ودربھ کی شناخت اس کے شہروں سے زیادہ اس کے کھیتوں سے ہوتی ہے۔ گرمی میں تپتی زمین، برسات میں سبز ہوتی فصلیں اور خزاں میں کپاس کے سفید پھول اس خطے کی زندگی کا حصہ ہیں۔ یہاں زراعت صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی کا سہارا ہے۔ اس لیے بارش وقت پر نہ ہو، فصل برباد ہو جائے یا پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملے تو نقصان صرف کھیت تک محدود نہیں رہتا، اس کی آنچ گھر تک پہنچتی ہے؛ بچوں کی تعلیم، روزمرہ کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگلے موسم کی تیاری سب متاثر ہوتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں ودربھ کے کسانوں نے موسم کے کئی بدلتے رنگ دیکھے ہیں۔ کبھی بارش دیر سے آئی، کبھی اتنی ہوئی کہ کھڑی فصلیں ڈوب گئیں اور کبھی فصل کو پانی کی سب سے زیادہ ضرورت کے وقت کئی ہفتوں تک آسمان خاموش رہا۔ دوسری طرف بیج، کھاد، زرعی ادویات، مزدوری اور مشینری کے اخراجات بڑھتے گئے۔ کپاس اور سویا بین جیسی اہم فصلیں آج بھی کسان کی امید کا بڑا سہارا ہیں، مگر پیداوار اور منڈی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ نے اس امید کو غیر یقینی سے دوچار کر دیا ہے۔
2025: شدید بارش، فصل کا نقصان اور قیمت کا بحران
سال 2025 میں ودربھ کے کئی علاقوں نے خشک سالی کے بجائے شدید بارش اور سیلاب کا سامنا کیا۔ ستمبر کی ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر کے تیس اضلاع میں تقریباً 63.58 لاکھ ایکڑ خریف رقبہ شدید بارش سے متاثر ہوا۔ سویا بین، کپاس، تور، اڑد، مونگ، مکئی اور دوسری فصلوں کو نقصان پہنچا۔ واشم، ایوت محل، امراوتی، وردھا، ناگپور اور گڑھ چرولی سمیت ودربھ کے کئی اضلاع بھی اس صورت حال سے متاثر ہوئے۔
حکومت کی جانب سے متاثرہ کسانوں کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کیا گیا، لیکن قدرتی آفت کے بعد کسان کی مشکل صرف فصل کے نقصان تک محدود نہیں رہتی۔ فصل کم ہو تو آمدنی گھٹتی ہے اور اگر فصل کسی طرح بچ جائے تو منڈی کی قیمت ایک نیا مسئلہ بن جاتی ہے۔ 2025 میں کپاس کے کسانوں کو بھی اسی دوہرے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں کپاس کی قیمت سرکاری کم از کم امدادی قیمت سے نیچے چلی گئی، جبکہ پیداوار بھی کئی کسانوں کی توقع کے مطابق نہیں رہی۔
کسان کے لیے قیمت میں چند سو یا چند ہزار روپے کا فرق محض بازار کا معمولی اتار چڑھاؤ نہیں ہوتا۔ اسی رقم سے بیج، کھاد اور زرعی ادویات کا خرچ پورا کرنا، مزدوری ادا کرنا اور گھر کا نظام چلانا ہوتا ہے۔ فصل کم ہو اور قیمت بھی ساتھ چھوڑ دے تو اگلے موسم کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے؟
ایسے حالات میں قدرتی آفت معاشی بحران میں بدل جاتی ہے۔ ایک خراب موسم کا بوجھ اگلے موسم تک منتقل ہوتا ہے اور دوسرا موسم بھی ساتھ نہ دے تو پرانے قرض کے اوپر نئی ضرورت کھڑی ہو جاتی ہے۔ کسان کھیت میں صرف فصل نہیں اگاتا، وہ ہر سال امید اور خطرے کے درمیان اپنا مستقبل بھی آزماتا ہے۔
کسانوں کی خودکشی: ایک عدد نہیں، ایک گھر کی ٹوٹتی ہوئی دنیا
کسانوں کی خودکشی کے اعداد و شمار اخبار میں چند سطروں میں سمٹ جاتے ہیں، مگر ہر عدد کے پیچھے ایک گھر ہوتا ہے؛ ایک خاندان، جس کا معاشی سہارا اچانک چھن جاتا ہے؛ بچے، جن کی تعلیم خطرے میں پڑ جاتی ہے اور وہ قرض جو اس کے چلے جانے کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔
ستمبر 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری سے اگست تک مہاراشٹر کے چودہ زرعی بحران سے متاثرہ اضلاع میں 1,183 کسانوں کی خودکشی کے معاملات رپورٹ ہوئے تھے۔ ان میں امراوتی ڈویژن کے پانچ اضلاع، امراوتی، اکولہ، بلڈانہ، واشم اور ایوت محل کے 707 معاملات شامل تھے۔ یہ اعداد مسئلے کی گہرائی بتاتے ہیں، مگر اس کے اثرات ان خاندانوں کی زندگی میں دکھائی دیتے ہیں جو اس سانحے کے بعد باقی رہ جاتے ہیں۔
ضلع اکولہ کے گاؤں گنوری کے دیپک پرسپگار نے تقریباً چار سال قبل زہریلی کیڑے مار دوا پی کر خودکشی کی تھی۔ اس کی بیوی نندابائی کے مطابق خاندان پر تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار روپے کا بینک قرض تھا۔ کھاد، بیج اور دیگر زرعی ضروریات کے لیے ساہوکار سے بھی ادھار لینا پڑتا تھا، ادائیگی میں تاخیر پر سود بڑھتا جاتا اور قرض کے ساتھ تذلیل بھی برداشت کرنی پڑتی تھی۔ بینک کے اہلکار بھی وصولی کے لیے بار بار گھر آتے تھے۔
دیپک کی موت کے بعد حکومت کی طرف سے خاندان کو ایک لاکھ روپے کی امداد ملی۔ نندابائی کے مطابق ستر ہزار روپے سات سال کے لیے حکومت نے پوسٹ آفس میں فکسڈ ڈپازٹ کرائے، جبکہ بقیہ تیس ہزار روپے نقد دیے گئے۔ یہ رقم بھی قرض میں ادا کردی جاتی تو تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے باقی رہتے۔ ایک بیٹا مزدوری کرتا ہے، بیٹی شادی شدہ ہے اور خاندان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ اب بھی زراعت ہے۔
گھر کے لیے سرکاری اسکیم کا فائدہ بھی ملا، تاہم نندابائی کے مطابق اس کے لیے بیس ہزار روپے رشوت دینی پڑی۔ یہ اس کا الزام ہے، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ گاؤں میں بجلی تو ہے مگر اسٹریٹ لائٹ نہیں، جس کے باعث رات میں پورا گاؤں تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ شوہر کے جانے کا صدمہ اپنی جگہ، مگر قرض، محدود آمدنی اور بنیادی سہولتوں کی کمی نے زندگی کو مسلسل آزمائش بنا رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قرض کے بوجھ تلے دبے کسان کی موت کے بعد ملنے والی سرکاری امداد بھی اگر خاندان کو اس بوجھ سے نجات نہ دلا سکے تو ایسی مدد کا فائدہ کیا ہے؟
ضلع اکولہ کے ہی گاؤں دھامنا کے اروند وٹھل بھامبرے کی کہانی بھی اسی بحران کا دوسرا رخ دکھاتی ہے۔ اروند نے چار ماہ قبل گھر میں زہر پی کر خودکشی کی۔ اس کے بھائی سچن وٹھل بھامبرے اور ماں شندوبائی کے مطابق خاندان کے پاس تقریباً دو ایکڑ زمین ہے اور پانچ بھائی اسی زرعی ذریعۂ معاش پر منحصر ہیں۔ اروند نے دو ایکڑ میں کپاس بوئی تھی۔ اس کے دو بچے ہیں؛ ایک بیٹا بارہویں جماعت اور ایک بیٹی آٹھویں جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔
خاندان کے مطابق بینک کا قرض موجود تھا۔ سرکاری امداد ملنے کی امید تو دلائی گئی، مگر یہ واضح نہیں تھا کہ خاندان اس کا اہل قرار پائے گا یا نہیں۔ نیم سرکاری بینک سے لیا گیا قرض بھی معاف نہیں ہوا تھا۔ ایک باپ کے چلے جانے کے بعد بچوں کی تعلیم، گھر کا خرچ اور اگلی فصل کی تیاری سب کچھ باقی خاندان کے کندھوں پر آ گیا۔
یہ دونوں واقعات بتاتے ہیں کہ کسانوں کی خودکشی کا مسئلہ موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا؛ اصل مشکل تو اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ متاثرہ خاندان کو صرف ایک مرتبہ کی مالی امداد کافی نہیں ہوتی، قرض، رہائش، تعلیم، روزگار اور زرعی ذریعۂ معاش کو ایک مربوط پالیسی کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ایسے خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت اپنے ذمے لے تو سانحے کے اثرات اگلی نسل تک پہنچنے سے روکے جا سکتے ہیں۔
2026: بارش کا طویل وقفہ، کھڑی فصلوں پر خطرہ
سال 2026 میں بحران نے نیا رخ اختیار کیا۔ اس بار کئی علاقوں میں مسئلہ شدید بارش نہیں بلکہ بارش کا طویل وقفہ ہے۔ یکم جون سے 31 اگست 2026 تک ودربھ میں تقریباً 607.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ معمول 779.8 ملی میٹر تھا۔ مجموعی کمی تقریباً 22 فیصد رہی اور اگست میں صورتِ حال مزید خراب ہوئی۔
مغربی ودربھ میں حالات خاص طور پر تشویش ناک رہے۔ 19 ستمبر 2026 کی لوک ستہ رپورٹ کے مطابق ضلع واشم میں تقریباً 45 سے 50 دن کے بارش کے وقفے نے سویا بین، تور، کپاس، اڑد اور دیگر خریف فصلوں کو متاثر کیا۔ ایک کسان نے آٹھ ایکڑ میں کھڑی سویا بین کی فصل پر ہل چلا دیا، کیونکہ مزید خرچ کرنا اسے معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں لگ رہا تھا۔
کھڑی فصل پر ہل چلا دینا بظاہر سخت فیصلہ ہے، مگر اس کے پیچھے پورا معاشی حساب ہوتا ہے۔ جب فصل بچانے پر مزید خرچ ہونے والی رقم، متوقع پیداوار سے زیادہ محسوس ہو تو فصل ختم کرنا بھی نقصان محدود کرنے کی کوشش بن جاتا ہے۔
مہاراشٹرا کسان مورچہ کے صدر سوگت بھاٹکر نے راقم الحروف سے گفتگو میں بتایا کہ سویا بین تو بے انتہا متاثر ہوا ہی، کپاس کے پودوں کی حالت بھی خراب ہوئی ہے۔ کسان ایک ایکڑ سے جس پیداوار کی توقع کرتا ہے، موجودہ حالات نے اس کے اندازے بھی ناکام بنا دیے ہیں۔ ان کے مطابق ایک پودے پر اوسطاً پچاس پھول اور بونڈ ہونے چاہییں، جبکہ بعض جگہ یہ تعداد دس سے بھی کم رہ گئی ہے۔
کپاس ودربھ کی اہم نقد آور فصل ہے اور اس کی پیداوار بارش کے وقت، مٹی میں نمی اور فصل کے مختلف مراحل میں پانی کی دستیابی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ بارش کا طویل وقفہ پیداوار کے ساتھ اس سرمایہ کاری کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے جو کسان پہلے ہی کھیت میں لگا چکا ہوتا ہے۔
یہ صورتِ حال ایک بڑے سوال کے سامنے کھڑی کرتی ہے کہ کیا بدلتے ہوئے موسم کے ساتھ ہماری زرعی منصوبہ بندی بھی بدل رہی ہے؟
اس سوال کا اہم جواب تحقیق میں پوشیدہ ہے۔ اکولہ میں قائم ڈاکٹر پنجاب راؤ دیشمکھ کرشی ودیا پیٹھ ودربھ کی زرعی ضرورتوں کے لیے اہم علمی و تحقیقی مرکز ہے۔ یہاں فصلوں، مٹی، پانی، خشک سالی، کیڑوں اور بیماریوں سمیت زراعت کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق ہوتی رہی ہے۔ تاہم اب ضرورت ہے کہ ودربھ کو خود ایک مستقل اور مرکزی تحقیقی موضوع بنایا جائے۔ تحقیق کا مقصد صرف فی ایکڑ پیداوار بڑھانا نہ ہو بلکہ ایسی زراعت وضع کرنا ہو جس میں کم پانی، کم لاگت اور کم خطرے کے ساتھ کسان کی آمدنی نسبتاً مستحکم رہ سکے۔ اکولہ، واشم، امراوتی، بلڈانہ، ایوت محل اور وردھا کی مٹی، آب و ہوا اور پانی کی صورتِ حال ایک جیسی نہیں، اس لیے ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق تحقیق ہونی چاہیے۔
کم پانی میں بہتر پیداوار دینے والی کپاس اور سویا بین کی اقسام، متبادل فصلیں، مخلوط اور بین الفصلی کاشت، مٹی میں نمی برقرار رکھنے کے طریقے، بارش کے پانی کا تحفظ، کم لاگت کی زرعی تکنیک، کیڑوں اور بیماریوں سے بچاؤ اور موسم کے مطابق فصلوں کی منصوبہ بندی کو تحقیق کا مستقل حصہ بنایا جائے۔ فصل کے بعد نقصانات، ذخیرہ، پروسیسنگ اور بہتر قیمت کے حصول پر بھی توجہ ضروری ہے۔
ودربھ کے لیے ایک طویل مدتی تحقیقی پروگرام تشکیل دیا جائے جس کا بنیادی تصور ہو: ’’موسمیاتی تبدیلی کے دور میں محفوظ، کم خطرے والی اور پائیدار زراعت‘‘۔ تحقیق اسی وقت بامعنی ہوگی جب اس کے نتائج تجربہ گاہ سے نکل کر کھیت تک پہنچیں اور اس کی معاشی زندگی میں آسانی پیدا کریں۔
حکومت سے مطالبات: وقتی امداد کے ساتھ مستقل منصوبہ بندی ضروری
موجودہ صورتِ حال میں حکومت کی پہلی ترجیح متاثرہ علاقوں میں فصل کے نقصان کا درست اور شفاف اندازہ ہونا چاہیے۔ فصل اور تحصیل کی سطح پر فوری پنچنامہ، نقصان کے مطابق معاوضہ اور زیرِ التوا فصل بیمہ دعوؤں کی جلد ادائیگی ضروری ہے۔ کپاس، سویا بین، تور، مونگ اور اڑد جیسی اہم فصلوں کے لیے خصوصی امداد پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔
جہاں فصل شدید متاثر ہوئی ہے وہاں زرعی قرض کی وصولی میں مناسب مہلت، قرض کی تنظیمِ نو اور ضرورت کے مطابق قرض راحت کا فیصلہ کیا جائے۔ آبپاشی کے لیے دن کے وقت بجلی، پینے اور کھیتی کے پانی کا ہنگامی انتظام، مویشیوں کے لیے چارہ و پانی اور بجلی کے بلوں سمیت ضروری واجبات میں مناسب راحت بھی اہم ہے۔
شیتکری وکاس منچ مہاراشٹر بھی کسانوں کے انہی بنیادی مسائل کو مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔ تنظیم کسانوں کے حقوق، قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کی تلافی، زرعی قرض، فصل بیمہ، معیاری بیج و کھاد اور سرکاری زرعی اسکیموں تک رسائی جیسے معاملات پر کام کرتی ہے۔ موجودہ بارش کی کمی کے پس منظر میں منچ کی جانب سے فصل کے نقصان کا فوری پنچنامہ، مکمل معاوضہ، فصل بیمہ کی بروقت ادائیگی، جامع قرض راحت، دن کے وقت بجلی، پانی، مویشیوں کے لیے چارہ اور طویل مدتی آبپاشی منصوبوں جیسے مطالبات سامنے رکھے گئے ہیں۔
لیکن ودربھ کا مسئلہ صرف امدادی پیکیج سے حل نہیں ہوگا۔ خطے کے لیے پانچ سے دس سال کا ایسا زرعی منصوبہ ہونا چاہیے جس میں ہر ضلع کی ضرورت کے مطابق پانی، فصل، تحقیق، بیمہ، منڈی اور کسان کی آمدنی کے واضح اہداف طے کیے جائیں۔ بڑے آبپاشی منصوبوں کے ساتھ چھوٹے تالابوں، پانی ذخیرہ کرنے، بارش کے پانی کو زمین میں اتارنے اور مٹی میں نمی محفوظ رکھنے کے مقامی طریقوں کو بھی اہمیت ملنی چاہیے۔
کسان کی آمدنی کو ایک ہی فصل کے سہارے چھوڑ دینا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ کپاس اور سویا بین کے ساتھ تور اور دوسری دالیں، باغبانی، سبزیاں، دودھ، پولٹری اور علاقے کے مطابق دیگر سرگرمیوں کو فروغ دے کر آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا جا سکتا ہے۔ البتہ فصلوں کی تبدیلی کا مشورہ اسی وقت کامیاب ہوگا جب بازار، ذخیرہ، پروسیسنگ اور مناسب قیمت کا انتظام بھی ساتھ ہو۔
بحران کے بعد کسان تک امداد پہنچنا کمال نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کسان کو بحران سے پہلے ہی کچھ تحفظ حاصل ہو۔ فصل خراب ہو تو بیمہ کام آئے، قیمت گرے تو مؤثر سرکاری خریداری موجود ہو، بارش ناکام ہو تو پانی کا متبادل انتظام ہو، قرض کا بوجھ بڑھے تو راحت کا راستہ ہو اور اگر کوئی کسان اپنی جان کھو بیٹھے تو اس کے خاندان کو صرف ایک مرتبہ کی امداد نہیں بلکہ دوبارہ باعزت زندگی کی طرف لوٹنے کا سہارا ملے۔
ودربھ کے کسان کا مسئلہ صرف بارش کا نہیں؛ یہ پانی، قیمت، قرض، تحقیق، بیمہ اور حکومتی منصوبہ بندی سے جڑا وسیع بحران ہے۔ اس کا حل بھی کسی ایک اعلان یا پیکیج میں نہیں ملے گا۔ حکومت کو فوری مطالبات پر فیصلہ کرنے کے ساتھ ایسا مستقل نظام بنانا ہوگا جو بدلتے ہوئے موسم کے باوجود کسان کو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ یقین دے سکے۔
ودربھ میں بارش کی کمی نے کسانوں کی پریشانی بڑھائی، خودکشیوں کا مسئلہ پہلے ہی سنگین

مطالبات کی یکسوئی اور فوری اقدامات کے ساتھ طویل مدتی منصوبہ بنانے کی ضرورت

