اتر پردیش کی گیان واپی مسجد (وارانسی) شاہی عیدگاہ مسجد (متھرا) اور شاہی جامع مسجد (سنبھل) سے متعلق زیرِ سماعت مقدمات میں مسلم فریقوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے عدالت سے باہر تصفیے (Out-of-Court Settlement) کی تجویز واضح طور پر مسترد کر دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان حساس مذہبی و آئینی تنازعات کا فیصلہ صرف عدالت ہی قانون اور شواہد کی بنیاد پر کرے کیونکہ ایسے معاملات میں مصالحت کی نہ تو قانونی گنجائش ہے اور نہ ہی یہ مناسب راستہ ہے۔
سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک خصوصی مصالحتی مہم کے تحت فریقین کو یہ اختیار دیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے اپنے اضلاع کی ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی سے رجوع کرکے باہمی رضامندی کی بنیاد پر تنازع کے تصفیے کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
یہ اقدام "سمادھان سماروہ" (Samadhan Samaroh) کے عنوان سے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد ملک بھر میں مختلف نوعیت کے قانونی تنازعات کو ثالثی اور مفاہمت کے ذریعے حل کرکے بعد ازاں خصوصی لوک عدالت (Lok Adalat) سے ان کی توثیق کرانا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 تا 23 اگست منعقد ہونے والی خصوصی لوک عدالت سے قبل ہزاروں مقدمات کے فریقین کو باہمی تصفیے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔
تاہم وارانسی، متھرا اور سنبھل کی تاریخی مساجد سے متعلق مقدمات میں مسلم فریقوں نے اس تجویز کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ معاملات مفاہمت یا سمجھوتے کے نہیں بلکہ آئینی اور قانونی فیصلے کے متقاضی ہیں۔
"یہ مصالحت نہیں، مسجد سے دست برداری کا مطالبہ ہے"
گیان واپی مسجد مقدمے میں مسلم فریق کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ اخلاق احمد نے بتایا کہ انہیں ضلعی قانونی خدمات اتھاریٹی کی جانب سے ثالثی کے امکان پر اپنی رائے دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق انہوں نے متعلقہ حکام کو واضح طور پر آگاہ کر دیا کہ اس مقدمے میں ثالثی کے ذریعے کسی حل کا تصور ممکن نہیں، کیونکہ اس کا عملی نتیجہ مسجد سے دست برداری یا اسے دوسرے فریق کے حوالے کرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے جو ان کے مؤکلین کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
ایڈووکیٹ اخلاق احمد کا کہنا تھا کہ ہندو فریق کا یہ دعویٰ کہ مسجد کسی منہدم مندر کی جگہ تعمیر کی گئی تھی، اب تک ایسے شواہد سے ثابت نہیں ہو سکا جن کی بنیاد پر مسجد کی قانونی حیثیت تبدیل کی جا سکے۔ ان کے مطابق اسی لیے مسلم فریق یہ چاہتا ہے کہ عدالت تمام دستیاب شواہد اور نافذ قوانین کی روشنی میں فیصلہ صادر کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عبادت گاہیں (خصوصی دفعات) قانون، 1991ء اور بابری مسجد مقدمے میں سپریم کورٹ کے 2019ء کے فیصلے کی موجودگی میں کسی عبادت گاہ کی مذہبی حیثیت تبدیل کرنے کے مطالبات سنگین قانونی سوالات پیدا کرتے ہیں۔ ان کے بقول اسی بنا پر مسلم فریق ان مقدمات کے عدالتی فیصلے کو ہی واحد مناسب اور قانونی راستہ سمجھتا ہے۔
عبادت گاہوں کے قانون کا حوالہ
ایڈووکیٹ اخلاق احمد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ متعدد مواقع پر یہ اصول واضح کر چکی ہے کہ 15 اگست 1947ء کو جس عبادت گاہ کی جو مذہبی حیثیت تھی اسے برقرار رکھا جائے گا اور اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق بابری مسجد کا مقدمہ ایک استثنائی معاملہ تھا جسے عام نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابری مسجد مقدمے میں سپریم کورٹ نے اپنی آبزرویشنز میں یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ مسجد کسی منہدم مندر کے اوپر تعمیر کی گئی تھی، تاہم زمین ہندو فریق کے مذہبی عقیدے (Faith) کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے حوالے کی گئی۔ ان کے بقول اس فیصلے کے بعد بھی گیان واپی، شاہی عیدگاہ اور شاہی جامع مسجد سنبھل سے متعلق مقدمات کی سماعت عبادت گاہیں (خصوصی دفعات) قانون، 1991ء اور سپریم کورٹ کے وضع کردہ قانونی اصولوں کی روح سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتی، اگرچہ انہیں مختلف قانونی بنیادوں، مثلاً آثارِ قدیمہ کے سروے یا دیگر درخواستوں کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
سنبھل مقدمہ: "تنازع نہیں، ملکیتی حق قائم کرنے کی کوشش"
شاہی جامع مسجد سنبھل مقدمے میں مسلم فریق کے وکیل ایڈووکیٹ قاسم جمال نے بتایا کہ نہ انہیں اور نہ ہی مسجد انتظامیہ کمیٹی کے صدر ظفر علی کو ثالثی کے سلسلے میں کوئی نوٹس موصول ہوا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسی کوئی پیشکش کی بھی جاتی تو اسے قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ مخالف فریق کے دعوے کی کوئی مضبوط قانونی یا تاریخی بنیاد موجود نہیں ہے۔
ان کے مطابق دستیاب تاریخی ریکارڈ اور دستاویزی شواہد مسجد کی قانونی حیثیت کی تائید کرتے ہیں جبکہ مخالف فریق آثارِ قدیمہ کے سروے (ASI) کے دائرۂ اختیار کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد تک رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ایڈووکیٹ قاسم جمال کا کہنا تھا کہ مسجد غیر مسلموں کے لیے بند نہیں ہے اور اسے دیکھنے پر کوئی پابندی عائد نہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ عمارت کا مشاہدہ نہیں بلکہ عدالت کے ذریعے ایسا مستقل قانونی حق حاصل کرنا ہے جو بعد میں راستے یا ملکیت کے دعوؤں اور بالآخر مسجد پر حقِ ملکیت کے مطالبات کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا "یہ محض ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ عدالتی عمل کے ذریعے تدریجی طور پر مسجد پر حق قائم کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔"
انہوں نے یاد دلایا کہ برطانوی دور میں بھی چھیڑا سنگھ کی قیادت میں اسی نوعیت کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر 1877ء میں مرادآباد کی ضلعی عدالت اور بعد ازاں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مسجد کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ ان کے مطابق جب اس تنازع کا عدالتی فیصلہ ڈیڑھ صدی قبل ہو چکا ہے تو اسے دوبارہ زندہ کرنا قانونی استحکام کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔
متھرا مقدمہ
شاہی عیدگاہ مسجد متھرا کے وکیل ایڈووکیٹ تنویر احمد سے رابطہ نہ ہو سکا۔ تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو فریق کے وکیل ہری رام ترپاٹھی نے بتایا کہ ضلعی قانونی خدمات اتھاریٹی نے رواں ماہ دو مرتبہ دونوں فریقوں کو ثالثی کے لیے مدعو کیا لیکن مسلم فریق کی عدم شرکت کے بعد مصالحتی کارروائی ختم کر دی گئی۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا مؤقف
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس اور آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے بھی عدالت سے باہر مصالحت کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متھرا میں 1968ء میں شاہی عیدگاہ کمیٹی اور شری کرشن جنم استھان سیوا سنگھ کے درمیان عدالتی نگرانی میں ایک باضابطہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں عبادت گاہوں کی حدود متعین کر دی گئی تھیں اور ہندو فریق نے مسجد کی اراضی پر مستقبل میں کوئی دعویٰ نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔
ان کے مطابق اس معاہدے کے باوجود گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف تنظیموں اور افراد نے اسے عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے تقریباً 13.37 ایکڑ اراضی پر دعوے دائر کیے ہیں۔
"مساجد وقف کی ملکیت ہیں"
ڈاکٹر الیاس اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کا کہنا ہے کہ اسلامی قانون کی رو سے مسجد اللہ تعالیٰ کے نام وقف ہوتی ہے اس لیے اس کی انتظامیہ صرف متولی کی حیثیت رکھتی ہے، مالک کی نہیں۔ ان کے مطابق کسی انتظامی کمیٹی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ مسجد یا اس کی اراضی کسی دوسرے فریق کے حوالے کرے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ثالثی کے عمل میں عموماً کمزور فریق زیادہ دباؤ کا شکار ہوتا ہے، اس لیے مذہبی اور آئینی حساسیت کے حامل معاملات کو عدالت سے باہر طے کرنا مناسب نہیں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے بھی خبردار کیا کہ اگر اس نوعیت کے تنازعات ثالثی کے ذریعے نمٹائے جانے لگے تو مستقبل میں دیگر تاریخی مساجد کے بارے میں بھی اسی قسم کے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ ایسے مقدمات میں عدالتوں کو آئینی اور قانونی اصولوں کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت سے باہر تصفیے کے عمل میں مختلف نوعیت کے سماجی، سیاسی یا انتظامی دباؤ پیدا ہونے کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میں انہوں نے وارانسی کی لنگڑے حافظ مسجد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سڑک کی توسیع کے منصوبے کے دوران مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کے لیے انتظامی دباؤ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں مسجد انتظامیہ نے عبادت کے لیے مرکزی حصہ محفوظ رکھنے کی غرض سے جزوی انہدام پر رضامندی ظاہر کی۔
وارانسی، متھرا اور سنبھل مساجد کے تنازعات

سپریم کورٹ کی عدالت کے باہر تصفیے کی تجویز مسلم فریقوں نے مسترد کردی

