لیبیا میں باغیوں کے ساتھ جنگ، عراق میں مسلح گروہوں کی تربیت اور میانمار میں ڈرون مشن کا الزام
 یو اے پی اے کے بغیر چارج شیٹ اور ڈیفالٹ بیل نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
دنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگوں اور خانہ جنگیوں میں بعض ایسے کردار بھی سامنے آتے ہیں جنہیں کسی ایک ملک، فوج یا تنظیم کے دائرے میں رکھنا آسان نہیں ہوتا، وہ کبھی صحافی ہوتے ہیں، کبھی جنگی مبصر، کبھی ’’شیڈو فریڈم فائٹر‘‘، کبھی فوجی تربیت کار اور کبھی باغی مسلح گروہوں کے ساتھ میدان جنگ میں نظر آتے ہیں۔ امریکی شہری میتھیو ایرون وین ڈائک بھی اسی قبیل کی شخصیت ہے، جس کی زندگی گزشتہ تقریباً دو دہائیوں میں لیبیا، شام، عراق، افغانستان، یوکرین اور اب میانمار سے جڑتی ہے۔
مارچ 2026 میں تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے اسے چھ یوکرینی باشندوں کے ساتھ گرفتار کیا۔ اس پر الزام تھا کہ یہ لوگ میانمار میں موجود نسلی مسلح گروہوں کو ڈرون جنگ، ڈرون آپریشن، ڈرون اسمبلی اور جیمِنگ ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کے لیے ہندوستان کے راستے میانمار پہنچے تھے۔ معاملہ اس وقت سنگین ہوگیا جب تفتیش کا دائرہ ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی سازش اور بعض نسلی مسلح گروہوں سے روابط تک پھیل گیا، لیکن ستمبر میں اس مقدمے نے ایک نیا موڑ اختیار کرلیا۔ این آئی اے نے چارج شیٹ داخل کی تو اس میں سخت گیر انسداد دہشت گردی قانون، یعنی یو اے پی اے کی دفعات شامل نہیں کی گئیں، بلکہ ساتوں ملزمین کے خلاف Immigration and Foreigners Act, 2025 کی دفعات 21 اور 23 لگائی گئیں جو کہ ان کے جرائم کے اعتبار سے بہت معمولی دفعات تھیں۔ این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ یو اے پی اے کے تحت تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید تحقیقات کے بعد Supplementary Chargesheet داخل کی جائے گی۔
اس کے بعد دہلی کی خصوصی عدالت نے میتھیو وین ڈائک کو Default Bail  دے دی۔ 24 ستمبر کو اسے ایک ماہ کے لیے امریکہ جانے کی اجازت بھی مل گئی۔ عدالت نے بنیادی طور پر یہ قرار دیا کہ قانونی مدت کے اندر مکمل تفتیشی چارج شیٹ داخل نہ ہونے کی صورت میں ملزم کو قانونی طور پر Default Bail  کا حق حاصل ہوتا ہے، اسی لیے ڈیفالٹ بیل دی گئی ہے جو کوئی اتنا بڑا جرم کرے گا کیا وہ اپنے وطن جا کر شرافت کے ساتھ ایک ماہ بعد واپس آئے گا؟ کیا اس کی توقع کی جا سکتی ہے؟
اصل سوال یہ ہے کہ آخر یہ شخص ہے کون جسے ڈیفالٹ بیل دی گئی، وہ ہر اس جگہ کیسے پہنچا جہاں خانہ جنگی ہو رہی ہو؟ وہ لیبیا کیسے پہنچا؟ اس نے وہاں کیا کیا؟ داعش سے اس کے کیا تعلقات تھے؟ کیا وہ سی آئی اے کا ایجنٹ تھا؟ میانمار میں وہ کیا کر رہا تھا؟ ہندوستانی ایجنسی نے اسے دہشت گردی کے مقدمے میں کیوں گرفتار کیا اور پھر عدالت نے اسے کیوں رہا کردیا؟
میتھیو وین ڈائک 11 جون 1981 کو امریکی ریاست میری لینڈ کے ایک شہر بالٹی مور میں پیدا ہوا، اس نے یونیورسٹی آف میری لینڈ سے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے سیکیورٹی اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا، اس کی ماسٹرز کی تحقیق کا موضوع بڑا دلچسپ ہے، اس نے القاعدہ کی جانب سے امریکہ کو نشانہ بنانے کی وجوہات پر ماسٹرز کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کی دلچسپی روایتی دفتری زندگی سے زیادہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، جنگ، دہشت گردی اور بین الاقوامی سیاست میں بڑھتی گئی۔ 2007 سے 2010 کے درمیان اس نے موٹر سائیکل پر شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کا طویل سفر کیا، وہ دستاویزی فلم یعنی ڈاکیومنٹری بنانے کے بہانے موٹر سائیکل پر لیبیا، مصر، اردن، ایران، افغانستان، مراقش اور دیگر ممالک کا سفر کیا۔ وہ فلم بنانے کے بہانے اس نے رفتہ رفتہ جنگی ماحول کے اندر داخل ہوا، اس کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق وہ عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ Embedded War Correspondent  کے طور پر بھی رہا۔
اس دور میں انہی حرکتوں کی وجہ سے مختلف ملکوں کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے اس پر شبہ بھی کیا۔ وین ڈائک اپنی ایک تقریر میں بتاتا ہے کہ مختلف مواقع پر اسے CIA، FBI حتیٰ کہ القاعدہ سے وابستہ ہونے کے شبہ میں بھی گرفتار کیا گیا۔
میتھیو وین ڈائک کے بارے میں سب سے زیادہ دلچسپ دعویٰ یہ ہے کہ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ تھا، اس دعوے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سرگرمیاں کئی مرتبہ امریکی خارجہ پالیسی کے مفادات سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں، خصوصاً لیبیا، شام، عراق اور بعد میں یوکرین میں، لیکن وہ ظاہراً سی آئی اے ایجنٹ نہیں تھا لیکن شواہد کے مطابق وین ڈائک نے سی آئی اے میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی، اس نے بہت امتحانات پاس بھی کیے تھے مگر اس کی باقاعدہ تقرری یا سی آئی اے کے لیے خفیہ آپریشن کرنے کا کوئی معتبر عوامی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ سوال البتہ ضرور اہم ہے کہ ایک شخص جس نے امریکی خفیہ ادارے میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی، اس کے لیے کوششیں کرتا رہا، بعد میں مختلف ملکوں میں مسلح گروہوں کے ساتھ جنگی سرگرمیوں میں شریک ہوا اور فوجی تربیت کا کام کرنے لگا، وہ کس حد تک نجی عسکری سرگرمیوں اور بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات کے درمیان واقع ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب ابھی تحقیق طلب ہے مگر یہ ساری سرگرمیاں اس کے سی آئی اے کے ایجنٹ ہونے کا ثبوت ظاہر کرتی ہیں۔
وین ڈائک کی زندگی کا سب سے اہم موڑ 2011 کی لیبیا کی خانہ جنگی تھی۔ وہ 2008 میں پہلی مرتبہ لیبیا جاتا ہے، وہ خود کہتا ہے کہ اس نے رشوت کے ذریعے ایک ایسا کاروباری ویزا حاصل کیا جس میں ایک ایسی کمپنی کا نام درج تھا جس سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ وہ چھ ہفتے لیبیا میں رہا، موٹر سائیکل پر ملک میں گھومتا رہا اور مختلف مقامات کی فلم بندی کی، قذافی حکومت کو اس کی سرگرمیاں پر شک ہوا تو اسے ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا، اسی سفر میں اس کی بعض لیبیائی افراد سے دوستی ہوگئی، پھر 2011 میں جب قذافی حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تو وہ دوبارہ لیبیا پہنچ گیا، اس مرتبہ وہ صرف صحافی یا فلم ساز کی حیثیت سے داخل نہیں ہوا بلکہ وہ باغیوں کی مدد کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ اس نے باضابطہ طور پر اسلحہ اٹھایا اور محاذ جنگ میں کود پڑا۔ خود اس کی ویب سائٹ بھی واضح کرتی ہے کہ وہ ’’Working For The Revolution‘‘  تھا اور اس کا کردار جنگی تربیت اور لڑائی میں شرکت سے متعلق تھا۔ مارچ 2011 میں قذافی کی فوج نے اسے گرفتار کرلیا، وہ تقریباً ساڑھے پانچ ماہ قید میں رہا، بعد میں جب باغیوں نے طرابلس پر قبضہ کرلیا تو وہ جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور دوبارہ باغی فورسز میں شامل ہوگیا۔ اس نے سرت کی لڑائی میں بھی حصہ لیا، وہ خود اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس نے کئی بار براہ راست جنگجوں کے ساتھ لڑتے ہوئے فائرنگ کی اور زمینی جنگ میں حصہ لیا۔ اتنا ہی نہیں اس کی سرگرمیوں کے اعتراف میں لیبیائی باغی کمانڈروں نے اسے اعزازات بھی سے بھی نوازا۔ اس کی ان سرگرمیوں سے ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ وین ڈائک کا لیبیا کا کردار صرف جنگ کی رپورٹنگ کا نہیں تھا بلکہ وہ خود جنگ کا حصہ تھا۔
اس کی زندگی پر بننے والی دستاویزی فلم Point and Shoot نے بعد میں اسے عالمی سطح پر شہرت دی اور اس کے لیبیا کے تجربات کو عوام کے سامنے پہنچایا۔
لیبیا کے بعد وین ڈائک کی سرگرمیاں شام کی خانہ جنگی سے جڑتی ہیں۔ 2012 سے 2014 کے درمیان وہ شام کے تنازع سے متعلق سرگرمیوں میں شریک رہا، اس نے باغی حلقوں کے ساتھ رابطہ رکھا اور شام کے بحران پر فلم سازی اور رپورٹنگ بھی کی۔ پھر 2014 میں داعش کا عروج ہوا۔ یہاں وین ڈائک کی کہانی میں ایک اہم فرق پیدا ہوتا ہے، داعش کے بارے میں اس کی شناخت داعش مخالف کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اس کے دو دوست، امریکی صحافی جیمز فولی اور اسٹیون سوتلوف، داعش کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ اس کے بعد وین ڈائک نے Sons of Liberty International (SOLI) نامی تنظیم قائم کی جس کا مقصد داعش اور دیگر شورش پسند تنظیموں سے خطرے میں مبتلا برادریوں کو فوجی تربیت فراہم کرنا تھا۔ اس تنظیم نے عراق میں عیسائی برادریوں سے وابستہ جنگجوؤں کو داعش کے خلاف تربیت دینے کا کام کیا۔ ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک نجی امریکی شہری کو کسی دوسرے ملک میں مسلح گروہوں کو فوجی تربیت دینے کا اختیار کا طرح سے حاصل ہوتا ہے؟ یہی سوال ہمیں وین ڈائک کے کردار کی اصل نوعیت تک لے جاتا ہے۔
دنیا میں جنگ کے کردار میں بڑی تبدیلی آئی ہے، پہلے جنگ بنیادی طور پر ریاستی افواج لڑتی تھیں، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں Private Military Companies، Security Contractors، Foreign Volunteers اور Non-State Armed Groups کا کردار بڑھا ہے۔ وین ڈائک کی Sons of Liberty International اسی رجحان کی ایک مثال ہے۔
وہ اپنی تنظیم کو غیر منافع بخش فوجی تربیتی ادارہ قرار دیتا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کا مقصد دہشت گردی یا شورش سے متاثرہ مقامی آبادیوں کو اپنے دفاع کے قابل بنانا ہے لیکن بین الاقوامی قانون اور قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے سوال یہ ہے کہ ایک غیر ریاستی امریکی تنظیم کو دوسرے ملک میں موجود مسلح گروہوں کو جنگی تربیت دینے کی اجازت کس بنیاد پر حاصل ہے؟
یہ سوال صرف وین ڈائک تک محدود نہیں ہے، عراق، شام، لیبیا، یوکرین اور افریقہ کے مختلف علاقوں میں ایسے باغی جنگجو اور عسکری تربیت کار موجود رہے ہیں، جو کسی ایک ملک کے فوج کے مستقل سپاہی نہیں ہوتے، مگر جدید جنگوں میں ان کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔ اسی لیے وین ڈائک کی کہانی کو صرف ’’ایک امریکی شہری کی مہم جوئی‘‘ سمجھنا عالمی سیاست میں بدلتے ہوئے جنگی ڈھانچے کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
میانمار: ہندوستانی ایجنسی کی نظر میں اصل خطرہ
2025 اور 2026 میں وین ڈائک کی سرگرمیوں کا ایک نیا باب میانمار سے جڑ جاتا ہے۔ این آئی اے کے مطابق وین ڈائک اور چھ یوکرینی شہری ہندوستان کے راستے میانمار پہنچتے ہیں، الزام تھا کہ وہ وہاں موجود Ethnic Armed Groups کو ڈرون جنگ، ڈرون آپریشن، ڈرون اسمبلی اور جیمِنگ ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کے لیے گئے تھے۔ این آئی اے کے مطابق یہ تربیت میانمار کی فوجی حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہوں کے لیے تھی۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق بعض ڈرون Consignments یورپ سے ہندوستان کے راستے میزورم تک پہنچائے گئے اور پھر انہیں میانمار میں موجود گروہوں تک پہنچایا گیا۔ این آئی اے کا ابتدائی خدشہ یہ تھا کہ معاملہ صرف میانمار تک محدود نہیں ہوسکتا بلکہ ہندوستان کے شمال مشرقی علاقوں میں سرگرم مسلح تنظیموں کے ساتھ بھی اس کے روابط ہوسکتے ہیں، اسی بنیاد پر معاملے کو دہشت گردی اور ہندوستان کی قومی سلامتی سے جوڑا گیا۔
13 مارچ 2026 کو وین ڈائک کو کولکاتا ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا، اسی روز چھ یوکرینی شہریوں کو بھی مختلف مقامات سے گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی الزام یہ تھا کہ یہ افراد میانمار کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے، مناسب سفری دستاویزات کے بغیر، شمال مشرقی علاقے میں داخل ہوئے اور وہاں سے میانمار پہنچے، جہاں انہوں نے مسلح گروہوں کو ڈرون جنگ کی تربیت دی۔ این آئی اے نے ابتدا میں یو اے پی اے اور دیگر فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، یہ ایک سنگین الزام تھا کیونکہ یو اے پی اے کے تحت دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں تفتیشی ایجنسی کو طویل مدت تک تحقیقات کا اختیار حاصل ہوتا ہے لیکن یہاں کہانی ایک غیر متوقع رخ اختیار کر لیتی ہے۔
یو اے پی اے کے مقدمات میں مخصوص حالات کے تحت تفتیش مکمل کرنے کی مدت 180 دن تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ وین ڈائک کو 13 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا، اس لیے 180 دن کی مدت 8 ستمبر کو ختم ہورہی تھی، اسی دن این آئی اے نے چارج شیٹ داخل کر دی لیکن چارج شیٹ میں یو اے پی اے کی دفعات کو شامل نہیں کیا گیا، این آئی اے نے اس سلسلے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ اس کے بجائے ساتوں غیر ملکی شہریوں پر Immigration and Foreigners Act, 2025 کی دفعات 21 اور 23 کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔ این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ یو اے پی اے کے تحت تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید تحقیقات کے بعد Supplementary Chargesheet داخل کی جاسکتی ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم تھی کہ جس مقدمے کی بنیاد ابتدا میں دہشت گردی کی سازش پر رکھی گئی تھی، اس کی پہلی چارج شیٹ میں دہشت گردی کی دفعات شامل نہیں کی گئیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق این آئی اے نے وین ڈائک اور اس کے ساتھیوں کے میانمار میں موجود گروہوں سے روابط تو قائم کیے لیکن اس مرحلے تک ہندوستان کے خلاف کارروائی کا کوئی حتمی ثبوت پیش نہیں کرسکی۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی کیفیت تھی، جس کی بنا پر سوالات کا اٹھنا ضروری ہے۔
وین ڈائک کے وکلا نے عدالت سے Default Bail کی درخواست کی۔ 18 ستمبر 2026 کو خصوصی این آئی اے جج پرشانت شرما نے اسے Default Bail دے دی، عدالت نے کہا کہ این آئی اے کی چارج شیٹ ’’Piecemeal‘‘ یعنی نامکمل نوعیت کی ہے، کیونکہ اس میں Immigration and Foreigners Act کی دفعات تو شامل ہیں لیکن یو اے پی اے کے تحت کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اس میں تحقیقات جاری رہنے کی بات کہی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد نامکمل چارج شیٹ داخل کرکے ملزم کو default bail کے حق سے محروم نہیں کرسکتی۔
24 ستمبر کو عدالت نے وین ڈائک اور دیگر غیر ملکی ملزمین کو ایک ماہ کے لیے امریکہ اور یوکرین جانے کی اجازت بھی دے دی تاکہ وہ اپنے خاندانوں سے ملاقات کرسکیں۔ عدالت نے شرائط عائد کیں اور ان سے رابطے کی تفصیلات اور تحقیقات میں تعاون کی یقین دہانی حاصل کی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ این آئی اے نے یہ نہیں کہا کہ مستقبل قریب میں ان کی جسمانی موجودگی تفتیش مکمل کرنے کے لیے ضروری ہے۔
یہاں دو سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کس بنیاد پر اس کو امریکہ جانے کی اجازت دی گئی؟ کیا وہ اپنے وطن واپس ہونے کے بعد دوران مقدمہ لایا جا سکتا ہے؟ کیوں این آئی اے نے یہ کہا کہ مقدمے کے دوران اس کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے؟ جب کہ این آئی اے کے پاس اتنا مواد ضرور تھا کہ ایک امریکی شہری اور چھ یوکرینی شہریوں کی سرگرمیوں کو مشکوک سمجھا جا سکتا تھا۔ ان کا میانمار کے مسلح گروہوں سے رابطہ، ڈرون جنگ کی تربیت، ہندوستان کے شمال مشرقی علاقے کے ذریعے سفر اور مبینہ ڈرون Consignments معمولی بات نہیں ہے۔ دوسری طرف، ستمبر میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں یو اے پی اے کی دفعات شامل نہ کرنا اور این آئی اے کا خود یہ کہنا کہ ہندوستان مخالف سرگرمی کا حتمی ثبوت کا دستیاب نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
وہ ایک عام امریکی شہری نہیں ہے جس کا نام اچانک کسی ایک مقدمے میں آگیا ہو، وہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں برسوں گھومتا رہا، وہ لیبیا میں قذافی مخالف باغیوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوا، وہاں وہ قید ہوا، وہ دوبارہ میدان جنگ میں گیا۔ اس نے شام کے باغیوں کے ساتھ کام کیا، اس نے داعش کے خلاف عراقی عیسائی جنگجوؤں کو تربیت دینے کے لیے ایک نجی تنظیم بنائی، اس نے یوکرین میں بھی فوجی تربیت اور جنگی سرگرمیوں میں کردار ادا کیا، اور اب وہ میانمار کے مسلح گروہوں کو ڈرون جنگ کی تربیت دینے کے الزام لگا ہے۔ یہ ساری باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وین ڈائک جنگی تنازعات میں عملی طور پر حصہ رہا ہے۔ وہ اپنی ویب سائٹ پر یہ واضح کرتا ہے کہ وہ لیبیا میں جنگجو سے کام کرتا رہا اور Sons of Liberty International کو فوجی تربیت فراہم کرنے والی تنظیم کے طور پر پیش کرتا ہے۔
وین ڈائک کا معاملہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں ہے، یہ جدید بین الاقوامی سیاست میں جنگ کے بدلتے ہوئے کردار کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ آج جنگ صرف فوجیں نہیں لڑتیں، غیر ریاستی تنظیمیں، نجی سکیورٹی کمپنیاں، رضاکار جنگجو، غیر ملکی فوجی تربیت کار، ڈرون ماہرین اور مختلف ملکوں سے آنے والے جنگجو بھی جنگوں کا حصہ بنتے ہیں۔
ہمیں لیبیا میں ایسے غیر ملکی جنگجو نظر آتے ہیں، شام میں مختلف ممالک کے جنگجو اور تربیت کار پہنچے، عراق میں داعش کے خلاف مقامی ملیشیاؤں کو بیرونی مدد ملی، یوکرین میں غیر ملکی رضاکار اور فوجی تربیت کار پہنچے، اور اب میانمار بھی اسی عالمی جنگی نیٹ ورک کا حصہ بنا ہوا ہے۔ وین ڈائک اس بدلتی ہوئی دنیا کا ایک نمایاں کردار ہے۔
ہندوستان کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک امریکی شہری میانمار گیا یا وہاں کسی مسلح گروہ سے ملا اور واپس ہوگیا، اصل مسئلہ ہندوستان کا شمال مشرقی سرحدی علاقہ ہے۔ میزورم اور میانمار کی سرحد ایک حساس جغرافیائی خطہ ہے، میانمار میں جاری خانہ جنگی کے اثرات پہلے ہی ہندوستان کے شمال مشرقی علاقوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ اگر بیرونی جنگی تربیت کار، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی مسلح نیٹ ورک اس خطے میں فعال ہوتے ہیں تو ہندوستانی سلامتی کے لیے یہ یقینی طور پر تشویش کا باعث ہے۔
میتھیو وین ڈائک کو محض ایک معصوم سیاح نہیں سمجھا جاسکتا، کیوں کہ اس کی اپنی زندگی کے شواہد بتاتے ہیں کہ وہ کئی جنگوں میں عملی طور پر شریک رہا ہے۔ لیبیا میں اس نے باغیوں کے ساتھ ہتھیار اٹھائے، شام کے تنازع میں باغی حلقوں کے ساتھ کام کیا، عراق میں داعش مخالف فورسز کو تربیت دینے کے لیے نجی تنظیم قائم کی اور یوکرین میں بھی عسکری تربیت سے وابستہ رہا۔ میانمار کے معاملے میں ہندوستانی ایجنسی کا الزام ہے کہ وہ اور اس کے ساتھی میانمار کے نسلی مسلح گروہوں کو ڈرون جنگ کی تربیت دینے پہنچے تھے، اسی بنیاد پر این آئی اے نے اس معاملے میں ابتدائی طور پر اس پر دہشت گردی دفعات لگائی تھیں، مگر کیوں این آئی اے نے قانونی مدت کے اندر مکمل تفتیشی چارج شیٹ داخل نہیں کی جس کی بنیاد پر اسے Default Bail دی گئی، لہٰذا تحقیقاتی ایجنسیوں پر سوالات کا اٹھنا لازمی ہے۔
وین ڈائک تہاڑ جیل سے باہر ضرور آگیا ہے لیکن اس کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میانمار میں اس کی سرگرمیاں صرف غیر مجاز فوجی تربیت تک محدود تھیں یا ان کے پیچھے ہندوستان کی سلامتی کو متاثر کرنے والی کوئی باقاعدہ بین الاقوامی سازش بھی موجود تھی؟ تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس پہلو سے جانچ کرنی چاہیے تھی، تحقیقات مکمل ہونے تک ان اپنی تحویل میں رکھنا چاہیے تھا لیکن نہ جانے کیوں این آئی اے نے چارج شیٹ میں یو اے پی اے کی دفعات نہیں رکھی؟ کیا مجبوریاں رہیں ہوں گی؟ کہیں امریکہ بہادر کا کوئی دباؤ تو نہیں تھا؟