مذہبی تبدیلی سے متعلق ضابطے، حکومت کے اختیارات پر نئی بحث
قانون کی آئینی حیثیت کا اصل امتحان عدالت میں ہوگا
ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، ضمیر کی آزادی اور اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا بنیادی حق عطا کرتا ہے۔ مگر جب بھی مذہب اور قانون کا موضوع سامنے آتا ہے تو یہ بحث صرف قانونی دائرے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے سماجی، سیاسی اور آئینی پہلو بھی نمایاں ہو جاتے ہیں۔ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مجوزہ ’’مذہبی آزادی قانون‘‘ بھی ایک ایسا ہی موضوع ہے، جس نے ریاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس قانون کے حامی اسے جبری تبدیلی مذہب کے خلاف حفاظتی اقدام قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ شخصی آزادی اور آئینی حقوق پر قدغن لگانے کی کوشش ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں انہی آئینی، قانونی اور سماجی پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
قانون کا پس منظر اور حکومتی مؤقف
مہاراشٹر حکومت کی جانب سے منظور کردہ ’’مہاراشٹر مذہبی آزادی قانون 2026‘‘ اب صدرِ جمہوریہ کی منظوری اور سرکاری گزٹ میں اشاعت کے بعد ریاست بھر میں نافذ ہو چکا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد زبردستی، دھمکی، فریب یا لالچ دے کر کرائی جانے والی مذہبی تبدیلی (دھرم پریورتن) کو روکنا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اقلیتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ قانون آئینِ ہند میں دی گئی مذہبی آزادی پر قدغن لگا سکتا ہے۔
اس قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی ایک بار پھر مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن پر بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ حکومت کا استدلال ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے جبری مذہبی تبدیلی کی شکایات سامنے آ رہی تھیں جن کے تدارک کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک کی ضرورت تھی۔ اسی مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے دیگر ریاستوں کے قوانین کا مطالعہ کرکے اپنی سفارشات پیش کیں اور ان سفارشات کی بنیاد پر یہ قانون وجود میں آیا۔
قانون کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ جو شخص اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے، اسے ساٹھ دن پہلے ضلع مجسٹریٹ کو تحریری اطلاع دینی ہوگی۔ اس کے بعد عوامی اعتراضات طلب کیے جا سکتے ہیں اور پولیس اس معاملے کی جانچ کرے گی۔ مذہب تبدیل ہونے کے بعد بھی اکیس دن کے اندر اس کا سرکاری اعلان ضروری ہوگا، بصورتِ دیگر مذہبی تبدیلی کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
حکومت کے نزدیک یہ پورا عمل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ کسی فرد پر دباؤ، دھمکی یا مالی لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل نہ کرایا جا سکے۔ قانون میں زبردستی مذہبی تبدیلی کرانے والوں کے لیے سات سے دس سال تک قید اور بھاری جرمانوں کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، جبکہ خواتین، نابالغوں اور درجِ فہرست ذات و قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کے معاملات میں مزید سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔
لیکن یہی دفعات ناقدین کے اعتراضات کی بنیاد بھی بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بالغ شہری اپنی آزاد مرضی سے مذہب اختیار کرنا چاہتا ہے تو اسے حکومت کو پیشگی اطلاع دینے کا پابند بنانا آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 میں دیے گئے مذہبی آزادی کے بنیادی تصور سے متصادم محسوس ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ سرکاری اطلاع اور عوامی اعتراضات کا طریقہ کار مذہب تبدیل کرنے والے شخص کی شناخت کو عام کر سکتا ہے، جس سے سماجی دباؤ، ہراسانی یا سلامتی کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ونچت بہوجن اگھاڑی کے قومی صدر پرکاش امبیڈکر نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی شہری کا کس مذہب کو اختیار کرنا یا کس خدا کی عبادت کرنا، ریاستی اجازت کا موضوع نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق مذہبی آزادی آئین کی طرف سے دیا گیا بنیادی حق ہے، جس پر غیر ضروری انتظامی پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔
دوسری طرف، حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون کسی کے مذہب اختیار کرنے کے حق کو ختم نہیں کرتا، بلکہ صرف اس بات کی نگرانی کرتا ہے کہ مذہبی تبدیلی رضاکارانہ ہو، نہ کہ دھوکے، دباؤ یا لالچ کا نتیجہ! حکومت یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اڈیشہ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، گجرات، اتراکھنڈ، کرناٹک اور دیگر کئی ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کے قوانین پہلے سے نافذ ہیں۔
اس قانون کی ایک اور اہم شق مذہبی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیوں سے متعلق ہے۔ اگر عدالت یہ پائے کہ شادی کا بنیادی مقصد صرف مذہب تبدیل کرانا تھا تو ایسی شادی کو غیر قانونی قرار دیا جا سکے گا۔ تاہم، قانون میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ایسی شادی سے پیدا ہونے والے بچوں کے تمام قانونی اور وراثتی حقوق محفوظ رہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے دو متضاد سوالات سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا ریاست کو شہریوں کو جبری مذہبی تبدیلی سے بچانے کے لیے سخت قانون بنانے کا اختیار حاصل ہے؟ اور دوسرا یہ کہ کیا یہی قانون ان شہریوں کی مذہبی آزادی اور نجی زندگی میں مداخلت کا سبب بن سکتا ہے جو اپنی آزاد مرضی سے مذہب تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟
آئینی حقوق پر اٹھنے والے سوالات
آج ہر جمہوریت پسند شہری کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ آیا اس قانون کا مقصد واقعی مذہبی آزادی کا تحفظ ہے یا مذہب کی تبدیلی (تبدیلی مذہب) پر قدغن عائد کرنا۔ سب سے پہلے حکومت کے مؤقف میں موجود تضاد پر غور کرنا ضروری ہے۔ اگر حکومت کا اصل مقصد مذہب کی تبدیلی کو روکنا ہے تو اسے اس قانون کا نام صاف اور واضح طور پر ’’تبدیلی مذہب انسداد قانون‘‘ رکھنا چاہیے تھا۔ لیکن ایک طرف قانون کو ’’مذہبی آزادی‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اس کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ عوام کو گم راہ کرنے کی ایک کوشش محسوس ہوتی ہے۔
ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ہر شہری کو اپنے ضمیر اور اعتقاد کے مطابق کسی بھی مذہب کو اختیار کرنے، تبدیل کرنے یا ترک کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ سپریم کورٹ بھی متعدد فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ مذہبی آزادی بنیادی حقوق کا لازمی حصہ ہے۔ ایسے میں کسی شہری کے ذاتی فیصلے پر سرکاری نگرانی قائم کرنا آئین کی روح اور جمہوری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس مجوزہ قانون کا سب سے تشویش ناک پہلو اس میں استعمال ہونے والی مبہم اصطلاحات، جیسے ’’لالچ‘‘، ’’گم راہ کرنا‘‘ اور ’’برین واش‘‘ ہیں۔ ان الفاظ کی واضح قانونی تعریف موجود نہ ہونے کے باعث ان کا من مانا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی بالغ شخص اپنی آزاد مرضی اور مکمل غور و فکر کے بعد کسی مذہب کو اختیار کرتا ہے، تب بھی اس کے رشتہ داروں کو شکایت درج کرانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ پولیس کو بھی از خود تحقیقات شروع کرنے کا حق دیا گیا ہے جس سے شخصی آزادی پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے۔
مذہبی آزادی یا انتظامی نگرانی؟
اس عمل کے نتیجے میں پولیس پر بھی غیر ضروری دباؤ بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ خدشہ ہے کہ منظم گروہوں، مذہبی تنظیموں یا سیاسی دباؤ کے تحت تحقیقات کا رخ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سوال نہایت اہم ہے کہ تحقیقات قانون کے مطابق ہوں گی یا سڑکوں پر موجود ہجوم کے دباؤ کے تحت؟
اس قانون کے مطابق مذہب تبدیل کرنے سے قبل ضلع کلکٹر کو پیشگی اطلاع دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی کارروائی معلوم ہوتی ہے لیکن عملاً اس کے ذریعے شہری کے مذہبی اختیار پر سرکاری نگرانی قائم ہونے کا خدشہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کسی شخص کو مذہب اختیار کرنے سے پہلے حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔
جن ریاستوں میں اس نوعیت کے قوانین نافذ کیے گئے، وہاں کے تجربات بھی کئی اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اتر پردیش میں نومبر 2020 سے 2024 کے دوران ایسے قوانین کے تحت تقریباً 835 مقدمات درج کیے گئے اور 1,682 افراد کو گرفتار کیا گیا، لیکن عدالتوں میں صرف چار مقدمات میں سزا سنائی جا سکی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں مقدمات اور گرفتاریاں ہوئیں مگر زیادہ تر کیس عدالتی جانچ میں ثابت نہ ہو سکے۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے قوانین حقیقی جرائم کی روک تھام سے زیادہ ہراسانی، دباؤ اور سماجی تقسیم کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں
یہ سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا کہ اس قانون کے اثرات صرف مسلمانوں یا عیسائیوں تک محدود رہیں گے۔ اگر مستقبل میں کوئی شخص ہندو مذہب چھوڑ کر بدھ، جین یا سکھ مذہب اختیار کرنا چاہے تو اسے بھی اسی قانونی عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس لیے یہ کسی ایک مذہب کا نہیں بلکہ ہر ہندوستانی شہری کی شخصی آزادی کا مسئلہ ہے۔
آج معاشرے کو جن حقیقی مسائل کا سامنا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم، عصمت دری کے واقعات، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، بزرگوں کی بے بسی، تنہا خواتین کی باز آبادکاری، سماجی تحفظ، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ دیہی علاقوں میں ایسے بے شمار بزرگ موجود ہیں جو علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، بہت سے شہری سرکاری امدادی منصوبوں سے محروم ہیں اور اولڈ ایج ہومز میں بزرگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے اہم مسائل پر قانون سازی کرنے کے بجائے مذہب کے نام پر سیاست کرنا عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔
ایک طرف سپریم کورٹ بالغ افراد کی شخصی آزادی کو مضبوط بنانے والے فیصلے دے رہی ہے اور بین المذاہب شادیوں اور لیو اِن ریلیشن شپ جیسے معاملات میں آئینی تحفظ فراہم کر رہی ہے، جب کہ دوسری طرف ریاستی حکومت ذاتی انتخاب پر مزید انتظامی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ واضح تضاد قابلِ غور ہے۔
مہاتما جیوتی با پھلے، راج رشی شاہو مہاراج اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر جیسے عظیم رہنماؤں نے مہاراشٹر کو سماجی انصاف، روشن خیالی اور ترقی پسند فکر کی شناخت عطا کی ہے۔ اگر شمالی ہند کی مذہبی قطبیت کی سیاست کو مہاراشٹر میں فروغ دینے کی کوشش کی گئی تو یہ ریاست کی سماجی روایت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ریاست کو ترقی، تعلیم اور سماجی انصاف کی راہ پر آگے بڑھانے کے بجائے مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا مہاراشٹر کے مستقبل کے حق میں نہیں ہوگا۔
ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد فرد کی آزادی پر قائم ہے۔ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کون سا مذہب اختیار کرے، تبدیل کرے یا کسی بھی مذہب کو اختیار نہ کرے۔ یہ فیصلہ حکومت کا نہیں بلکہ اس کے اپنے ضمیر اور شعور کا ہونا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری شہریوں کی آزادی کا تحفظ کرنا ہے، اس پر قدغن لگانا نہیں۔
عدالتی چیلنج اور مستقبل کی سمت
اگر یہ قانون آئینِ ہند میں دیے گئے بنیادی حقوق، خصوصاً مذہبی آزادی اور شخصی آزادی سے متصادم ثابت ہوتا ہے تو اس کا عدالتی جائزہ لینا جمہوری نظام کا ایک فطری اور ناگزیر تقاضا ہوگا۔ آئین کی عطا کردہ آزادیوں اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کرنا ہر شہری اور ہر تنظیم کا قانونی و جمہوری حق ہے۔ اسی تناظر میں ونچت بہوجن آگھاڑی کے قومی صدر ایڈووکیٹ پرکاش امبیڈکر نے اس قانون کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اس قانون کی آئینی حیثیت پر ایک اہم قانونی بحث متوقع ہے۔
اب اس قانون کا مستقبل بڑی حد تک عدالتی تشریح اور فیصلے پر منحصر ہوگا۔ اگر عدالت میں اس کے مختلف پہلوؤں کو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے تو ایک مرتبہ پھر یہ سوال زیرِ بحث آئے گا کہ جبری مذہبی تبدیلی کی روک تھام کے لیے ریاستی اختیارات کی حدود کیا ہیں، اور دوسری جانب شہریوں کو اپنے مذہب کے انتخاب اور اس پر عمل کی جو آزادی آئین فراہم کرتا ہے، اس کا دائرۂ کار کیا ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ان دیگر ریاستوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے جہاں اسی نوعیت کے قوانین نافذ ہیں یا زیرِ غور ہیں۔
مہاراشٹر کو طویل عرصے سے سماجی اصلاحات، مذہبی رواداری اور ترقی پسند افکار کی سر زمین سمجھا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں اس قانون کے نفاذ نے صرف ایک قانونی بحث ہی نہیں، بلکہ آئینی اقدار، مذہبی آزادی، سماجی ہم آہنگی اور ریاست کے کردار کے بارے میں ایک وسیع عوامی مکالمے کو بھی جنم دیا ہے۔ اس لیے اس قانون کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ محض اس کی سخت دفعات سے نہیں ہوگا، بلکہ اس بات سے ہوگا کہ اس پر کس حد تک شفاف، غیر جانب دار اور آئین کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جاتا ہے، اور آیا یہ قانون واقعی جبری مذہبی تبدیلی کی روک تھام تک محدود رہتا ہے یا اس کے نفاذ سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
جمہوری معاشروں میں قوانین کی اصل طاقت ان کی سختی میں نہیں بلکہ ان کی آئینی حیثیت، منصفانہ نفاذ اور عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس قانون کے ہر پہلو کو آئین کے معیار پر پرکھا جائے تاکہ ریاستی مفاد اور شہری آزادیوں کے درمیان وہ متوازن راستہ اختیار کیا جا سکے جو ہندوستان کے جمہوری اور سیکولر تشخص کو مزید مضبوط بنائے۔
مہاراشٹر کا مذہبی آزادی قانون 2026: تحفظِ حق یا ریاستی مداخلت؟

نئے قانون پر آئینی سوالات، مذہب اختیار کرنے کی آزادی کتنی محفوظ؟

