توہین عدالت کے معاملوں میں ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت
سونم وانگچو ک کو زبردستی داخل ہسپتال کیا گیا، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاجی دھرنا جاری رکھنے کااعلان
مانسون اجلاس: حد بندی بل کی منظوری کے لیے حکومت دو تہائی اکثریت کے لیے کوشاں
چڑھاوا چوری سے ذہن بھٹکانے کے لیے ہنومان گڑھی میں نماز کا مسئلہ اچھالا گیا، بی جے پی لیڈر برج بھوشن سرن سنگھ نے یوگی کو دکھایا آئینہ
شمالی ہند میں مانسون کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران دارالحکومت دلی میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق دلی دربار میں اقتدار کی رسہ کشی کسی بھی وقت سطح پر آ سکتی ہے تاہم، سب سے زیادہ ہنگامہ رام پور میں برپا ہے جہاں پر سماج وادی رہنماء محمد اعظم خان کی قائم کی ہوئی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا وجود خطرے میں ہے۔ رام پور ترقیاتی اتھارٹی نے مجاہد آزادی مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب اس یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ آر ڈی اے کے مطابق ان عمارتوں کا نقشہ پاس نہیں کروایا گیا ہے۔ رام پور کے ڈی ایم اجے دویدی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے صرف دو عمارتوں کا نقشہ ضلع پنچایت سے منظور شدہ ہے باقی عمارتوں کو توڑنے کے لیے 15 دن کا نوٹس دیا گیا ہے۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ ان عمارتوں کو نہیں گراتی تو انہیں بلڈوزر سے منہدم کر دیا جائے گا۔ رام پور ضلع انتظامیہ نے حکم دینے کے فوراً بعد یونیورسٹی کے احاطے میں پولیس فورس تعینات کر دی تھی لیکن یونیورسٹی کی سابق پرو وائس چانسلر اور محمد اعظم خان کی اہلیہ تنظیم فاطمہ نے موقع پر پہنچ کر ضلع انتظامیہ کی عجلت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پولیس فورس کو احاطے سے باہر کر دیا جبکہ پولیس نے گیٹ کے باہر اپنا کیمپ لگا لیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں 15 دن کا وقت دیا گیا ہے، وہ قانونی راستے سے انہدامی کارروائی کا دفاع کریں گی۔ سماج وادی پارٹی کے شہر صدر اور اعظم خان کے قریبی لیڈر عاصم راجہ نے ضلع انتظامیہ پر سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب بھی یونیورسٹی میں داخلوں کا وقت آتا ہے سازش شروع ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی کے پاس عمارتوں کے جائز نقشے موجود ہیں لیکن انتظامیہ حکومت کے دباؤ میں آ کر انہیں تسلیم نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب نوٹس میں 15 دنوں کی مہلت دی گئی ہے تو 15 منٹ میں پولیس نے یونیورسٹی پردھاوا کیوں بول دیا گیا اور یونیورسٹی کے باہر کونسلنگ کیمپ کیوں لگایا گیا ہے؟ کیمپ میں بتایا جا رہا ہے کہ اگر یونیورسٹی بند ہو جائے تو طلبا کہاں پر داخلہ لے سکتے ہیں۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے بعض لیڈروں نے ضلع انتظامیہ کے رویے پر سوال کھڑے کیے ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے آر ڈی اے کے نوٹس کو جانب دارانہ اور غیر منصفانہ بتاتے ہوئے مذمت کی ہے۔ بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس نے ایک بیان جاری کر کے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس کو واپس لیا جائے اور کاروائی کو فوری طور پر روک دیا جائے۔ کانگرس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی نے ایکس پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا "جب یونیورسٹی کی تعمیر ہو رہی تھی تب وہ علاقہ رام پور ترقیاتی اتھارٹی کے دائرے میں نہیں آتا تھا بعد میں اتھارٹی نے اپنا دائرہ بڑھا دیا ہے، اور اب رام پور کے ڈی ایم کہہ رہے ہیں کہ جوہر یونیورسٹی کا نقشہ ہی پاس نہیں ہے تو گرانے کا حکم جاری کر دیا"۔
ابھیشیک اپادھیائے نام کے ایک صحافی نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا "رام پور سے شروعات ہو گئی ہے, اب سنبھل پھر سے جاگے گا، بریلی اس کے پیچھے بھاگے گا، علی گڑھ مراد آباد بہرایچ سارے تجربہ گاہ کھنگالے جائیں گے جیت کے منتر نکالے جائیں گے۔ اندرونی سروے میں حال بہت برا ہے، امید کا کونا صرف ہندو-مسلمان سے جڑا ہے"۔
واضح رہے کہ سماج وادی لیڈر محمد اعظم خان نے 2006 میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا تھا لیکن پہلے مرحلے میں ہی یونیورسٹی کو منظوری کے لیے مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 2012 میں سماج وادی حکومت قائم ہونے کے بعد یونیورسٹی کو قانونی منظوری تو حاصل ہو گئی لیکن سماج وادی پارٹی حکومت کی مدت ختم ہوتے ہی یونیورسٹی سیاسی انتقام کے بھنور میں میں پھنس گئی۔ فی الحال یونیورسٹی میں تین ہزار سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر یونیورسٹی کی عمارت گرا دی جائے تو طلبہ کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ اکثر لوگ کہہ رہے ہیں کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی کو اعظم خان سے ذاتی پرخاش ہو سکتی ہے لیکن تعلیم کے معاملے میں سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ ضلع انتظامیہ کی بد نیتی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی بند ہونے سے پہلے ہی طلبا کی کونسلنگ کی تیاری ہوگئی کہ انہیں داخلے کے لیے کس ادارے سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اسی دوران اعظم خان کو مقامی ایم پی ایم ایل اے کورٹ سے بھی دھکا لگا ہے۔ رام پور کے ڈی ایم کوتنکھیا کہنے کے معاملے میں ان کی دو سال کی سزا کو برقرار رکھا گیا ہے۔ وہی ڈی ایم اب مراد آباد کے کمشنر ہیں اور رام پور ترقیاتی اتھارٹی انہی کی ماتحت ہے گویا یونیورسٹی کا مقدمہ پھر اسی افسر کی عدالت میں پیش ہوگا جسے اعظم خان سے بیر ہے۔ ایسے میں انصاف کی امید رکھنا وقت کی بربادی کے سوا کچھ نہیں معلوم ہوتا ہے، البتہ یونیورسٹی کو ہائی کورٹ سے راحت مل سکتی ہے۔
بلڈوزر نا انصافی کے خلاف عدالتوں کا رویہ
مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور عبادت گاہوں کے خلاف بلڈوزر کی انہدامی کارروائی ملک کے مختلف حصوں میں تسلسل سے جاری ہے۔ شمالی ہند کی ریاستیں اس کارروائی میں پیش پیش ہیں۔ سپریم کورٹ نے انہدامی کارروائی کے لیے گائیڈ لائن بھی جاری کی تھی اس کے باوجود اس کا سلسلہ جاری ہے۔ کچھ عرضی گزاروں نے توہین عدالت کی عرضیوں کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا لیکن اس بار سپریم کورٹ نے ان پر سماعت کرنے کے بجائے متعلقہ ہائی کورٹوں سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس جوائے باگچی کا کہنا ہے کہ نومبر 2024 کا فیصلہ ان بڑھتے ہوئے رجحات کو روکنے کے لیے دیا گیا تھا جن میں جرائم کے مرتکبین کے گھروں کو سزا کے طور پر منہدم کیا جا رہا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو مکمل تحفظ فراہم کرنا نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں عبوری راحت دیتے ہوئے بی ایس ایف کی انہدامی کارروائی پر دو ہفتے کی روک لگائی ہے اور عرضی گزاروں کو جودھ پور عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے پہلے راجستھان ہائی کورٹ نے سرحدی علاقوں میں واقع مسجدوں اور درگاہوں کو وجہ بتاؤ اور بے دخلی سے متعلق نوٹسوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کو مسترد کر دیا تھا۔ عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ جسٹس سمیر جین نے بارڈر سیکیورٹی فورس ایکٹ کی دفعہ 139 کے تحت 2021 کی نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس علاقے میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کی جانچ کے لیے بی ایس ایف نے پچاس کلومیٹر کے دائرے میں خصوصی مہم چلا رکھی ہے۔ گزشتہ دنوں مسلمانوں کے احتجاجی مظاہرے میں دیگر برادران وطن بھی شامل ہوئے تھے اس کے باوجود عدالت کے رویے میں کوئی نرمی نہیں آئی ہے۔ عرضی گزاروں کا سوال ہے کہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہیں سلامتی کے لیے خطرہ کیسے ہو سکتی ہیں؟ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کا کہنا ہے کہ ہم راجستھان ہائی کورٹ کی جودھ پور بنچ سے رجوع کریں گے اور اپنے مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے دستوری حدود میں قانونی جدوجہد کرتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ اس وقت ملک کے کئی حصوں میں خاص طور پر شمالی ہند میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو متنازعہ بنا کر مسمار کرنے کی سلسلہ وار کوششیں جاری ہیں جس سے عام مسلمانوں کے ساتھ مسلم تنظیموں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین کی ناراضگی اور بے بسی دیکھی جا سکتی ہے اس کے باوجود ارباب حل و عقد خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے اچھا نہیں ہے۔ مسلمانوں کے معاملے میں اپوزیشن بھی کھل کر میدان میں آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
مانسون اجلاس میں حد بندی بل پر ہوگی سب کی نظر
پارلیمنٹ کی موجودہ نشستوں میں اضافے سے متعلق حد بندی ترمیمی بل کو مرکزی حکومت نے اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ پچھلے اجلاس میں ملنے والی ناکامی کے بعد دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے حکومت نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ سب سے پہلے بنگال میں ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور پھر مہاراشٹر میں ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی سلسلے کڑی میں اب تیسرا نام شرد پوار کی این سی پی کا آ رہا ہے۔ این سی پی نے اپنی پارٹی کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لیے حد بندی ترمیمی بل کو مشروط حمایت دینے کی بات کہی ہے۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے تمام صوبوں کی موجودہ سیٹوں میں پچاس فیصد اضافے کی شرط پر حمایت دینے کی بات تسلیم کی ہے لیکن اس کا حتمی فیصلہ شرد پوار پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ سیاسی پنڈت شرد پوار کے اس اقدام کو پاور گیم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ بھی خبر ہے کہ حد بندی بل منظور کرانے کے لیے ڈی ایم کے اور سماجوادی پارٹی کو ایوان سے غیر حاضر کرایا جا سکتا ہے جبکہ کانگریس نے اس کی تردید کی ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے بل پیش کرنے سے پہلے کل جماعتی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو خط بھی لکھا ہے کہ ان کی پارٹی بل کی پُرزور مخالفت جاری رکھے گی۔ مرکزی حکومت جنوبی ریاست کی پارٹیوں میں بھی سیندھ مار سکتی ہے۔ 2029 میں ون نیشن ون الیکشن کی پالیسی کو بھی اگے بڑھانے کا فیصلہ ہو چکا ہے، اس سلسلے میں دلی اور لکھنؤ میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جس میں این ڈی اے کی جماعتوں نے مجوزہ نظام کو ملک کے مفاد میں بتایا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس تجویز سے وفاقی ڈھانچے اور علاقائی جماعتوں کے کردار پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔ بہرحال اس معاملے میں این ڈی اے اور انڈیا اتحاد میں ٹکراؤ ہونا طے ہے۔
چندہ چوری کے واقعات کے بعد ہندو-مسلم بیانیے کو ہوا دینے کی کوشش
ایودھیا میں رام مندر کے چڑھاوا چوری کی پول کھلنے کے بعد اتر اکھنڈ کے بدری ناتھ مندر میں بھی چوری کا انکشاف ہوا ہے۔ دان کی رقم میں غبن کی شکایت ملنے کے بعد ملازم پرمود نوٹیال کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ مندروں میں چڑھاوا چوری کی بدنامی سے پریشان عناصر ہندوؤں کی توجہ ہٹانے کے لیے ہندو-مسلم منافرت پر مبنی بیانیے کو ہوا دینے میں لگ گئے ہیں۔ اس معاملے کے چمپیئن یوگی آدتیہ ناتھ کی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کے بعد قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ رام مندر چڑھاوا چوری کا معاملہ سپریم کورٹ بھی پہنچ چکا ہے۔ ایس آئی ٹی کو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنی ہوگی۔ اسی دوران وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 23 سال پہلے ہنومان گڑھی میں ہونے والی افطار پارٹی اور نماز کا مسئلہ اچھال دیا ہے جس پر شنکر اچاریہ اوی مکتیشورانند نے زبردست برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے میں یوگی جھوٹ بول رہے ہیں۔ وہ ثابت کر کے دکھائیں کہ ہنومان گڑھی کی سیڑھیوں پر نماز ہوئی تھی۔ بی جی بی کے سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن سرن سنگھ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ہنومان گڑھی کی سیڑھیوں پر کبھی بھی نماز نہیں ہوئی۔ انہوں نے یوگی کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہنومان گڑھی کی تعمیر ایک مسلمان نے کروائی تھی جس کا نام آج بھی مندر کے کتبے پر درج ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاجی دھرنا
جنتر منتر پر کاکروچ جنتاپارٹی کے دھرنے میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے سماجی کارکن سونم وانگچوک کی حالت بگڑنے کے بعد انہیں صفدر جنگ ہسپتال میں بھرتی کرا دیا گیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ سونم وانگچوک کو ہائی کورٹ کا حوالہ دے کر زبردستی بھوک ہڑتال سے اٹھایا گیا ہے۔ دلی پولیس نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سونم وانگچوک کو ہسپتال میں بھرتی کرا دیا گیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے صرف صحت کی نگرانی کی ہدایت دی تھی زبردستی ہسپتال میں بھرتی کرانا غلط ہے۔ یاد رہے کہ سونم وانگچوک مرکزی وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفےٰ کے مطالبے پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے تھے، خاص طور سے نیٹ امتحانات پرچہ لیک ہونے اور دیگر امتحانات میں گڑبڑیوں کے خلاف دھرنا دے رہے تھے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے پہلے 20 جولائی کو عوام اور طلبا سے جنتر منتر پہنچ کر احتجاج میں ساتھ دینے کی اپیل کی تھی۔ کئی سیاسی جماعتوں کے نمائندے دھرنے کے مقام پر ان سے ملاقات کر رہے تھے جس سے حکومت کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں کسان تحریک کی طرح یہ بھی ملک گیر سطح پر نہ پھیل جائے چنانچہ اس سے پہلے ہی ہائی کورٹ کے بہانے دھرنے کو منتشر کرنے کی کوشش دکھائی دے رہی ہے تاہم، کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان لیڈر ابھیجیت دیپکے نے دھرنا جاری رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور خود بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔
تو صاحبو! یہ تھا شمال کا حال، آئندہ ہفتے پھر ملیں گے کچھ تازہ اور دلچسپ احوال کے ساتھ، تب تک کے لیے اللہ اللہ خیر سلا۔