بھاری اکثریت کے باوجود حکومت دفاعی پوزیشن میں
جب جنتر منتر پر نوجوانوں کے غصے کا یہ لاوا پھٹا تو پی ایم مودی کے پاس اس کا کوئی مؤثر جواب دکھائی نہیں دیا، نہ ان کے رویے میں وہ ہمدردی نظر آئی جس کی توقع ایسے نازک موقع پر کی جاتی ہے اور نہ ہی ایسا محسوس ہوا کہ حکومت نوجوانوں کے غصے کی اصل وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بظاہر مودی حکومت اپنے اقتدار کے سب سے مضبوط مرحلے میں دکھائی دیتی ہے۔ کیوں کہ اتحادی پارٹیوں کی حمایت اسے حاصل ہے، اپوزیشن منتشر ہے اور علاقائی پارٹیوں میں اس نے دراڑیں پیدا کیں، اسی وجہ سے حکومت پہلے سے زیادہ پراعتماد نظر آتی ہے۔ اسی اعتماد کے ساتھ وہ اپنے اہم سیاسی منصوبوں، خصوصاً حلقہ بندی یعنی ڈی لیمٹیشن کے عمل کو آگے بڑھانے کی پوری تیاری کر رہی ہے۔ حکومت پر یہ الزام بھی ہے کہ ذرائع ابلاغ اور متعدد ریاستی ادارے اس کے اثر و رسوخ میں ہیں، الیکشن کمیشن کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان تمام عوامل نے مجموعی طور پر ایسا سیاسی ماحول پیدا کر دیا ہے جو بظاہر حکومت کے لیے انتہائی ساز گار نظر آتا ہے۔
لیکن اس مضبوطی کے باوجود سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر حکومت اتنی ہی مطمئن ہے تو پھر دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہونے والے ہزاروں نوجوانوں کے خلاف اتنا سخت رد عمل کیوں اختیار کیا گیا؟ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے نوجوانوں کو روکنے کے لیے بھاری پولیس نفری کیوں تعینات کی گئی؟ بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچک کو زبردستی ہسپتال کیوں منتقل کیا گیا؟ اور جب راہل گاندھی مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے پرائم منسٹر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا تو ان کے ساتھ بھی سختی کیوں برتی گئی؟ ان تمام واقعات نے یہ تاثر پیدا کیا کہ حکومت نوجوانوں کے اٹھائے گئے سوالات کا سامنا کرنے کے بجائے احتجاج کو قابو کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
اس پورے منظر نامے میں ایک پہلو خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ سے اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہوگئے، حالانکہ وہ چاہتے تو اپنے کسی سینئر وزیر کو مظاہرین کے پاس بھیج کر ان کے مطالبات سن سکتے تھے۔ لیکن اس کے بجائے انہوں نے ایک نجی کمپنی کے نوجوان بانیوں کی کامیابی کو ’’نوجوانوں کی طاقت‘‘ کی علامت قرار دیا اور اپنی تقریر میں ’’56 سالہ نوجوان‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی پر طنز بھی کیا۔ ایسے نازک وقت میں سیاسی طنز کے بجائے نوجوانوں سے براہِ راست مکالمہ زیادہ مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتا تھا۔
طلبا پر پیلیٹ گنیں تانے جانے اور طاقت کے بے جا استعمال کی تصاویر یقیناً ایک عرصے تک عوامی حافظے کا حصہ بنی رہیں گی۔ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کو پہلے بھی ایسے عوامی احتجاجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہیں ابتدا میں سختی سے دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن بعد میں حکومت کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی پڑی تھی۔ شہریت ترمیمی قانون سی اے اے کے خلاف شاہین باغ اور دیگر مقامات پر ہونے والے احتجاجات اس کی ایک مثال ہیں۔ شدید سردی، مسلسل دباؤ اور اشتعال انگیز بیانات کے باوجود احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا۔ اگرچہ کورونا وبا نے اس تحریک کو روک دیا لیکن حکومت نے طویل عرصے تک اس قانون پر مکمل عمل درآمد مؤخر رکھا۔
اسی طرح 2020-21ء کی کسان تحریک میں بھی احتجاج کرنے والوں کو مختلف القابات سے نوازا گیا، دہلی کی سرحدوں پر انہیں روکنے کے لیے واٹر کینن اور دیگر ذرائع استعمال کیے گئے، لیکن کسان اپنے مطالبات پر قائم رہے اور بالآخر حکومت کو تینوں زرعی قوانین واپس لینے پڑے۔ موجودہ طلبا احتجاج ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کہاں تک جائے گا اور کیا نتائج پیدا کرے گا۔ تاہم ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ نوجوانوں میں بے چینی محض ایک امتحان یا ایک مسئلے تک محدود نہیں رہی۔ نیٹ امتحان، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال نے اس بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے، اور اب احتجاج ان حدود سے آگے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
اگر حکومت نے ابتدا ہی میں طلبا نمائندوں سے سنجیدہ بات چیت کر کے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا یقین دلایا ہوتا تو شاید حالات اس حد تک نہ پہنچتے۔ لیکن جب حکومت کی خاموشی برقرار رہی اور بھوک ہڑتالیں بھی شروع ہو گئیں تو احتجاج کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا۔ جنتر منتر سے لے کر ممبئی میں امبیڈکر کی سمادھی اور دیگر شہروں تک لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے لگی۔ اب احتجاج صرف امتحانی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ حکومت کی مجموعی کارکردگی، روزگار، بنیادی ڈھانچے، بدعنوانی کے الزامات اور معاشی مسائل بھی عوامی بحث کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
اسی دوران سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمس ان مباحث کا اہم ذریعہ بن گئے، جبکہ حکومت پر یہ تنقید کی جاتی رہی کہ اس نے بڑھتی ہوئی بے چینی کے اشاروں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ حکومت نے عوامی ناراضی کو بر وقت سمجھنے کے بجائے اسے معمول کا سیاسی رد عمل تصور کیا، لیکن جب احتجاج وسیع ہونے لگا تو اس کے پاس کوئی واضح سیاسی حکمت عملی موجود نہیں تھی۔ اختلافی آوازوں سے نمٹنے کے لیے برسوں سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اس بار پوری طرح مؤثر دکھائی نہیں دے رہی۔ مخالفین پر مختلف الزامات عائد کرنے اور طاقت کے استعمال کے باوجود احتجاج کا دائرہ سکڑنے کے بجائے وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مزید نیم فوجی دستوں کی تعیناتی نے بھی کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر اپنے ہی ملک کے نوجوانوں کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر حکومت نوجوانوں کے خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تو اس کے سیاسی اثرات صرف نوجوان ووٹروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے خاندانوں اور سماج کے دوسرے طبقات تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے ماضی میں مختلف عوامی تحریکوں کو منظم انداز میں استعمال کیا ہے، لیکن موجودہ احتجاج کی نوعیت مختلف بتائی جا رہی ہے۔ اس بار بڑی تعداد میں ایسے نوجوان سامنے آئے ہیں جو کسی روایتی سیاسی جماعت کی براہِ راست تنظیمی کوشش کے بغیر اپنے مسائل کے اظہار کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ یہی پہلو حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ لیا جائے یا نہ لیا جائے، حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے یا نہ کرے، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک کا نوجوان طبقہ اپنے مستقبل، تعلیم، روزگار اور شفاف نظام کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ اگر ان سوالات کا بروقت اور قابلِ اعتماد جواب نہ دیا گیا تو یہ بے چینی مزید گہری ہو سکتی ہے۔
فی الحال ایک بات واضح محسوس ہوتی ہے کہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے مطالبات پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور حکومت کے سامنے اصل چیلنج صرف احتجاج کو روکنا نہیں بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔
نوجوان پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں

جین زی کا غیض و غضب، حکومت کے لیے سب سے بڑا سیاسی چیلنج!

