عالم بدیع: ایک علم دوست سیاست داں و سماجی جہدکار
محترم عالم بدیع کی شہرت ایک مشہور سیاست داں، سماجی کارکن اور علم دوست کی حیثیت سے تھی۔ ان کی پیدائش ۱۹۳۶ء میں اس معروف بستی میں ہوئی جس کی شہرت ملک گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے۔ جس کے بارے علامہ شبلیؒ نے کسی موقع پر کہا تھا:
فضل بندول اگر تونشاسی
آدمی نیستی تو نسناسی!
یعنی مرحوم بھی علامہ شبلی نعمانی کے ہم وطن تھے۔ انہوں نے‘‘میاں صاحب جارج اسلامیہ انٹر کالج گورکھ پور’’ سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے سول انجیئر ہوئے۔ ان کے چھ بیٹے ہیں اور ایک بیٹی تھی جس کا چند پہلے انتقال ہوگیا۔ ان کی اہلیہ کا ۲۶؍ اگست ۲۰۲۲ء میں انتقال ہوا تھا۔ ان کے بڑے بیٹے شہزاد عالم جو اعظم گڑھ پبلک اسکول چیک پوسٹ کوٹلہ اعظم گڑھ سے ابتداہی وابستہ ہیں۔ چھوٹے صاحب زادے مستجاب عالم جو ہر وقت سایے کی طرح اپنے والد مرحوم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔
مرحوم پر بہت کچھ ان کی زندگی میں لکھا گیا اور مرنے کے بعد بھی لکھا جائے گا۔ جیسا کہ سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ جناب آصف اعظمی نے ان پر ایک کتاب ‘‘پروانچل کا گاندھی’’ کے عنوان سے لکھی ہے۔ مرحوم نے ایک بھر پور سیاسی اور عملی زندگی گزاری۔ ان کے جناز ے میں انبوہِ یاراں کے ساتھ بڑی کثیر تعداد میں عوام کا مجمع دیکھ کر رشک آیا اور دل یہ کہنے پر مجبور ہوا:
اک عالم ہے ترا دیوانہ!
عالم بدیع ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کی اسمبلی میں اس وقت سب سے بزرگ‘‘ ایم ایل اے’’ تھے۔ وہ اعظم گڑھ کے نظام آباد حلقے سے 1996ء سے سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر مسلسل کامیاب ہوئے۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں انہوں نے چوتھی بار کامیابی حاصل کی اور اپنے حریف بی جے پی امیدوار کو 34 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست فاش دی تھی۔ ملک کے مشہور صحافی جناب معصوم مراد آبادی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ عالم بدیع صاحب کی ہردلعزیزی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہتے ہیں اور نہایت سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اسمبلی اجلاس کے دوران جہاں دیگر ممبران اسمبلی مہنگی گاڑیوں میں اسمبلی پہنچتے تھے تو وہیں عالم بدیع اعظمی کسی کے اسکوٹر کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر خاموشی سے وہاں آتے تھے اور اتنی ہی خاموشی سے اندر چلے جاتے تھے۔ نہ کوئی ہوٹر، نہ ہٹو۔ عالم بدیع صاحب نے اپنا سیاسی کرئیر مسلمانوں کے مخلص رہنما ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی مرحوم کی سرپرستی میں شروع کیا تھا اور کی بنائی پارٹی سے‘‘مسلم مجلس’’ سے دوبار الیکشن بھی لڑا۔
مرحوم اہل علم و دانش کے بڑے قدر داں تھے۔ جس عالم کی کوئی کتاب یا مضمون پسند آتا تو اس کی دل کھول کر تعریف کرتے تھے اور حسب استطاعت اس کو خرید کر لوگوں میں تقسیم کرتے تھے۔مولانا محی الدین غازی فلاحی کا قرآنیات پر ایک کتابچہ انہیں پسند آیا تو اسے بڑی تعداد میں خرید کر تقسیم کروایا۔ اعظم گڑھ کے علماء میں مولانا مجیب اللہ ندویؒ سے بہت متاثر تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کے انتقال کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو پر کرنے والا اب کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔
دارالمصنفین میں ایک سمینار علامہ شبلی کی شخصیت پر بعنوان ‘‘علامہ شبلی نعمانی کا قومی ورثہ’’ غالباً ۲۰۱۲ء میں منعقد ہوا تھا۔ یہ سمینار ‘‘ایرانی ایمبیسی دہلی’’ کے اشتراک سے ہوا تھا۔ اس موقع پر میں نے ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کے مشورے سے جو مقالہ لکھا تھا۔ اس کا عنوان تھا: ‘‘علامہ شبلی نعمانی اور مدرسۃ الاصلاح’’ یہی مقالہ بعد میں ‘‘سہ روزہ دعوت’’ دہلی میں شائع ہوا تھا جو مرحوم سے تعارف کا ذریعہ بنا۔ یہ مضمون جب ان کی نگاہ سے گزرا تو پڑھ کر شبلی اکیڈمی میں ایک دن حاضر ہوئے۔ لائبریری میں داخل ہوتے ہوئے پوچھنے لگے کہ فضل الرحمن اصلاحی صاحب کون ہیں؟ مولانا ضیاء الدین اصلاحی کے چھوٹے صاحب زادے جناب سلیم جاوید نے بتایا کہ یہ سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ بہت تپاک سے ملے اور مضمون کی بڑی تعریف کی اور کہنے لگے میاں! انگریزی زبان کا دور ہے لہٰذا انگریزی میں بھی محنت کریں۔ انگریزی زبان میں لکھنے والے مسلمان بہت کم ہیں۔مرحوم کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ مختلف موضوعات پر وہ اکیڈمی میں مولانا عمیر ندوی سے تبادلہ خیال کرتے تھے۔ خاکسار نے بارہا کسی چیز کی تحقیق میں ان کی معاونت کرتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی رشک بھری زندگی سب کو نصیب کرے:
موت ایسی ہو کہ دنیا دیر تک ماتم کرے
۲۰۱۴ء میں جب شبلی صدی تقریبات کے موقع پر علامہ شبلی نعمانی کی ایک نا مکمل سوانح حیات جو اقبال احمد خان سہیل مرحوم ماہنامہ ‘‘الاصلاح ‘‘(مدیر مولانا امین احسن اصلاحی) میں مستقل لکھ رہے تھے اور ۱۵ قسطیں ہی لکھ پائے تھے کہ وہ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔اس کے بعد اس کے تکمیل کی نوبت ہی نہ مل سکی۔ یہ راقم کی خوش نصیبی اور شرف کی بات ہے کہ کم و بیش ۸۰ برس کے بعد ‘‘الاصلاح’’ کی فائلوں سے کتابی صورت میں اس کی تدوین وترتیب اس کے حصے کا مقدر بنی۔ یہی کتاب شبلی صدی تقریبات میں ‘‘سیرت شبل’’ از اقبال احمد سہیل خان کے نام سے منظر عام پر آئی۔ پروفیسر محمد غزالی مرحوم، پروفیسر ظفر الاسلام اصلاحی علی گڑھ اور استاذ محترم مولانا محمد عمر اسلم اصلاحی وغیرہ کے بدست شبلی تقریبات کے موقع اس کتاب کا اجرا ہوا۔ اس کتاب کا ایک نسخہ عالم بدیع مرحوم کو بھی میں نے دیا تھا کہ وہ علامہ شبلی نعمانی کے ہم وطن بھی ہیں اور ان کے شیدائی بھی ہیں۔
اسی دوران چند ہفتے کے بعد مولانا عمیر صدیق ندوی ‘‘سینئر رفیق شبلی اکیڈمی’’ نے آکر یہ خوش خبری سنائی کہ عالم بدیع صاحب کو ‘‘سیرت شبلی’’بہت پسند آئی ہے۔ وہ آپ سے بہت خوش ہیں اور آپ کو اعزاز دینا چاہتے ہیں۔
ایک دن وہ ضلع سپا صدر جناب ‘حوالدار یادو کے ساتھ اکیڈمی میں تشریف لائے اور لائبریری کے ہال میں ایک چھوٹی سے تقریب میں ایک عمدہ اونی شال اور پانچ ہزار روپے بطور اعزاز دیا۔ شال ابھی تک سردی کے موقع پر استعمال کرتا ہوں۔ اس موقع پر مرحوم مٹھائی بھی ساتھ لے کر آئے تھے۔ جس سے پورے اسٹاف نے منھ میٹھا کیا تھا۔
‘‘صریر خامہ’’ مشہور مفکر ڈاکٹر عبداللہ غازی مرحوم ( ۱۹۳۶۔۲۰۲۱) کی ایک شاہ کار کتاب ہے جو مسلمانوں کے موجودہ حالات کے تناظر میں بہترین تجزیے پر مشتمل ہے۔ عالم بدیع مرحوم کو صریر خامہ بہت پسند تھی۔ اس کتاب کو پہلے مولانا عمیر ندوی صاحب کو مطالعہ کے لیے دی۔ جب وہ پڑھ چکے تو ان کی خواہش تھی کہ دارالمصنفین کے تمام رفقاء اس کو باری باری پڑھیں۔ راقم سے بھی کہا کہ اس اہم کتاب کو ضرور پڑھیں۔ میں نے بھی بہت غور سے اس کتاب کو پڑھا۔ اس پر معارف میں تبصرہ بھی کیا۔ وہ تبصرہ مرحوم کو اتنا پسند آیا کہ کہنے لگے میاں! ‘‘آپ نے بہت عمدہ تبصرہ کیا ہے’’۔ اس تبصرے کی بہت سی کاپیاں کروا کے میں نے بہت سے لوگوں کو پڑھنے کے لیے دی ہیں۔ اس دن کمرے میں ملنے بھی آئے اور چائے منگوایا اور اپنے ساتھ بٹھا کر پلایا اور دیر تک دنیا جہاں کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تھی ان کی اپنے خوردوں کے ساتھ ذرہ نوازی۔ورنہ من آنم کہ من دانم
مرحوم کا انتقال ۲۵؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو ہوا اور تدفین جامعۃ الرشاد رشاد نگر اعظم گڑھ کے مشرقی قبرستان ہوئی۔ جب سے انتقال ہوا اسی روز سیاسی قائدین اور سماجی کارکنان روزانہ تعزیت کرنے ان کے دولت کدے پر حاضر ہو رہے ہیں۔ ان کے گھر والوں سے تعزیت کرکے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان میں مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن کی کثیر تعداد بھی شامل ہے۔ ان کی ہر دل عزیزی اور ہندوستانی معاشرے میں شعوری زندگی کیسے گزاری جائے، ان کی زندگی مشعل ِ راہ ہے۔ ان کی موت پر اتنی بڑی تعداد میں لوگ سوگوار ہوں گے اس گمان نہیں تھا۔ مسلم قوم کا بڑا المیہ ہے کہ جیتے جی اپنے کسی بڑے سے بڑے محسن کو وہ اہمیت نہیں دیتی جس کی وہ واقعی مستحق تھی لیکن مرنے کے بعد اس پر ماتم کناں ہوگی۔ بقول منٹو: ہر ایک کو علیہ الرحمۃ کی کھونٹی پر ٹانگ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اور اعظم گڑھ والوں کا ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔


