ایف سی آر اے ترمیمی بل پر پارلیمنٹ میں ٹکراؤ کے آثار، مشنری تنظیموں کا وزیر داخلہ کو میمورنڈم
یوپی اسمبلی میں سنبھل فساد کی رپورٹ پیش، تشدد کو منصوبہ بند سازش قرار دیا گیا۔
 ’’ہماری جانیں گئیں، پھر ہمیں ہی ملزم کیوں بنایا گیا؟‘‘ متاثرین کا سوال
 ساون میں گوشت کی پابندی کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچا، امروہہ کے اعلیٰ حکام سے تحریری جواب طلب
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان ٹکراؤ کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اصل لڑائی ایوان کے باہر لڑی جا رہی ہے۔ حکم راں جماعت ایوان کا خصوصی اجلاس بلا کر خواتین ریزرویشن بل اور حد بندی قانون منظور کروانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی جوڑ توڑ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ اپوزیشن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ حکومت کے ارادے بخوبی سمجھتی ہے اور مجوزہ بلوں کی پرزور مخالفت جاری رکھے گی۔
کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا ہے کہ حکومت پہلے طلبا پر ہونے والے مظالم اور بربریت کا جواب دے اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ ایوان کا سامنا کریں۔ انہوں نے رام مندر کے چڑھاوے کی مبینہ چوری کے معاملے پر بھی ایوان میں بحث کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس معاملے پر پوری قوم فکر مند ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے طلبا رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ اپوزیشن طلبا کے مسائل پر پوری طرح ان کے ساتھ ہے۔ اتر پردیش میں پریاگ راج کا ’گونج‘ پروگرام طلبا کی آواز بلند کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ راہل گاندھی نے ’جین زی‘ سے براہِ راست جڑنے کے لیے انسٹاگرام پر ’آسک می اینی تھنگ‘ مہم بھی شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے آئی آئی ٹی دہلی کے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان با اختیار ہوں گے تو ملک بھی مضبوط ہوگا۔ جنتر منتر کے احتجاج کے بعد پہلی مرتبہ طلبا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا "دنیا تیزی سے بدل رہی ہے کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اگلے بیس تیس سال بعد دنیا کیسی ہوگی؟"
راہل گاندھی کے پریاگ راج پروگرام ’گونج‘ سے طلبا کے حوصلے بلند
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی رفتہ رفتہ نوجوانوں کی آواز بنتے جا رہے ہیں۔ اتر پردیش کے پریاگ راج میں منعقدہ ’گونج‘ پروگرام میں اس کی ایک جھلک دیکھنے کو ملی جہاں راہل گاندھی کو سننے کے لیے ہزاروں نوجوان میدان میں جمع ہوئے۔ راہل گاندھی نے نوجوانوں کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا: ’’جتنا ریلز بنانا چاہو، بنا لو بھائیو اور بہنو، یہ 21ویں صدی کا نشہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ڈگری اور سرٹیفکیٹ نوجوانوں کو نوکری نہیں دے سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں ایک ہزار نوجوانوں میں صرف 12 امیدواروں کو ہی پکی نوکری ملتی ہے۔
انہوں نے بھارتی نوجوانوں کو ملک کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس نوجوان طاقت کے آگے بڑھنے کے تمام راستے بند کر رکھے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیٹا اصل طاقت ہے اور یہ طاقت بھارت کے نوجوانوں کے پاس ہے، لیکن حکومت نے اسے صحیح رخ پر استعمال کرنے کے بجائے ’چکر ویو‘ یعنی ایک جال میں پھنسا رکھا ہے۔ ’گونج‘ کے اسٹیج سے نوجوانوں کو اپنے دل کی بات رکھنے کا موقع دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے اندھیرے میں روشنی دکھائی ہے۔
نوجوانوں سے براہِ راست رابطے کی راہل گاندھی کی یہ حکمتِ عملی سیاسی حلقوں میں بھی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ پروگرام کے دوران اسٹیج پر لگی اسکرین پر نریندر مودی، امیت شاہ، موہن بھاگوت اور گوتم اڈانی کی تصاویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ایک دھیان بھٹکاتا ہے، دوسرا سوچ پر پہرہ لگاتا ہے اور تیسرا جیب کاٹ لیتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’درد آپ کا، ڈیٹا آپ کا اور دولت کسی اور کی—یہی آج کا سسٹم ہے۔‘‘ پریاگ راج میں ’گونج‘ کے اسٹیج سے راہل گاندھی نے اسی نظام کو اپنے نشانے پر رکھا۔
رانچی میں طلبا احتجاج کے دوران نیہا وورا پر سیاہی پھینکی گئی
جھار کھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں پرچہ لیک کے خلاف طلبا کے احتجاج کے دوران اس وقت بد مزگی پیدا ہوگئی جب بعض عناصر نے جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی لیڈر نیہا وورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی۔ ان کے ساتھ موجود دیگر خواتین بھی اس کی زد میں آئیں۔
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ عناصر نے کیا۔ آئیسا کے جاری کردہ بیان کے مطابق تنظیم کی صدر نیہا وورا جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امیدواروں کی احتجاجی تحریک کی حمایت میں رانچی گئی تھیں اور احتجاجی مارچ کی جانب جاتے ہوئے یہ واقعہ پیش آیا۔
اس معاملے میں ایک حملہ آور کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ نیہا وورا کو اس لیے ناپسند کرتا ہے کیوں کہ وہ جیل میں بند عمر خالد کی حمایت کرتی ہیں۔ آئیسا نے حملہ آوروں کی شناخت کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ رانچی میں مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبا احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت کا ایک نمائندہ وفد طلبا کے مطالبات پر دو دور کی بات چیت کر چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے بھی طلبا کے جائز مطالبات پر غور کرنے کا یقین دلایا ہے لیکن ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھی احتجاج کرنے والے طلبا کو ان کے مسائل کے حل میں مدد کا یقین دلایا ہے۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ جنتر منتر پر طلبا کی حمایت کرنے والی اپوزیشن جماعتیں رانچی کے معاملے میں خاموش ہیں۔ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا کے لیے کھانے کا انتظام کرنے والے محمد جنید بھی رانچی پہنچ چکے ہیں اور مقامی لوگوں کے ساتھ ٹیم بنا کر احتجاجی طلبا کو کھانا فراہم کر رہے ہیں۔
ایف سی آر اے ترمیمی بل نے اپوزیشن کی دھڑکنیں بڑھائیں
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں جین زی کی احتجاجی تحریک کو دبانے کے الزام اور رام مندر چندہ چوری کے معاملے پر گھری مرکزی حکومت اب ایک اور محاذ کھولنے کی تیاری میں ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت ایف سی آر اے ترمیمی بل 2026 کو اسی اجلاس میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ بل گزشتہ سال مارچ میں لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا اور اب حکومت اس میں بعض اہم ترامیم لانے جا رہی ہے۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق اگر کسی رضا کار تنظیم یا ادارے کا ایف سی آر اے لائسنس ختم یا سرنڈر ہو جاتا ہے تو غیر ملکی فنڈ سے بنائی گئی اس کی جائیداد اور بینک اکاؤنٹس حکومت کے قبضے میں چلے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے حکومت ایک اتھارٹی قائم کرے گی، جو رضاکار تنظیموں کی نگرانی کرے گی۔ ایف سی آر اے رجسٹریشن کے لیے عہدیداروں کا آدھار نمبر اور غیر ملکی شہریوں کا پاسپورٹ لازمی قرار دیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس 360 دن تک معطل کیا جا سکے گا۔
اپوزیشن کی جماعت کانگریس نے ترمیمی بل کی پرزور مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ بل اقلیتی طبقے کو دبانے کے لیے لایا جا رہا ہے۔ عیسائی تنظیموں کے وفد، کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا (سی بی سی آئی) کے نمائندوں نے 10؍ جولائی کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرکے میمورنڈم پیش کیا۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے حوالے کیا جائے اور مجوزہ ترامیم پر اپنے تحفظات بھی ظاہر کیے۔
حکومت کا موقف اس سے مختلف ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کا کہنا ہے کہ بل کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا اور غیر ملکی فنڈز کے غلط استعمال کو روکنا ہے، کسی مذہب کو نشانہ بنانا نہیں۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اس معاملے پر کل جماعتی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بل کی مخالفت کے لیے کانگریس نے اپنے تمام ارکانِ پارلیمان کو 10 سے 12 اگست تک ایوان میں موجود رہنے کا وہپ جاری کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ معاملہ کس قدر اہم سیاسی محاذ بننے جا رہا ہے۔
یو پی اسمبلی میں سنبھل فساد کی جانچ رپورٹ پیش
سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران ہونے والے پر تشدد واقعات کی جانچ رپورٹ ریاستی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے۔ جسٹس دیویندر کمار اروڑا کی سربراہی میں قائم تین رکنی عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے 450 صفحات پر مشتمل خفیہ رپورٹ حکومت کے حوالے کی ہے۔ رپورٹ کو فی الحال صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے، تاہم اس کی بعض اہم باتیں ذرائع ابلاغ تک پہنچ رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 24 نومبر 2024 کو سنبھل میں ہونے والے پر تشدد واقعات پہلے سے منصوبہ بند تھے۔ ان رپورٹس کے مطابق سنبھل کے رکنِ پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق، مسجد کمیٹی کے صدر ظفر علی اور مقامی رکن اسمبلی اقبال محمد کے بیٹے سہیل اقبال کو تشدد بھڑکانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
ضیاء الرحمٰن برق نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’ہماری جانیں گئیں اور ہمیں ہی ملزم بنایا جا رہا ہے۔ عام لوگوں کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں تھا، اس کے باوجود ہمارے لوگوں کو ہی ملزم بنا دیا گیا۔ یہ ظلم کی انتہا ہے۔‘‘
انڈین یونین مسلم لیگ یو پی کے صدر متین احمد خان نے رپورٹ کو غیر منصفانہ اور نا مکمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ رپورٹ آر ایس ایس کے دفتر میں تیار کی گئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر آنند بھدوریہ نے سوال اٹھایا کہ جب رپورٹ خفیہ ہے تو بی جے پی لیڈروں کو اس کی تفصیلات کیسے معلوم ہوئیں؟ انہوں نے بی جے پی پر اپنی مرضی کے مطابق رپورٹ تیار کروانے کا الزام بھی عائد کیا۔
اسی دوران الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے کے بعض اہم ملزمین کو فی الحال مجرمانہ کارروائی سے راحت دے دی ہے۔ ملزمین کے وکیل نے ایف آئی آر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اسے خارج کرنے کی درخواست کی تھی جس پر عدالت نے آئندہ کارروائی پر عبوری روک لگا دی ہے۔
ساون میں گوشت پر پابندی
شمالی ہند میں ساون کے مہینے کے ہر پیر کو شیو مندروں میں جل چڑھایا جاتا ہے۔ اس دوران شیو بھکت عموماً گوشت، مچھلی اور انڈے سے پرہیز کرتے ہیں۔ پہلے یہ پابندی صرف عقیدت مندوں تک محدود تھی، لیکن جیسے جیسے ہندوستان کو ایک ہی رنگ میں رنگنے کی کوششیں تیز ہوئیں، پیر اور منگل کے روز گوشت کی دکانیں بند ہونے لگیں۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ سلسلہ مزید دراز ہوا اور ہفتے میں تین دن گوشت اور مچھلی کی دکانیں بند کرائی جانے لگیں۔ اب صورتِ حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بعض علاقوں میں پورے ساون کے مہینے کی غیر اعلانیہ پابندی نافذ نظر آ رہی ہے۔
امروہہ کے سماجی کارکن حاجی ناصر فاروق ایڈووکیٹ نے ضلع انتظامیہ کے حکم کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے معاملے میں سخت رخ اختیار کرتے ہوئے امروہہ کے ڈی ایم اور ایس ایس پی سے تحریری جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے مقامی دکان داروں کو ایک ماہ تک گوشت کی دکانیں بند رکھنے کا نوٹس دینے والے پولیس کوتوال کو بھی طلب کر لیا ہے۔ انہیں ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہو کر وضاحت دینی ہوگی۔
ناصر فاروق کا کہنا ہے کہ کانوڑ یاترا کے راستوں پر انتظامی ضرورت کے تحت کچھ پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں لیکن اس کی آڑ میں مسلم محلوں اور بازاروں کی تمام گوشت کی دکانیں بند کر دینا درست نہیں۔ انہوں نے عدالت کی توجہ اس پابندی کے انسانی اور معاشی پہلو کی طرف بھی مبذول کرائی۔ ان کے مطابق چھوٹے پیمانے پر گوشت کا کاروبار کرنے والے افراد اگر ایک ماہ تک بے روزگار رہیں تو روزانہ کمانے والوں کے گھروں کے چولہے کیسے جلیں گے؟
صرف امروہہ ہی نہیں، شمالی ہند کے کئی دوسرے شہروں میں بھی ایسی ہی صورتِ حال دیکھی جا رہی ہے۔ گوشت کی دکانوں کی طویل بندش سے شادی بیاہ کی تقریبات بھی متاثر ہوتی ہیں اور ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔ عدالت کو اس پورے معاملے میں واضح اور یکساں رہنما اصول وضع کرنے پر غور کرنا چاہیے تاکہ مذہبی عقیدت کا احترام بھی ہو اور کسی طبقے کے روزگار اور بنیادی حقوق بھی متاثر نہ ہوں۔
رام پور کے ایس ایس پی کی ہرزہ سرائی
رام پور کے ایس پی انل سنگھ سسودیا کا ایک متنازع بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد رام پور پولیس کو وضاحت پیش کرنی پڑی۔ ویڈیو میں انل سنگھ گئو کشی روکنے کے سلسلے میں مسلمانوں کو مبینہ طور پر نصیحت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مسلمانوں کی مبینہ درجہ بندی کرتے ہوئے ان کی جانب سے ’اصلی‘ اور ’حرامی‘ جیسے الفاظ کے استعمال پر مسلمانوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
تجربہ کار صحافی عبید اللہ ناصر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں چھانٹ چھانٹ کر فرقہ پرست افسر تعینات کیے گئے ہیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ اس طرح کے بے تکے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
رام پور پولیس نے معاملے میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس پی صاحب نے نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے یہ بیان دیا تھا۔ تاہم سوال اپنی جگہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ایک اعلیٰ افسر کے لیے کسی بھی مذہبی یا سماجی طبقے کے بارے میں اس طرح کی زبان کا استعمال کس حد تک قابلِ قبول ہے؟
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال۔ آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دل چسپ احوال کے ساتھ۔ تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر صلا۔