ما بعد نبوت کی ساری زمانی میقاتوں میں مسلمانوں کے تمام اجتماعی وسیاسی معاملات کے لیے ’خلافت‘ کا ادارہ ہی کارِ نبوت کی قائم مقامی کر سکتا تھا، اس کے علاوہ اور کوئی بھی ادارہ اس لائق نہیں کہ وہ مذکورہ میدانوں میں نبوت کی جزوی نیابت بھی کرسکے، ہاں ایک مخصوص دائرے میں قومی و ملی اور دینی خدمات ضرور انجام دے سکتا ہے۔
اس سیاق میں خلافت سے مراد ’خلافتِ راشدہ‘ ہے۔ اور خلافت محض سیاسی و عسکری امور میں رہنمائی اور قیادت کرنے کا نام ہی نہیں بلکہ دین کی تبلیغ واشاعت اور تعلیم وتربیت سے لے کر تمام ملی و اجتماعی اور سیاسی کاموں میں کارِ نبوت کی نیابت کا فریضہ انجام دینے کا نام ہی خلافت ہے۔
 بلاشبہ کارِ نبوت کی نیابت کا فریضہ جس احسن طریقے سے خلافت کے ادارے کے ذریعے انجام دیا جاسکتا ہے، اس احسن طریقے سے کسی اور صورت میں انجام نہیں دیا جاسکتا؛ نہ انفرادی و شخصی طور پر، نہ تنظیم و جماعت کی سطح پر، نہ جزوی اعمال و افعال کی اساس پر قائم چھوٹے بڑے دینی، قومی و ملی اداروں کے ذریعے، اور نہ ہی جمہوری و موروثی نظام یا کسی امیر و حاکم کے ذریعے۔
مسند احمد کی حدیث ہے:
’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک اللہ چاہے گا تمہارے درمیان نبوت باقی رہے گی،پھر اللہ نبوت اٹھا لے گا، اس کے بعد پھر جب تک اللہ چاہے گا نبوت کے طریقے پر خلافت کار بند ہوگی، پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا، پھر جب تک اللہ چاہے گا کاٹ کھانے والی ملوکیت ہوگی، پھر اللہ اس کا بھی خاتمہ فرما دے گا، اس کے بعد پھر جب تک اللہ چاہے گا جبری ملوکیت ہوگی، پھر اللہ اس کا بھی خاتمہ فرما دے گا۔ اور اس کے بعد پھر سے نبوت کے طریقے پر کاربند خلافت ہوگی‘‘ (مسند احمد/أول مسند الكوفيين: 18406 إسناده حسن)
اس حدیث میں یہ ہدایت بھی آگئی ہے کہ ختم نبوت کے بعد کارِ نبوت کی تمام تر ذمہ داری’خلافت‘ کے کاندھوں پر ہوگی۔ یعنی نبوت کی نیابت خلافت کے ادارے کے ذریعہ ممکن ہوسکے گی۔ کیونکہ نبوت کا تسلسل تو ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا تھا مگر خلافت کا تسلسل قائم رہ سکتا تھا یا رہنا چاہیے تھا۔
آخر ’’خلافت‘‘ کی اس تعبیر سے رسول اللہ ﷺ نے کیا مراد لیا تھا؟ ظاہر ہے کہ محض ایک دو خاندان اور ایک دو شہروں کے انتظام وانصرام سے ہی تو اس کا تعلق نہیں تھا۔ اس کا تعلق تو زندگی کے ہر شعبے اور ہر اجتماعی عمل سے ہے۔
خلافت راشدہ کے بعد جب ملوکیت کے دور کا آغاز ہوا تو علماء نے یہی بہتر جانا کہ اس نظام میں بھی کچھ نہ کچھ تو خیر باقی ہے ہی، خاص کر اس وقت جب حکم راں نیک صفت اور عادل ہوں اور مسلمانوں کا سیاسی و اجتماعی نظام خلافتِ راشدہ کے طرز پر نہ سہی کسی نہ کسی طرز پر تو باقی ہے، ملوکیت کے طرز پر ہی سہی اور خاص کر اس وقت جب امت برابر پھیل رہی ہے اور ترقی کر رہی ہے اور مسلمانوں کی زندگی میں دین داری اور آخرت کی فکر باقی ہے، تو یہ ان کے لیے کسی قدر عافیت کی بات تھی۔ مگر جب 1924 میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملوکیت / موروثیت والا نظام بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتا رہا تب بھی مسلمان عافیت میں ہی ہیں اور تا حال تمام تر عافیت کے ساتھ مغربی طرز کی جمہوریت یا پھر قدیم شہنشاہیت کے جھنڈے تلے اپنے چھوٹے بڑے 50 تا 57 ملکوں کی کمان اور انتظام سنبھالے ہوئے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ مسلمان تقریبا ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کی زمانی میقات عبور کرنے کے بعد خاص اس حوالے سے فکر و اعتقاد کی سطح پر ایسی منزل تک پہنچ گئے ہیں کہ اگر آج خلافت راشدہ کے طرز کی حکومت کی بات کی جاتی ہے تو بیشتر علماء بڑی بے رخی اور بے پروائی کے ساتھ کھردرا سا جواب دیتے ہیں کہ قرآن میں ’حکومت یا خلافت‘ کا ذکر کہاں ہے؟ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں نہ کوئی حکم ہے اور نہ کوئی ہدایت۔ اسلامی حکومت پر بات کرتے ہوئے ان کے استدلال کی تان یہیں آکر ٹوٹتی ہے اور وہ اپنے زعم میں اسے آخری نا قابل تردید دلیل سمجھتے ہیں۔
جبکہ اس استدلال کو پیش کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بات قرآن و سنت سے شروع کر کے خلافتِ راشدہ پر ختم کریں اور واضح کریں کہ صحاب کرامؓ نے حکومت کے قیام و انتظام کا جو طریقہ کار چھوڑا ہے، آج کے مسلمانوں کو معمولی فرق کے ساتھ اسی طریقہ کار کو اختیار کرنا چاہیے۔ بالخصوص پہلے دو خلفائے راشدین، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نے خلیفہ کے انتخاب کا جو طریقہ کار اختیار کیا بلکہ عملاً وضع کیا، حکومت سازی اور حکومت چلانے کے لیے اسی کو اختیار کرنا بہتر ہے اور جمہوری طرزِ حکومت کے غلبے کے اس دور میں بھی یہی سب سے بہتر آپشن ہے۔ کیونکہ جب وہ صاف اور حتمی الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ ’’قرآن نے حکومت سازی کا کوئی طریقہ نہیں دیا‘‘ تو یہ بات بدیہی طور پر درست نہیں رہتی۔
اول: یہ بات اس لیے درست نہیں کہ قرآن کا بیانیہ بنیادی طور پر اجمالی ہے۔ قرآن میں عبادات و معاملات کی تمام تفصیلات بھی بیان نہیں کی گئیں؛ حتیٰ کہ نماز کے بارے میں بھی بنیادی طور پر حکم ہی بیان کیا گیا ہے۔ تو جس قرآن کا بیانیہ اس نوعیت کا ہو، اس میں خلافت اور طریقہ انتخاب کی تفصیلات کی گنجائش کہاں سے نکل سکتی ہے؟
قرآن میں وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (الشوریٰ: 38) کے پیرایہ بیان میں ایک اصولی حکم بیان کر دیا گیا اور مزید اخلاقی نوعیت کے احکام بھی دیے گئے، مثلاً عدل و قسط کا حکم: وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء: 58) ’’اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘
اجتماعی امور سے متعلق یہ حکم بھی بیان کردیا گیا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ (النساء: 59) ’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی اطاعت کرو۔‘‘
اور رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ حکم نازل ہوا: فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ (المائدہ: 48) ’’پس آپ ان کے درمیان اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘
پھر جب احادیث و آثار میں خلافت سے متعلق ہدایات بھی آگئیں، بلکہ خلافت اور ملوکیت کا فرق بھی زبانِ نبوت سے واضح کردیا گیا جس میں خلافت کا اثبات و توثیق اور ملوکیت کی نفی و تردید بھی ملتی ہے تو معاملہ مزید واضح ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے ’’خِلَافَةٌ عَلَىٰ مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ‘‘ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ (مسند احمد کی صحیح حدیث، جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔)
پھر رسول اللہ ﷺ نے سیاسی، سماجی، دینی اور اخلاقی ہر نوعیت کے اعمال و احکام کی اعلیٰ مثال قائم کرکے دکھا دی، اور قرآن نے نبی ﷺ کے اسوہ مبارک کو اسوہ حسنہ قرار دے کر قیامت تک کے لیے امت کو اس کی پیروی کی ہدایت دی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے خلافتِ راشدہ کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرکے دکھایا بلکہ مبنی بر عدل حکومت قائم کرکے اس کا عملی نمونہ بھی پیش کردیا۔ تو سرے سے یہ کہنا ہی غلط ہوجاتا ہے کہ اسلام میں حکومت کا کوئی تصور موجود نہیں یا یہ کہہ کر بات ختم کردی جائے کہ ’’قرآن حکومت کے ذکر سے خالی ہے‘‘۔
دوم: دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب عبادات و اعتقادات سے لے کر اقتصاد و معاملات تک دین کے تمام شعبوں کی تشکیل قرآن و سنت، اصحابِ رسول کے فکر و فہم اور ان کے عملی تعامل کی روشنی میں کی جاتی ہے اور تنہا قرآن ہی سے تمام احکام مستنبط نہیں کیے جاتے تو حکومت کے معاملے میں یہ کہہ کر بات کیوں ختم کر دی جاتی ہے کہ ’’قرآن قیامِ حکومت کے ذکر سے خالی ہے‘‘؟ اس معاملے میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ارشادات، آپ کی سنت اور صحابۂ کرام کے تعامل و طریقہ کار کو کیوں نہ دیکھا جائے؟
جبکہ قرآن نے اللہ اور رسول کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اولی الامر کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے، اور رسول اللہ نے اپنی سنت اور اپنے طریقے کو لازم پکڑنے کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کے طریقے کو بھی لازم پکڑنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ ابوداؤد کی صحیح حدیث ہے:
’’میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور سمع و طاعت کی ہدایت دیتا ہوں، پھر چاہے تمہارے اوپر کسی حبشی غلام کو بھی امیر/خلیفہ مقرر کردیا جائے، کیونکہ تم میں سے جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے (یا پیدا ہوں گے) وہ میرے بعد امت میں بہت اختلافات دیکھیں گے۔ تو ایسی صورت میں (تمہیں اور تمہارے بعد آنے والوں کو ) میری ہدایت ہے کہ تم میرے اور خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑے رہنا، بلکہ ان کے راستے کو مضبوطی سے تھام لینا ‘‘(سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4607) قال الشيخ الألباني: صحيح
تو خلافت و حکومت کی نفی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے اس طرح کے ارشادات اور رسول و اصحابِ رسول کے ذریعے قائم کی گئی عملی مثالوں کو استدلال میں شامل نہ کرنا، دراصل استدلال کو من چاہے طریقے پر قائم کرنے کی بری عادت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
۳۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ جب علماء اپنی بات یہیں پر ختم کر دیتے ہیں کہ ’’قرآن نے حکومت سازی کا کوئی تصور نہیں بتایا‘‘ تو وہ ایک طرح سے امت کو ’بے سیاست‘ چھوڑ دینے والے بن جاتے ہیں؛ یعنی ایسی قوم جس کا کوئی اجتماعی و سیاسی نظم نہیں اور جس کے پاس کوئی مرکزی قیادت نہیں۔
اب ظاہر ہے کہ مسلمان اجتماعی یا سیاسی انتظام کے بغیر تو رہ نہیں سکتے اور اس سلسلے میں قرآن اور شریعت میں ان کے لیے کوئی رہنمائی ہے نہیں تو وہ ادھر ادھر دیکھنے پر مجبور ہوں گے اور جس ملک یا خطے کے مسلمان جس طریقے کو مناسب اور درست سمجھیں گے اپنے ملک اور خطے کے سیاسی و اجتماعی معاملات میں اسی کو اپنا لیں گے۔ چنانچہ کوئی بادشاہت کو اپنا لے گا، کوئی جمہوریت کو اور کوئی ڈکٹیٹرشپ کو اور نتیجے میں امت کا حال وہی ہوگا جو فی الواقع آج ہے، یعنی انتشار و افتراق، پھر عصبیتیں اور خانہ جنگی اور پھر غیر اقوام کے مقابلے میں مغلوبیت و محکومیت اور شکست و ہزیمت۔
اس صورتِ حال میں، جبکہ مسلمان بے قیادت ہوں، اگر کبھی متحد و منظم اور مضبوط و مستحکم ہوں گے بھی تو وہ اسلام کے اپنے نظام کے تحت نہیں ہوں گے، بلکہ یا تو ماقبلِ اسلام کے طور طریقوں، جیسے بادشاہت اور ڈکٹیٹرشپ یا حال کے سیاسی نظمِ حکومت، جیسے جمہوریت، کے نظام کے تحت ہی مستحکم و مضبوط اور متحد و منظم ہوں گے۔
ماضی کی دنیا تو آج کی دنیا سے بہت مختلف تھی۔ اس دنیا میں بہت زیادہ نظم و ضبط کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس دنیا میں قبائل اور پڑوسی ملکوں ہی سے تو لڑنا تھا! اور اس کے لیے مختصر صلاحیتوں اور محدود سامانِ حرب و ضرب کی ضرورت تھی، جبکہ موجودہ دنیا اتنی سادہ نہیں ہے کہ اسے سادہ سی طاقتوں کے ذریعے جیتا جاسکے یا کم از کم خود کو اس کی شیطانی حرکتوں اور فرعونی ذہنیت سے محفوظ رکھا جاسکے۔ آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد و اتفاق، سیاسی و اجتماعی نظم و ضبط اور قوت و شوکت کی ضرورت ہے، اور اس ضرورت کو خلافت کا ادارہ ہی پورا کر سکتا ہے۔
موجودہ جمہوری نظام میں تو بڑی بندر بانٹ ہے۔ آج مسلم دنیا کو 50 تا 57 چھوٹے بڑے ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور ہر ٹکڑے پر مغرب کے من پسند اور مطیع و فرماں بردار حکم راں بٹھا دیے گئے ہیں، اور انہیں ایک دوسرے سے اس طرح الگ تھلگ کردیا گیا ہے بلکہ ایک دوسرے کا حریف بنادیا گیا ہے کہ کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا اور کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا؛ بیرونی مداخلتوں اور خاص طور پر طاقت ور ممالک کے مقابلے میں تو بالکل بھی نہیں۔
میں تو یہاں تک سوچتا ہوں کہ اگر خلافتِ راشدہ جیسا کوئی نظام امت میں کسی بھی پیمانے پر جاری رہتا تو سیاسی سطح پر جیسا بھی نظم و ضبط ہوتا، وہ تو ہوتا ہی؛ اعتقادات کی سطح پر بھی امت میں اتنا انتشار نہ ہوتا اور اتنے فرقے اور گروہ پیدا نہ ہوئے ہوتے جتنے آج کی مسلم دنیا میں پیدا ہوگئے ہیں۔ اور اگر ہوتے بھی تو وہ اتنے جری ہرگز نہ ہوتے کہ ایک دوسرے کو کھلا کافر، قابلِ گردن زدنی اور مباح الدم قرار دینے کی جرأت کر پاتے، کیوں کہ خلیفہ، حاکم یا امیرالمؤمنین کے ہاتھ میں حضرت عمرؓ کا دُرّہ ہوتا، یعنی قوت ہوتی اور وہ ایسے تمام گروہوں اور فرقوں کی طبیعت صاف کر دیتے، جیسے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مانعینِ زکوٰۃ کی طبیعت صاف کی اور حضرت علیؓ نے خوارج کی۔
۴۔ چوتھی بات یہ بھی ہے کہ خلافت کے ادارے کی نفی سے امت کی مجموعی عقلانیت پر یہ حرف بھی آتا ہے کہ امت اپنی ڈیڑھ ہزار سالہ شان دار تاریخ میں کوئی ایسا نظام وضع نہیں کرسکی جو خود امت کے لیے اور دوسری اقوام کے لیے بھی اسوہ اور نمونہ بن سکتا تھا۔
چند سال پیشتر میں نے غامدی صاحب کی ایک طویل ویڈیو سنی۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ ’پرامن انتقالِ اقتدار‘ کا کوئی دستور اسلام نے نہیں دیا۔ حتیٰ کہ پورے چودہ سو سالوں میں مسلمان بھی اپنی اجتماعی عقلانیت، مجموعی کاوش اور قومی تجربات کے ذریعے ایسا کوئی دستور دنیا کو نہیں دے سکے جسے مسلمان خود بھی سیاست و حکومت کے استحکام اور پُرامن انتقالِ اقتدار کے لیے استعمال کرسکتے اور دوسری اقوام کے لیے بھی نمونہ بنتا؛ حد تو یہ ہے کہ کم و بیش آدھی دنیا پر تمام تر کروفر کے ساتھ ہزار سال تک حکومت کرنے کے باوجود بھی نہیں دے سکے۔ یہاں تک کہ مغرب میں علمی، صنعتی اور سیاسی و اجتماعی بیداری پیدا ہوئی اور مغرب نے دنیا کو جمہوری نظام دیا جو نہ صرف مغرب کی سیاسی و اقتصادی اور علمی ترقی کا باعث بنا بلکہ ساری دنیا کے لیے ایک ماڈل نظام بن گیا۔
پھر آگے چل کر اسی سلسلہ کلام میں غامدی صاحب نے کہا کہ چونکہ حضرت امیر معاویہؓ کے پاس ’پُر امن انتقالِ اقتدار‘ کا کوئی دستور نہیں تھا (اور دستور اس لیے نہیں تھا کہ اسلام نے کوئی دستور دیا ہی نہیں تھا) اس لیے انہوں نے وہی کیا جو ایسے مواقع پر دوسری قومیں کرتی ہیں؛ یعنی طاقت کے زور پر اپنی حکومت قائم کرلی۔
مسلمانوں کی مجموعی عقلانیت پر حرف گیری اسی لیے ممکن ہوسکی کہ خلافتِ راشدہ کے بعد زائد از ہزار سالہ مسلم دورِ حکومت میں ساری دنیا کے مسلمان، جو علم و عمل کے پیکر تھے وہ بھی اور جو تخت و تاج کے مالک تھے وہ بھی، خلافت کے سیدھے سچے راستے کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹکتے رہے۔ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ’ملوکیت/موروثیت‘ کو لے کر بیٹھ گیا اور دوسرا بڑا طبقہ ’امامت‘ کے سلسلے کو لے کر چین کی بانسری بجانے لگا۔ اور باقی جو بچے وہ مغربی طرز کی جمہوریت کو کشتیِ نجات سمجھ کر اس میں سوار ہوگئے۔ ان کے لیے زندگی گزارنے اور قوموں کے درمیان اپنی بقا کا سامان کرنے کے لیے مغربیت کی ہو بہو نقل سے بڑی کوئی چیز نہیں رہی۔
اس حوالے سے بے شک قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ اللہ نے اپنے بیشتر پیغمبروں کو حکومت نہیں دی مگر اللہ نے انہیں اخلاقی، علمی اور روحانی طاقتوں، یعنی معجزات، کے ذریعے سماجی عزت دی اور انہیں ان کے وطن میں خاص اثر و رسوخ عطا فرمایا، جب کہ بعض پیغمبروں کو بے مثال حکومت بھی دی، جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام۔ اور پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ منتخب کیا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی خاص وصیت کی، مگر آپ کے بعد، بلکہ فوراً بعد، صحابہ کرام نے خلافت کا ادارہ قائم کیا تاکہ امت کے اجتماعی اور معاشرتی امور اسی طرح باہم مشاورت کے ساتھ ایک امیر کی نگرانی میں طے پاتے رہیں، جس طرح رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں طے پاتے رہے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ صحابہ کرام نے ایسا حضور کی منشا اور ہدایت کے تحت ہی کیا تھا۔ ایسا تو نہیں تھا کہ صحاب کرام نے قرآن کے خلاف جاکر خلافت کا ادارہ قائم کیا۔
اور رسول اللہ ﷺ نے خلافت کے بارے میں جو یہ فرمایا کہ وہ تیس سال رہے گی (ابو داؤد: ۴۶۴۶) تو اس کی علت یہ کم تھی کہ خلافت بجائے خود تیس سال سے زیادہ نہیں چل سکتی تھی یا وہ اپنی نہاد میں ہی مؤقت چیز تھی۔ اس کے برعکس، خلافت کے تعلق سے نبی ﷺ کا فرمان قوموں کے عروج و زوال، مسلمانوں کے افتاد و مزاج اور زمانے کی سیماب صفت طبیعت سے زیادہ متعلق ہے۔
اور وہی ہوا کہ مسلمانوں نے ٹھیک تیس سال بعد خلافت کا بار اپنے کاندھوں سے اتار پھینکا۔ یہ بجائے خود افسوس کی بات ہے مگر اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی زائد از ہزار سالہ تاریخ میں پھر کبھی بھی اس طرف توجہ نہیں کی اور ان کے ذہن میں ایک لمحے بھر کے لیے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ انہیں حکومت کے قیام و انتظام کے تمام امور و معاملات کو پھر سے خلافتِ راشدہ کے طرز پر ڈھال دینا چاہیے۔ یہاں تک کہ زمانہ اپنی رفتار سے گزرتا رہا اور مغرب کے ایوانوں سے جمہوری طرزِ حکومت کا غلغلہ اٹھا اور اس نے ساری دنیا میں اپنے جھنڈے گاڑ دیے۔
یہاں ایک وضاحت یہ بھی ضروری ہے کہ اوپر کی ساری گفتگو کا مطلب یہ بالکل بھی نہیں ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ایک دو فیصد یا زیادہ مسلمان کہیں رہتے بستے ہوں تو ان میں سے کچھ اپنے طور پر یا سب جمع ہوکر خلافت کے قیام و احیا کے لیے کوششیں شروع کر دیں؛ بلکہ اس ساری گفتگو کے مخاطب موجودہ مسلم حکم راں اور علماء ہیں اور یہ گفتگو ان مسلمان ممالک کے ذیل میں ہے جہاں نوے اور صد فیصد آبادی مسلمان ہے اور جہاں جمہوریت یا شہنشاہیت کا جزوی یا کلی نظام موجود ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ وہاں کے حکم راں اپنے نظام میں تبدیلی کریں اور حکومت کے کام کاج اور انتقالِ اقتدار کے طریقہ کار کو ’خلافتِ راشدہ‘ کے طرز پر ڈھال دیں۔
آخر جب وہ شہنشاہیت کے ہزاروں سال پرانے نظام کو لے کر چل سکتے ہیں یا موجودہ جمہوری نظام کو اس کی تمام خامیوں کے ساتھ قبول کرسکتے ہیں، تو پھر ’خلافتِ راشدہ‘ جیسا یا اس سے قریب تر کوئی نظام بھی وضع کرسکتے ہیں جو موجودہ دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور موجودہ جمہوریت کے بیشتر مفید اور کارآمد اصول و ضوابط بھی اس میں موجود ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ ہر مسلمان ملک میں بس ایک خاندان حاکم ہو اور باقی سارے لوگ اس کے اطاعت گزار اور محض رعایا ہوں؛ ایک آدمی راجا ہو اور باقی ساری اس کی پرجا، پھر وہ مر جائے تو اس کا بیٹا اس کی جگہ لے لے اور اس کے بعد اس کا بیٹا۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ موروثیت کا نظام پورے ایک خاندان کو بھی لے کر نہیں چلتا کیونکہ حکومت کے دعوے دار بادشاہ کے اپنے سگے بھائی اور ان کے بیٹے بھی نہیں ہوتے بلکہ خود بادشاہ کے اپنے بیٹوں میں سے ایک کے علاوہ باقی سارے حکومت کی دعوے داری سے خارج ہو جاتے ہیں؛ انہیں زیادہ سے زیادہ محض حصہ داری ہی مل سکتی ہے۔ پھر وہ یا تو تخت و تاج کے لیے اپنے بھائیوں سے لڑ بھڑ کر ختم ہو جاتے ہیں یا پھر اطاعت قبول کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ علمائے دین اور حکمائے اسلام تعددِ ازدواج اور تین طلاق جیسے موضوعات کو بڑی شد و مد کے ساتھ اٹھاتے رہے ہیں اور اس حوالے سے یک سرِ مو انحراف بھی گوارا کرنے پر راضی نہیں، مگر مسلم ممالک میں طرزِ حکم رانی کے معاملے میں وہ پہلے ملوکیت پر راضی ہوئے اور اب شہنشاہیت و جمہوریت سے راضی اور خوش ہیں۔ غالباً انہوں نے یہی سوچا کہ یہ مسائل ان کے قلم رو سے باہر ہیں اور اس لیے انہیں حکومت کے معاملے میں مسلم حکم رانوں اور مسلمان سیاسی شخصیات کی بصیرت و بصارت پر ہی زیادہ اعتماد اور بھروسا رہا۔
لیکن اگر مسلمان طرزِ حکم رانی کے معاملے میں آج بھی خلافتِ راشدہ کے اسی نظام کی طرف لوٹ جائیں جسے حضرت ابوبکر و حضرت عمر نے وضع کیا تھا تو آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کے ہر معاشرے، ہر اجتماعیت اور ہر ادارے کا نظم و ضبط سدھرنا شروع ہو جائے گا۔