ہندوستانی عوام کے لیے مہنگائی اب صرف اقتصادی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ کچن سے لے کر بازار کے سامان تک ماہانہ بجٹ کا مسئلہ بن چکی ہے۔ چاہے وہ روزمرہ استعمال ہونے والا ضرورت کا سامان ہو یا تعلیم، ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے، شکر کی قیمت میں حالیہ تیزی نے مہنگائی کی بحث کو ایک بار پھر مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ 20اگست 2026 سے پہلے کے دو ماہ میں ہندوستان میں شکر کی قیمت تقریباً چالیس فیصد تک بڑھ چکی تھی، جس کی وجہ سے حکومت کو ایک ملین ٹن خام شکر پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کرنی پڑی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس مہنگائی کی واحد وجہ حکومت کی معاشی پالیسیاں ہیں یا مغربی ایشیا میں جنگ اور آبنائے ہرمز کا بحران ذمہ دار ہے یا 2026 کا طاقتور ہوتا ہوا El Niño ہندوستانی زراعت اور خوراک کی قیمتوں کو متاثر کر رہا ہے یا شکر کی قیمت میں اضافے کے پیچھے ایتھنال پالیسی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مہنگائی کو کسی ایک وجہ سے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ کئی داخلی اور خارجی عوامل کا نتیجہ ہے۔
مہنگائی کی پہلی وجہ
خوراک کی قیمت کا بنیادی اصول سادہ ہے: جب پیداوار کم ہو اور طلب زیادہ ہو تو قیمت بڑھتی ہے۔ ہندوستان میں اس وقت یہی صورتِ حال بعض زرعی اجناس میں دکھائی دے رہی ہے، شکر کی مثال ہمارے سامنے ہے، 26-2025 کے سیزن میں شکر کی پیداوار تقریباً 27.9 ملین ٹن رہی، جبکہ گھریلو کھپت تقریباً 28 سے 28.5 ملین ٹن کے آس پاس ہے، جس کے نتیجے میں نئے سیزن کے شروع ہونے سے پہلے شکر کے ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔ اس کے علاوہ گنے کی پیداوار کو بیماریوں، بعض علاقوں میں پانی جمع ہونے اور موسم کی خرابی نے بھی متاثر کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریڈ روٹ اور ٹاپ بوریر جیسی بیماریوں اور پانی بھرنے سے پیداوار متاثر ہوئی ہے، یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مہنگائی صرف پیداوار کی کمی سے نہیں ہوتی بلکہ حکومت کی لاجسٹک کو منظم کرنے کی صلاحیت سے بھی پیدا ہوتی ہے۔
اگر کسی شے کی پیداوار کم ہو رہی ہو تو حکومت کو بروقت درآمد، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور مارکیٹ میں اضافی اسٹاک کو یقینی بنانا چاہیے۔ شکر کے معاملے میں حکومت نے بالآخر ایک ملین ٹن خام شکر کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی مگر سوال یہ ہے کہ یہ قدم پہلے کیوں نہیں اٹھایا گیا؟
یہ سوال آج سب سے زیادہ زیر بحث ہے، اور اس کا جواب سیاہ یا سفید نہیں ہو سکتا۔ حکومت کا موقف ہے کہ شکر کی قیمت میں موجودہ اضافے کو ایتھنال سے جوڑنا درست نہیں ہے، حکومت کے مطابق ایتھنال کے لیے گنے کی شکر میں منتقلی کا حصہ 23-2022 میں تقریباً بارہ فیصد تھا، جو 26-2025 میں گھٹ کر تقریباً نو فیصد رہ گیا ہے۔ مزید یہ کہ ملک میں پیدا ہونے والے ایتھنال کا تقریباً تین چوتھائی حصہ مکئی سے حاصل ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا کہ "صرف ایتھنال کی وجہ سے شکر مہنگی ہوئی ہے" درست نہیں ہوگا۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تقریباً تین ملین ٹن شکر ایتھنال کی پیداوار کی طرف منتقل ہوئی۔ اسی لیے حکومت خود آئندہ سیزن میں گنے سے ایتھنال کی مقدار محدود کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ شکر کی دستیابی بڑھے، یعنی صاف الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کی ایتھنال پالیسی غلط ہے۔ یہاں مسئلہ پالیسی ترجیحات کا توازن ہے۔ ہندوستان ایک طرف پٹرول میں بیس فیصد ایتھنال ملانے کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ خام تیل کی درآمد کم ہو، دوسری طرف شکر کی گھریلو ضرورت بھی پوری کرنی ہے۔ اگر گنے کو شکر کے بجائے ایتھنال میں زیادہ استعمال کیا جائے تو جب گنے کی پیداوار کم ہوگی ان سالوں میں شکر کے اسٹاک پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
لہٰذا مسئلہ صرف ایتھنال نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ غذائی سلامتی اور توانائی کی سلامتی ان دونوں میں توازن کیسے قائم کیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ شکر بحران کو صرف ایتھنال سے جوڑنا مبالغہ ہوگا؛ پیداوار میں کمی، عالمی قیمتوں، ذخائر، تہواروں سے پہلے طلب اور قیاس آرائی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ملک کی معیشت اب عالمی معیشت سے اس قدر جڑی ہوئی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا اثر ہمارے کچن تک پہنچ رہا ہے۔ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضرورت کا نوے فیصد سے زیادہ امپورٹ کرتا ہے۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران نے تیل، گیس، کھاد، جہاز رانی اور سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو صرف پٹرول اور ڈیزل ہی مہنگے نہیں ہوتے بلکہ ٹرانسپورٹ، کھاد، بجلی، پیکیجنگ اور تقریباً ہر چیز کی لاگت بڑھتی ہے اور یہی اضافہ آخرکار کسٹمرز تک پہنچتا ہے۔ کھانے کے تیل کے معاملے میں مسئلہ اور زیادہ سنگین ہے۔ ہندوستان اپنی پکوان کے تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ امپورٹ کرتا ہے، مغربی ایشیا کے بحران اور آبنائے ہرمز میں خلل سے شپنگ اور سپلائی کے اخراجات بڑھنے کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ لہٰذا موجودہ مہنگائی میں مغربی ایشیا کا بحران ایک اہم بیرونی محرک ضرور ہے، لیکن اسے ہندوستان میں قیمتوں کے ہر اضافے کی واحد وجہ قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔
رپورٹوں کے مطابق ہندوستان اس سال 2009 کے بعد کا کمزور ترین مانسون کا سامنا کر رہا ہے۔ 24 اگست تک ملک میں مجموعی بارش معمول سے تقریباً تیرہ فیصد کم ہوئی، جبکہ جون میں بارش کی کمی 35 فیصد رہی۔ ال نینو کے مضبوط ہونے سے مزید بارش کی کمی کا خدشہ پیدا ہوا ہے، یہ صرف کسان کا مسئلہ نہیں ہے، کم بارش کا مطلب ہے دالوں کی پیداوار کم ہونا؛ کھانے کے تیل کی فصلوں پر دباؤ؛ مکئی اور سویابین کی پیداوار میں کمی؛ جانوروں کے چارے کی قیمت میں اضافہ؛ دیہی آمدنی میں کمی؛ اور بالآخر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، آر بی آئی بھی اس خطرے سے خبردار کر چکا ہے کہ کمزور مانسون خوراک کی مہنگائی کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے، اس لیے ال نینو کو نظرانداز کرنا خطرناک ہوگا۔
یہاں حکومت کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مہنگائی کے کچھ عوامل ایسے ہیں جنہیں حکومت کنٹرول نہیں کرتی، مثلاً عالمی تیل کی قیمت، جنگ یا ال نینو، لیکن حکومت کے پاس کئی ایسے آلات موجود ہیں جن سے قیمتوں میں اضافے کو کم کیا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر امپورٹ ڈیوٹی، ایکسپورٹ پالیسی، ذخائر، ٹیکس، پٹرولیم ڈیوٹی، بفر اسٹاک اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی، ان ذرائع سے حکومت قیمتوں کو کنٹرول کر سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت ان آلات کا استعمال کب اور کس شدت سے کرتی ہے وہ اہم بات ہے، اگر حکومت کو معلوم ہو کہ کسی فصل کی پیداوار کم ہونے والی ہے تو اسے پہلے ہی امپورٹ اور ذخائر کے ذریعے اس کا اسٹاک بڑھا سکتی ہے۔ اگر عالمی قیمتیں بڑھ رہی ہوں تو امپورٹ ڈیوٹی میں عارضی کمی کی جا سکتی ہے۔ اگر تاجر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہوں تو ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے۔ شکر کے موجودہ بحران میں حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ بعض شوگر ملوں اور تاجروں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائیوں نے قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ یہیں سے حکومتی ذمہ داری کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ بازار کو مکمل طور پر بے لگام چھوڑ دینا معاشی پالیسی نہیں؛ اور ہر قیمت کو سرکاری حکم سے منجمد کر دینا بھی پائیدار حل نہیں ہے۔ حکومت کو پیداوار، ذخیرہ، درآمد، تقسیم اور صارف کے تحفظ کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔
اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود عوام احتجاج کیوں نہیں کر رہے؟ یہ شاید سب سے اہم سوال ہے۔ اگر مہنگائی عوام کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے تو پھر ویسا عوامی احتجاج یا ردعمل کیوں نہیں ہو رہا ہے جس کی توقع کی جاتی ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ مہنگائی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، اس لیے معاشرہ اس کا عادی ہوتا جا رہا ہے۔ اگر شکر ایک ماہ میں پانچ روپے مہنگی ہو تو شاید احتجاج نہیں ہوگا لیکن اگر یہی قیمت دو سال میں مسلسل بڑھتی رہے تو صارف اپنی خریداری کم کر دیتا ہے، برانڈ بدلتا ہے، مقدار کم کرتا ہے اور اپنی ضروریات کو محدود کر لیتا ہے۔
دوسری وجہ آمدنی اور روزگار کا خوف ہے، غریب اور متوسط طبقہ مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے اکثر اپنی زندگی کا بجٹ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ دودھ کم، تیل کم، گوشت کم، باہر کھانا کم، بچوں کی خواہشیں کم—یعنی احتجاج سڑک پر نہیں بلکہ گھر کے اندر ہوتا ہے۔
تیسری وجہ سیاسی تقسیم ہے، ملک کی سیاست میں اقتصادی مسائل اکثر مذہبی، علاقائی، ذات پات اور شناخت کی سیاست کے نیچے دب جاتے ہیں، عوام کی توجہ کبھی مذہبی تنازع، کبھی انتخابی کشمکش، کبھی قومی سلامتی اور کبھی سیاسی شخصیتوں کے گرد مرکوز ہو جاتی ہے۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ مہنگائی ہر طبقے کو یکساں متاثر نہیں کرتی، امیر آدمی کے لیے شکر پچاس روپے یا ساٹھ روپے ہونا شاید معمولی مسئلہ ہے لیکن ایک کم آمدنی والے خاندان کے لیے روزمرہ کی ہر چیز میں چند روپے کا اضافہ مجموعی طور پر بڑا بوجھ بن جاتا ہے۔
پانچویں وجہ یہ ہے کہ حکومت بعض اوقات قیمتوں کے اثرات کو دوسری پالیسیوں کے ذریعے کم کرنے کا ناٹک کرتی ہے، مثال کے طور پرراست بینکوں میں پیسوں کو ٹرانسفر کردیا جاتا ہے، کبھی ایل پی جی پر سبسڈی برقرار رکھی جاتی ہے، 14.2 کلو کا سلنڈر 942 روپے پر برقرار رہا، بین الاقوامی حالات کی وجہ سے ایل پی جی کی قلت ہوگئی تھی، لیکن حکومت نے قیمت نہیں بڑھائی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی، بلکہ اس کا مطلب یہ کہ حکومت بعض قیمتوں میں فوری اضافہ روک کر بحران کو مرحلہ وار منتقل کرتی ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عوام مکمل طور پر خاموش نہیں ہیں۔ مارچ 2026 میں ایل پی جی کی قیمتوں اور سپلائی کے بحران کے خلاف احتجاج ہوئے تھے، جبکہ 27؍ اگست کو کانگریس نے چنڈی گڑھ میں شکر کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کیا، یعنی عوامی ناراضی موجود ہے مگر ابھی وہ ملک گیر عوامی تحریک میں تبدیل نہیں ہوئی۔
کسی بھی ملک میں مہنگائی اس وقت سب سے خطرناک بن جاتی ہے جب آمدنی اسی رفتار سے نہ بڑھے، اگر کسی مزدور کی آمدنی دس فیصد بڑھے اور خوراک پانچ فیصد مہنگی ہو تو حقیقی آمدنی بہتر ہوسکتی ہے، لیکن اگر آمدنی میں معمولی اضافہ ہو اور خوراک، تعلیم، علاج، کرایہ، بجلی اور ٹرانسپورٹ سب مسلسل مہنگے ہوں تو خاندان کی قوتِ خرید کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں ہندوستانی معیشت کے لیے اصل چیلنج پیدا ہوتا ہے۔ آر بی آئی نے بھی حالیہ دنوں میں خبردار کیا ہے کہ خوراک، ایندھن اور خام مال کی بڑھتی لاگت وسیع تر مہنگائی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
آج کی مہنگائی کو حکومت کی ناکام معاشی پالیسی کا مظہر کہا جا سکتا ہے، موسمیاتی بحران پیداوار کو متاثر کر رہا ہے، سوپر ال نینو مانسون کو کمزور کر رہا ہے،
مغربی ایشیا کی جنگ توانائی اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے،
عالمی منڈی میں خوراک اور توانائی کی قیمتیں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں اور داخلی پالیسیوں میں ایتھنال، شکر، درآمد، ذخائر اور قیمتوں کے درمیان توازن کا مسئلہ موجود ہے۔ لیکن حکومت کا اصل کام یہی تو ہے کہ وہ مسئلے کو قبل از وقت بھانپ لے اور اس کا حل تلاش کرے، عوام نے اسی لیے تو ان کو چن کر بھیجا ہے تاکہ وہ بحرانوں کے وقت عوام کو راحت پہنچائے، عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ "دنیا بھر میں مہنگائی ہے"۔ حکومت کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ غریب و متوسط خاندان کو اس عالمی بحران کا پورا بوجھ کیوں اٹھانا پڑ رہا ہے؟
اگر حکومت واقعی عوام دوست معاشی پالیسی چاہتی ہے تو اسے خوراک کے بفر اسٹاک، زرعی پیداوار، آبپاشی، موسمیاتی مزاحمت، خوردنی تیل میں خود کفالت، شکر اور ایتھنال کے درمیان توازن، امپورٹ پالیسی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کو ترجیح دینا ہوگی، ورنہ آج شکر مہنگی ہے، کل پیاز اور سبزیاں مہنگی ہوں گی اور پرسوں مہنگائی صرف بازار کا مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ معاشی عدم مساوات، غربت اور سماجی بے چینی کا بڑا سیاسی سوال بن جائے گی اور شاید یہی وہ سوال ہے جسے آج ہندوستانی سیاست میں سب سے زیادہ سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے اگر معیشت ترقی کر رہی ہے، تو عام آدمی کی تھالی، اس کی آمدنی اور اس کے ماہانہ بجٹ میں اس ترقی کا حصہ کہاں ہے؟
مہنگائی کی مار: روزمرہ کی اشیاء مہنگی کیوں ہو رہی ہیں؟

عوام خاموش کیوں ہیں؟ داخلی اور خارجی عوامل، ایک تجزیہ

