقت کے ساتھ انسان اپنے زخموں کے ساتھ جینا سیکھتا ہے اور پھر زندگی کی عام خوشیوں میں دوبارہ شریک ہونے لگتا ہے۔
انسانی نفسیات میں مثبت رویے کی اہمیت بھی اسی لیے بیان کی جاتی ہے۔ مثبت رویہ محض مسکرانے یا خوش رہنے کا نام نہیں۔ انسان کس انداز میں گفتگو کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتا ہے، مشکل حالات میں کس طرح سوچتا ہے، فیصلہ کرنے سے پہلے کتنا غور و فکر کرتا ہے اور غصے کی کیفیت میں اپنے آپ کو کس حد تک قابو میں رکھتا ہے، یہ سب اس کے رویے کا حصہ ہیں۔ جو شخص مشکل وقت میں بھی اپنے آپ کو سنبھال لیتا ہے، وہ نہ صرف بہتر فیصلے کرتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی سہارا بن جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں حلم، تحمل اور حکمت کے بے شمار نمونے ملتے ہیں۔ آپ لوگوں کی بات سنتے، حالات کو سمجھتے اور موقع و محل کی مناسبت سے جواب دیتے۔ یہی ٹھیراؤ انسان کو جذباتی فیصلوں سے بچاتا ہے۔ ہر بات پر فوری ردِعمل دینا ضروری نہیں ہوتا؛ بعض مسائل وقت، خاموشی اور غور و فکر سے زیادہ بہتر انداز میں حل ہو جاتے ہیں۔
بردباری بھی اسی کردار کا ایک اہم حصہ ہے۔ بردبار شخص کو بھی غصہ آ سکتا ہے، اسے اختلاف بھی ہو سکتا ہے، لیکن وہ اپنے غصے کو دوسروں کی تذلیل کا ذریعہ نہیں بناتا۔ وہ ناراض ہو کر بھی اخلاق کی حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے جذبات پر قابو رکھنے کا عادی نہ ہو وہ چند لمحوں کی کیفیت میں ایسی بات کہہ دیتا ہے جس پر بعد میں اسے پشیمانی ہوتی ہے۔
ہماری روزمرہ زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ایک شخص دفتر میں کسی ساتھی کی سخت بات سن کر خاموش رہتا ہے، لیکن گھر آکر معمولی سی بات پر بچوں یا شریکِ حیات سے جھنجھلا جاتا ہے۔ کسی دکان پر غلط چیز ملنے پر بحث شروع کر دیتا ہے، کسی ڈرائیور کی معمولی غلطی پر غصے میں آجاتا ہے یا سوشل میڈیا پر اختلاف ہوتے ہی سخت الفاظ استعمال کرنے لگتا ہے۔ یہ سب اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ جذبات پر قابو رکھنا محض نظری بات نہیں بلکہ روزمرہ کردار کی عملی آزمائش ہے۔
جلد بازی بھی معاملات کو بگاڑنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ بہت سے مسائل ایسے ہوتے ہیں جو تھوڑے سے غور و فکر اور خاموشی سے حل ہو سکتے ہیں، لیکن ہم فوری جواب دے کر انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایک معمولی اختلاف بحث میں بدلتا ہے، بحث تلخی پیدا کرتی ہے، تلخی ضد کو جنم دیتی ہے اور آخرکار ایسی گرہ پڑ جاتی ہے جسے کھولنے میں خاصا وقت لگتا ہے۔
ہر بات کا جواب اسی لمحے دینا ضروری نہیں۔ کبھی چند لمحے خاموش رہنا، گفتگو کو مؤخر کردینا یا اگلے دن بات کرنا زیادہ دانش مندی ہوتی ہے۔ غصے میں لکھا ہوا پیغام بھیجنے سے پہلے دوبارہ پڑھ لینا، کسی شکایت کا جواب فوراً دینے کے بجائے اس پر غور کرلینا اور دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرنا ایسے چھوٹے مگر بامعنی فیصلے ہیں جو بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
خوش گفتاری کے ساتھ اچھی سماعت بھی ضروری ہے۔ جو شخص دوسروں کی بات پوری توجہ سے سنتا ہے، وہ جواب بھی زیادہ سمجھ داری سے دے سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنی رائے قائم کرلے، وہ اکثر اصل مسئلے کو سمجھے بغیر ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ سننا دراصل گفتگو کا نصف حصہ ہے۔ کسی کی بات سن لینے کا مطلب اس سے اتفاق کرنا نہیں بلکہ اسے اپنی بات مکمل کرنے کا حق دینا ہے۔ بسا اوقات توجہ سے سنا جانا ہی کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
یہ اوصاف نوجوانوں کی شخصیت سازی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ آج کا نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا ہے، نئی ٹیکنالوجی سیکھ رہا ہے، مختلف شعبوں میں مہارت پیدا کر رہا ہے اور عالمی سطح پر مسابقت کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہے لیکن ایک مکمل شخصیت صرف ڈگری اور پیشہ ورانہ مہارت سے نہیں بنتی۔ کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انسان لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے، اختلاف کو کس طرح سنبھالتا ہے اور اپنے جذبات پر کس قدر قابو رکھتا ہے۔
اسی لیے خوش اخلاقی، خوش گفتاری، تحمل، بردباری اور اچھی سماعت کو شخصیت کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ یہ اوصاف صرف کتابوں سے حاصل نہیں ہوتے؛ انہیں روزمرہ زندگی میں برت کر اپنی عادت کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔ اگر نوجوان اپنے اساتذہ، ساتھیوں، دوستوں، والدین اور گھر کے دوسرے افراد سے سلیقے اور احترام کے ساتھ گفتگو کرنے کا معمول بنا لیں تو یہی چھوٹی چھوٹی عادتیں آگے چل کر ان کی شخصیت کی نمایاں پہچان بن جاتی ہیں۔
آج کے کارپوریٹ ماحول میں ابلاغی مہارتیں (Communication Skills) باقاعدہ ایک پیشہ ورانہ صلاحیت بن چکی ہیں۔ بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے نوجوان گفتگو، پریزنٹیشن، باڈی لینگویج، الفاظ کے انتخاب اور لب و لہجے کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ان تربیتی کورسز پر خاصا سرمایہ صرف کیا جاتا ہے، کیونکہ کاروباری دنیا میں یہ صلاحیتیں پیشہ ورانہ کارکردگی اور ترقی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ جو شخص مؤثر انداز میں بات کرسکتا ہو، دوسروں کی بات سن سکتا ہو اور اختلاف کو سلیقے سے سنبھال سکتا ہو، اس کے لیے پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ ساری تربیت صرف دفتر کی ضرورت بن کر رہ جائے۔
ایک نوجوان دفتر میں نہایت شائستہ ہوتا ہے۔ میٹنگ میں دوسروں کی بات غور سے سنتا ہے، مسکرا کر جواب دیتا ہے، اختلاف ہو تو مناسب الفاظ استعمال کرتا ہے اور ساتھیوں کے ساتھ احترام سے پیش آتا ہے۔ لیکن گھر پہنچتے ہی اس کا انداز بدل جاتا ہے۔ ذرا سی بات پر غصہ، بچوں پر جھنجھلاہٹ، والدین سے بے زاری اور شریکِ حیات سے سخت لہجہ۔
یہ تضاد صرف گھر والوں کے لیے تکلیف دہ نہیں بلکہ خود اس شخص کے لیے بھی غور طلب ہے۔ اگر انسان باہر کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف اس لیے کرتا ہے کہ وہاں اس کی ملازمت، ترقی یا آمدنی وابستہ ہے تو پھر گھر میں اس کے اخلاق کا امتحان کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ گھر کے لوگ ہماری شخصیت کا وہ رخ دیکھتے ہیں جو شاید دنیا کے دوسرے لوگ کبھی نہ دیکھ پائیں۔
ایک مومن کے لیے اخلاق کسی مخصوص ماحول کا تقاضا نہیں بلکہ کردار کی پہچان ہونا چاہیے۔ جس طرح وہ اپنے ساتھیوں سے احترام کے ساتھ بات کرتا ہے اسی طرح اپنے والدین، شریکِ حیات اور اولاد سے بھی کرے۔ جس طرح وہ کسی افسر یا کلائنٹ کی بات تحمل سے سنتا ہے، اپنے گھر کے فرد کو بھی اتنی ہی توجہ دے۔ اگر باہر کے لوگ ہمیں خوش اخلاق سمجھتے ہوں لیکن گھر والے ہمارے غصے اور سختی سے پریشان رہتے ہوں تو ہمیں اپنے کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
حسنِ اخلاق کا اصل امتحان بھی وہیں ہوتا ہے جہاں ہمیں کسی ظاہری فائدے کی امید نہیں ہوتی۔ دفتر میں شائستگی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے، کاروبار میں اچھی گفتگو آمدنی بڑھا سکتی ہے اور سماجی تعلقات میں خوش اخلاقی عزت دلا سکتی ہے۔ لیکن گھر میں ہمارے اچھے اخلاق کا کوئی فوری مالی فائدہ سامنے نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود اگر انسان وہاں بھی نرم، متوازن اور خوش گفتار رہے تو یہ اس کے کردار کی پختگی کی علامت ہے۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ اپنی شخصیت کے اس پہلو پر بھی محنت کریں۔ خوش اخلاقی کو کسی مصنوعی اندازِ گفتگو کے طور پر اپنانے کے بجائے اسے مزاج کا حصہ بنانا ہوگا۔ ابتدا میں اس کے لیے شعوری کوشش کرنی پڑ سکتی ہے: غصے میں خاموش رہنا، دوسرے کی بات مکمل سننا، اختلاف کے وقت الفاظ کا خیال رکھنا، غلطی ہوجائے تو معذرت کرنا اور کسی کی کمزوری کو مذاق کا موضوع نہ بنانا۔
آدمی اگر دن کے اختتام پر چند منٹ اپنے رویے کا جائزہ لے تو بہت سی اصلاح ممکن ہے۔ آج میں نے کس سے سختی کی؟ کیا کسی کی بات پوری سنے بغیر جواب دیا؟ کیا غصے میں کوئی ایسا لفظ استعمال کیا جس کی ضرورت نہیں تھی؟ کیا میں نے گھر والوں کے ساتھ وہی تحمل دکھایا جو دفتر میں دوسروں کے ساتھ دکھاتا ہوں؟ ایسے سوالات انسان کو اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتے اور اصلاح کا راستہ کھولتے ہیں۔
نوجوانوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ اچھی ملازمت کیسے حاصل کرنی ہے، کاروبار کیسے کامیاب بنانا ہے یا دنیا میں آگے کیسے بڑھنا ہے۔ انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کامیابی کے ساتھ اچھا انسان کیسے رہنا ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور مہارت انسان کے لیے مواقع پیدا کرتی ہیں مگر اچھا کردار ان مواقع کو بامعنی بناتا ہے۔
خوش مزاجی صرف مسکراہٹ کا نام نہیں۔ یہ نرم لہجے، متوازن رویے، اچھی سماعت، غصے پر قابو، مناسب وقت پر خاموش رہنے اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کا نام بھی ہے۔ انسان ہر وقت خوش نہیں رہ سکتا، لیکن وہ ہر وقت بد مزاج رہنے پر مجبور بھی نہیں۔
ہماری شخصیت اس وقت زیادہ خوب صورت ہوتی ہے جب ہمارا رویہ مختلف جگہوں پر مختلف چہروں میں تقسیم نہ ہو۔ دفتر میں شائستگی اور گھر میں سختی، دوستوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور ماتحتوں کے ساتھ بدسلوکی یا اجنبیوں کے سامنے مسکراہٹ اور اہلِ خانہ کے لیے ہر وقت غصہ—یہ سب رویے انسان کو اپنے کردار پر نظرِ ثانی کی دعوت دیتے ہیں۔
تبدیلی کے لیے کسی بڑے موقع کا انتظار ضروری نہیں۔ اگلی گفتگو میں لہجہ نرم کیا جاسکتا ہے، اگلے اختلاف میں فوراً جواب دینے سے گریز کیا جاسکتا ہے، کسی کی بات پوری سنی جاسکتی ہے اور کسی ناراض شخص سے پہل کرکے بات کی جا سکتی ہے۔ شخصیت اسی طرح چھوٹے چھوٹے فیصلوں اور روزمرہ عادتوں سے تشکیل پاتی ہے۔
ہم نوجوانوں کو کامیابی کے بہت سے راستے بتاتے ہیں: اچھی تعلیم حاصل کرو، ہنر سیکھو، وقت کی قدر کرو، اپنے شعبے میں آگے بڑھو اور دنیا کے بدلتے تقاضوں کو سمجھو۔ یہ سب ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بات اور بھی سکھانے کی ضرورت ہے: اچھا مقام حاصل کرنے سے پہلے اچھا انسان بننا سیکھو۔
کیونکہ انسان کی اصل آزمائش اس وقت نہیں ہوتی جب وہ کسی بڑے عہدے پر بیٹھا ہو، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب اسے غصہ آیا ہو اور سامنے کوئی کمزور شخص ہو؛ جب اسے کسی کی بات پسند نہ آئی ہو اور جواب دینا آسان ہو؛ جب گھر میں کوئی اس کے مزاج کے مطابق نہ چل رہا ہو؛ یا جب اسے معلوم ہو کہ سامنے والے سے اچھا برتاؤ کرنے کے بدلے اسے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔ یہی وہ لمحے ہیں جہاں انسان کا اصل کردار سامنے آتا ہے۔
ہمیں ایسی نوجوان شخصیتیں درکار ہیں جو دفتر میں بھی مہذب ہوں اور گھر میں بھی، اجنبی کے ساتھ بھی نرم ہوں اور اپنے لوگوں کے ساتھ بھی، اختلاف میں بھی شائستہ رہیں اور کامیابی میں بھی عاجز۔ جن کی مسکراہٹ لوگوں کو متاثر کرنے کی اداکاری نہ ہو بلکہ ان کے باطن کے اطمینان کی علامت ہو اور جن کی خوش گفتاری کسی کورس کی تربیت نہیں بلکہ ان کے مزاج کا حصہ بن چکی ہو۔
آج سے ہم اپنے آپ سے ایک چھوٹا سا وعدہ کرسکتے ہیں: ہر بات کا جواب فوراً نہیں دیں گے، ہر اختلاف کو لڑائی نہیں بنائیں گے، غصے میں زبان کو بے لگام نہیں چھوڑیں گے، دوسروں کی بات پوری سنیں گے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ وہی اخلاق اختیار کریں گے جو دنیا کے سامنے دکھاتے ہیں۔
ممکن ہے اس سے دنیا فوراً نہ بدلے، لیکن ہمارا گھر ضرور بدل سکتا ہے۔ ایک گھر بدلے گا تو ایک خاندان بدلے گا، ایک خاندان بدلے گا تو معاشرے کے مزاج میں بھی فرق آئے گا۔
اصلاح کسی بڑے اعلان سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی ایک جملہ بدلنے سے ہوتی ہے، کبھی غصے کے ایک جواب کو روک لینے سے، کبھی کسی کی بات خاموشی سے سن لینے سے اور کبھی صرف اس احساس سے کہ ہمارے الفاظ کسی دوسرے انسان کے دل پر اثر ڈالتے ہیں۔
خوش مزاجی کوئی معمولی سماجی خوبی نہیں؛ یہ انسان کے باطن کی کیفیت کا اظہار ہے۔ جب اس کے ساتھ حسنِ اخلاق، بردباری اور خوش گفتاری شامل ہوجائیں تو یہی خوبیاں ایک ایسی شخصیت تشکیل دیتی ہیں جس کے پاس بیٹھ کر دل بوجھل نہیں ہوتا، جس سے بات کرکے آدمی خود کو کمتر محسوس نہیں کرتا اور جس کی موجودگی دوسروں کے لیے بوجھ کے بجائے سہارا بن جاتی ہے۔
ہماری نئی نسل کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ دنیا میں اپنا مقام بنائے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ جہاں بھی جائے، اپنے اخلاق سے جگہ بنائے۔ لوگ اس کی دولت کو بھول سکتے ہیں، اس کا عہدہ بدل سکتا ہے، اس کی پیشہ ورانہ کامیابیاں وقت کے ساتھ پیچھے رہ سکتی ہیں، لیکن اس کا اچھا برتاؤ، اس کی نرم گفتگو اور اس کے ہاتھوں ملنے والا سکون لوگوں کے دلوں میں دیر تک باقی رہتا ہے۔
اور شاید یہی وہ پہچان ہے جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے: ایسا انسان بننا جس کی کامیابی سے زیادہ اس کے کردار کی خوشبو پہچانی جائے، جس کی گفتگو سے دل نہ ٹوٹیں بلکہ جڑیں اور جس کی موجودگی دوسروں کے لیے بوجھ نہیں، راحت بن جائے۔