اکیسویں صدی کے تقاضے گزشتہ تمام صدیوں سے مختلف ہیں۔ یہ صرف سیاسی یا معاشی تبدیلیوں کا زمانہ نہیں بلکہ علم، مہارت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور فکری برتری کی نئی کشمکش کا دور ہے۔ آنے والے برسوں میں قوموں کی عزت و وقار کا دار و مدار نہ صرف ان کے قدرتی وسائل پر ہوگا اور نہ ہی صرف آبادی کی کثرت پر، بلکہ اس بات پر ہوگا کہ انہوں نے اپنے انسانی سرمایہ کو کس حد تک علم، کردار، مہارت اور بصیرت سے آراستہ کیا۔ جو قوم اپنی نئی نسل کی صحیح تربیت کرے گی، مستقبل اسے اپنے دامن میں جگہ دے گا اور جو قوم اپنے بچوں اور نوجوانوں کی فکری و علمی تعمیر سے غفلت برتے گی، وہ وسائل رکھنے کے باوجود دوسروں کی محتاج بن کر رہ جائے گی۔
اس سلسلہ مضامین کے تحت گزشتہ تین تحریروں کے ذریعے نوجوانوں سے مسلسل یہ گزارش کی گئی کہ وہ اپنی شخصیت کو دریافت کریں، وقت کی قدر کریں، جدید علوم اور مہارتوں سے خود کو آراستہ کریں اور اپنی صلاحیتوں کو صرف ذاتی ترقی تک محدود رکھنے کے بجائے ملت اور ملک کی تعمیر میں صرف کریں۔ مگر اس پوری گفتگو کا ایک اہم پہلو ابھی باقی تھا۔ اگر امت کے صرف ایک حصے کو بیدار کیا جائے اور دوسرے حصے کو نظر انداز کر دیا جائے تو کوئی بھی اصلاحی منصوبہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس معاشرے کی نصف آبادی علمی، فکری اور عملی میدان میں پوری طرح تیار نہ ہو وہ اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب گفتگو امت کی ان بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں سے ہے جن کی گود میں نسلیں پرورش پاتی ہیں۔
اسلام نے عورت کو کبھی معاشرے کے کنارے کھڑا کردار نہیں بنایا۔ قرآن مجید نے مرد اور عورت دونوں کو ایک ہی انسانی مشن کا شریک قرار دیا۔ نیکی، تقویٰ، علم، عمل، ہجرت، قربانی اور خدمت کے میدان میں دونوں کے لیے یکساں اجر اور یکساں ذمہ داری کا اعلان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں عظیم مردوں نے تاریخ رقم کی، وہیں عظیم خواتین نے ان مردوں کی شخصیت سازی، علمی معاونت، اخلاقی تربیت اور اجتماعی تعمیر میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ امت کی تاریخ کو مردوں کی تاریخ سمجھنا خود تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
آج کا ماحول بلاشبہ متعدد آزمائشوں سے بھرا ہوا ہے۔ سماجی تبدیلیاں، تعلیمی مسابقت، معاشی دباؤ، ٹیکنالوجی کی برق رفتاری اور فکری انتشار بہت سے سوالات پیدا کر رہے ہیں۔ مگر اہلِ ایمان کا شیوہ یہ نہیں کہ وہ حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر آزمائش کو تیاری کا موقع بناتے ہیں۔ اس لیے آج مسلم بچیوں اور خواتین کے سامنے بھی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اپنے اندر وہ علمی، اخلاقی اور عملی صلاحیت پیدا کریں جس کی ضرورت آنے والے زمانے کو ہوگی۔ وقت کا تقاضا صرف تعلیم یافتہ خواتین نہیں بلکہ صاحبِ فکر، صاحبِ کردار، صاحبِ مہارت اور بااعتماد خواتین ہیں، کیونکہ آنے والی نسلوں کی سمت کا فیصلہ بڑی حد تک انہی کے ہاتھوں میں ہوگا۔
 ایک تعلیم یافتہ لڑکی صرف اپنی نہیں بلکہ کئی نسلوں کی تقدیر بدلتی ہے
تعلیم کا سب سے بڑا اثر کسی فرد کی ملازمت یا معاشی حالت پر نہیں بلکہ اس کی فکر پر پڑتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی صرف کتابوں کا علم حاصل نہیں کرتی بلکہ وہ زندگی کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ حاصل کرتی ہے۔ اس کے فیصلوں میں پختگی آتی ہے، اس کی شخصیت میں اعتماد پیدا ہوتا ہے، اس کی گفتگو میں سنجیدگی آتی ہے اور اس کی نگاہ وقتی مصلحتوں سے بلند ہو کر مستقبل کی تعمیر تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک لڑکی علم سے آراستہ ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے پورے خاندان، اس کے ماحول اور آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی شخصیت کو دیکھیے۔ وہ صرف رسول اللہ ﷺ کی زوجۂ مطہرہ نہیں تھیں بلکہ اسلام کے ابتدائی دور کی سب سے مضبوط اخلاقی، معاشی اور نفسیاتی پشت پناہ تھیں۔ جب دعوتِ اسلام اپنے نازک ترین مرحلے میں تھی، انہوں نے اپنی بصیرت، اپنے اعتماد اور اپنے وسائل کو حق کی تائید میں وقف کر دیا۔ اگر ان کی شخصیت میں فہم، استقامت اور دور اندیشی نہ ہوتی تو ابتدائی اسلامی تاریخ کا منظر مختلف ہو سکتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک صاحبِ شعور خاتون صرف گھر نہیں سنبھالتی، وہ تاریخ کے دھارے پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
اسی طرح حضرت عائشہؓ کی علمی عظمت اسلامی تہذیب کا ایسا باب ہے جس پر امت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ ہزاروں احادیث، فقہی مسائل، معاشرتی رہنمائی اور دینی بصیرت کا جو خزانہ امت کو ان کے ذریعے ملا، وہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ علم سے آراستہ خاتون پوری امت کی معلمہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے صرف معلومات منتقل نہیں کیں بلکہ علمی روایت کو زندہ رکھا، سوال کرنے کا حوصلہ دیا اور دین کوسمجھنے کی گہرائی عطا کی۔
 حضرت اسما بنت ابی بکرؓ کی زندگی عزم، حوصلے اور ذمہ داری کا استعارہ ہے۔ ہجرت کے نازک مرحلے میں انہوں نے جس تدبر، ہمت اور خاموش استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ بڑے تاریخی کارنامے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ گھروں کے اندر بھی انجام پاتے ہیں۔ اسی طرح حضرت شفاؓء بنت عبداللہ کو حضرت عمرؓ نے انتظامی ذمہ داریاں سونپیں، کیونکہ وہ علم، دیانت اور اہلیت کی حامل تھیں۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ باصلاحیت خواتین کی علمی اور عملی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا قائل تھا، بشرطیکہ ان کی بنیاد کردار اور امانت پر قائم ہو۔
آج ہماری بیٹیوں کو انہی روشن مثالوں سے حوصلہ لینا چاہیے۔ انہیں اپنی تعلیم کو صرف امتحان یا سند تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسے شخصیت سازی، فکری پختگی اور امت کی خدمت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ ایک تعلیم یافتہ، باوقار اور صاحبِ کردار لڑکی درحقیقت اپنے گھر کے لیے نعمت، اپنے معاشرے کے لیے سرمایہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی روشن بنیاد ہوتی ہے جس پر ایک مضبوط مستقبل کی عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔
موجودہ حالات خوف نہیں، تیاری کا تقاضا کرتے ہیں
تاریخ کا ہر مشکل دور اپنے ساتھ دو راستے لے کر آتا ہے۔ ایک راستہ خوف، بے یقینی اور مایوسی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ تیاری، استقامت اور مستقبل کی تعمیر کی طرف۔ باشعور قومیں ہمیشہ دوسرا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ وہ حالات کا ماتم نہیں کرتیں بلکہ آنے والے وقت کے لیے اپنی صفوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ مسلم معاشرہ بھی آج ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ہندوستان میں سماجی، تعلیمی، معاشی اور فکری سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیاں اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہم وقتی جذبات کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کریں۔ خصوصاً مسلم بچیوں اور خواتین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آنے والا زمانہ ان سے پہلے سے کہیں زیادہ تیاری، بصیرت اور اعتماد کا مطالبہ کرے گا۔
یہ تیاری صرف اسناد حاصل کرنے کا نام نہیں۔ تعلیم اگر شخصیت میں وقار، فیصلوں میں پختگی اور فکر میں وسعت پیدا نہ کرے تو وہ اپنی حقیقی غایت تک نہیں پہنچتی۔ آج ایک مسلم لڑکی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے منتخب شعبے میں ایسی مہارت حاصل کرے کہ اس کی صلاحیت خود اس کی پہچان بن جائے۔ معاشرے میں عزت صرف نام سے نہیں بلکہ قابلیت سے حاصل ہوتی ہے، اور قابلیت مسلسل مطالعے، نظم و ضبط اور سنجیدہ محنت سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ طالبہ جو آج اپنے وقت کی قدر کرتی ہے، کتاب سے رشتہ مضبوط رکھتی ہے اور اپنے میدان میں امتیاز حاصل کرنے کا عزم رکھتی ہے، کل وہی اعتماد کے ساتھ اپنی جگہ بناتی ہے۔
اس کے ساتھ معاشی خود انحصاری کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر خاتون کو ملازمت ہی کرنی چاہیے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اندر کوئی نہ کوئی ایسی علمی یا فنی صلاحیت ضرور ہو جو ضرورت کے وقت اس کے لیے سہارا بن سکے اور معاشرے کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔ تدریس، تحقیق، طب، نفسیات، قانون، زبانوں کی مہارت، تحریر، ترجمہ، ڈیجیٹل خدمات، آن لائن تعلیم، دستکاری، کاروباری نظم و نسق اور متعدد ایسے میدان ہیں جن میں خواتین اپنی صلاحیتوں کے مطابق نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خود انحصاری اعتماد پیدا کرتی ہے، اور اعتماد ہی مضبوط شخصیت کی بنیاد ہے۔
اسی طرح ذہنی مضبوطی بھی آنے والے زمانے کی بنیادی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں معلومات کی فراوانی ہے مگر اطمینانِ قلب کم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے دوسروں کی زندگیوں سے مسلسل موازنہ کرنے کی ایک ایسی فضا پیدا کر دی ہے جس نے بہت سی بچیوں اور نوجوان خواتین کے اندر احساسِ کمتری، بے چینی اور غیر حقیقی توقعات کو جنم دیا ہے۔ ایک مسلمان خاتون کو اس نفسیاتی دباؤ سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔ اس کی قدر و قیمت اس کے لباس کے برانڈ، تصویروں پر آنے والے تبصروں یا مجازی دنیا کی مقبولیت سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کے علم، کردار، وقار اور اللہ سے تعلق سے متعین ہوتی ہے۔ جس لڑکی کے اندر یہ یقین پیدا ہو جائے، وہ زمانے کے بہت سے فتنوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔
آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور نئی معلوماتی دنیا زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرے گی۔ اس حقیقت سے آنکھیں بند کرنا دانش مندی نہیں۔ مسلم بچیوں کو ان میدانوں سے مانوس ہونا چاہیے۔
زبانوں پر عبور بھی مستقبل کی ایک بڑی ضرورت ہے۔ اپنی مادری زبان سے محبت کے ساتھ ساتھ انگریزی، عربی اور دیگر عالمی زبانوں پر مناسب دسترس نئی دنیا کے دروازے کھولتی ہے۔ علم کی بڑی دنیا مختلف زبانوں میں بکھری ہوئی ہے۔ جو طالبہ زبان سیکھ لیتی ہے، وہ صرف الفاظ نہیں سیکھتی بلکہ نئے افکار، نئی تحقیقات اور نئے امکانات تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔ اسی طرح لکھنے اور مؤثر اظہار کی صلاحیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اچھی تحریر اور باوقار گفتگو انسان کو وہاں بھی مؤثر بنا دیتی ہے جہاں صرف معلومات کافی نہیں ہوتیں۔
 تحقیق کا میدان بھی خواتین کی بھرپور شرکت کا متقاضی ہے۔ ہمارے معاشرے کو خواتین کی صحت، تعلیم، نفسیات، خاندانی نظام، بچوں کی تربیت، معاشرتی تبدیلیوں اور متعدد دوسرے موضوعات پر سنجیدہ اور معیاری تحقیق کی ضرورت ہے۔ جب مسلم خواتین خود ان میدانوں میں آئیں گی تو وہ اپنے تجربات، اپنی حساسیت اور اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ایسی علمی خدمات انجام دے سکیں گی جو دوسروں کے لیے ممکن نہیں۔ اسی طرح تدریس ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ایک باصلاحیت معلمہ صرف نصاب نہیں پڑھاتی بلکہ اعتماد، اخلاق اور شخصیت بھی تشکیل دیتی ہے۔
قانون اور میڈیا بھی ایسے میدان ہیں جن میں خواتین کی سنجیدہ موجودگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قانون کا علم صرف پیشہ نہیں بلکہ حقوق و فرائض کی صحیح سمجھ پیدا کرتا ہے۔ میڈیا صرف خبر کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے، فکر اور تہذیب کی تشکیل کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ اگر ان میدانوں میں باکردار، صاحبِ علم اور متوازن فکر رکھنے والی خواتین آگے آئیں گی تو وہ معاشرے میں اعتدال، انصاف اور سنجیدہ مکالمے کو فروغ دے سکیں گی۔
عورت: گھر کا سب سے مؤثر کردار
دنیا کی کوئی تہذیب صرف جامعات، پارلیمنٹوں یا عدالتوں میں تشکیل نہیں پاتی۔ ہر تہذیب کی پہلی اینٹ ایک گھر میں رکھی جاتی ہے، اور اس گھر کی سب سے مؤثر شخصیت وہ ہوتی ہے جس کی آغوش میں بچہ پہلی بار محبت، اعتماد، اخلاق، نظم، سچائی اور ذمہ داری کا مفہوم سیکھتا ہے۔
اسلام نے ماں کے مقام کو محض جذباتی انداز میں بیان نہیں کیا، بلکہ اس کی تہذیبی، تعلیمی اور تربیتی حیثیت کو بھی نمایاں کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔" اس ارشاد میں دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ صالح، باشعور اور باکردار مائیں ہی نسلوں کی حقیقی معمار ہوتی ہیں۔ انہیں یہ عظیم مقام صرف اس لیے حاصل نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو جنم دیتی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ شخصیتیں تراشتی ہیں۔ وہ زبان سکھاتی ہیں، آداب سکھاتی ہیں، سچائی اور دیانت کی عادت ڈالتی ہیں، محنت کا ذوق پیدا کرتی ہیں، ناکامی کا سامنا کرنا سکھاتی ہیں اور ایمان کی روشنی دلوں میں اتارتی ہیں۔ یہی وہ ابتدائی تربیت ہے جو آگے چل کر ایک سائنس داں، معلم، محقق، قاضی، ڈاکٹر، انجینئر یا قائد کی شخصیت میں نمایاں ہوتی ہے۔
اسی لیے آج مسلم خواتین کی سب سے بڑی ذمہ داری صرف اپنی ذات کی ترقی نہیں بلکہ اپنی شخصیت کو اس معیار تک لے جانا ہے جہاں وہ آنے والی نسلوں کی بہترین مربیہ بن سکیں۔ اچھی پرورش محض محبت کا نام نہیں، بلکہ شعور، حکمت اور توازن کا نام ہے۔ بچوں کو صرف سہولتیں فراہم کرنا کافی نہیں، انہیں مضبوط اعصاب، وسیع مطالعہ، اعلیٰ اخلاق، وقت کی پابندی، مطالعے کی عادت، سوال کرنے کا حوصلہ اور خدمت کا جذبہ بھی دینا ہوگا۔ یہ تمام اوصاف کسی نصابی کتاب سے منتقل نہیں ہوتے بلکہ گھر کے ماحول سے منتقل ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر تعلیم یافتہ خاتون دراصل ایک زندہ درس گاہ ہے، جس کے اثرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں والدین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو صرف کامیاب نہیں بلکہ متوازن انسان بنائیں۔ ٹیکنالوجی نے بچوں کے سامنے معلومات کے دروازے کھول دیے ہیں، مگر اس نے توجہ، صبر اور خاندانی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں ایک باشعور ماں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسے صرف یہ نہیں دیکھنا کہ بچہ کیا پڑھ رہا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ کیا سوچ رہا ہے، کس ماحول سے متاثر ہو رہا ہے، اس کی شخصیت کس رخ پر پروان چڑھ رہی ہے اور اس کے اندر اعتماد، دیانت، رحم، برداشت اور ذمہ داری کے جذبات کس حد تک پیدا ہو رہے ہیں۔ یہی حقیقی تربیت ہے، اور یہی مستقبل کی سب سے بڑی سرمایہ کاری بھی ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ نئی نسل وہی بن سکتی ہے جو پرانی نسل کی زندگی میں نظر آئے۔ بچے نصیحت سے زیادہ نمونۂ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں کتاب کی عزت ہوگی تو بچے بھی مطالعہ دوست بنیں گے۔ اگر گھر میں گفتگو مہذب ہوگی تو ان کی زبان میں بھی شائستگی آئے گی۔ اگر ماں خود سیکھنے کا ذوق رکھے گی، نئی معلومات حاصل کرے گی، وقت کی پابندی کرے گی اور مشکلات کا حوصلے سے مقابلہ کرے گی تو یہی اوصاف خاموشی سے بچوں کی شخصیت کا حصہ بنتے جائیں گے۔ اس لیے مسلم خواتین کی شخصیت سازی درحقیقت آئندہ نسلوں کی شخصیت سازی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم گھرانوں میں بیٹیوں کی تعلیم کو محض ایک رسمی مرحلہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک تہذیبی منصوبہ تصور کیا جائے۔ ایسی تعلیم جو ایمان کو مضبوط کرے، عقل کو بیدار کرے، کردار کو سنوارے، مہارت پیدا کرے اور زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت عطا کرے۔ ایسی خواتین جو اپنی دینی شناخت پر اعتماد رکھتی ہوں، جدید علوم سے واقف ہوں، خاندان کا استحکام بھی جانتی ہوں اور معاشرے کی ضروریات کو بھی سمجھتی ہوں، وہی آنے والے دور میں امت کا سب سے قیمتی سرمایہ ثابت ہوں گی۔
یہ زمانہ شکوؤں کا نہیں، تیاری کا ہے۔ آزمائشوں کا ذکر ہر دور میں ہوتا رہا ہے، مگر تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے آزمائش کو عذر نہیں بنایا بلکہ اسے اپنی تعمیر کا ذریعہ بنا لیا۔ آج اگر مسلم بچیاں اور خواتین علم کو اپنی زینت، مہارت کو اپنی قوت، کردار کو اپنی پہچان اور خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں تو آنے والے برسوں میں امت کی تصویر یقیناً مختلف ہوگی۔ مضبوط خاندان وجود میں آئیں گے، باوقار نسلیں پروان چڑھیں گی، علمی مراکز آباد ہوں گے، تحقیق کے میدان میں نئی آوازیں سنائی دیں گی اور معاشرے کو ایسی خواتین میسر آئیں گی جو صرف اپنی کامیابی کی نہیں بلکہ دوسروں کی کامیابی کی بھی بنیاد رکھیں گی۔
علامہ اقبال نے بے سبب نہیں کہا تھا:
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
یہ شعر عورت کی تعریف نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری کا اعلان ہے۔ اگر اس کے ہاتھ میں علم ہوگا تو نسلیں علم دوست ہوں گی، اگر اس کی شخصیت میں وقار ہوگا تو خاندان باوقار ہوں گے، اگر اس کی فکر بلند ہوگی تو معاشرہ بلند ہوگا، اور اگر اس کی نگاہ مستقبل پر ہوگی تو امت کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا۔